Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

بنیادی حقوق کوئی نیا تصوّر نہیں
بنیادی حقوق کا سوال کیوں؟
دور حاضر میں انسانی حقوق کے شعور کا اِرتقا
اسی طرح دفعہ ۵۵ میں اقوام متحدہ کا یہ منشور کہتا ہے:
حُرمتِ جان یا جینے کا حق
معذوروں اور کمزوروں کا تحفظ
تحفظِ ناموس خواتین
معاشی تحفظ
عادلانہ طرز معاملہ
نیکی میں تعاون اور بدی میں عدم تعاون
مساوات کا حق
معصیت سے اجتناب کا حق
ظالم کی اطاعت سے انکار کا حق
سیاسی کار فرمائی میں شرکت کا حق
آزادی کا تحفظ
نجی زندگی کا تحفظ
ظلم کے خلاف احتجاج کا حق
ضمیر واعتقاد کی آزادی کا حق
مذہبی دِل آزاری سے تحفظ کا حق
آزادیِ ٔاجتماع کا حق
عملِ غیر کی ذمہ داری سے بریّت
شبہات پر کارروائی نہیں کی جائے گی

انسان کے بنیادی حقوق

اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

نجی زندگی کا تحفظ

اسلام کے بنیادی حقوق کی رو سے۔ آدمی کو (Privacy)یعنی نجی زندگی کو محفوظ رکھنے کا حق حاصل ہے۔ اس معاملے میں سورۂ نور میں وضاحت کر دی گئی کہ لَاتَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا [النور24:27]اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو، جب تک کہ ان سے اجازت نہ لے لو۔ سورہ حجرات میں فرما دیا گیا:لَا تَجَسَّسُوْا [الحجرات49:12] (تجسس نہ کرو)۔ نبیa کا ارشاد مبارک ہے کہ ایک آدمی کو یہ حق نہیں ہے کہ اپنے گھر سے دوسرے آدمی کے گھر جھانکے۔ ایک شخص کو پورا پورا آئینی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے گھر میںدوسروں کے شور و شغب سے، دوسروں کی تاک جھانک سے اور دوسروں کی مداخلت سے محفوظ ومامون رہے۔ اس کی گھریلو بے تکلفی اور پردہ داری برقرار رہنی چاہیے۔ مزید برآں یہ کہ کسی شخص کو دوسرے کا خط اوپر سے نگاہ ڈال کر دیکھنے کا حق بھی نہیں ہے۔ کجا کہ اسے پڑھا جائے۔ اسلام انسان کی پرائیویسی کا پورا پورا تحفظ کرتا ہے اور صاف ممانعت کرتا ہے کہ، گھروں میں تاک جھانک نہ کی جائے اور کسی کی ڈاک نہ دیکھی جائے۔ الّا یہ کہ کسی شخص کے متعلق معتبر ذریعہ سے یہ اطلاع مل جائے کہ وہ کوئی خطرناک کام کر رہا ہے۔ ورنہ خواہ مخواہ کسی کے حالات کا تجسس کرنا شریعتِ اسلامی میں جائز نہیں ہے۔

شیئر کریں