Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

عرضِ ناشر
دیباچہ ترتیب جدید
تمہید
اسلام، سرمایہ داری اور اشتراکیت کا اُصولی فرق
اسلامی نظامِ معیشت اور اس کے ارکان
حرمت سود
ایجابی پہلو
جدید بینکنگ
سُود کے متعلق اسلامی احکام
سود کے متعلقات
معاشی قوانین کی تدوین جدید اور اُس کے اُصول
اصلاح کی عملی صورت
ضمیمہ نمبر (۱): کیا تجارتی قرضوں پر سود جائز ہے؟
ضمیمہ نمبر ۲ : ادارۂ ثقافت اسلامیہ کا سوال نامہ
ضمیمہ نمبر ۳ :مسئلۂ سود اور دارالحرب
تنقید: (از: ابوالاعلیٰ مودودی)
قولِ فیصل
مصادر ومراجع (Bibliography)

سود

اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

قولِ فیصل

یہاں تک ہم نے قانون اسلامی کی جو تفصیلات درج کی ہیں ان سے جناب مولانا مناظر احسن صاحب کے استدلال کی پوری بنیاد منہدم ہو جاتی ہے۔ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ:
(۱) تمام غیر ذمی کافر مباح الدم و الاموال نہیں ہیں بلکہ اباحت صرف ان کافروں کے خون اور مال کی ہے جو برسر جنگ ہوں۔ لہٰذا اگر سود لینا اور عقود فاسدہ پر معاملہ کرنا جائز ہے تو صرف برسر جنگ کافروں کے ساتھ ہے اور ایسا کرنے کا حق صرف ان مسلمانوں کو پہنچتا ہے جو دارالاسلام کی رعیت ہوں، جن کے سردار نے کسی دارالکفر کو دارالحرب قرار دیا ہو اور جو دارالحرب میں امان لے کر تجارت وغیرہ کی اغراض کے لیے داخل ہوئے ہوں۔
(۲) دارالکفر اول تو ہر حال میں دارالحرب نہیں ہوتا اور اگر اعتقادی کے لحاظ سے وہ دارالحرب سمجھا جائے تو اس کے مدارج مختلف ہیں اور ہر درجے کے احکام الگ الگ ہیں۔ ایک ہی معنی میں تمام غیر اسلامی مقبوضات کو دارالحرب سمجھنا اور ان میں علی الدوام وہ احکام جاری کرنا جو خاص حالت جنگ کے لیے ہیں‘ قانون اسلامی کی اسپرٹ ہی کے نہیں بلکہ صریح ہدایات کے بھی خلاف ہے اور اس کے نتائج نہایت خطرناک ہیں۔ اباحت نفوس و اموال کی بنا پر جو جزئیات متفرع ہوتے ہیں وہ صرف اسی زمانے تک نافذ رہ سکتے ہیں جب تک کسی دارالکفر کے ساتھ حالت جنگ قائم رہے۔ پھر ان تمام احکام کا تعلق خود دارالحرب کی مسلمان رعایا سے نہیں ہے بلکہ اس دارالاسلام کی رعایا سے ہے جو اس دارالحرب کے ساتھ برسر جنگ ہو۔
(۳) ہندوستان{ FR 2347 } عام معنی میں اس وقت سے دارالکفر ہوگیا ہے جب سے مسلم حکومت کا یہاں استیصال ہوا۔ جس زمانے میں شاہ عبدالعزیز صاحب نے جواز سود کا فتویٰ دیا تھا، اس زمانے میں واقعی یہ مسلمانانِ ہند کے لیے دارالحرب تھا، اس لیے کہ انگریزی قوم مسلمانوں کی حکومت کو مٹانے کے لیے جنگ کر رہی تھی۔ جب اس کا استیلا مکمل ہوگیا اور مسلمانانِ ہند نے اس کی غلامی قبول کر لی تو یہ ان کے لیے دارالحرب نہیں رہا۔ ایک وقت میں یہ افغانستان کے مسلمانوں کے لیے دارالحرب تھا۔ ایک زمانے میں ترکوں کے لیے دارالحرب ہوا۔ مگر اب یہ تمام مسلمان حکومتوں کے لیے دارالصلح ہے۔ لہٰذا مسلمان حکومتوں کی رعایا میں سے کوئی شخص یہاں سود کھانے اور عقود فاسدہ پر معاملہ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ البتہ سرحد کے بعض آزاد قبائل اس کو اپنے لیے دارالحرب سمجھ سکتے ہیں اور اگر وہ یہاں عقود فاسدہ پر معاملات کریں تو حنفی قانون کی رُو سے ان کے فعل کو جائز کہا جا سکتا ہے‘ لیکن یہ جواز محض قانونی جواز ہے۔ خدا کی نظر میں وہ مسلمان ہرگز مقبول نہیں ہو سکتا جو اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتا ہو اور پھر سود خواری سے، مے فروشی سے، قمار بازی سے، سور کے گوشت اور مردار چیزوں کی تجارت سے اسلام کو غیر قوموں کے سامنے خوار بھی کرتا پھرے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص اپنے قرض دار بھائی کو گرفتار کرائے اور سولی جیل بھجوا دے‘ درآں حالیکہ اسے معلوم ہے کہ اس کے قبضے میں درحقیقت کچھ نہیں ہے اور اس کے بچے بھوکوں مر جائیں گے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ قرض خواہ کو ایسا کرنے کا حق ہے اور جو کچھ وہ کر رہا ہے قانونی جواز کی حد میں کر رہا ہے۔ مگر اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ یہ قانونی جواز کی بالکل آخری سرحد ہے اور جو انسان قانون کی آخری سرحدوں پر رہتا ہے وہ بسا اوقات جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔
(۴) ہندوستانی مسلمانوں کی حیثیت ہرگز وہ نہیں ہے جس کے لیے فقہی زبان میں ’’مستأمن‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مستامن کے لیے پہلی شرط دارالاسلام کی رعایا ہونا ہے اور دوسری شرط یہ ہے کہ دارالحرب میں اس کا قیام ایک قلیل مدت کے لیے ہو۔ حنفی قانون میں حربی مستأمن کے لیے دارالاسلام کے اندر رہنے کی زیادہ سے زیادہ مدت ایک سال یا اس سے کچھ زیادہ رکھی گئی ہے۔ اس کے بعد وہ قانون تبدیلِ جنسیت (law of naturalisation) کی رُو سے اس کو ذِمّی بنا لیتا ہے۔ اسی پر قیاس کیا جا سکتا ہے کہ مسلمان مستامن کے لیے دارالحرب میں قیام کرنے کی مدت سال دو سال سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ اسلامی شریعت جو مسلمانوں کو دارالاسلام میں سمیٹنے اور کافروں کو ذمی بنانے کے لیے سب سے زیادہ حریص ہے، کبھی اس کی اجازت نہیں دیتی کہ کوئی شخص دارالحرب کو اپنا وطن بنا لے اور وہاں نسلوں پر نسلیں پیدا کرتا رہے اور اس حیثیت میں زندگی بسر کرتا چلا جائے جو مستأمن کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ پھر جب یہ ایک شخص کے حق میں جائز نہیں تو کروڑوں مسلمانوں کی عظیم الشان آبادی کے لیے کب جائز ہو سکتا ہے کہ قرنوں تک ’’مستامن‘‘ کی سی زندگی بسر کرے اور ایک طرف ان اباحتوں سے فائدہ اٹھاتی رہے جو حالت ’’اِستیمان‘‘ کے لیے عارضی طور پر منتشر افراد کو محض جنگی ضروریات کے لیے دی گئی تھیں اور دوسری طرف وہ تمام قیود اپنے اوپر عائد کر لے جو مستأمن کو عارضی طور پر اسلامی قانون کی پابندی سے آزاد کرکے کفار کے قوانین کا پابند بناتی ہیں۔
(۵) مسلمانانِ ہند کی صحیح قانونی پوزیشن یہ ہے کہ وہ ایک ایسی قوم ہیں جن پر کفار مستولی ہوگئے ہیں۔ اُن کا دار جو کبھی دارالاسلام تھا، اب دارالکفربن گیا ہے مگر دارالاسلام کے کچھ آثار ابھی باقی ہیں … اُن کا فرض یہ ہے کہ یا تو کسی دارالاسلام میں منتقل ہو جائیں یا اگر اس پر قادر نہیں ہیں تو اس ملک میں جو اسلامی آثار باقی ہیں ان کی سختی کے ساتھ حفاظت کریں اور جتنی تدابیر ممکن ہوں وہ سب اسے دوبارہ دارالاسلام بنانے میں صرف کرتے رہیں۔ احکام کفر کے تحت جو زندگی وہ بسر کر رہے ہیں‘ اس کا ہر سانس ایک گناہ ہے … اب کیا باقی ماندہ آثار اسلامی کو بھی مٹا کر اس گناہ میں مزید اضافہ کرنا منظور ہے؟
ترجمان القرآن، رمضان۱۹۵۵ھ،ذی القعدہ ۱۹۵۵ھ،دسمبر ۱۹۳۶ء،فروری ۱۹۳۷ء
٭…٭…٭

شیئر کریں