Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

عرضِ ناشر
تصریح
دیباچہ
باب اوّل: سُنّت کی آئینی حیثیت
ڈاکٹر صاحب کا پہلا خط
جواب
ڈاکٹر صاحب کا دوسرا خط
جواب
سُنّت کیا چیز ہے؟
سُنّت کس شکل میں موجود ہے؟
کیا سُنّت متفق علیہ ہے؟ اور اس کی تحقیق کا ذریعہ کیا ہے؟
چار بنیادی حقیقتیں
دوسرے خط کا جواب
چار نکات
نکتۂ اُولیٰ
رسول اللّٰہa کے کام کی نوعیت
حضور a کی شخصی حیثیت اور پیغمبرانہ حیثیت کا فرق
قرآن سے زائد ہونا اور قرآن کے خلاف ہونا ہم معنی نہیں ہے
کیا سُنّت قرآن کے کسی حکم کو منسوخ کر سکتی ہے؟
نکتۂ دوم
نکتۂ سوم
احادیث کو پرکھنے میں روایت اور درایت کا استعمال
نکتۂ چہارم
اشاعت کا مطالبہ
باب دوم: منصبِ نبوت
ڈاکٹر صاحب کا خط
جواب
۱۔ منصب ِنبوّت اور اس کے فرائض
۲۔ رسول پاکﷺ کے تشریعی اختیارات
۳۔ سُنّت اور اتباع سُنّت کا مفہوم
۴۔رسولﷺ پاک کس وحی کے اتباع پر مامور تھے، اور ہم کس کے اتباع پر مامور ہیں؟
۵۔ مرکزِ ملّت
۶۔ کیا حضورﷺ صرف قرآن پہنچانے کی حد تک نبی تھے؟
۷۔ حضورﷺ کی اجتہادی لغزشوں سے غلط استدلال
۸۔ موہوم خطرات
۹۔ خلفائے راشدین پر بہتان
۱۰۔ کیا حضورﷺ پر قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی تھی؟
سُنّت کے متعلق چند مزید سوالات
جواب
وحی پر ایمان کی وجہ
مَااَنْزَلَ اللّٰہُ سے کیا چیز مراد ہے؟
سُنّت کہاں ہے؟
وحی سے مراد کیا چیز ہے؟
محض تکرارِ سوال
ایمان وکفر کا مدار
کیا احکامِ سُنّت میں رد وبدل ہو سکتا ہے؟
باب سوم : اعتراضات اور جوابات
۱۔ بزمِ طلوع اِسلام سے تعلق؟
۲۔ کیا گشتی سوال نامے کا مقصد علمی تحقیق تھا؟
۳۔ رسولﷺ کی حیثیت ِ شخصی و حیثیتِ نبویﷺ
۴۔ تعلیماتِ سنّت میں فرقِ مراتب
۵۔ علمی تحقیق یا جھگڑالو پن؟
۶۔ رسولﷺ کی دونوں حیثیتوں میں امتیاز کا اصول اور طریقہ
۷۔ قرآن کی طرح احادیث بھی کیوں نہ لکھوائی گئیں؟
۸۔ دجل وفریب کا ایک نمونہ
۹۔ حدیث میں کیا چیز مشکوک ہے اور کیا مشکوک نہیں ہے
۱۰۔ ایک اور فریب
۱۱۔ کیا امت میں کوئی چیز بھی متفق علیہ نہیں ہے؟
۱۲۔ سُنّت نے اختلافات کم کیے ہیں یا بڑھائے ہیں؟
۱۳۔ منکرینِ سُنّت اور منکرینِ ختم نبوت میں مماثلت کے وجوہ
۱۴۔ کیا آئین کی بنیاد وہی چیز ہو سکتی ہے جس میں اختلاف ممکن نہ ہو؟
۱۵۔ قرآن اور سُنّت دونوں کے معاملے میں رفعِ اختلاف کی صورت ایک ہی ہے
۱۶۔ ایک دل چسپ مغالطہ
۱۷۔ شخصی قانون اور ملکی قانون میں تفریق کیوں؟
۱۸۔ حیثیت ِرسول ﷺ کے بارے میں فیصلہ کن بات سے گریز
۱۹۔ کیا کسی غیر نبی کو نبی کی تمام حیثیات حاصل ہو سکتی ہیں
۲۰۔ اِسلامی نظام کے امیر اور منکرینِ حدیث کے مرکزِ ملت میں عظیم فرق
۲۱۔ عہد رسالت میں مشاورت کے حدود کیا تھے؟
۲۲۔ اذان کا طریقہ مشورے سے طے ہوا تھا یا الہام سے؟
۲۳۔ حضورﷺ کے عدالتی فیصلے سند وحجت ہیں یا نہیں؟
۲۴۔ کج بحثی کا ایک عجیب نمونہ
۲۵۔ کیا اللہ تعالیٰ بھی غلطی کرسکتا ہے؟
۲۶۔حضورﷺ کے ذاتی خیال اور بربنائے وحی کہی ہوئی بات میں واضح امتیاز تھا
۲۷۔ کیا صحابہؓ اس بات کے قائل تھے کہ حضورﷺ کے فیصلے بدلے جا سکتے ہیں؟
۲۸۔ مسئلہ طلاق ثلاثہ میں حضرت عمرؓ کے فیصلے کی اصل نوعیت
۲۹۔ مؤلفۃ القلوب کے بارے میں حضرت عمرؓ کے استدلال کی نوعیت
۳۰۔ کیا مفتوحہ اراضی کے بارے میں حضرت عمرؓ کا فیصلہ حکم رسولﷺ کے خلاف تھا؟
۳۱۔ وظائف کی تقسیم کے معاملے میں حضرت عمرؓ کا فیصلہ
۳۲۔ کیا قرآن کے معاشی احکام عبوری دور کے لیے ہیں؟
۳۳۔ ’’عبوری دور‘‘ کا غلط مفہوم
۳۴۔ حضورﷺکیا صرف شارح قرآن ہی ہیں یا شارع بھی؟
۳۵۔ بصیرت رسولﷺ کے خداداد ہونے کا مفہوم
۳۶۔ وحی کی اقسام ازروئے قرآن
۳۷۔ وحی غیرمتلو پر ایمان، ایمان بالرسول کا جُز ہے
۳۸۔ کیا وحی غیر متلو بھی جبریل ہی لاتے تھے؟
۳۹۔ کتاب اور حکمت ایک ہی چیز یا الگ الگ
۴۰۔ لفظ تلاوت کے معنی
۴۱۔ کتاب کے ساتھ میزان کے نزول کا مطلب
۴۲۔ ایک اور کج بحثی
۴۳۔ تحویلِ قبلہ والی آیت میں کون سا قبلہ مراد ہے؟
۴۴۔ قبلے کے معاملے میں رسولﷺ کی پیروی کرنے یا نہ کرنے کا سوال کیسے پیدا ہوتا تھا؟
۴۵۔ نبی پر خود ساختہ قبلہ بنانے کا الزام
۴۶۔ لَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ الرُّؤْیَا کا مطلب
۴۷۔ کیا وحی خواب کی صورت میں بھی ہوتی ہے؟
۴۸۔ بے معنی اعتراضات اور الزامات
۴۹۔ کیا آنحضورﷺ نے صحابہؓ کو دھوکا دیا تھا؟
۵۰۔ کیا آنحضورﷺ اپنے خواب سے متعلق متردد تھے؟
۵۱۔دروغ گویم بر رُوئے تو
۵۲۔ رُو در رُو بہتان
۵۳۔ نَبَّأَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ کا مطلب

سنت کی آئینی حیثیت

انکار سنت کا فتنہ اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں اُٹھا تھا اور اس کے اُٹھانے والے خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وہ سنت حائل تھی جس نے اس معاشرے کو ایک نظم و ضبط پر قائم کیا تھا، اور اس کی راہ میں حضور کے وہ ارشادات حائل تھے جن کی موجودگی میں خوارج کے انتہا پسندانہ نظریات نہ چل سکتے تھے۔ اس بنا پر اُنھوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دو گونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کو اس کی ضرورت اس لیے لاحق ہوئی کہ عجمی اور یونانی فلسفوں سے پہلا سابقہ پیش آتے ہی اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے میں جو شکوک و شبہات ذہنوں میں پیدا ہونے لگے تھے، اُنھیں پوری طرح سمجھنے سے پہلے وہ کسی نہ کسی طرح اُنھیں حل کر دینا چاہتے تھے۔ خود ان فلسفوں میں ان کو وہ بصیرت حاصل نہ ہوئی تھی کہ ان کا تنقیدی جائزہ لے کر ان کی صحت و قوت جانچ سکتے۔ اُنھوں نے ہر اس بات کو جو فلسفے کے نام سے آئی، سراسر عقل کا تقاضا سمجھا اور یہ چاہا کہ اسلام کی عقائد اور اصولوں کی ایسی تعبیر کی جائے جس سے وہ ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو جائیں۔ اس راہ میں پھر وہی حدیث و سنت مانع ہوئی۔ اس لیے اُنھوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھیرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کیا۔ اس کتاب میں مولانا مودودیؒ نے مخالفانہ دلائل کو ایک ایک کرکے اس طرح بیان کیا ہے کہ اس کے بعد کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ سید مودودیؒ کتاب کے آخر میں رقم طراز ہیں: ”ہم نے ایک ایک دلیل کا تفصیلی جائزہ لے کر جو بحث کی ہے اسے پڑھ کر ہر صاحب علم آدمی خود یہ رائے قائم کر سکتا ہے کہ ان دلائل میں کتنا وزن ہے اور ان کے مقابلے میں سنت کے ماخذ قانون اور احادیث کے قابل استناد ہونے پر جو دلیلیں ہم نے قائم کی ہیں وہ کس حد تک وزنی ہیں۔ ہم خاص طور پر خود فاضل جج سے اور مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ان کے رفقا سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ پورے غور کے ساتھ ہماری اس تنقید کو ملاحظہ فرمائیں اور اگر ان کی بے لاگ رائے میں، جیسی کہ ایک عدالت عالیہ کے فاضل ججوں کے رائے بے لاک ہونی چاہیے، یہ تنقید فی الواقع مضبوط دلائل پر مبنی ہو تو وہ قانون کے مطابق کوئی ایسی تدبیر عمل میں لائیں جس سے یہ فیصلہ آئیندہ کے لیے نظیر نہ بن سکے۔ عدالتوں کا وقار ہر ملک کے نظام عدل و انصاف کی جان ہوتا ہے اور بہت بڑی حد تک اسی پر ایک مملکت کے استحکام کا انحصار ہوتا ہے۔ اس وقار کے لیے کوئی چیز اس سے بڑھ کر نقصان دہ نہیں ہے کہ ملک کی بلند ترین عدالتوں کے فیصلے علمی حیثیت سے کمزور دلائل اور ناکافی معلومات پر مشتمل ہوں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ جب ایمان دارانہ تنقید سے ایسی کسی غلطی کی نشان دہی ہو جائے تو اولین فرصت میں خود حاکمان عدالت ہی اس کی تلافی کی طرف توجہ فرمائیں۔“ حدیث کے حوالے سے شکوک وشبہات کا اظہار کرنے والے افراد کے لیے اس کتاب کو پڑھنا بہت اہم ہے۔

دیباچہ

انکارِ سُنّت کا فتنہ اِسلامی تاریخ میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں اُٹھا تھا اور اس کے اُٹھانے والے خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں رسول اللّٰہa کی وہ سُنّت حائل تھی جس نے اس معاشرے کو ایک نظم وضبط پر قائم کیا تھا اور اس کی راہ میں حضورaکے وہ ارشادات حائل تھے جن کی موجودگی میں خوارج کے انتہا پسندانہ نظریات نہ چل سکتے تھے۔ اس بِنا پر اُنھوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سُنّت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔
معتزلہ کو اس کی ضرورت اس لیے لاحق ہوئی کہ عجمی اور یونانی فلسفوں سے پہلا سابقہ پیش آتے ہی اِسلامی عقائد اور اصول واحکام کے بارے میں جو شکوک وشبہات ذہنوں میں پیدا ہونے لگے تھے انھیں پوری طرح سمجھنے سے پہلے وہ کسی نہ کسی طرح انھیں حل کر دینا چاہتے تھے۔ خود ان فلسفوں میں ان کو وہ بصیرت حاصل نہ ہوئی تھی کہ ان کا تنقیدی جائزہ لے کر ان کی صحت وقوت جانچ سکتے۔ انھوں نے ہر اس بات کو جو فلسفے کے نام سے آئی، سراسر عقل کا تقاضا سمجھا اور یہ چاہا کہ اِسلام کے عقائد اور اصولوں کی ایسی تعبیر کی جائے جس سے وہ ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو جائیں۔ اس راہ میں پھر وہی حدیث وسُنّت مانع ہوئی،اس لیے انھوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھیرایا اور سُنّت کو حجت ماننے سے انکار کیا۔
ان دونوں فتنوں کی غرض اور ان کی ٹیکنیک مشترک تھی۔ ان کی غرض یہ تھی کہ قرآن کو اس کے لانے والے کی قولی وعملی تشریح وتوضیح سے، اور اس نظام فکر وعمل سے جو خدا کے پیغمبر نے اپنی راہ نُمائی میں قائم کر دیا تھا، الگ کرکے مجرد ایک کتاب کی حیثیت سے لے لیا جائے، اور پھر اس کی من مانی تاویلات کرکے ایک دوسرا نظام بنا ڈالا جائے جس پر اِسلام کا لیبل چسپاں ہو۔ اس غرض کے لیے جو ٹیکنیک انھوں نے اختیار کی اس کے دو حربے تھے:
٭ ایک یہ کہ احادیث کے بارے میں یہ شک دلوں میں ڈالا جائے کہ وہ فی الواقع حضورa کی ہیں بھی یا نہیں۔
٭ دوسرے: یہ اصولی سوال اُٹھایا جائے کہ کوئی قول یا فعل حضور a کا ہو بھی تو ہم اس کی اطاعت واتباع کے پابند کب ہیں۔
ان کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ محمد رسول اللّٰہ a ہم تک قرآن پہنچانے کے لیے مامور کیے گئے تھے، سو انھوں نے وہ پہنچا دیا۔ اس کے بعد محمدaبن عبداللّٰہ ویسے ہی ایک انسان تھے جیسے ہم ہیں۔ انھوں نے جو کچھ کہا اور کیا وہ ہمارے لیے حجت کیسے ہو سکتا ہے۔
یہ دونوں فتنے تھوڑی مدت چل کر اپنی موت آپ مر گئے اور تیسری صدی کے بعد پھر صدیوں تک اِسلامی دُنیا میں ان کا نام ونشان باقی نہ رہا۔ جن بڑے بڑے اسباب نے اس وقت ان فتنوں کا قلع قمع کر ڈالا، وہ حسب ذیل تھے:
۱۔ محدثین کا زبردست تحقیقی کام، جس نے مسلمانوں کے تمام سوچنے سمجھنے والے لوگوں کو مطمئن کر دیا کہ رسول اللّٰہ a کی سُنّت جن روایات سے ثابت ہوتی ہے، وہ ہرگز مشتبہ نہیں ہیں بلکہ نہایت معتبر ذرائع سے امت کو پہنچی ہیں اور ان کو مشتبہ روایات سے الگ کرنے کے لیے بہترین علمی ذرائع موجود ہیں۔
۲۔ قرآن کی تصریحات، جن سے اس زمانے کے اہل علم نے عام مسلمانوں کے سامنے یہ بات ثابت کر دی کہ دین کے نظام میں محمد رسول اللّٰہ a کی وہ حیثیت ہرگز نہیں ہے جو منکرینِ سُنّت حضورa کو دینا چاہتے ہیں۔ آپa قرآن پہنچا دینے کے لیے محض ایک نامہ برمقرر نہیں کیے گئے تھے، بلکہ آپa کو خدا نے معلم، راہ نُما، مفسر قرآن، شارعِ قانون اور قاضی وحاکم بھی مقرر کیا تھا۔ لہٰذا خود قرآن ہی کی رو سے آپa کی اطاعت وپیروی ہم پر فرض ہے اور اس سے آزاد ہو کر جو شخص قرآن کی پیروی کا دعوٰی کرتا ہے وہ دراصل قرآن کا پیرو بھی نہیں ہے۔
۳۔ منکرینِ سُنّت کی اپنی تاویلات، جن کا کھلونا قرآن کو بنا کر انھوں نے عام مسلمانوں کے سامنے یہ حقیقت بالکل برہنہ کر دی کہ سُنّتِ رسول اللّٰہa سے جب کتاب اللّٰہ کا تعلق توڑ دیا جائے تو دین کا حلیہ کس بُری طرح بگڑتا ہے، خدا کی کتاب کے ساتھ کیسے کیسے کھیل کھیلے جاتے ہیں، اور اس کی معنوی تحریف کے کیسے مضحکہ انگیز نمونے سامنے آتے ہیں۔
۴۔ امت کا اجتماعی ضمیر، جو کسی طرح یہ بات قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھا کہ مسلمان کبھی رسولa کی اطاعت وپیروی سے آزاد بھی ہو سکتا ہے۔ چند سر پھرے انسان تو ہر زمانے اور ہر قوم میں ایسے نکلتے ہیں جو بے تُکی باتوں ہی میں تُک محسوس کرتے ہوں۔ مگر پوری امت کا سر پھرا ہو جانا بہت مشکل ہے۔ عام مسلمانوں کے ذہنی سانچے میں یہ غیر معقول بات کبھی ٹھیک نہ بیٹھ سکی کہ آدمی رسولa کی رسالت پر ایمان بھی لائے اور پھر اس کی اطاعت کا قلادہ اپنی گردن سے اتار بھی پھینکے۔ ایک سیدھا سادھا مسلمان، جس کے دماغ میں ٹیڑھ نہ ہو، عملًا نافرمانی کا مرتکب تو ہو سکتا ہے، لیکن یہ عقیدہ کبھی اختیار نہیں کر سکتا کہ جس رسولa پر وہ ایمان لایا ہے اس کی اطاعت کا وہ سرے سے پابند ہی نہیں ہے۔ یہ سب سے بڑی بنیادی چیز تھی جس نے آخر کار منکرینِ سُنّت کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ اس پر مزید یہ کہ مسلمان قوم کا مزاج اتنی بڑی بدعت کو ہضم کرنے کے لیے کسی طرح تیار نہ ہو سکا کہ اس پورے نظام زندگی کو، اس کے تمام قاعدوں اور ضابطوں اور اداروں سمیت رد کر دیا جائے جو رسول اللّٰہ a کے عہد سے شروع ہو کر خلفائے راشدین، صحابہ کرام، تابعین، ائمہ مجتہدین اور فقہائے امت کی راہ نُمائی میں مسلسل ایک ہموار طریقے سے ارتقا کرتا چلا آ رہا تھا، اور اُسے چھوڑ کر آئے دن ایک نیا نظام ایسے لوگوں کے ہاتھوں بنوایا جائے جو دُنیا کے ہر فلسفے اور ہر تخیل سے متاثر ہو کر اِسلام کا ایک جدید اڈیشن نکالنا چاہتے ہوں۔
اس طرح فنا کے گھاٹ اتر کر یہ انکار سُنّت کا فتنہ کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا، یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری (انیسویں صدی عیسوی) میں وہ پھر جی اُٹھا۔ اس نے پہلا جنم عراق میں لیا تھا۔ اب یہ دوسرا جنم اس نے ہندستان میں لیا۔ یہاں اس کی ابتدا کرنے والے سر سید احمد خاں اور مولوی چراغ علی تھے۔ پھر مولوی عبداللہ چکڑالوی اس کے عَلم بردار بنے۔ اس کے بعد مولوی احمد الدین امرتسری نے اس کا بیڑا اُٹھایا۔ پھر مولانا اسلم جیراج پوری اسے لے کر آگے بڑھے اور آخر کار اس کی ریاست چودھری غلام احمد پرویز کے حصے میں آئی جنھوں نے اس کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا ہے۔
اس کی دوسری پیدائش کا سبب بھی وہی تھا جو دوسری صدی میں پہلی مرتبہ اس کی پیدائش کا سبب بنا تھا، یعنی بیرونی فلسفوں اور غیر اِسلامی تہذیبوں سے سابقہ پیش آنے پر، ذہنی شکست خوردگی میں مبتلا ہو جانا، اور تنقید کے بغیر باہر کی اُن ساری چیزوں کو سراسر تقاضائے عقل مان کر اِسلام کو ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا۔ لیکن دوسری صدی کی بہ نسبت تیرہویں صدی کے حالات بہت مختلف تھے۔ اس وقت مسلمان فاتح تھے، ان کو فوجی وسیاسی غلبہ حاصل تھا، اور جن فلسفوں سے انھیں سابقہ پیش آیا تھا، وہ مفتوح ومغلوب قوموں کے فلسفے تھے، اس وجہ سے ان کے ذہن پر ان فلسفوں کا حملہ بہت ہلکا ثابت ہوا اور بہت جلدی رد کر دیا گیا۔ اس کے برعکس تیرہویں صدی میں یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب کہ مسلمان ہر میدان میں پٹ چکے تھے، ان کے اقتدار کی اینٹ سے اینٹ بجائی جا چکی تھی، ان کے ملک پر دشمنوں کا قبضہ ہو چکا تھا، ان کو معاشی حیثیت سے بُری طرح کچل ڈالا گیا تھا، ان کا نظام تعلیم درہم برہم کر دیا گیا تھا، اور ان پر فاتح قوم نے اپنی تعلیم، اپنی تہذیب، اپنی زبان، اپنے قوانین اور اپنے اجتماعی وسیاسی اور معاشی اداروں کو پوری طرح مسلط کر دیا تھا۔ ان حالات میں جب مسلمانوں کو فاتحوں کے فلسفے اور سائنس سے اور ان کے قوانین اور تہذیبی اصولوں سے سابقہ پیش آیا تو قدیم زمانے کے معتزلہ کی بہ نسبت ہزار درجہ زیادہ سخت مرعوب ذہن رکھنے والے معتزلہ ان کے اندر پیدا ہونے لگے۔ انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ مغرب سے جو نظریات، جو افکار و تخیلات، جو اصولِ تہذیب وتمدن اور جو قوانینِ حیات آ رہے ہیں، وہ سراسر معقول ہیں، ان پر اِسلام کے نقطۂ نظر سے تنقید کرکے حق وباطل کا فیصلہ کرنا محض تاریک خیالی ہے۔ زمانے کے ساتھ چلنے کی صورت بس یہ ہے کہ اِسلام کو کسی نہ کسی طرح ان کے مطابق ڈھال دیا جائے۔
اس غرض سے جب انھوں نے اِسلام کی مرمت کرنی چاہی تو انھیں بھی وہی مشکل پیش آئی جو قدیم زمانے کے معتزلہ کو پیش آئی تھی۔ انھوں نے محسوس کیا کہ اِسلام کے نظامِ حیات کو جس چیز نے تفصیلی اور عملی صورت میں قائم کیا ہے وہ رسول اللّٰہ a کی سُنّت ہے۔ اسی سُنّت نے قرآن کی ہدایات کا مقصد ومنشا متعین کرکے مسلمانوں کے تہذیبی تصورات کی تشکیل کی ہے اور اسی نے ہر شعبۂ زندگی میں اِسلام کے عملی ادارے مضبوط بنیاد پر تعمیر کر دیئے ہیں۔ لہٰذا اِسلام کی کوئی مرمت اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ اس سُنّت سے پیچھا چھڑایا جائے۔ اس کے بعد صرف قرآن کے الفاظ رہ جاتے ہیں جن کے پیچھے نہ کوئی عملی نمونہ ہو گا، نہ کوئی مستند تعبیر وتشریح ہو گی اور نہ کسی قسم کی روایات اور نظیریں ہوں گی۔ ان کو تاویلات کا تختۂ مشق بنانا آسان ہو گا اور اس طرح اِسلام بالکل ایک موم کا گولہ بن کر رہ جائے گا جسے دُنیا کے ہر چلتے ہوئے فلسفے کے مطابق ہر روز ایک نئی صورت دی جا سکے گی۔
اس مقصد کے لیے انھوں نے پھر وہی ٹیکنیک، انھی دو حربوں کے ساتھ اختیار کیا جو قدیم زمانے میں اختیار کیا گیا، یعنی ایک طرف ان روایات کی صحت میں شک ڈالا جائے جن سے سُنّت ثابت ہوتی ہے، اور دوسری طرف سُنّت کو بجائے خود حجت وسند ہونے سے انکار کر دیا جائے لیکن یہاں پھر حالات کے فرق نے اس ٹیکنیک اور اس کے حربوں کی تفصیلی صورت میں بڑا فرق پیدا کر دیا ہے۔ قدیم زمانے میں جو لوگ اس فتنے کا علم لے کر اٹھے تھے وہ ذی علم لوگ تھے، عربی زبان وادب میں بڑا پایہ رکھتے تھے، قرآن، حدیث اور فقہ کے علوم میں کافی درک رکھتے تھے اور ان کو سابقہ بھی اس مسلمان پبلک سے تھا، جس کی علمی زبان عربی تھی، جس میں عام لوگوں کا تعلیمی معیار بہت بلند تھا، جس میں علوم دینی کے ماہرین بہت بڑی تعداد میں ہر طرف پھیلے ہوئے تھے اور ایسی پبلک کے سامنے کوئی کچی پکی بات لا کر ڈال دینے سے خود اس شخص کی ہوا خیزی ہو جانے کا خطرہ تھا جو ایسی بات لے کر آئے۔ اسی وجہ سے قدیم زمانے کے معتزلہ بہت سنبھل کر بات کرتے تھے۔ اس کے برعکس ہمارے دور میں جو لوگ اس فتنے کو ہوا دینے کے لیے اٹھے ہیں ان کا اپنا علمی پایہ بھی سرسید کے زمانے سے لے کر آج تک درجہ بدرجہ ایک دوسرے سے فروتر ہوتا چلا گیا ہے، اور ان کو سابقہ بھی ایسی پبلک سے پیش آیا ہے جس میں عربی زبان اور دینی علوم جاننے والے کا نام ’’تعلیم یافتہ‘‘ نہیں ہے اور ’’تعلیم یافتہ‘‘ اس شخص کا نام ہے جو دُنیا میں اور چاہے سب کچھ جانتا ہو، مگر قرآن پر بہت مہربانی کرے تو کبھی کبھار اس کو ترجموں… اور وہ بھی انگریزی ترجموں … کی مدد سے پڑھ لے، حدیث اور فقہ کے متعلق حد سے حد کچھ سنی سنائی معلومات … اور وہ بھی مستشرقین کی پہنچائی ہوئی معلومات … پر اکتفا کرے، اِسلامی روایات پر زیادہ سے زیادہ ایک اچٹتی ہوئی نگاہ ڈال لے اور وہ بھی اس حیثیت سے کہ یہ کچھ بوسیدہ ہڈیوں کا مجموعہ ہے جسے ٹھکرا کر زمانہ بہت آگے نکل چکا ہے۔ پھر اس ذخیرۂ علم دین کے بل بوتے پر وہ اس زعم میں مبتلا ہو کہ اِسلام کے بارے میں آخری اور فیصلہ کُن رائیں قائم کرنے کی وہ پوری اہلیت اپنے اندر رکھتا ہے۔ ایسے حالات میں پرانے اعتزال کی بہ نسبت نئے اعتزال کا معیار جیسا کچھ گھٹیا ہو سکتا ہے ظاہر ہے یہاں علم کم اور بے علمی کی جسارت بہت زیادہ ہے۔ اب جو ٹیکنیک اس فتنے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے، اس کے اہم اجزا یہ ہیں:
۱۔ حدیث کو مشتبہ ثابت کرنے کے لیے مغربی مستشرقین نے جتنے حربے استعمال کیے ہیں اُن پر ایمان لانا اور اپنی طرف سے حواشی کا اضافہ کرکے انھیں عام مسلمانوں میں پھیلا دینا تاکہ ناواقف لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جائیں کہ رسول اللّٰہ a سے قرآن کے سوا کوئی چیز بھی امت کو قابل اعتماد ذرائع سے نہیں ملی ہے۔
۲۔ احادیث کے مجموعوں کو عیب چینی کی غرض سے کھنگالنا … ٹھیک اسی طرح جیسے آریہ سماجیوں اور عیسائی مشنریوں نے کبھی قرآن کو کھنگالا تھا … اور ایسی چیزیں نکال نکال کر، بلکہ بنا بنا کر عوام کے سامنے پیش کرنا، جن سے یہ تاثر دیا جا سکے کہ حدیث کی کتابیں نہایت شرم ناک یا مضحکہ خیز مواد سے لبریز ہیں، پھر آنکھوں میں آنسو بھر کر یہ اپیل کرنا کہ اِسلام کو رسوائی سے بچانا ہے تو اس سارے دفتر بے معنی کو غرق کر دو۔
۳ رسول اللّٰہ a کے منصب رسالت کو محض ایک ڈاکیے کا منصب قرار دینا جس کا کام بس اس قدر تھا کہ لوگوں کو قرآن پہنچا دے۔
۴۔ صرف قرآن کو اِسلامی قانون کا ماخذ قرار دینا اور سُنّت رسولa کو اِسلام کے قانونی نظام سے خارج کر دینا۔
۵۔ امت کے تمام فقہا، محدثین، مفسرین اور ائمہ لغت کو ساقط الاعتبار قرار دینا تاکہ مسلمان قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے ان کی طرف رجوع نہ کریں، بلکہ ان کے متعلق اس غلط فہمی میں پڑ جائیں کہ ان سب نے قرآن کی حقیقی تعلیمات پر پردے ڈالنے کے لیے ایک سازش کر رکھی تھی۔
۶۔ خود ایک نئی لغت تصنیف کرکے قرآن کی تمام اصطلاحات کے معنی بدل ڈالنا اور آیات قرآنی کو وہ معانی پہنانا جن کی کوئی گنجائش دُنیا کے کسی عربی دان آدمی کو قرآن کے الفاظ میں نظر نہ آئے۔ (لطف یہ ہے کہ جو صاحب یہ کام کر رہے ہیں ان کے سامنے اگر قرآن کی چند آیتیں اعراب کے بغیر لکھ کر رکھ دی جائیں تو وہ انھیں صحیح پڑھ بھی نہیں سکتے۔ لیکن ان کا دعوٰی یہ ہے کہ اب خود عرب بھی عربی نہیں جانتے، اس لیے اگر ان کے بیان کردہ معنوں کی گنجائش کسی عرب کو قرآن کے الفاظ میں نظر نہ آئے تو قصور اس عرب ہی کا ہے)
اس تخریبی کام کے ساتھ ساتھ ایک نئے اِسلام کی تعبیر بھی ہو رہی ہے جس کے بنیادی اصول تعداد میں صرف تین ہیں، مگر دیکھیے کہ کیسے بے نظیر اصول ہیں:
(i) اس کا پہلا اصول یہ ہے کہ تمام شخصی املاک کو ختم کرکے ایک مرکزی حکومت کے تصرف میں دے دیا جائے اور وہی حکومت افراد کے درمیان تقسیمِ رزق کی مختار کل ہو۔ اس کا نام ہے نظام ربوبیت اور کہا جاتا ہے کہ قرآن کا اصل مقصود یہی نظام قائم کرنا تھا، مگر پچھلے تیرہ سو سال میں کسی کو اسے سمجھنے کی توفیق میسر نہ ہوئی، صرف حضرت مارکس اور ان کے خلیفۂ خاص حضرت اینجلز قرآن کے اس مقصدِ اصل کو پا سکے۔
(ii) اس کا دوسرا اصول یہ ہے کہ تمام پارٹیاں اور جماعتیں توڑ دی جائیں اور مسلمانوں کو قطعًا کوئی جماعت بنانے کی اجازت نہ دی جائے، تاکہ وہ معاشی حیثیت سے بے بس ہو جانے کے باوجود اگر مرکزی حکومت کے کسی فیصلے کی مزاحمت کرنا چاہیں تو غیر منظم ہونے کی وجہ سے نہ کر سکیں۔
(iii) اس کا تیسرا اصول یہ ہے کہ قرآن میں جس ’’اللّٰہ اور رسول‘‘ پر ایمان لانے، اور جس کی اطاعت بجا لانے، اور جسے آخری سند تسلیم کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس سے مراد ہے ’’مرکزِ ملت‘‘۔ یہ مرکزِ ملت چوں کہ خود ’’اللّٰہ اور رسول‘‘ ہے، اس لیے قرآن کو جو معنی وہ پہنائے وہی اس کے اصل معنی ہیں۔ اس کے حکم یا قانون کے متعلق یہ سوال سرے سے اُٹھایا ہی نہیں جا سکتا کہ وہ قرآن کے خلاف ہے۔ جو کچھ وہ حرام کرے وہ حرام اور جو کچھ وہ حلال کرے وہ حلال۔ اس کا فرمان شریعت ہے اور عبادات سے لے کر معاملات تک جس چیز کی جو شکل بھی وہ تجویز کرے اس کا ماننا فرض، بلکہ شرط اِسلام ہے۔ جس طرح بادشاہ غلطی نہیں کر سکتا، اسی طرح ’’مرکزِ ملت‘‘ بھی سُبّوح وقدوس ہے۔ لوگوں کا کام اس کے سامنے بس سر جھکا دینا ہے۔اللّٰہ اور رسول مرکزِ ملت نہ تنقید کے ہدف بن سکتے ہیں، نہ ان کے خطا کار ہونے کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے، اور نہ ان کو بدلا ہی جا سکتا ہے۔
اس نئے اِسلام کے ’’نظام ربوبیت‘‘ پر ایمان لانے والے تو ابھی بہت کم ہیں لیکن اس کے باقی تمام تعمیری اور تخریبی اجزا چند مخصوص حلقوں میں بڑے مقبول ہو رہے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کے لیے اس کا تصور ’’مرکزِ ملت‘‘ بہت اپیل کرنے والا ہے۔ اس لازمی شرط کے ساتھ کہ مرکزِ ملت وہ خود ہوں اور یہ خیال بھی انھیں بہت پسند آتا ہے کہ تمام ذرائع ان کے تصرف میں ہوں اور قوم پوری طرح غیر منظم ہو کر ان کی مٹھی میں آ جائے۔ ہمارے ججوں اور قانون پیشہ لوگوں کا ایک عنصر اسے اس لیے پسند کرتا ہے کہ انگریزی حکومت کے دور میں جس قانونی نظام کی تعلیم وتربیت انھوں نے پائی ہے، اس کے اصولوں اور بنیادی تصورات ونظریات اور جزئی وفروعی احکام سے اِسلام کا معروف قانونی نظام قدم قدم پر ٹکراتا ہے اور اس کے مآخذ تک بھی ان کی دسترس نہیں ہے، اس بِنا پر وہ اس خیال کو بہت پسند کرتے ہیں کہ سُنّت اور فقہ کے جھنجھٹ سے انھیں نجات مل جائے اور صرف قرآن باقی رہ جائے جس کی تاویل کرنا جدید لغت کی مدد سے اب اور بھی زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام مغربیت زدہ لوگوں کو یہ مسلک اپنی طرف کھینچ رہا ہے کیوں کہ اِسلام سے نکل کر مسلمان رہنے کا اس سے زیادہ اچھا نسخہ ابھی تک دریافت نہیں ہو سکا ہے۔ آخر اس سے زیادہ مزے کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ جو کچھ مغرب میں حلال اور ’’ملا کے اِسلام‘‘ میں آج تک حرام ہے وہ حلال بھی ہو جائے اور قرآن کی سند ان حلال کرنے والوں کے ہاتھ میں ہو۔
میں پچھلے پچیس چھبیس سال میں اس فتنے کی تردید کے لیے بہت سے مضامین لکھ چکا ہوں جو میری متعدد کتابوں میں درج ہیں۔اس وقت جن مضامین کا مجموعہ شائع کیا جا رہا ہے، وہ دوحصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں وہ پوری مراسلت یکجا درج کر دی گئی ہے جو سُنّت کی آئینی حیثیت کے بارے میں میرے اور ڈاکٹر عبدالودود صاحب کے درمیان ہوئی تھی۔ دوسرے حصے میں مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے ایک رکن جسٹس محمد شفیع صاحب کا ایک فیصلہ نقل کیا جا رہا ہے جو انھوں نے ۲۱؍ جولائی ۱۹۶۰ء کو مقدمۂ رشیدہ بیگم بنام شہاب دین وغیرہ میں صادر فرمایا ہے، اور میں نے اس پر مفصل تنقید کی ہے۔ ان دونوں حصوں میں ناظرین ایک طرف منکرین سُنّت کے تمام مسائل اور دلائل ان کی اپنی زبان میں ملاحظہ فرما لیں گے اور دوسری طرف انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ دین کے نظام میں سُنّت کی اصل حیثیت کیا ہے۔ اس کے بعد یہ رائے قائم کرنا ہر شخص کا اپنا کام ہے کہ وہ کس مسلک کو قبول کرتا ہے۔
جن حضرات تک یہ مجموعۂ مضامین پہنچے ان سے میں ایک خاص گزارش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ بحث دین کے ایک نہایت اہم بنیادی مسئلے سے تعلق رکھتی ہے جس میں کسی ایک پہلو کو ترک اور دوسرے کو اختیار کرنے کے نتائج بڑے دور رس ہیں۔ بدقسمتی سے دین کی اساس کے متعلق یہ بحث ہمارے ملک میں نہ صرف چھڑ چکی ہے بلکہ ایک نازک صورت اختیار کر چکی ہے۔ ہمارے اربابِ اقتدار کا ایک معتدبہ عنصر انکارِ سُنّت کے مسلک سے متاثر ہو رہا ہے۔ ہماری اعلیٰ عدالتوں کے جج اس کا اثر قبول کر رہے ہیں۔ حتّٰی کہ ہائی کورٹ سے ایک فیصلہ کلیۃً انکارِ سُنّت کی بنیاد پر صادر ہو چکا ہے جو آگے نہ معلوم اور کن کن مقدمات میں نظیر کا کام دے۔ ہمارے تعلیم یافتہ لوگوں میں، اور خصوصاً سرکاری دفتروں میں یہ تحریک منظم طریقے سے چل رہی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ جن حضرات تک بھی یہ مجموعہ پہنچے وہ نہ صرف خود گہری نگاہ سے اس کا مطالعہ فرمائیں، بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اس کے مطالعے کی طرف توجہ دلائیں۔ قطع نظر اس سے کہ وہ سُنّت کے قائل ہوں یا منکر۔ رائے جو شخص جیسی بھی چاہے، قائم کرے، مگر کسی پڑھے لکھے آدمی کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ محض یک رخے مطالعے پر اپنا ایک ذہن بنا لے اور دوسرا رخ دیکھنے سے انکار کر دے۔ اس مجموعے میں چوں کہ دونوں رخ پوری وضاحت کے ساتھ آ گئے ہیں اس لیے امید ہے کہ یہ قائلینِ سُنّت اور منکرینِ سُنّت، دونوں کو ایک متوازن رائے قائم کرنے میں مدد دے گا۔
خاکسار
ابو الاعلیٰ
لاہور۔۳۰ جولائی ۱۹۶۱ء

شیئر کریں