Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

عرضِ ناشر
تصریح
دیباچہ
باب اوّل: سُنّت کی آئینی حیثیت
ڈاکٹر صاحب کا پہلا خط
جواب
ڈاکٹر صاحب کا دوسرا خط
جواب
سُنّت کیا چیز ہے؟
سُنّت کس شکل میں موجود ہے؟
کیا سُنّت متفق علیہ ہے؟ اور اس کی تحقیق کا ذریعہ کیا ہے؟
چار بنیادی حقیقتیں
دوسرے خط کا جواب
چار نکات
نکتۂ اُولیٰ
رسول اللّٰہa کے کام کی نوعیت
حضور a کی شخصی حیثیت اور پیغمبرانہ حیثیت کا فرق
قرآن سے زائد ہونا اور قرآن کے خلاف ہونا ہم معنی نہیں ہے
کیا سُنّت قرآن کے کسی حکم کو منسوخ کر سکتی ہے؟
نکتۂ دوم
نکتۂ سوم
احادیث کو پرکھنے میں روایت اور درایت کا استعمال
نکتۂ چہارم
اشاعت کا مطالبہ
باب دوم: منصبِ نبوت
ڈاکٹر صاحب کا خط
جواب
۱۔ منصب ِنبوّت اور اس کے فرائض
۲۔ رسول پاکﷺ کے تشریعی اختیارات
۳۔ سُنّت اور اتباع سُنّت کا مفہوم
۴۔رسولﷺ پاک کس وحی کے اتباع پر مامور تھے، اور ہم کس کے اتباع پر مامور ہیں؟
۵۔ مرکزِ ملّت
۶۔ کیا حضورﷺ صرف قرآن پہنچانے کی حد تک نبی تھے؟
۷۔ حضورﷺ کی اجتہادی لغزشوں سے غلط استدلال
۸۔ موہوم خطرات
۹۔ خلفائے راشدین پر بہتان
۱۰۔ کیا حضورﷺ پر قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی تھی؟
سُنّت کے متعلق چند مزید سوالات
جواب
وحی پر ایمان کی وجہ
مَااَنْزَلَ اللّٰہُ سے کیا چیز مراد ہے؟
سُنّت کہاں ہے؟
وحی سے مراد کیا چیز ہے؟
محض تکرارِ سوال
ایمان وکفر کا مدار
کیا احکامِ سُنّت میں رد وبدل ہو سکتا ہے؟
باب سوم : اعتراضات اور جوابات
۱۔ بزمِ طلوع اِسلام سے تعلق؟
۲۔ کیا گشتی سوال نامے کا مقصد علمی تحقیق تھا؟
۳۔ رسولﷺ کی حیثیت ِ شخصی و حیثیتِ نبویﷺ
۴۔ تعلیماتِ سنّت میں فرقِ مراتب
۵۔ علمی تحقیق یا جھگڑالو پن؟
۶۔ رسولﷺ کی دونوں حیثیتوں میں امتیاز کا اصول اور طریقہ
۷۔ قرآن کی طرح احادیث بھی کیوں نہ لکھوائی گئیں؟
۸۔ دجل وفریب کا ایک نمونہ
۹۔ حدیث میں کیا چیز مشکوک ہے اور کیا مشکوک نہیں ہے
۱۰۔ ایک اور فریب
۱۱۔ کیا امت میں کوئی چیز بھی متفق علیہ نہیں ہے؟
۱۲۔ سُنّت نے اختلافات کم کیے ہیں یا بڑھائے ہیں؟
۱۳۔ منکرینِ سُنّت اور منکرینِ ختم نبوت میں مماثلت کے وجوہ
۱۴۔ کیا آئین کی بنیاد وہی چیز ہو سکتی ہے جس میں اختلاف ممکن نہ ہو؟
۱۵۔ قرآن اور سُنّت دونوں کے معاملے میں رفعِ اختلاف کی صورت ایک ہی ہے
۱۶۔ ایک دل چسپ مغالطہ
۱۷۔ شخصی قانون اور ملکی قانون میں تفریق کیوں؟
۱۸۔ حیثیت ِرسول ﷺ کے بارے میں فیصلہ کن بات سے گریز
۱۹۔ کیا کسی غیر نبی کو نبی کی تمام حیثیات حاصل ہو سکتی ہیں
۲۰۔ اِسلامی نظام کے امیر اور منکرینِ حدیث کے مرکزِ ملت میں عظیم فرق
۲۱۔ عہد رسالت میں مشاورت کے حدود کیا تھے؟
۲۲۔ اذان کا طریقہ مشورے سے طے ہوا تھا یا الہام سے؟
۲۳۔ حضورﷺ کے عدالتی فیصلے سند وحجت ہیں یا نہیں؟
۲۴۔ کج بحثی کا ایک عجیب نمونہ
۲۵۔ کیا اللہ تعالیٰ بھی غلطی کرسکتا ہے؟
۲۶۔حضورﷺ کے ذاتی خیال اور بربنائے وحی کہی ہوئی بات میں واضح امتیاز تھا
۲۷۔ کیا صحابہؓ اس بات کے قائل تھے کہ حضورﷺ کے فیصلے بدلے جا سکتے ہیں؟
۲۸۔ مسئلہ طلاق ثلاثہ میں حضرت عمرؓ کے فیصلے کی اصل نوعیت
۲۹۔ مؤلفۃ القلوب کے بارے میں حضرت عمرؓ کے استدلال کی نوعیت
۳۰۔ کیا مفتوحہ اراضی کے بارے میں حضرت عمرؓ کا فیصلہ حکم رسولﷺ کے خلاف تھا؟
۳۱۔ وظائف کی تقسیم کے معاملے میں حضرت عمرؓ کا فیصلہ
۳۲۔ کیا قرآن کے معاشی احکام عبوری دور کے لیے ہیں؟
۳۳۔ ’’عبوری دور‘‘ کا غلط مفہوم
۳۴۔ حضورﷺکیا صرف شارح قرآن ہی ہیں یا شارع بھی؟
۳۵۔ بصیرت رسولﷺ کے خداداد ہونے کا مفہوم
۳۶۔ وحی کی اقسام ازروئے قرآن
۳۷۔ وحی غیرمتلو پر ایمان، ایمان بالرسول کا جُز ہے
۳۸۔ کیا وحی غیر متلو بھی جبریل ہی لاتے تھے؟
۳۹۔ کتاب اور حکمت ایک ہی چیز یا الگ الگ
۴۰۔ لفظ تلاوت کے معنی
۴۱۔ کتاب کے ساتھ میزان کے نزول کا مطلب
۴۲۔ ایک اور کج بحثی
۴۳۔ تحویلِ قبلہ والی آیت میں کون سا قبلہ مراد ہے؟
۴۴۔ قبلے کے معاملے میں رسولﷺ کی پیروی کرنے یا نہ کرنے کا سوال کیسے پیدا ہوتا تھا؟
۴۵۔ نبی پر خود ساختہ قبلہ بنانے کا الزام
۴۶۔ لَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ الرُّؤْیَا کا مطلب
۴۷۔ کیا وحی خواب کی صورت میں بھی ہوتی ہے؟
۴۸۔ بے معنی اعتراضات اور الزامات
۴۹۔ کیا آنحضورﷺ نے صحابہؓ کو دھوکا دیا تھا؟
۵۰۔ کیا آنحضورﷺ اپنے خواب سے متعلق متردد تھے؟
۵۱۔دروغ گویم بر رُوئے تو
۵۲۔ رُو در رُو بہتان
۵۳۔ نَبَّأَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ کا مطلب

سنت کی آئینی حیثیت

انکار سنت کا فتنہ اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں اُٹھا تھا اور اس کے اُٹھانے والے خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وہ سنت حائل تھی جس نے اس معاشرے کو ایک نظم و ضبط پر قائم کیا تھا، اور اس کی راہ میں حضور کے وہ ارشادات حائل تھے جن کی موجودگی میں خوارج کے انتہا پسندانہ نظریات نہ چل سکتے تھے۔ اس بنا پر اُنھوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دو گونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کو اس کی ضرورت اس لیے لاحق ہوئی کہ عجمی اور یونانی فلسفوں سے پہلا سابقہ پیش آتے ہی اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے میں جو شکوک و شبہات ذہنوں میں پیدا ہونے لگے تھے، اُنھیں پوری طرح سمجھنے سے پہلے وہ کسی نہ کسی طرح اُنھیں حل کر دینا چاہتے تھے۔ خود ان فلسفوں میں ان کو وہ بصیرت حاصل نہ ہوئی تھی کہ ان کا تنقیدی جائزہ لے کر ان کی صحت و قوت جانچ سکتے۔ اُنھوں نے ہر اس بات کو جو فلسفے کے نام سے آئی، سراسر عقل کا تقاضا سمجھا اور یہ چاہا کہ اسلام کی عقائد اور اصولوں کی ایسی تعبیر کی جائے جس سے وہ ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو جائیں۔ اس راہ میں پھر وہی حدیث و سنت مانع ہوئی۔ اس لیے اُنھوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھیرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کیا۔ اس کتاب میں مولانا مودودیؒ نے مخالفانہ دلائل کو ایک ایک کرکے اس طرح بیان کیا ہے کہ اس کے بعد کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ سید مودودیؒ کتاب کے آخر میں رقم طراز ہیں: ”ہم نے ایک ایک دلیل کا تفصیلی جائزہ لے کر جو بحث کی ہے اسے پڑھ کر ہر صاحب علم آدمی خود یہ رائے قائم کر سکتا ہے کہ ان دلائل میں کتنا وزن ہے اور ان کے مقابلے میں سنت کے ماخذ قانون اور احادیث کے قابل استناد ہونے پر جو دلیلیں ہم نے قائم کی ہیں وہ کس حد تک وزنی ہیں۔ ہم خاص طور پر خود فاضل جج سے اور مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ان کے رفقا سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ پورے غور کے ساتھ ہماری اس تنقید کو ملاحظہ فرمائیں اور اگر ان کی بے لاگ رائے میں، جیسی کہ ایک عدالت عالیہ کے فاضل ججوں کے رائے بے لاک ہونی چاہیے، یہ تنقید فی الواقع مضبوط دلائل پر مبنی ہو تو وہ قانون کے مطابق کوئی ایسی تدبیر عمل میں لائیں جس سے یہ فیصلہ آئیندہ کے لیے نظیر نہ بن سکے۔ عدالتوں کا وقار ہر ملک کے نظام عدل و انصاف کی جان ہوتا ہے اور بہت بڑی حد تک اسی پر ایک مملکت کے استحکام کا انحصار ہوتا ہے۔ اس وقار کے لیے کوئی چیز اس سے بڑھ کر نقصان دہ نہیں ہے کہ ملک کی بلند ترین عدالتوں کے فیصلے علمی حیثیت سے کمزور دلائل اور ناکافی معلومات پر مشتمل ہوں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ جب ایمان دارانہ تنقید سے ایسی کسی غلطی کی نشان دہی ہو جائے تو اولین فرصت میں خود حاکمان عدالت ہی اس کی تلافی کی طرف توجہ فرمائیں۔“ حدیث کے حوالے سے شکوک وشبہات کا اظہار کرنے والے افراد کے لیے اس کتاب کو پڑھنا بہت اہم ہے۔

۸۔ موہوم خطرات

آٹھویں نکتے میں آپ فرماتے ہیں کہ:
اگر حضورﷺ نے یہ سارا کام بشر (یعنی ایک عام غیر معصوم بشر)کی حیثیت سے نہیں، بلکہ نبیﷺ کی حیثیت سے کیا ہوتا تو اس سے لازمًا دو نتائج پیدا ہوتے۔ ایک یہ کہ حضور ﷺ کے بعد اس کام کو جاری رکھنا غیر ممکن تصور کیا جاتا اور لوگ سمجھتے کہ جو نظامِ زندگی حضورﷺ نے قائم کرکے چلا دیا اسے قائم کرنا اور چلانا عام انسانوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ دوسرا نتیجہ اس کا یہ ہوتا کہ اس کام کو چلانے کے لیے لوگ حضور ﷺ کے بعد بھی نبیوں کے آنے کی ضرورت محسوس کرتے۔ ان دونوں خطرات سے بچنے کی واحد صورت آپ کے نزدیک یہ ہے کہ تبلیغ قرآن کے ماسوا حضور ﷺ کے باقی پورے کارنامۂ زندگی کو رسول اللّٰہ ﷺ کا نہیں، بلکہ ایک غیر نبی انسان کا کارنامہ مانا جائے۔ اسی سلسلے میں آپ یہ بھی دعوٰی کرتے ہیں کہ اسے رسول کا کارنامہ سمجھنا ختم نبوت کے عقیدے کی بھی نفی کرتا ہے کیوں کہ اگر حضور ﷺ نے یہ سارا کام وحی کی راہ نُمائی میں کیا ہے تو پھر ویسا ہی کام کرنے کے لیے ہمیشہ وحی آنے کی ضرورت رہے گی، ورنہ دین قائم نہ ہو گا۔
یہ آپ نے جو کچھ فرمایا ہے، قرآن اور اس کے نزول کی تاریخ سے آنکھیں بند کرکے اپنے ہی مفروضات کی دُنیا میں گھوم پھر کر سوچا اور فرما دیا ہے۔ آپ کی ان باتوں سے مجھے شبہ ہوتا ہے کہ آپ کی نگاہ سے قرآن کی بس وہی آیتیں گزری ہیں جو مخالفین سُنّت نے اپنے لٹریچر میں ایک مخصوص نظریہ ثابت کرنے کے لیے نقل کی ہیں اور انھی کو ایک خاص ترتیب سے جوڑ جاڑ کر ان لوگوں نے جو نتائج نکال لیے ہیں، ان پر آپ ایمان لے آئے ہیں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی اور آپ نے ایک مرتبہ بھی پورا قرآن سمجھ کر پڑھا ہوتا تو آپ کو معلوم ہو جاتا کہ جو خطرات آپ کے نزدیک سیرت پاک کو سُنّت رسولﷺ ماننے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، وہی سب خطرات قرآن کو وحی الٰہی ماننے سے بھی پیدا ہوتے ہیں۔ قرآن خود اس بات پر شاہد ہے کہ یہ پوری کتاب ایک ہی وقت میں بطور ایک کتاب آئین کے نازل نہیں ہو گئی تھی بلکہ یہ ان وحیوں کا مجموعہ ہے جو ایک تحریک کی راہ نُمائی کے لیے ۲۳ سال تک تحریک کے ہر ہر مرحلے میں ہر اہم موقع پر اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی رہی ہیں۔ اس کو پڑھتے ہوئے صاف محسوس ہوتا ہے کہ خدا کی طرف سے ایک برگزیدہ انسان اِسلامی تحریک کی قیادت کے لیے مبعوث ہوا ہے اور قدم قدم پر خدا کی وحی اس کی راہ نُمائی کر رہی ہے۔ مخالفین اس پر اعتراضات کی بوچھاڑ کرتے ہیں اور جواب ان کا آسمان سے آتا ہے۔ طرح طرح کی مزاحمتیں راستے میں حائل ہوتی ہیں اور تدبیر اوپر سے بتائی جاتی ہے کہ یہ مزاحمت اس طرح سے دور کرو اور اس مخالفت کا یوں مقابلہ کرو۔ پیرووں کو طرح طرح کی مشکلات سے سابقہ پیش آتا ہے اور ان کا حل اوپر سے بتایا جاتا ہے کہ تمھاری فلاں مشکل یوں دور ہو سکتی ہے اور فلاں مشکل یوں رفع ہو سکتی ہے۔ پھر یہ تحریک جب ترقی کرتے ہوئے ایک ریاست کے مرحلے میں داخل ہوتی ہے تو جدید معاشرے کی تشکیل اور ریاست کی تعمیر کے مسائل سے لے کر منافقین اور یہود اور کفار عرب سے کشمکش تک جتنے معاملات بھی دس سال کی مدت میں پیش آتے ہیں، ان سب میں وحی اس معاشرے کے معمار اوراس ریاست کے فرماں روا اور اس فوج کے سپہ سالار کی راہ نُمائی کرتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس تعمیر اور کشمکش کے ہر مرحلے میں جو مسائل پیش آتے ہیں ان کو حل کرنے کے لیے آسمان سے ہدایات آتی ہیں بلکہ کوئی جنگ پیش آتی ہے تو اس پر لوگوںکو ابھارنے کے لیے سپہ سالار کو خطبہ آسمان سے ملتا ہے۔ تحریک کے کارکن کہیں کم زوری دکھاتے ہیں تو ان کی فہمائش کے لیے تقریر آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ نبیﷺ کی بیوی پر دشمن تہمت رکھتے ہیں تو اس کی صفائی آسمان سے آتی ہے۔ منافقین مسجد ضرار بناتے ہیں تو اس کے توڑنے کا حکم وحی کے ذریعے سے دیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ جنگ پر جانے سے جی چراتے ہیں تو ان کے معاملے کا فیصلہ براہِ راست اللّٰہ تعالیٰ کرکے بھیجتا ہے۔ کوئی شخص دشمن کو جاسوسی کا خط لکھ کر بھیجتا ہے تو اس سے نمٹنے کے لیے بھی اللّٰہ تعالیٰ خود توجہ فرماتا ہے۔
اگر واقعی آپ کے نزدیک یہ بات مایوس کن ہے کہ دین کو قائم کرنے کے لیے جو اولین تحریک اٹھے اس کی راہ نُمائی وحی کے ذریعے سے ہو تو یہ مایوسی کا سبب تو خود قرآن میں موجود ہے۔ ایک شخص آپ کا نقطہ نظر اختیار کرنے کے بعد تو کہہ سکتا ہے کہ جس دین کو قائم کرنے کے لیے جدوجہد کے پہلے قدم سے لے کر کامیابی کی آخری منزل تک ہر ضرورت اور ہر نازک موقع پر قائد تحریک کی راہ نُمائی کے لیے خدا کی آیات اترتی رہی ہوں اسے اب کیسے قائم کیا جا سکتا ہے۔ جب تک کہ اسی طرح نظام دین کے قیام کے لیے سعی وجہد کرنے والے ’’مرکزِ ملت‘‘ کی مدد کے لیے بھی آیات الٰہی نازل ہونے کا سلسلہ نہ شروع ہو۔ اس نقطہ نظر سے تو اللّٰہ تعالیٰ کے لیے صحیح طریق کار یہ تھا کہ نبی ﷺ کے تقرر کی پہلی تاریخ کو ایک مکمل کتاب آئین آپ کے ہاتھ میں دے دی جاتی جس میں اللّٰہ تعالیٰ انسانی زندگی کے مسائل کے متعلق اپنی تمام ہدایات بیک وقت آپ کو دے دیتا۔ پھر ختم نبوت کا اعلان کرکے فورًا ہی حضور ﷺ کی اپنی نبوت بھی ختم کر دی جاتی۔ اس کے بعد یہ محمد رسول اللّٰہﷺ کا نہیں بلکہ محمدبن عبداللّٰہﷺ کا کام تھا کہ غیر نبی ہونے کی حیثیت سے اس کتاب آئین کو لے کر جدوجہد کرتے اور مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ کے مطابق ایک معاشرہ اور ریاست قائم کر دکھاتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کو بروقت صحیح مشورہ نہ مل سکا اور وہ اپنا نامناسب طریقہ اختیار کر گئے جو مستقبل میں قیامِ دین کے امکان سے ہمیشہ کے لیے مایوس کر دینے والا تھا۔
غضب تو یہ ہے کہ وہ اس مصلحت کو اس وقت بھی نہ سمجھے جب انھوں نے ختم نبوت کا اعلان فرمایا۔ یہ اعلان سورۂ احزاب میں کیا گیا ہے جو اس زمانے سے متصل نازل ہوئی ہے جب کہ حضرت زیدؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی اور پھر ان کی مطلقہ سے نبی ﷺ نے بحکم الٰہی نکاح کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد کئی سال تک حضورﷺ ’’مرکزِ ملت‘‘ رہے اور ختم نبوت کا اعلان ہو جانے کے باوجود نہ حضور ﷺ کی نبوت ختم کی گئی اور نہ وحی کے ذریعے سے آپ کی راہ نُمائی کرنے کا سلسلہ بند کیا گیا۔
آپ کو اللّٰہ تعالیٰ کی اسکیم سے اتفاق ہو یا اختلاف، بہرحال قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ ان کی اسکیم ابتدا ہی سے یہ نہیں تھی کہ نوع انسانی کے ہاتھ میں ایک کتاب تھما دی جائے اور اس سے کہا جائے کہ اس کو دیکھ دیکھ کر اِسلامی نظام زندگی خود بنا لے۔ اگر یہی ان کی اسکیم ہوتی تو ایک بشر کا انتخاب کرکے چپکے سے کتاب اس کے حوالے کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس کے لیے تو اچھا طریقہ یہ ہوتا کہ ایک کتاب چھاپ کر اللّٰہ تعالیٰ تمام انسانوں تک براہِ راست بھیج دیتے اور دیباچے میں یہ ہدایت لکھ دیتے کہ میری اس کتاب کو پڑھو اور نظام حق برپا کر لو لیکن انھوں نے یہ طریقہ پسند نہیں کیا۔ اس کے بجائے جو طریقہ انھوں نے اختیار کیا وہ یہ تھا کہ ایک بشر کو رسول بنا کر اُٹھایا اور اس کے ذریعے سے اصلاح وانقلاب کی ایک تحریک اٹھوائی۔
اس تحریک میں اصل عامل کتاب نہ تھی بلکہ وہ زندہ انسان تھا جسے تحریک کی قیادت پر مامور کیا گیا تھا۔ اس انسان کے ہاتھوں سے اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی نگرانی وہدایت میں ایک مکمل نظامِ فکر واخلاق، نظام تہذیب وتمدن، نظام عدل وقانون اور نظام معیشت وسیاست بنوا کر اور چلوا کر ہمیشہ کے لیے ایک روشن نمونہ (اسوۂ حسنہ) دُنیا کے سامنے قائم کر دیا تاکہ جو انسان بھی اپنی فلاح چاہتے ہوں وہ اس نمونے کو دیکھ کر اس کے مطابق اپنا نظام زندگی بنانے کی کوشش کریں۔ نمونے کا ناقص رہ جانا لازمًا ہدایت کے نقص کو مستلزم ہوتا۔ اس لیے اللّٰہ تعالیٰ نے یہ نمونے کی چیز براہ راست اپنی ہدایات کے تحت بنوائی۔ اس کے معمار کو نقشۂ تعمیر بھی دیا اوراس کا مطلب بھی خود سمجھایا۔ اس کی تعمیر کی حکمت بھی سکھائی اور عمارت کا ایک ایک گوشہ بناتے وقت اس کی نگرانی بھی کی۔ تعمیر کے دوران میں وحی جلی کے ذریعے سے بھی اس کو راہ نُمائی دی اور وحی خفی کے ذریعے سے بھی۔ کہیں کوئی اینٹ رکھنے میں اس سے ذرا سی چوک بھی ہو گئی توفورًا ٹوک کر اس کی اصلاح کر دی تاکہ جس عمارت کو ہمیشہ کے لیے نمونہ بننا ہے اس میں کوئی ادنیٰ سی خامی بھی نہ رہ جائے۔ پھر جب اس معمار نے اپنے آقا کی ٹھیک ٹھیک مرضی کے مطابق یہ کارِ تعمیر پورا کر دیا تب دُنیا میں اعلان کیا گیا کہ
اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا۝۰ۭ المائدہ 3:5
آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے۔
تاریخ اِسلام گواہ ہے کہ اس طریقِ کار نے حقیقتاً امت میں کوئی مایوسی پیدا نہیں کی ہے۔ رسول اللّٰہ ﷺ کے بعد جب وحی الٰہی کا دروازہ بند ہو گیا تو کیا خلفائے راشدین نے پے درپے اٹھ کر وحی کے بغیر اس نمونے کی عمارت کو قائم رکھنے اور آگے اسی نمونے پر وسعت دینے کی کوشش نہیں کی؟ کیا عمر بن عبدالعزیز ؒنے اسے انھی بنیادوں پر از سر نو تازہ کرنے کی کوشش نہیں کی؟ کیا وقتاً فوقتاً صالح فرماں روا اور مصلحین امت بھی اس نمونے کی پیروی کرنے کے لیے دُنیا کے مختلف گوشوں میں نہیں اٹھتے رہے؟ ان میں سے آخر کس نے یہ کہا ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ تو وحی کی راہ نُمائی میں یہ کام کر گئے، اب یہ ہمارے بس کا روگ نہیں ہے؟ حقیقت میں اللّٰہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے تاریخ انسانی میں اپنے رسولﷺ کے عملی کارنامے سے روشنی کا ایک مینار کھڑا کر دیا ہے، جو صدیوں سے انسان کو صحیح نظامِ زندگی کا نقشہ دکھا رہا ہے اور قیامت تک دکھاتا رہے گا۔ آپ کا جی چاہے تو اس کے شکر گزار ہوں، اور جی چاہے تو اس کی روشنی سے آنکھیں بند کر لیں۔

شیئر کریں