Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

دیباچہ
مقدمہ طبع اوّل
تعارف مقصد
تحریک اِسلامی کا تنزل
ضمیمہ
نسلی مسلمانوں کے لیے دوراہیں عمل‘ خواہ انفرادی ہویااجتماعی‘ بہرحال اس کی صحت کے لیے دو چیزیں شرط لازم ہیں:
اقلیت واکثریت
شکایات ناظرین’’ترجمان القرآن‘‘میں سے ایک صاحب لکھتے ہیں:
راہ رَوپِشت بمنزل
اسلام کی دعوت اور مسلمان کا نصب العین
اصلی مسلمانوں کے لیے ایک ہی راہِ عمل
اسلام کی راہِ راست اور اس سے انحراف کی راہیں
۱۔اسلامی نصب العین
۲- اس نصب العین تک پہنچنے کا سیدھا راستہ
۳-مشکلات
۴-انحراف کی راہیں
۵- منحرف راستوں کی غلطی
پاکستانی خیال کے لوگ
۶-مشکلات کا جائزہ
اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے؟
استدراک
ایک صالح جماعت کی ضرورت
مطالبۂ پاکستان کو یہود کے مطالبہ ’’قومی وطن‘‘ سے تشبیہ دینا غلط ہے
مسلم لیگ سے اختلاف کی نوعیت
وقت کے سیاسی مسائل میں جماعت ِاسلامی کا مسلک
نظام کفر کی قانون ساز مجلس میں مسلمانوں کی شرکت کا مسئلہ
مجالس قانون ساز کی رکنیت شرعی نقطۂ نظر سے
پُر امن اِنقلاب کا راستہ
۱۹۴۶ء کے انتخابات اور جماعت ِاسلامی
جواب
تقسیم سے قبل ہندستان کے مسلمانوں کو آخری مشورہ (یہ وہ تقریر ہے‘ جو ۲۶اپریل ۱۹۴۷ء کو جماعت ِاسلامی کے اجلاس منعقدہ مدراس میں کی گئی تھی)
صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں جماعت ِاسلامی کا مسلک
تقسیم ہند‘ حالات پر تبصرہ
تقسیم کے وقت مسلمانوں کی حالت کا جائزہ
تقسیم کے بعد سامنے آنے والے مسائل
کیا پاکستان کو ایک مذہبی ریاست ہونا چاہئے؟
پاکستان میں اسلامی قانون کیوں نہیں نافذ ہوسکتا؟
اسلامی نظامِ زندگی کا مآخذ
پاکستان میں اسلامی قانون کس طرح نافذ ہوسکتا ہے؟
مطالبہ نظام اسلامی

تحریک آزادی ہند اور مسلمان (حصہ دوم)

اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

۶-مشکلات کا جائزہ

اب ہمیں ایک نظر ان مشکلات پر ڈالنی چاہئے‘ جن سے خوف زدہ ہوکر یہ انحراف کی راہیں اختیار کی جا رہی ہیں۔کیا حقیقت میں وہ ایسی ہی مشکلات ہیں‘ کہ ان کو حل نہیں کیا جا سکتا؟
تکرار بیان سے بچنے کے لیے میں ناظرین کو پھر ایک مرتّبہ تکلیف دوں گا کہ پیچھے پلٹ کر مضمون کے اس حصّہ پر نگاہ ڈال لیں‘ جہاں میں نے ان مشکلات کی تشریح کی ہے۔
پہلی مشکل
پہلی مشکل کا خلاصہ یہ کہ اسلام صرف تمدّنی‘ سیاسی اور معاشی مسائل کا حل ہی پیش نہیں کرتا‘ بلکہ عقائد‘ عبادات اور ضوابط ِشرعیہ کا ایک مجموعہ بھی اس کے ساتھ دیتا ہے‘ اور اس کو قبول کرنے کے معنی انسان کی پوری زندگی تبدیل ہوجانے کے ہیں۔ کہا جاتا ہے‘ کہ یہ چیز اسلام کو اس طرح پھیلنے نہیں دیتی جس طرح دوسری تحریکیں پھیلتی ہیں۔ لیکن یہ مشکل بظاہر جتنی زبردست نظر آتی ہے باطن میں اتنی ہی کمزور اور بے حقیقت ہے۔
واقعہ یہ ہے‘ کہ دنیا میں کوئی اجتماعی نظریہ اور مسلک بھی ایسا نہیں ہے‘ جو انسانی زندگی کے عملی مسائل کا مجرّد حل پیش کرتا ہو‘ اور اس کے ساتھ اپنے کچھ اعتقادات اور اپنا ایک مخصوص فلسفہ نہ رکھتا ہو۔ چند امور ما بعد الطبیعت(metaphysical problems) ایسے ہیں‘ جن کے متعلق سُلبی یا ایجابی حیثیت سے ایک نہ ایک رائے قائم کرنا بہرحال ہر اس مسلک کے لیے ناگزیر ہے‘ جو انسان کے لیے ایک لائحہ زندگی بنانے کا عزم کرے۔یہ سوالات کہ کائنات کا یہ نظام کس نوعیت کا ہے؟اور اس نظام میں انسان کی کیا حیثیت ہے؟اور انسان کی زندگی کا مآل کیا ہے؟ اور یہ کہ دنیا میں سب کچھ تو انسان کے لیے ہے‘ مگر انسان خود کس کے لیے ہے؟یہ دراصل انسانی زندگی کے بنیادی سوالات ہیں‘ جن کا ایک قابلِ عمل حل (workable solution)پیش کیے بغیر کوئی ذہنی‘ اخلاقی‘ تعلیمی اور تمدّنی نظام بنایا ہی نہیں جا سکتا اور کسی نظام کے بھی محض عملی پہلوئوں کو لے کر آدمی کام نہیں کر سکتا‘ جب تک کہ ساتھ ساتھ اس کے بنیادی فلسفے‘ یا بالفاظ دیگر اس کے اعتقادات کو بھی قبول نہ کر لے۔ پس ایک اعتقادی نظام ہونا تنہا اسلام ہی کی کوئی انوکھی خصوصیت نہیں ہے۔ اس جہت سے اگر اسلام کی راہ میں کوئی مشکل حائل ہے‘ تو ایسی مشکل ہر اجتماعی مسلک کی راہ میں حائل ہے۔ ہر اجتماعی مسلک فی الواقع ایک مذہب ہی ہے‘ اور جو بھی اس کی پیروی اختیار کرتا ہے وہ حقیقت میں ایک مذہب کو چھوڑ کر دوسرا مذہب اختیار کرتا ہے‘ خواہ اپنی سادہ لوحی کی بنا پر وہ یہ کہتا اور سمجھتا رہے‘ کہ میں بدستور اپنے پہلے مذہب پر ہوں۔
میں ایک سیدھی سی مثال سے اس نکتہ کی مزید توضیح کروں گا۔ یہ کمیونزم آپ کے سامنے ہے۔ اسی کو مثال میں لے لیجیے۔ اگر اسلام اس ما بعد الطبیعی نظریہ سے اپنے مسلک کی ابتدا ء کرتا ہے‘ کہ خدا ہے‘ تو کمیونزم اس نظریہ سے چلتا ہے‘ کہ خدا نہیں ہے‘ یا کم از کم اس کا وجود ہمارے لیے خارج از بحث ہے۔ اگر اسلام یہ نقطۂ نظر اختیار کرتا ہے‘ کہ یہ دنیا خدا کی سلطنت ہے‘ اور انسان یہاں اس کا تابع امر ہے‘ تو کمیونزم یہ نقطۂ نظر اختیار کرتا ہے‘ کہ یہ دنیا ایک اتفاقی بِساط ہے‘ اور انسان یہاں مطلقاً خود مختار (independent) ہے۔ اگر اسلام یہ پہلو لیتا ہے‘ کہ انسان کو یہاں کام کرنے کے لیے خدا کی ہدایت درکار ہے‘ اور وہ وحی کے ذریعہ سے آتی ہے‘ تو کمیونزم یہ پہلو لیتا ہے‘ کہ کوئی ہدایت درکار نہیں اور کوئی وحی نہیں آتی۔ اگر اسلام اس مقام سے سلوک کا آغاز کرتا ہے‘ کہ اس زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہے‘ جس میں انسانوں کو موجودہ زندگی کے پورے کارنامے کا حساب دینا ہے‘ تو کمیونزم اس مقام سے چلتا ہے‘ کہ جو کچھ ہے یہی زندگی ہے‘ اور بعد میں نہ کوئی زندگی ہے نہ حساب نہ کتاب۔ دیکھئے یہ دونوں یکساں ما بعد الطبیعی نظر ئیے ہیں‘ اور دونوں میں سے کسی کو بھی تجربہ یا مشاہدہ سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اب اگر کسی سائنٹیفک ثبوت کے بغیر محض استدلال اورقلبی شہادت کی بنا پر بہت سے وہ لوگ جو کل تک کمیونسٹ نہ تھے‘ آج کمیونزم کے نقطۂ نظر کو قبول کر سکتے ہیں‘ تو سوال یہ ہے‘ کہ آخر انہی دو بنیادوں پر بہت سے وہ لوگ جو آج مسلم نہیں ہیں۔ کل اسلام کا نقطۂ نظر کیوں قبول نہیں کر سکتے؟
اسی طرح ایک ہادی پر ایمان لانے کا معاملہ بھی دونوں میں مشترک ہے۔ اگر مسلم ہونے کے لیے محمد رسول اﷲa پر ایمان لانا پڑتا ہے‘ تو کمیونسٹ بھی آخر مارکس پر ایمان لاتا ہی ہے۔ پھر اگر ایک شخص جو کل تک مار کسی نہ تھا‘ آج مارکس کی تعلیمات کو دیکھ کر اس کو اپنا رہنما تسلیم کر سکتا ہے‘ تو آخر کون سی چیز مانع ہے‘ کہ ایک وہ شخص جو کل تک مسلم نہ تھا‘ آج محمد رسول اﷲa کی زندگی‘ ان کی تعلیمات اور ان کے کارنامے کو دیکھ کر ان کو اپنا ہادی ورہبر تسلیم نہ کر لے؟
ایسا ہی معاملہ جماعتی ضوابط (party discipline)کا بھی ہے۔ اگر اسلام ان لوگوں کو جو اس کی جماعت میں شامل ہوں‘ اپنے کچھ ضوابط کا پابندبناتا ہے‘ تو کیا کمیونسٹ پارٹی ان لوگوں کو جو اس کی جماعت میں شامل ہیں‘ کسی ضابطہ اور کسی قاعدے میں نہیں جکڑتی؟پھر جب بہت سے انسان کمیونزم کے اصولوں پر ایمان لانے کے بعد کمیونسٹ پارٹی کے ضوابط کی پابندی قبول کر لیتے ہیں‘ تو آخر اسلام ہی کے جماعتی ضوابط میں کونسا ہَوّا چھپا ہوا ہے‘ کہ جو لوگ اسلام کے اصولوں کوجانچ کر ان پر ایمان لانے کے لیے تیار ہوں گے ان کو یہ ہَوّا اپنی صورت دکھا کر بھگا دے گا؟
اس مثال سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے‘ کہ اسلام میں خدا کی ہستی اور اس کی توحید کا اعتقاد‘ یا آخرت کا اعتقاد‘ یاپیغمبر کی ناقابلِ منازعت پیشوائی (indisputable leadership)‘ اور قرآن کے آخری منبع قانون ہونے کا اعتقاد شرط لازم ہونا اور نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ اور حج کے ضوابط کی پابندی فرض ہونا‘ ہر گز کوئی ایسا چیز نہیں ہے‘ جو اس کے پھیلنے اور غیر مسلموں کے اس کی طرف کھنچ کر آنے میں سدِّراہ ہو۔ ما بعد الطبیعی اعتقادات اور جماعتی ضوابط دوسرے مسلکوں میں بھی موجود ہیں۔ اور جو انسان ان مسلکوں میں اپنی زندگی کے مسائل کا حل اپنی سمجھ کے مطابق صحیح پاتے ہیں‘ وہ ان کے عقائد اور ضوابط دونوں کو قبول کرتے ہی ہیں۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ اگر اسلام ان کے سامنے تمام مسائل زندگی کا بہتر حل پیش کرے‘ اوران کی اپنی فلاح وسعادت کا راستہ کھول کر ان کے سامنے رکھ دے تو عقائد اور ضوابط کی شرط صرف اسلام ہی کے معاملہ میں ان کے لیے غیر معمولی رکاوٹ ثابت ہو۔ رکاوٹ اگر ہے‘ تو فی الواقع صرف اسی حد تک ہے‘ کہ لوگوں کے لیے بالعموم اپنے پرانے مسلک کو چھوڑ کر کوئی دوسرا مسلک اختیار کرنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن جو تحریک بھی دنیا میں پھیلتی ہے اسے بہرحال اس رکاوٹ سے سابقہ پیش آتا ہی ہے‘ اور جو لوگ کسی تحریک پر ایمان لاتے ہیں‘ وہ بہرحال اس رکاوٹ کو عبور کر کے ہی آگے قدم بڑھاتے ہیں۔ اس کو سامنے کھڑا دیکھ کر راستہ کترانے کی کوشش صرف وہی شخص کرے گا‘ جو یا تو اپنے ایمان ہی میں صادق نہیں ہے‘ یا پست ہمت اور ناکارواں ہے۔
البتہ اسلام کے حق میں اس رکاوٹ کو جس چیز نے شدید تر رکاوٹ بنا دیا ہے وہ ہماری یہ جامد اور بے روح مذہبیت ہے‘ جسے آج کل اسلام سمجھا جا رہا ہے۔
اس بے روح مذہبیت کا پہلا بنیادی نقص یہ ہے‘ کہ اس میں اسلام کے عقائد محض ایک دھرم(religion)کے مزعومات (dogmas)بنا کر رکھ دئیے گئے ہیں‘ حالانکہ وہ ایک مکمل فلسفہ اجتماع اور نظامِ تمدّن کی منطقی بنیاد ہیں۔ اور اسی طرح اس کی عبادات محض پوجا اور تپسیّا بنا کر رکھ دی گئی ہیں‘ حالانکہ وہ ان ذہنی اور اخلاقی بنیادوں کو مضبوط ومستحکم کرنے کے وسائل ہیں‘ جن پر اسلام نے اپنا نظامِ اجتماعی تعمیر کیا ہے۔ اس عمل تحریف کا نتیجہ یہ ہے‘ کہ لوگوں کی سمجھ میں کسی طرح یہ بات نہیں آتی کہ آخر ایک سیاسی‘ معاشی اور تمدّنی لائحہ عمل کو چلانے کے لیے‘ ان عقائد اور ان عبادات کی ضرورت ہی کیا ہے۔
دوسرا بنیادی نقص‘ اس مسخ شدہ مذہبیت میں یہ ہے‘ کہ اس میں اسلامی شریعت کو ایک منجمد شاستر بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ اس میں صدیوں سے اجتہاد کا دروازہ بند ہے‘ جس کی وجہ سے اسلام ایک زندہ تحریک کے بجائے محض عہد گزشتہ کی ایک تاریخی یادگار بن کر رہ گیا ہے‘ اور اسلام کی تعلیم دینے والی درس گاہیں آثار قدیمہ کے محافظ خانوں میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ ظاہر ہے‘ کہ اجنبی لوگ اس چیز کو دیکھ کر زیادہ سے زیادہ تاریخی ذوق کی بناء پر‘ اظہار قدر شناسی تو کر سکتے ہیں‘ مگر یہ توقع ان سے نہیں کی جا سکتی کہ وہ حال کی تدبیر اور مستقبل کی تعمیر کے لیے‘ اس سے ہدایت ورہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت محسوس کریں گے۔
تیسرا اہم نقص اس میں یہ ہے‘ کہ جزئیات کی ناپ تول‘ مقداروں کے غیر منصوص تعین اور روح سے بڑھ کر مظاہر پر مدار دین داری رکھنے کی بیماری اس میں حد سے بڑھ گئی ہے‘ اور وہ غیروں کی تالیف تو کیا کرے گی‘ اُلٹی اپنوں کی تنفیر کا باعث بن رہی ہے۔ اس غلط مذہبیت کے علم برداروں کی زندگی دیکھ کر اور ان کی باتیں سن کر آدمی اس سوچ میں پڑ جاتا ہے‘ کہ انسان کی ابدی فلاح وخسران کا مدار کیا انہی چھوٹی چھوٹی چیزوں پر ہے‘ جن پر یہ لوگ اتنا زور دیتے ہیں؟
اسلام کے راستے میں یہ بہت بڑی رکاوٹ ہے‘ مگر یہ اسلام کا قصور نہیں ہمارا اپنا قصور ہے‘ اور ہمارا فرض ہے‘ کہ اپنے اس نظامِ تعلیم کو بدلیں جس نے دین کے تصوّر کو اتنا غلط اور شریعت کے علم کو اس قدر جامد بنادیا ہے۔ ظاہر ہے‘ کہ ایک زندہ تحریک تحکمی عقائد کے بل پر تو نہیں اُٹھ سکتی۔ ہمیں اس کے عقائد کو معقول دلائل کے ساتھ پیش کرنا ہوگا۔ پھر عقائد کے ساتھ عبادات کا اور عبادات کے ساتھ زندگی کے قوانین کا منطقی ربط واضح کرنا پڑے گا۔ پھر ان قوانین کو زندگی کے تمام عملی مسائل پر منطبق کر کے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ جتنی انسانی ضروریات ہیں‘ ان سب کا حل ان قوانین میں موجود ہے۔ تب کہیں لوگ اس نظام کو ایک معقول نظام کی حیثیت سے سمجھ سکیں گے‘ اور جب وہ اسے سمجھیں گے تو قبول بھی کرنے پر آمادہ ہوں گے‘ یہ تعمیر ی کام چونکہ سخت محنت طلب ہے‘ اس لیے اس محنت سے جی چرا کر لوگ بنے بنائے آسان طریقوں کی طرف دوڑ جاتے ہیں‘ مگر یہ نہیں سوچتے کہ اپنے مقصد تک پہنچنے کے لیے‘ راستہ بنانے کی زحمت بہرحال ہمیں اُٹھانی ہی پڑے گی۔جس نے بھی کوئی مقصد ِعظیم پیشِ نظر رکھا ہے‘ اسے یہ زحمت اُٹھانی پڑی ہے‘ اور اگر واقعی ہم اپنے مقصد میں صادق ہیں‘ تو ہمیں اس کام کے لیے تیار ہونا چاہیے۔
دوسری مشکل
اب دوسری مشکل کو لیجیے۔ جن تعصّبات کو اسلام کی راہ میں حائل بتایا جاتا ہے ان کا تجزّیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے‘ کہ:
ایک قسم کا تعصّب تو وہ ہے‘ جو طبعاً شخص کے اندر اس چیز کے خلاف ہوتا ہے جو اس کے لیے ہو‘ جس پر اس نے اپنے باپ دادا کو نہ پایا ہو‘ اور جس سے وہ مانوس نہ ہو‘ یہ تعصّب صرف آج ہی اسلام کی راہ میں حائل نہیں ہے پہلے بھی حائل تھا‘ اور جیسا کہ میں اوپر اشارہ کر چکا ہوں یہ صرف اسلام ہی کی راہ میں حائل نہیں ہے ہر تحریک کی راہ میں حائل ہوتا ہے‘ تا ہم یہ ایسی رکاوٹ نہیں ہے جس کو دُور نہ کیا جا سکتا ہو۔ پہلے بھی اس رکاوٹ کے باوجود اسلام پھیلا ہے‘ اور اب بھی پھیل سکتا ہے۔
دوسری قسم کا تعصّب وہ ہے‘ جو دراصل اسلام کے خلاف نہیں‘ بلکہ مسلمانوں کے خلاف پیدا ہوا ہے‘ اور مسلمانوں کے واسطہ سے اسلام کی راہ میں حائل ہوگیا ہے۔ مسلمانوں نے پچھلی کئی صدیوں میں جو غیراسلامی طریقے اپنی خواہشاتِ نفس کی پیروی میں اختیار کیے اور اب بھی اپنے انفرادی کردار اور اجتماعی رویے میں غیراسلامی سیرت کا وہ اظہار کر رہے ہیں یہ سارے تعصّبات فی الحقیقت اسی کے بھڑکائے ہوئے ہیں۔
اس واقعہ سے کون انکار کر سکتا ہے‘ کہ ہندستان کو اصلی اسلامی حکومت‘ خالص اسلامی اخلاق اور حقیقی اسلامی تمدّن سے لذت آشنا ہونے کا کبھی موقع ملا ہی نہیں۔ گزشتہ زمانہ میں‘ مسلمان بادشاہوں نے‘ مسلمان امراء نے‘ مسلمان حکام اور اہلِ کاروں اور سپاہیوں نے‘ مسلمان زمین داروں اور رئیسوں نے‘ اور مسلمان عوام نے‘ اپنے برتائو سے اسلام کا جو نمونہ پیش کیا‘ وہ ہر گز ایسا نہ تھا‘ کہ اس ملک کے عام باشندوں کو اسلام کا گرویدہ بنا سکتا۔ بلکہ اس کے برعکس نفسانی اغراض کے لیے جو کشمکش ان کے اور غیر مسلم عناصر کے درمیان مد تہائے دراز تک برپا ہوتی رہی‘ اس نے اسلام کے خلاف مستقل تاریخی تعصّبات پیدا کر دئیے۔
اس تاریخی پس منظر کے ساتھ اسلام کا جو نمونہ آج اس زمانہ میں مسلمان اپنی انفرادی زندگی اور اجتماعی طریق کار سے پیش کر رہے ہیں وہ بھی کچھ ایسا خوب صورت نہیں ہے‘ کہ اس قسم کے نمونے کو دیکھ کر لوگ اس تحریک کے عاشق ہوجائیں‘ جس کی نمائندگی اس شان سے کی جا رہی ہو‘ انفرادی زندگی میں ایک عام مسلمان ایک عام غیر مسلم سے‘ آخر کس چیز میں برتر نظر آتا ہے‘ کہ لوگ اس برتری کے منبع کی جستجو کریں؟اس کے برتائو میں‘ اس کے اخلاق میں‘ اس کے معاملات میں‘ کہاں کوئی خفیف سی چمک بھی ایسی نمو دار ہوتی ہے‘ جس سے یہ ظاہر ہوکہ یہ شخص فائق تر اور پاکیزہ تر اصولوں کی پیروی کرتا ہے؟کیا ایک مسلمان زمین دار یا ’’شریف‘‘ اصطلاحی ’’کمینوں‘‘کے مقابلہ میں اپنے طبقہ کے کسی غیر مسلم ’’شریف‘‘ یا رئیس سے کچھ کم نخوت برتتا ہے؟کیا ایک مسلمان تاجر یا پیشہ ور آدمی اپنے ہم پیشہ غیر مسلم سے کچھ زیادہ متدّین ہوتا ہے؟کیا ایک مسلمان حاکم یا عہدہ دار اپنے اختیارات کے استعمال میں کسی غیر مسلم ہمسر سے کچھ بہتر اخلاقی اصولوں کی پیروی کرتا ہے؟کیا دفتروں کے مسلمان ملازم رات دن انہی تمام ذلیل طریقوں کی پیروی نہیں کر رہے ہیں‘ جن کی پیروی ان کے غیر مسلم ساتھی کرتے ہیں؟کیا وہی جائز ونا جائز طریقوں سے اپنی قوم کا تعصّب‘ وہی کمینہ چالوں سے غیر قوم والوں کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کرنا اور انہی چھوٹی چھوٹی دنیوی اغراض کے پیچھے لڑے مرنا جس کی شکایت یہ غیر مسلموں سے کرتے ہیں‘ خود ان کا بھی رات دن کا مشغلہ نہیں ہے؟پھر جب ایک غیر مسلم اسلام کے ان نمائندوں کی زندگی میں کہیں بھی کوئی فوقیت کا نشان نہیں پاتا‘ جب وہ انہیں بھی وہی سب کچھ کرتے دیکھتا ہے‘ جو وہ خود کرتا ہے‘ اور جب وہ انہیں بھی انہی مقاصد کے لیے لڑتے جھگڑتے اور کش مکش کرتے دیکھتا ہے‘ جن کے لیے وہ خود لڑتا جھگڑتا اور کشمکش کرتا ہے‘ تو آخر کون سی چیز اس کو اس مسلک کی طرف مائل کرسکتی ہے‘ جس کی نمائندگی یہ لوگ کر رہے ہیں؟بلکہ جب ایک ہی نفسانیت اور دنیاپرستی کے میدان میں وہ اور یہ برابر کے حریف ہیں‘ تو اپنے حریفوں کے مسلک پر وہ کُھلے دل سے غور کرنے کی ضرورت ہی کیوں محسوس کرنے لگا؟ایک طرف پچھلے تاریخی تعصّبات‘اور پھر آج کی نفسانی کش مکش‘ کیا دونوں چیزیں اس کے دل کے دروازوں پر قفل چڑھانے کے لیے کافی نہیں ہیں؟
انفرادی زندگی سے وسیع تر‘ قومی دائرے میں مسلمان اس وقت تک جس پالیسی پر مُصر ہیں‘ بلکہ جسے اپنی حیاتِ اجتماعی کا ضامن سمجھ رہے ہیں وہ کیا ہے؟ اصولِ اسلام اور مقاصدِ اسلام کا کہیں نام تک نہیں آتا۔ کسی خطبے‘ کسی تقریر‘ کسی ریزولیوشن میں آپ ایک فقرہ تک ایسا نہیں پا سکتے‘ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہوکہ یہ لوگ اپنی اغراض اور اپنے دنیوی مقاصد کے لیے نہیں‘ بلکہ انسانوں کی فلاح کے لیے عالم گیر کلّ اصول لے کر اُٹھے ہیں‘ اور ان کی لڑائی محض اصولِ حق کی خاطر ہے‘ اس کے برعکس آپ دیکھیں گے کہ ان کے اور دوسری قوموں کے درمیان بالکل برابر کی قوم پرستانہ جنگ برپا ہے‘ دونوں ایک سطح پر اتر آئے ہیں ایک ہی مرتّبے کی دنیوی اغراض کے لیے کشمکش کر رہے ہیں‘ ایک ہی قسم کی چالیں (tactics)زبان‘ اصطلاحات اور اصول نزاع اختیار کر رہے ہیں‘ اور سارا رونا دھونا اور لڑائی جھگڑا انہی چیزوں کے لیے ہے‘ جن کے لیے ان کے حریفوں کا رونا دھونا اور لڑائی جھگڑا ہے۔ پھر کس طرح یہ بات عقل میں آسکتی ہے‘ کہ جن لوگوں سے آپ دُنیوی اغراض کے لیے مساوی مرتّبے پر لڑ رہے ہوں‘ جن سے آپ رقابت اور حریفی کا پرانا اور تازہ رشتہ رکھتے ہوں‘ جن کے ساتھ آپ کی سیاسی اور معاشی مفاد کے لیے کشمکش برپا ہو‘ وہ آپ کی طرف سے کسی اصولی تحریک کی دعوت پر اسی طرح کھلے دل سے غور کرنے کے لیے تیار ہوں گے‘ جس طرح وہ اشتراکیت یا ڈیمو کریسی یا کسی اور مسلک کی دعوت کے لیے تیار ہوتے ہیں؟
یہ تعصّبات اسلام کے راستے میں دوسری عظیم الشان رکاوٹ ہیں‘ مگر ان کا علاج ہے‘ کہ ہم ان تعصّبات کی پیدائش کے سبب کو باقی رکھیں اور پھر ان کی موجودگی کو بہانہ بنا کر اپنے مقصد کی طرف براہِ راست پیش قدمی کرنے سے منہ موڑیں‘ بلکہ ان کا اصلی علاج یہ ہے‘ کہ ہم اپنے انفرادی اور اجتماعی طرزِعمل کو بدلیں‘ اور اس طرح تمام تعصّبات کی جڑ کاٹ کر اپنے مقصد کی طرف بڑھنے کے لیے سیدھا راستہ تیار کریں۔ جو لوگ محض سرسری نگاہ میں یہ دیکھ کر کہ اسلام کے خلاف ہندو‘ سکھ‘ عیسائی‘ پارسی‘ تمام قوموں میں سخت تعصّبات پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ فیصلہ صادر کر دیتے ہیں‘ کہ اس حالت میں اسلام ایک خالص اصولی تحریک کی حیثیت سے نہیں پھیل سکتا‘ وہ دراصل واقعات کو غلط رنگ میں دیکھتے اور غلط نتائج نکالتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے اوپر ثابت کیا ہے یہ تعصّبات اسلام اور اسلامی سیرت کے بھڑکائے ہوئے نہیں ہیں (جس سے ان قوموں کو ہندستان میں کم ہی سابقہ پیش آیا ہے) بلکہ اسلام کے ان غلط نمائندوں کی روش سے پیدا ہوئے ہیں‘ جو مسلمان ہونے کے باوجود غیراسلامی طریقوں پر چلتے رہے‘ اور خالصتہً ﷲ کام کرنے کے بجائے اپنی دنیوی اغراض اور نفسانی خواہشات کے لیے کام کرتے رہے۔ لہٰذا ان تعصّبات کے تدارک کی صحیح صورت یہ ہے‘ کہ اب اپنی سیرت‘ اپنے اعمال‘ اوراپنی اجتماعی جدوجہد سے اسلام کی صحیح نمائندگی کیجیے‘ نہ یہ کہ تعصّبات کی موجودگی کو اسی غلط روش پر چلنے کے لیے حُجتّ بنائیے‘ جس کی وجہ سے تعصّبات پیدا ہوئے ہیں بالفرض اگر یہ مان لیا جائے‘ تاکہ قومی تعصّبات کی موجودگی میں اسلام کا ایک خالص اصولی تحریک کی حیثیت سے چلنا محال ہے توسوال یہ ہے‘ کہ اسلامی مقاصد کے بجائے ‘مسلمانوں کے دنیوی مفاد کے لیے جو کشمکش آپ کے اور دوسری قوموں کے درمیان برپا ہے‘ اور ان کے قوم پرستانہ طریقوں کے جواب میں ویسے ہی قوم پرستانہ طریقے جس طرح آپ اختیار کررہے ہیں کیا اس سے یہ تعصّبات کبھی قیامت تک بھی دور ہوسکتے ہیں؟اگر نہیں‘ تو پھر یہ نہ کہیے کہ اس وقت کچھ خاص حالات ایسے ہیں‘ جن کی وجہ سے اسلام ایک خالص اصولی تحریک کی حیثیت سے نہیں چل سکتا۔ بلکہ یوں فرمائیے کہ آئندہ بھی ہمیشہ ایسے ہی حالات موجود رہیں گے‘ اور اگر اسلام آپ ہی کا ورثہ آبائی بنا رہا تو وہ ہمیشہ بنی اسرائیل کی طرح محض آپ کا قومی مذہب بن کر رہے گا‘ کبھی ایک عالمگیر دعوت نہ بن سکے گا۔
یہ انسانی فطرت کا اقتضا ہے‘ کہ خود غرضی کے جواب میں خود غرضی اور قوم پرستی کے جواب میں قوم پرستی پیدا ہوتی ہے۔ بخلاف اس کے بے غرضا نہ حق پرستی کے مقابلہ میں تمام تعصّبات اور تمام مخالفانہ جذبات آخر کار ہتھیار ڈال دیتے ہیں‘ اور ایک سچے بے لوث حق پرست کے آگے انسان عقیدت ومحبت کے سوا اور کوئی چیز پیش کرنے پر قادر ہی نہیں رہتا۔ اگر مسلمان اپنی وہی حیثیت قائم رکھتے جو دراصل ان کی تھی تو یہ ممکن نہ تھا‘ کہ ہندستان میں ان کے خلاف وہ تعصّبات پائے جاتے‘ جن کی آج شکایت کی جاتی ہے‘ لیکن انہوں نے خود اپنی وہ حیثیت کھو دی۔ دنیوی فائدوں کے لیے دوسری قوموں سے لڑنے جھگڑنے لگے‘ اور اصولِ حق کے بجائے اپنی اغراض ذاتی وقومی کو انہوں نے اپنی جدوجہد کا محور بنا لیا۔ اس کے جواب میں اگر دوسروں کے اندر تعصّب نہ پیدا ہوتا‘ تو تعجب کی بات تھی۔ جن اصولوں کا آپ نام لیتے ہیں‘ اُن کی آپ خود پیروی نہیں کرتے بلکہ رات دن اپنی شخصی اور اجتماعی زندگی میں ان کے خلاف عمل کرتے رہتے ہیں۔ جس مقصد عالی کا آپ اظہار کرتے ہیں‘ آپ کی عملی جدوجہد اس مقصد کے لیے نہیں ہے‘ بلکہ آپ کے افراد انفرادی طور پر اور آپ کی پوری جماعت بحیثیت مجموعی اس کو پسِ پشت ڈال کر دوسرے مقاصد کے پیچھے چلی جا رہی ہے۔ اس صورت میں اگر اپنے خیالی نصب العین اور اپنے محض زبانی اصولوں کے لیے آپ کی اپیل دوسروں پر کارگر نہ ہو‘ اگر وہ اس اپیل میں آپ کو جھوٹا سمجھیں‘ اور آپ کی تبلیغ کو محض خود غرضا نہ چال سمجھ کر‘ حقارت سے ردّ کر دیں‘ تو آخر اس میں حیرت کی بات ہی کون سی ہے؟
ظاہر ہے‘ کہ کوئی غیر مسلم مسٹر جناح کے ۱۴ یا ۱۲ { FR 2521 } نکات پر تو ایمان نہیں لاسکتا۔ نہ مسلم لیگ یا مجلس احرار یا جمعیت العلماء کے ریزو لیوشنوں میں کوئی ایسی چیز ہے‘ جس پر کوئی ایمان لائے۔ایمان اگر کوئی لاسکتا ہے‘ تو لاالہ الا اﷲ پر لاسکتا ہے‘ بشر طیکہ ایک جماعت اسی کلمہ کے لیے جینے اور اسی پر مرنے والی اس کے سامنے موجود ہو۔ مگر وہ ہے‘ کہاں؟کون سی جماعت آپ کے اندر ایسی موجود ہے‘ جس نے خالص اطاعت ِحق کو اپنا مسلک اور خالص دین کے قیام کو اپنی کوششوں کا مرکز محور بنا لیا ہو؟لوگ اسلام کی دعوت اور اس کے اصولِ حق کو کتابوں میں دیکھتے ہیں‘ اور ان کے معترف ہوجاتے ہیں۔مگر اس پر عمل کرنے والی‘ اور اس کے نصب العین کے لیے کام کرنے والی سوسائٹی میں شامل ہوں‘ جو رات دن دنیا ہی کے پیچھے مری جاتی ہے‘ اور انہی راستوں پر چلی جا رہی ہے‘ جن پر غیر مسلم چلتے ہیں؟آپ کی ایک جماعت لڑتی ہے‘ اس لیے کہ ارض ہند پر انگریز کے
بجائے ہندوستانی کا اقتدار قائم ہو۔ بعینہٖ یہی چیز ایک شخص کو غیر مسلم جماعتوں میں بھی مل جاتی ہے۔ پھر وہ آپ کے پاس کیوں آئے؟آپ کی دوسری جماعت لڑتی ہے‘ اس لیے کہ ہندو کے مقابلہ میں نسلی مسلمانوں کے دنیوی مفاد کا تحفظ کیا جائے۔ یہ چیز اس کو خود اپنی قوم پرستی کی مد مقابل نظر آتی ہے۔ پھر وہ اپنی قوم پرستی کو چھوڑ کر آپ کی قوم پرستی پر کیوں ایمان لائے؟انسان کو غیر اﷲ کے تسلّط سے آزاد کرانے والی جماعت‘ آپ میں ہے‘ کہاں‘ کہ کوئی اس کے اصول ومقاصد پر ایمان لائے اور اس میں شامل ہونے کے لیے آگے بڑھے؟
تیسری مشکل
سب سے بڑی گُتھی جو ہمارے سوچنے والے دماغوں کے لیے ناقابلِ حل بن گئی ہے وہ یہ ہے‘ کہ یہاں کروڑوں کی تعداد میں ایک ایسی قوم بستی ہے‘ جو نہ پوری مسلمان ہے نہ پوری غیر مسلم۔ اس قوم کے اس حال میں یہاں موجود ہونے سے متعدّد پیچیدہ مسائل پیدا ہوگئے ہیں‘ جن کا کوئی حل لوگوں کو نہیں ملتا اور اسی وجہ سے رہنما اور کارکن سب پراگندہ عمل ہورہے ہیں۔ مثال کے طور پر میں ان چند بڑی بڑی اُلجھنوں کی طرف اشارہ کروں گا‘ جو اس صورت حال نے پیدا کر دی ہیں:۔
بعض لوگ لفظ مسلمان سے دھوکا کھا کر اس غلط فہمی میں پڑ گئے ہیں‘ کہ اصل سوال اسلام کے احیاء (revival)کا نہیں‘ بلکہ مسلمانوں کے احیاء کا ہے۔ یعنی یہ قوم جو مسلمان کے نام سے پائی جاتی ہے‘ اس کو ایک زندہ اور طاقت ورقوم بنانا اور برسر عروج لانا اصل مقصود ہے‘ اور اسی کا نام اسلام کا احیاء ہے۔ یہ غلط فہمی ان کو ’’مسلم قوم پرستی‘‘ کی حد تک کھینچ لے گئی ہے جس طرح مونجے اور ساور کر{ FR 2522 }کے لیے سوال ہندو قوم کے عروج کا ہے جس طرح مسولینی کے لیے اطالوی قوم‘ اور ہٹلر کے لیے جرمن قوم کے عروج کا سوال ہے۔ اسی طرح ان ’’مسلم قوم پرستوں‘‘ کے لیے اصل سوال اس مسلمان قوم کے عروج کا ہے‘ جس میں یہ پیدا ہوئے ہیں‘ اور جس کے ساتھ ان کی قسمتیں وابستہ ہیں۔یہ اسلام کی خدمت اس کو سمجھتے ہیں‘ کہ مسلمانوں کی تعلیم (قطع نظر اس سے کہ وہ تعلیم کیسی ہی ہو)ان کی معاشی خوش حالی (خواہ وہ کسی قسم کے ذرائع سے حاصل ہو) اور ان کی سیاسی وعسکری تنظیم (مجرد قومی تنظیم) پر اپنا زور صرف کیا جائے‘ اور ان کو ایک زبردست قوم بنا دیا جائے۔ پھر جب یہ ان کا مقصد قرار پایا‘ تو انہوں نے معاملات کو اس نظر سے دیکھنا شروع کیا‘ کہ کون سی تدابیر اس مقصد تک پہنچنے میں مدد گار ہوسکتی ہیں۔ اور جو تدبیریں بھی ان کو دنیا میں قومی عروج کے لیے مفید وکارگر نظر آئیں‘ اس کو بے تکلّف انہوں نے استعمال کرنا شروع کر دیا‘ خواہ وہ اسلام سے ان کو کتنی ہی دور لے جانے والی ہوں۔یہ ذہنیت سر سید احمد خاں کے وقت سے آج تک مسلمانوں کے اکثر وبیشتر رہنمائوں‘ کارکنوں اور اداروں پر مسلّط ہے۔ اسلام کے نام سے جو کچھ سوچا جا رہا ہے‘ مسلمانوں کے لیے سوچا جا رہا ہے‘ اور اسلام کی قید سے آزاد ہوکر سوچا جا رہا ہے۔
کچھ دوسرے لوگ اسلام اور مسلمان کو اس حیثیت سے تو خَلْط مَلْط نہیں کرتے‘ لیکن ایک دوسری حیثیت سے وہ اسلام کے مستقبل کو موجودہ نسلی مسلمانوں کے دامن سے باندھ دیتے ہیں۔ وہ چاہتے تو اسلام ہی کا احیا ہیں‘ مگر ان کا خیال یہ ہے‘ کہ اسلام کا احیا موقوف ہے ان سب مسلمانوں کے مکمل مسلمان بن جانے پر‘ جو اس وقت قومی ونسلی حیثیت سے مسلمان ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں‘ کہ جب تک یہ سارے کے سارے مسلمان ذہنی‘ اخلاقی اور عملی حیثیت سے تبدیل نہ ہوجائیں قدم آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ اور یہ چیز چونکہ سخت دشوار بلکہ محال نظر آتی ہے‘ اس لیے یہ لوگ اصل مقصد کی طرف پیش قدمی کرنے کے بجائے‘ اِدھر اُدھر کے فضول کاموں میں مختلف ضمنی مقاصد کے پیچھے اپنی قوّتیں ضائع کر رہے ہیں۔
کچھ اور لوگ ہیں‘ جن کے سامنے اسلامی نصب العین قریب قریب بالکل واضح ہوچکا ہے‘ اور وہ اس کی طرف بڑھنا بھی چاہتے ہیں۔مگر یہ سوال ان کو بار بار پریشان کرتا ہے‘ کہ اگر ہمارے کار فرما دماغ اور کارکن ہاتھ‘ سب کے سب اسلامی نصب العین کے لیے جدوجہد کرنے میں لگ جائیں‘ تو آخر موجودہ کافرانہ نظامِ تمدّن وسیاست اور اس کے آئندہ تغیّرات میں‘ ہماری قوم کے سیاسی ومعاشی مفاد کا کیا حشر ہوگا۔ اس سوال کی اہمیت ان کی نگاہ میں اتنی زیادہ ہے‘ کہ وہ اپنے عزم سفر کو ملتوی کر کے کہتے ہیں‘ کہ پہلے اس سوال کو حل کیا جائے‘ اور اصل مقصد کی طرف قدم اس وقت بڑھایا جائے‘ جب اپنی قوم کا کوئی مسئلہ ہمارے لیے حل طلب باقی نہ رہے۔
لیکن یہ تمام اُلجھنیں غیراسلامی طرز فکر اور غیراسلامی ذہنیّت کی پیداوار ہیں۔ اگر خالص مسلمان ہونے کی حیثیت سے دیکھا جائے‘ تو ان میں سے کوئی اُلجھن بھی ہمارے لیے اُلجھن نہیں رہتی۔ ہمارے سامنے اصل سوال کسی قوم کے احیاء کا نہیں‘ بلکہ مسلک اسلام کے احیاء کا ہے۔ قوم کے احیاء کا خیال دماغ سے نکالتے ہی وہ تمام مسائل کا فور کی طرح اڑ جاتے‘ جو قومیّت کی اصطلاحوں میں سوچنے والے لوگوں کو پریشان کیا کرتے ہیں۔ جب ہم مسلک ِاسلام کے پیرو ہیں‘ اور اس کو فروغ دینا ہمارا مقصد ہے‘ تو ہمیں کسی ایسے مفاد سے کوئی دلچسپی یا ہمدردی نہیں ہوسکتی‘ جو کسی غیراسلامی نظام سے وابستہ ہویا اصولِ اسلام سے متصادم ہو۔ ہم اپنے دماغ کو اس کے لیے سوچنے کی کچھ بھی زحمت نہ دیں گے۔ قومی احیا کی ان تمام تدبیروں سے بھی ہمارا کوئی تعلق نہ ہوگا‘ جو غیراسلامی اصول پر مبنی ہوں۔ ایک قوم اور دوسری قوم کی باہمی کش مکش اور ایک قوم پر دوسری قوم کے تفوّق کی کوششوں سے بھی ہم پوری تبری کریں گے‘ ہم کو جو کچھ بھی دل چسپی ہوگی‘ اسلامی نظام فکرو عمل سے اس کی تبلیغ واشاعت سے‘ اور اس کو حکمراں بنانے کی سعی وجہد سے ہوگی۔ مسلمانوں سے ہمارا تعلق صرف اسی حد تک ہوگا‘ جس حد تک ان کا تعلق اسلام سے ہے۔ جو اپنی خواہشِ نفس اور ہر غیر اﷲ کی بندگی چھوڑ کر‘ صرف اﷲ کی بندگی میں آجائے‘ وہ ہمارا بھائی اور رفیق ہے خواہ وہ نسلی مسلمانوں میں سے آئے‘ یا غیر مسلموں میں سے ہم پیدائشی مسلمانوں کو بھی اسی مسلک کی طرف دعوت دیں گے‘ اور غیر مسلموں کو بھی ہمارے نزدیک اسلام کا دامن نسلی مسلمانوں کے دامن سے بندھا ہوا نہ ہوگا کہ یہ اُٹھیں تو وہ بھی اُٹھے‘ اور یہ نہ اُٹھیں تو وہ بھی نہ اُٹھے۔اسلام ان کے باپ دادا کی جائیداد نہیں ہے‘ یہ اس کے لیے جینے اور اسی کے لیے مرنے پر تیار ہوں‘ تو ہم خوش اور ہمارا خدا خوش۔ ورنہ جس جہنم میں ان کا جی چاہے جا کر گر جائیں۔ ہم اﷲ کا کلمہ دوسرے انسانوں کے پاس لے جائیں گے۔
یہ جو کچھ کہہ رہا ہوں بعینہٖ یہی طرزِعمل ابنیاء ورسلعلیھم السلام کا تھا‘ اور اسی کو نبی اکرمa نے اختیار کیا۔ قرآن میں جن کو اہلِ کتاب کہا گیا ہے وہ آخر ’’نسلی مسلمان‘‘ ہی تو تھے۔ خدا اور ملائکہ اور نبی اور کتاب اور آخرت سب کو مانتے تھے‘ اور عبادات اور احکام کی رسمی پیروی بھی کرتے تھے۔ البتہ اسلام کی اصلی روح‘ یعنی بندگی واطاعت کو اﷲ کے لیے خالص کر دینا اور دین میں شرک نہ کرنا‘ یہ چیز ان میں سے نکل گئی تھی۔ اب دیکھئے‘ کیا آنحضرتa نے اس ’’نسلی مسلمان قوم‘‘ کے احیا پر اپنی کوششوں کو مرکوز فرمایا تھا؟ نہیں کیا آپ نے یہ عہد کر لیا تھا‘ کہ جب تک یہ سارے کے سارے ’’نسلی مسلمان‘‘ اصلی مسلمان نہ بن جائیں گے قدم آگے نہ بڑھایا جائے گا؟یہ بھی نہیں۔ کیا آپ نے ان ’’نسلی مسلمانوں‘‘ کے دنیوی مسائل کو حل کرنے تک اقامت دین کی کوششوں کو ملتوی رکھا تھا؟ یہ بھی نہیں‘ پھر آپ نے کیا کیا؟سب جانتے ہیں‘ کہ آپ نے تمام معاملات اور تمام مسائل سے قطع نظر کر کے ’’نسلی مسلمانوں‘‘ اور غیر مسلموں سب کو خالص اﷲ کی بندگی کی طرف دعوت دی‘ جس نے اسے قبول کیا اور غیر اﷲ کی بندگی واطاعت ترک کر دی‘ اسے اپنے جتھے میں شامل کر لیا اور پھر ان لوگوں کو لے کر الٰہی نظامِ اطاعتِ یعنی دینِ حق کو قائم کرنے کے لیے براہِ راست جدوجہد شروع کر دی‘ یہاں تک کہ اس کو قائم کر کے چھوڑا۔
ٹھیک یہی طریقہ ہے‘ جس کی پیروی کو میں حق سمجھتا ہوں‘ اسی کی پیروی خود کرنا چاہتا ہوں‘ اور اسی کا مشورہ ان سب لوگوں کو دیتا ہوں‘ جن کا نصب العین اسلامی ہے۔
(ترجمان القرآن۔ جنوری ۱۹۴۱ء)
خ خ خ

شیئر کریں