Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

عرضِ ناشر
تصریح
دیباچہ
باب اوّل: سُنّت کی آئینی حیثیت
ڈاکٹر صاحب کا پہلا خط
جواب
ڈاکٹر صاحب کا دوسرا خط
جواب
سُنّت کیا چیز ہے؟
سُنّت کس شکل میں موجود ہے؟
کیا سُنّت متفق علیہ ہے؟ اور اس کی تحقیق کا ذریعہ کیا ہے؟
چار بنیادی حقیقتیں
دوسرے خط کا جواب
چار نکات
نکتۂ اُولیٰ
رسول اللّٰہa کے کام کی نوعیت
حضور a کی شخصی حیثیت اور پیغمبرانہ حیثیت کا فرق
قرآن سے زائد ہونا اور قرآن کے خلاف ہونا ہم معنی نہیں ہے
کیا سُنّت قرآن کے کسی حکم کو منسوخ کر سکتی ہے؟
نکتۂ دوم
نکتۂ سوم
احادیث کو پرکھنے میں روایت اور درایت کا استعمال
نکتۂ چہارم
اشاعت کا مطالبہ
باب دوم: منصبِ نبوت
ڈاکٹر صاحب کا خط
جواب
۱۔ منصب ِنبوّت اور اس کے فرائض
۲۔ رسول پاکﷺ کے تشریعی اختیارات
۳۔ سُنّت اور اتباع سُنّت کا مفہوم
۴۔رسولﷺ پاک کس وحی کے اتباع پر مامور تھے، اور ہم کس کے اتباع پر مامور ہیں؟
۵۔ مرکزِ ملّت
۶۔ کیا حضورﷺ صرف قرآن پہنچانے کی حد تک نبی تھے؟
۷۔ حضورﷺ کی اجتہادی لغزشوں سے غلط استدلال
۸۔ موہوم خطرات
۹۔ خلفائے راشدین پر بہتان
۱۰۔ کیا حضورﷺ پر قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی تھی؟
سُنّت کے متعلق چند مزید سوالات
جواب
وحی پر ایمان کی وجہ
مَااَنْزَلَ اللّٰہُ سے کیا چیز مراد ہے؟
سُنّت کہاں ہے؟
وحی سے مراد کیا چیز ہے؟
محض تکرارِ سوال
ایمان وکفر کا مدار
کیا احکامِ سُنّت میں رد وبدل ہو سکتا ہے؟
باب سوم : اعتراضات اور جوابات
۱۔ بزمِ طلوع اِسلام سے تعلق؟
۲۔ کیا گشتی سوال نامے کا مقصد علمی تحقیق تھا؟
۳۔ رسولﷺ کی حیثیت ِ شخصی و حیثیتِ نبویﷺ
۴۔ تعلیماتِ سنّت میں فرقِ مراتب
۵۔ علمی تحقیق یا جھگڑالو پن؟
۶۔ رسولﷺ کی دونوں حیثیتوں میں امتیاز کا اصول اور طریقہ
۷۔ قرآن کی طرح احادیث بھی کیوں نہ لکھوائی گئیں؟
۸۔ دجل وفریب کا ایک نمونہ
۹۔ حدیث میں کیا چیز مشکوک ہے اور کیا مشکوک نہیں ہے
۱۰۔ ایک اور فریب
۱۱۔ کیا امت میں کوئی چیز بھی متفق علیہ نہیں ہے؟
۱۲۔ سُنّت نے اختلافات کم کیے ہیں یا بڑھائے ہیں؟
۱۳۔ منکرینِ سُنّت اور منکرینِ ختم نبوت میں مماثلت کے وجوہ
۱۴۔ کیا آئین کی بنیاد وہی چیز ہو سکتی ہے جس میں اختلاف ممکن نہ ہو؟
۱۵۔ قرآن اور سُنّت دونوں کے معاملے میں رفعِ اختلاف کی صورت ایک ہی ہے
۱۶۔ ایک دل چسپ مغالطہ
۱۷۔ شخصی قانون اور ملکی قانون میں تفریق کیوں؟
۱۸۔ حیثیت ِرسول ﷺ کے بارے میں فیصلہ کن بات سے گریز
۱۹۔ کیا کسی غیر نبی کو نبی کی تمام حیثیات حاصل ہو سکتی ہیں
۲۰۔ اِسلامی نظام کے امیر اور منکرینِ حدیث کے مرکزِ ملت میں عظیم فرق
۲۱۔ عہد رسالت میں مشاورت کے حدود کیا تھے؟
۲۲۔ اذان کا طریقہ مشورے سے طے ہوا تھا یا الہام سے؟
۲۳۔ حضورﷺ کے عدالتی فیصلے سند وحجت ہیں یا نہیں؟
۲۴۔ کج بحثی کا ایک عجیب نمونہ
۲۵۔ کیا اللہ تعالیٰ بھی غلطی کرسکتا ہے؟
۲۶۔حضورﷺ کے ذاتی خیال اور بربنائے وحی کہی ہوئی بات میں واضح امتیاز تھا
۲۷۔ کیا صحابہؓ اس بات کے قائل تھے کہ حضورﷺ کے فیصلے بدلے جا سکتے ہیں؟
۲۸۔ مسئلہ طلاق ثلاثہ میں حضرت عمرؓ کے فیصلے کی اصل نوعیت
۲۹۔ مؤلفۃ القلوب کے بارے میں حضرت عمرؓ کے استدلال کی نوعیت
۳۰۔ کیا مفتوحہ اراضی کے بارے میں حضرت عمرؓ کا فیصلہ حکم رسولﷺ کے خلاف تھا؟
۳۱۔ وظائف کی تقسیم کے معاملے میں حضرت عمرؓ کا فیصلہ
۳۲۔ کیا قرآن کے معاشی احکام عبوری دور کے لیے ہیں؟
۳۳۔ ’’عبوری دور‘‘ کا غلط مفہوم
۳۴۔ حضورﷺکیا صرف شارح قرآن ہی ہیں یا شارع بھی؟
۳۵۔ بصیرت رسولﷺ کے خداداد ہونے کا مفہوم
۳۶۔ وحی کی اقسام ازروئے قرآن
۳۷۔ وحی غیرمتلو پر ایمان، ایمان بالرسول کا جُز ہے
۳۸۔ کیا وحی غیر متلو بھی جبریل ہی لاتے تھے؟
۳۹۔ کتاب اور حکمت ایک ہی چیز یا الگ الگ
۴۰۔ لفظ تلاوت کے معنی
۴۱۔ کتاب کے ساتھ میزان کے نزول کا مطلب
۴۲۔ ایک اور کج بحثی
۴۳۔ تحویلِ قبلہ والی آیت میں کون سا قبلہ مراد ہے؟
۴۴۔ قبلے کے معاملے میں رسولﷺ کی پیروی کرنے یا نہ کرنے کا سوال کیسے پیدا ہوتا تھا؟
۴۵۔ نبی پر خود ساختہ قبلہ بنانے کا الزام
۴۶۔ لَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ الرُّؤْیَا کا مطلب
۴۷۔ کیا وحی خواب کی صورت میں بھی ہوتی ہے؟
۴۸۔ بے معنی اعتراضات اور الزامات
۴۹۔ کیا آنحضورﷺ نے صحابہؓ کو دھوکا دیا تھا؟
۵۰۔ کیا آنحضورﷺ اپنے خواب سے متعلق متردد تھے؟
۵۱۔دروغ گویم بر رُوئے تو
۵۲۔ رُو در رُو بہتان
۵۳۔ نَبَّأَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ کا مطلب

سنت کی آئینی حیثیت

انکار سنت کا فتنہ اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں اُٹھا تھا اور اس کے اُٹھانے والے خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وہ سنت حائل تھی جس نے اس معاشرے کو ایک نظم و ضبط پر قائم کیا تھا، اور اس کی راہ میں حضور کے وہ ارشادات حائل تھے جن کی موجودگی میں خوارج کے انتہا پسندانہ نظریات نہ چل سکتے تھے۔ اس بنا پر اُنھوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دو گونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کو اس کی ضرورت اس لیے لاحق ہوئی کہ عجمی اور یونانی فلسفوں سے پہلا سابقہ پیش آتے ہی اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے میں جو شکوک و شبہات ذہنوں میں پیدا ہونے لگے تھے، اُنھیں پوری طرح سمجھنے سے پہلے وہ کسی نہ کسی طرح اُنھیں حل کر دینا چاہتے تھے۔ خود ان فلسفوں میں ان کو وہ بصیرت حاصل نہ ہوئی تھی کہ ان کا تنقیدی جائزہ لے کر ان کی صحت و قوت جانچ سکتے۔ اُنھوں نے ہر اس بات کو جو فلسفے کے نام سے آئی، سراسر عقل کا تقاضا سمجھا اور یہ چاہا کہ اسلام کی عقائد اور اصولوں کی ایسی تعبیر کی جائے جس سے وہ ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو جائیں۔ اس راہ میں پھر وہی حدیث و سنت مانع ہوئی۔ اس لیے اُنھوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھیرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کیا۔ اس کتاب میں مولانا مودودیؒ نے مخالفانہ دلائل کو ایک ایک کرکے اس طرح بیان کیا ہے کہ اس کے بعد کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ سید مودودیؒ کتاب کے آخر میں رقم طراز ہیں: ”ہم نے ایک ایک دلیل کا تفصیلی جائزہ لے کر جو بحث کی ہے اسے پڑھ کر ہر صاحب علم آدمی خود یہ رائے قائم کر سکتا ہے کہ ان دلائل میں کتنا وزن ہے اور ان کے مقابلے میں سنت کے ماخذ قانون اور احادیث کے قابل استناد ہونے پر جو دلیلیں ہم نے قائم کی ہیں وہ کس حد تک وزنی ہیں۔ ہم خاص طور پر خود فاضل جج سے اور مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ان کے رفقا سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ پورے غور کے ساتھ ہماری اس تنقید کو ملاحظہ فرمائیں اور اگر ان کی بے لاگ رائے میں، جیسی کہ ایک عدالت عالیہ کے فاضل ججوں کے رائے بے لاک ہونی چاہیے، یہ تنقید فی الواقع مضبوط دلائل پر مبنی ہو تو وہ قانون کے مطابق کوئی ایسی تدبیر عمل میں لائیں جس سے یہ فیصلہ آئیندہ کے لیے نظیر نہ بن سکے۔ عدالتوں کا وقار ہر ملک کے نظام عدل و انصاف کی جان ہوتا ہے اور بہت بڑی حد تک اسی پر ایک مملکت کے استحکام کا انحصار ہوتا ہے۔ اس وقار کے لیے کوئی چیز اس سے بڑھ کر نقصان دہ نہیں ہے کہ ملک کی بلند ترین عدالتوں کے فیصلے علمی حیثیت سے کمزور دلائل اور ناکافی معلومات پر مشتمل ہوں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ جب ایمان دارانہ تنقید سے ایسی کسی غلطی کی نشان دہی ہو جائے تو اولین فرصت میں خود حاکمان عدالت ہی اس کی تلافی کی طرف توجہ فرمائیں۔“ حدیث کے حوالے سے شکوک وشبہات کا اظہار کرنے والے افراد کے لیے اس کتاب کو پڑھنا بہت اہم ہے۔

۲۰۔ اِسلامی نظام کے امیر اور منکرینِ حدیث کے مرکزِ ملت میں عظیم فرق

اعتراض: یہ جو میں نے کہا ہے کہ ’’خدا اور رسول‘‘ سے مراد اِسلامی نظام ہے تو یہ میری اختراع نہیں۔ اس کے مجرم آپ بھی ہیں۔ آپ نے اپنی تفسیر تفہیم القرآن میں سورۂ مائدہ کی آیت اِنَّمَا جَزٰۗؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللہَ المائدہ 33:5 کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے:
خدا اور رسولﷺ سے لڑنے کا مطلب اس نظامِ صالح کے خلاف جنگ کرنا ہے جو اِسلام کی حکومت نے ملک میں قائم کر رکھا ہو… ایسا نظام جب کسی سرزمین میں قائم ہو جاتا ہے تو اس کو خراب کرنے کی سعی کرنا… دراصل خدا اور اس کے رسولﷺ کے خلاف جنگ ہے۔ (ج ا، ص ۳۶۵)
جواب: یہاں پھر میرے سامنے میری ہی عبارت کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی جسارت کی گئی ہے، اصل عبارت یہ ہے:
ایسا نظام جب کسی سرزمین میں قائم ہو جائے تو اس کو خراب کرنے کی سعی کرنا، قطع نظر اس سے کہ وہ چھوٹے پیمانے پر قتل وغارت اور رہزنی وڈکیتی کی حد تک ہو یا بڑے پیمانے پر اس نظامِ صالح کو الٹنے اور اس کی جگہ کوئی فاسد نظام قائم کر دینے کے لیے ہو، دراصل خدا اور رسولﷺ کے خلاف جنگ ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے تعزیرات ہند میں ہر اس شخص کو جو ہندستان کی برطانوی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے، بادشاہ کے خلاف لڑائی (waging war against the king) کا مجرم قرار دیا گیا۔ چاہے اس کی کارروائی ملک کے کسی دور دراز گوشے میں ایک معمولی سپاہی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اور بادشاہ اس کی دسترس سے کتنا ہی دور ہو۔
اب ایک معمولی سمجھ بوجھ کا آدمی بھی خود دیکھ سکتا ہے کہ بادشاہ کی نمایندگی کرنے والے سپاہی کے خلاف جنگ کو بادشاہ کے خلاف جنگ قرار دینے، اور سپاہی کو خود بادشاہ قرار دے دینے میں کتنا بڑا فرق ہے۔ ایسا ہی عظیم فرق ان دو باتوں میں ہے کہ ایک شخص اللّٰہ اور رسولﷺ کے نظام مطلوب کو چلانے والی حکومت کے خلاف کارروائی کو اللّٰہ اور رسول کے خلاف کارروائی قرار دے اور دوسرا شخص دعوٰی کرے کہ یہ حکومت خود اللّٰہ اور رسولﷺ ہے۔
اس فرق کی نزاکت پوری طرح سمجھ میں نہیں آ سکتی جب تک آپ ان دونوں کے نتائج پر تھوڑا سا غور نہ کر لیں۔ فرض کیجیے کہ اِسلامی حکومت کسی وقت ایک غلط حکم دے بیٹھتی ہے جو قرآن اور سُنّت کے خلاف پڑتا ہے۔ اس صورت حال میں میری تعبیر کے مطابق تو عام مسلمانوں کو اٹھ کر یہ کہنے کا حق پہنچتا ہے کہ ’’آپ اپنا حکم واپس لیجیے کیوں کہ آپ نے اللّٰہ اور رسولﷺ کے فرمان کی خلاف ورزی کی ہے۔ اللّٰہ نے قرآن میں یہ فرمایا ہے، رسول اللّٰہ ﷺ کی سُنّت سے یہ ثابت ہے، اور آپ اس سے ہٹ کر یہ حکم دے رہے ہیں، لہٰذا آپ اس معاملے میں اللّٰہ اور رسولﷺ کی صحیح نمایندگی نہیں کرتے‘‘ مگر منکرین حدیث کی تعبیر کے مطابق اِسلامی حکومت خود ہی اللّٰہ اور رسولﷺ ہے۔ لہٰذا مسلمان اس کے کسی حکم کے خلاف بھی یہ استدلال لانے کا حق نہیں رکھتے۔ جس وقت وہ یہ استدلال کریں گے اسی وقت حکومت یہ کہہ کر ان کا منہ بند کر دے گی کہ اللّٰہ اور رسولﷺ تو ہم خود ہیں، جو کچھ ہم کہیں اور کریں، وہی قرآن بھی ہے اور سُنّت بھی۔
منکرینِ حدیث دعوٰی کرتے ہیں کہ قرآن میں جہاں جہاں ’’اللّٰہ اور رسول‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ وہاں اس سے مراد اِسلامی حکومت ہے۔ میں ناظرین سے عرض کروں گا کہ ذرا قرآن کھول کر وہ آیتیں نکال لیجیے جن میں اللّٰہ اور رسولﷺ کے الفاظ ساتھ ساتھ آئے ہیں اور خود دیکھ لیجیے کہ یہاں ان سے حکومت مراد لینے کے نتائج کیا نکلتے ہیں۔ مثال کے طور پر حسب ذیل آیات ملاحظہ ہوں:
۱۔ قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَo
آل عمران 32:3
اے نبیﷺ! ان سے کہو کہ اطاعت کرو اللّٰہ اور رسولﷺ کی۔ پھر اگر وہ اس سے منہ موڑیں تو اللّٰہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔
۲۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ النسائ 136:4
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! (سچے دل سے) ایمان لائو اللّٰہ اور رسولﷺ پر
۳۔ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا الحجرات 15:49
مومن تو اصل میں وہ ہیں جو ایمان لائے اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺپر، پھر شک میں نہ پڑے۔
۴۔ وَمَنْ لَّمْ يُؤْمِنْۢ بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ فَاِنَّآ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ سَعِيْرًاo الفتح 13:48
اور جو ایمان نہ لائے اللّٰہ اور اس کے رسولؐ پر، تو ایسے کافروںکے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے۔
۵۔ اِنَّ اللہَ لَعَنَ الْكٰفِرِيْنَ وَاَعَدَّ لَہُمْ سَعِيْرًاo خٰلِدِيْنَ فِيْہَآ اَبَدًا۝۰ۚ لَا يَجِدُوْنَ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًاo يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْہُہُمْ فِي النَّارِ يَقُوْلُوْنَ يٰلَيْتَنَآ اَطَعْنَا اللہَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلَاo الاحزاب 64-66:33
یقینا اللّٰہ نے لعنت کی کافروں پر اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر دی جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہ اس روز کوئی حامی ومددگار نہ پائیں گے جب ان کے چہرے آگ پر پلٹائے جائیں گے، اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش! ہم نے اللّٰہ کی اطاعت کی ہوتی اور رسولﷺ کی اطاعت کی ہوتی۔
۶۔ وَمَا مَنَعَہُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْہُمْ نَفَقٰتُہُمْ اِلَّآ اَنَّہُمْ كَفَرُوْا بِاللہِ وَبِرَسُوْلِہٖ
التوبہ 54:9
ان کے انفاق کو قبول ہونے سے کسی چیز نے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ انھوں نے کفر کیا، اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ سے۔
۷۔ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّۃً فَلَنْ يَّغْفِرَ اللہُ لَہُمْ۝۰ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّہُمْ كَفَرُوْا بِاللہِ
التوبہ 80:9
اے نبیﷺ! اگر تم ان کے لیے ستر بار مغفرت کی دعا کرو تو اللّٰہ انھیں نہ بخشے گا۔ یہ اس لیے کہ انھوں نے اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ سے کفر کیا ہے۔
۸۔ وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْہُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰي قَبْرِہٖ۝۰ۭ اِنَّہُمْ كَفَرُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَاتُوْا وَہُمْ فٰسِقُوْنَo التوبہ 84:9
اور ان میں سے کوئی مر جائے، اس کی نماز جنازہ ہرگز نہ پڑھو اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہو۔ انھوں نے اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ سے کفر کیا ہے اور وہ فاسق مرے ہیں۔
۹۔ يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَكُمْo
محمد 47: 33
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللّٰہ اور رسولﷺ کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل نہ کر لو۔
۱۰۔ وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاِنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْہَآ اَبَدًاo الجن 23:72
اور جو کوئی اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کرے اس کے لیے جہنم کی آگ ہے۔ ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
۱۱۔اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّہٗ مَنْ يُّحَادِدِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاَنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خَالِدًا فِيْہَا۝۰ۭ
التوبہ 63:9
کیا انھیں معلوم نہیں ہے کہ جو کوئی اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی مخالفت کرے اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔
۱۲۔ وَاللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَحَقُّ اَنْ يُّرْضُوْہُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِيْنَo التوبہ 62:9
اللّٰہ اور اس کا رسولﷺ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ وہ اس کو راضی کریں اگر وہ مومن ہیں۔
ان آیات کو جو شخص بھی بغور پڑھے گا اُسے معلوم ہو جائے گا کہ اگر اللّٰہ اور رسولﷺ کے معنی کہیں حکومت کے ہو جائیں تو دین اِسلام کا حلیہ بگڑ کر رہ جاتا ہے اور ایک ایسی بدترین ڈکٹیٹرشپ قائم ہو جاتی ہے جس کے سامنے فرعون اور چنگیز اور ہٹلر اور مسولینی اور اسٹالین کی آمریتیں ہیچ ہو کر رہ جائیں۔ اس کے معنی تو یہ ہیں کہ حکومت ہی مسلمانوں کا دین وایمان ہو۔ اس کو ماننے والا مسلمان رہے اور اس سے روگردانی کرنے والا کافر ہو جائے۔ اس کی نافرمانی کرنے والا دُنیا ہی میں جیل نہ جائے بلکہ آخرت میں بھی دائمی جہنم کی سزا بھگتے۔ اس سے اختلاف کرکے آدمی ابدی عذاب میں مبتلا ہو۔ اس کو راضی کرنا شرط ایمان قرار پائے اور جو شخص اس کی اطاعت سے منہ موڑے، اس کی نماز، روز، زکوٰۃ، اور ساری نیکیاں برباد ہو جائیں، بلکہ مسلمانوں کے لیے اس کی نماز جنازہ بھی جائز نہ ہو اور اس کے لیے دعائے مغفرت تک نہ کی جا سکے۔ ایسی حکومت سے آخر دُنیا کی کسی آمریت کو کیا نسبت ہو سکتی ہے۔
پھر ذرا اس پہلو پر غور کیجیے کہ بنی امیہ کے بعد سے آج تک ساری دُنیائے اِسلام کبھی ایک دن کے لیے بھی ایک حکومت میں جمع نہیں ہوئی ہے اور آج بھی مسلم ممالک میں بہت سی حکومتیں قائم ہیں۔ اب کیا انڈونیشیا، ملایا، پاکستان، ایران، ترکی، عرب، مصر، لیبیا، تونس اور مراکش میں سے ہر ایک کے ’’اللّٰہ اور رسولﷺ‘‘ الگ الگ ہوں گے؟ یا کسی ایک ملک کے ’’اللّٰہ اور رسولﷺ‘‘ زبردستی اپنی آمریت دوسرے ملکوں پر مسلط کریں گے؟ یا اِسلام اس وقت تک پورا کا پورا معطل رہے گا جب تک پوری دُنیائے اِسلام متفق ہو کر ایک ’’اللّٰہ اور رسولﷺ‘‘ کا انتخاب نہ کر لے؟

شیئر کریں