Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

عرضِ ناشر
تصریح
دیباچہ
باب اوّل: سُنّت کی آئینی حیثیت
ڈاکٹر صاحب کا پہلا خط
جواب
ڈاکٹر صاحب کا دوسرا خط
جواب
سُنّت کیا چیز ہے؟
سُنّت کس شکل میں موجود ہے؟
کیا سُنّت متفق علیہ ہے؟ اور اس کی تحقیق کا ذریعہ کیا ہے؟
چار بنیادی حقیقتیں
دوسرے خط کا جواب
چار نکات
نکتۂ اُولیٰ
رسول اللّٰہa کے کام کی نوعیت
حضور a کی شخصی حیثیت اور پیغمبرانہ حیثیت کا فرق
قرآن سے زائد ہونا اور قرآن کے خلاف ہونا ہم معنی نہیں ہے
کیا سُنّت قرآن کے کسی حکم کو منسوخ کر سکتی ہے؟
نکتۂ دوم
نکتۂ سوم
احادیث کو پرکھنے میں روایت اور درایت کا استعمال
نکتۂ چہارم
اشاعت کا مطالبہ
باب دوم: منصبِ نبوت
ڈاکٹر صاحب کا خط
جواب
۱۔ منصب ِنبوّت اور اس کے فرائض
۲۔ رسول پاکﷺ کے تشریعی اختیارات
۳۔ سُنّت اور اتباع سُنّت کا مفہوم
۴۔رسولﷺ پاک کس وحی کے اتباع پر مامور تھے، اور ہم کس کے اتباع پر مامور ہیں؟
۵۔ مرکزِ ملّت
۶۔ کیا حضورﷺ صرف قرآن پہنچانے کی حد تک نبی تھے؟
۷۔ حضورﷺ کی اجتہادی لغزشوں سے غلط استدلال
۸۔ موہوم خطرات
۹۔ خلفائے راشدین پر بہتان
۱۰۔ کیا حضورﷺ پر قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی تھی؟
سُنّت کے متعلق چند مزید سوالات
جواب
وحی پر ایمان کی وجہ
مَااَنْزَلَ اللّٰہُ سے کیا چیز مراد ہے؟
سُنّت کہاں ہے؟
وحی سے مراد کیا چیز ہے؟
محض تکرارِ سوال
ایمان وکفر کا مدار
کیا احکامِ سُنّت میں رد وبدل ہو سکتا ہے؟
باب سوم : اعتراضات اور جوابات
۱۔ بزمِ طلوع اِسلام سے تعلق؟
۲۔ کیا گشتی سوال نامے کا مقصد علمی تحقیق تھا؟
۳۔ رسولﷺ کی حیثیت ِ شخصی و حیثیتِ نبویﷺ
۴۔ تعلیماتِ سنّت میں فرقِ مراتب
۵۔ علمی تحقیق یا جھگڑالو پن؟
۶۔ رسولﷺ کی دونوں حیثیتوں میں امتیاز کا اصول اور طریقہ
۷۔ قرآن کی طرح احادیث بھی کیوں نہ لکھوائی گئیں؟
۸۔ دجل وفریب کا ایک نمونہ
۹۔ حدیث میں کیا چیز مشکوک ہے اور کیا مشکوک نہیں ہے
۱۰۔ ایک اور فریب
۱۱۔ کیا امت میں کوئی چیز بھی متفق علیہ نہیں ہے؟
۱۲۔ سُنّت نے اختلافات کم کیے ہیں یا بڑھائے ہیں؟
۱۳۔ منکرینِ سُنّت اور منکرینِ ختم نبوت میں مماثلت کے وجوہ
۱۴۔ کیا آئین کی بنیاد وہی چیز ہو سکتی ہے جس میں اختلاف ممکن نہ ہو؟
۱۵۔ قرآن اور سُنّت دونوں کے معاملے میں رفعِ اختلاف کی صورت ایک ہی ہے
۱۶۔ ایک دل چسپ مغالطہ
۱۷۔ شخصی قانون اور ملکی قانون میں تفریق کیوں؟
۱۸۔ حیثیت ِرسول ﷺ کے بارے میں فیصلہ کن بات سے گریز
۱۹۔ کیا کسی غیر نبی کو نبی کی تمام حیثیات حاصل ہو سکتی ہیں
۲۰۔ اِسلامی نظام کے امیر اور منکرینِ حدیث کے مرکزِ ملت میں عظیم فرق
۲۱۔ عہد رسالت میں مشاورت کے حدود کیا تھے؟
۲۲۔ اذان کا طریقہ مشورے سے طے ہوا تھا یا الہام سے؟
۲۳۔ حضورﷺ کے عدالتی فیصلے سند وحجت ہیں یا نہیں؟
۲۴۔ کج بحثی کا ایک عجیب نمونہ
۲۵۔ کیا اللہ تعالیٰ بھی غلطی کرسکتا ہے؟
۲۶۔حضورﷺ کے ذاتی خیال اور بربنائے وحی کہی ہوئی بات میں واضح امتیاز تھا
۲۷۔ کیا صحابہؓ اس بات کے قائل تھے کہ حضورﷺ کے فیصلے بدلے جا سکتے ہیں؟
۲۸۔ مسئلہ طلاق ثلاثہ میں حضرت عمرؓ کے فیصلے کی اصل نوعیت
۲۹۔ مؤلفۃ القلوب کے بارے میں حضرت عمرؓ کے استدلال کی نوعیت
۳۰۔ کیا مفتوحہ اراضی کے بارے میں حضرت عمرؓ کا فیصلہ حکم رسولﷺ کے خلاف تھا؟
۳۱۔ وظائف کی تقسیم کے معاملے میں حضرت عمرؓ کا فیصلہ
۳۲۔ کیا قرآن کے معاشی احکام عبوری دور کے لیے ہیں؟
۳۳۔ ’’عبوری دور‘‘ کا غلط مفہوم
۳۴۔ حضورﷺکیا صرف شارح قرآن ہی ہیں یا شارع بھی؟
۳۵۔ بصیرت رسولﷺ کے خداداد ہونے کا مفہوم
۳۶۔ وحی کی اقسام ازروئے قرآن
۳۷۔ وحی غیرمتلو پر ایمان، ایمان بالرسول کا جُز ہے
۳۸۔ کیا وحی غیر متلو بھی جبریل ہی لاتے تھے؟
۳۹۔ کتاب اور حکمت ایک ہی چیز یا الگ الگ
۴۰۔ لفظ تلاوت کے معنی
۴۱۔ کتاب کے ساتھ میزان کے نزول کا مطلب
۴۲۔ ایک اور کج بحثی
۴۳۔ تحویلِ قبلہ والی آیت میں کون سا قبلہ مراد ہے؟
۴۴۔ قبلے کے معاملے میں رسولﷺ کی پیروی کرنے یا نہ کرنے کا سوال کیسے پیدا ہوتا تھا؟
۴۵۔ نبی پر خود ساختہ قبلہ بنانے کا الزام
۴۶۔ لَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ الرُّؤْیَا کا مطلب
۴۷۔ کیا وحی خواب کی صورت میں بھی ہوتی ہے؟
۴۸۔ بے معنی اعتراضات اور الزامات
۴۹۔ کیا آنحضورﷺ نے صحابہؓ کو دھوکا دیا تھا؟
۵۰۔ کیا آنحضورﷺ اپنے خواب سے متعلق متردد تھے؟
۵۱۔دروغ گویم بر رُوئے تو
۵۲۔ رُو در رُو بہتان
۵۳۔ نَبَّأَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ کا مطلب

سنت کی آئینی حیثیت

انکار سنت کا فتنہ اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں اُٹھا تھا اور اس کے اُٹھانے والے خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وہ سنت حائل تھی جس نے اس معاشرے کو ایک نظم و ضبط پر قائم کیا تھا، اور اس کی راہ میں حضور کے وہ ارشادات حائل تھے جن کی موجودگی میں خوارج کے انتہا پسندانہ نظریات نہ چل سکتے تھے۔ اس بنا پر اُنھوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دو گونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کو اس کی ضرورت اس لیے لاحق ہوئی کہ عجمی اور یونانی فلسفوں سے پہلا سابقہ پیش آتے ہی اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے میں جو شکوک و شبہات ذہنوں میں پیدا ہونے لگے تھے، اُنھیں پوری طرح سمجھنے سے پہلے وہ کسی نہ کسی طرح اُنھیں حل کر دینا چاہتے تھے۔ خود ان فلسفوں میں ان کو وہ بصیرت حاصل نہ ہوئی تھی کہ ان کا تنقیدی جائزہ لے کر ان کی صحت و قوت جانچ سکتے۔ اُنھوں نے ہر اس بات کو جو فلسفے کے نام سے آئی، سراسر عقل کا تقاضا سمجھا اور یہ چاہا کہ اسلام کی عقائد اور اصولوں کی ایسی تعبیر کی جائے جس سے وہ ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو جائیں۔ اس راہ میں پھر وہی حدیث و سنت مانع ہوئی۔ اس لیے اُنھوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھیرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کیا۔ اس کتاب میں مولانا مودودیؒ نے مخالفانہ دلائل کو ایک ایک کرکے اس طرح بیان کیا ہے کہ اس کے بعد کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ سید مودودیؒ کتاب کے آخر میں رقم طراز ہیں: ”ہم نے ایک ایک دلیل کا تفصیلی جائزہ لے کر جو بحث کی ہے اسے پڑھ کر ہر صاحب علم آدمی خود یہ رائے قائم کر سکتا ہے کہ ان دلائل میں کتنا وزن ہے اور ان کے مقابلے میں سنت کے ماخذ قانون اور احادیث کے قابل استناد ہونے پر جو دلیلیں ہم نے قائم کی ہیں وہ کس حد تک وزنی ہیں۔ ہم خاص طور پر خود فاضل جج سے اور مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ان کے رفقا سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ پورے غور کے ساتھ ہماری اس تنقید کو ملاحظہ فرمائیں اور اگر ان کی بے لاگ رائے میں، جیسی کہ ایک عدالت عالیہ کے فاضل ججوں کے رائے بے لاک ہونی چاہیے، یہ تنقید فی الواقع مضبوط دلائل پر مبنی ہو تو وہ قانون کے مطابق کوئی ایسی تدبیر عمل میں لائیں جس سے یہ فیصلہ آئیندہ کے لیے نظیر نہ بن سکے۔ عدالتوں کا وقار ہر ملک کے نظام عدل و انصاف کی جان ہوتا ہے اور بہت بڑی حد تک اسی پر ایک مملکت کے استحکام کا انحصار ہوتا ہے۔ اس وقار کے لیے کوئی چیز اس سے بڑھ کر نقصان دہ نہیں ہے کہ ملک کی بلند ترین عدالتوں کے فیصلے علمی حیثیت سے کمزور دلائل اور ناکافی معلومات پر مشتمل ہوں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ جب ایمان دارانہ تنقید سے ایسی کسی غلطی کی نشان دہی ہو جائے تو اولین فرصت میں خود حاکمان عدالت ہی اس کی تلافی کی طرف توجہ فرمائیں۔“ حدیث کے حوالے سے شکوک وشبہات کا اظہار کرنے والے افراد کے لیے اس کتاب کو پڑھنا بہت اہم ہے۔

۱۔ منصب ِنبوّت اور اس کے فرائض

آپ کی عقل وضمیر سے یہ مخلصانہ اپیل کرنے کے بعد اب میں آپ کے پیش کردہ خیالات کے متعلق کچھ عرض کروں گا۔ آپ کی ساری بحث دس نکات پر مشتمل ہے۔ ان میں سے پہلا نکتہ خود آپ کے الفاظ میں یہ ہے:
مجھے آپ سے سو فی صدی اتفاق ہے کہ حضور ﷺ معلم بھی تھے، حاکم بھی تھے، قاضی بھی تھے، سپہ سالار بھی۔ آپ نے افراد کی تربیت کی اور تربیت یافتہ افراد کو ایک منظم جماعت کی شکل دی اور پھر ایک ریاست قائم کی۔
یہ سو فی صدی اتفاق جس کا آپ ذکر فرما رہے ہیں، دراصل ایک فی صدی، بلکہ فی ہزار ایک بھی نہیں ہے، اس لیے کہ آپ نے حضورﷺ کو محض معلم، حاکم، قاضی وغیرہ مانا ہے، مامور من اللّٰہ کی لازمی صفت کے ساتھ نہیں مانا ہے۔ حالانکہ سارا فرق اسی صفت کے ماننے اور نہ ماننے سے واقع ہوتا ہے۔ آگے چل کر آپ نے خود یہ بات واضح کر دی ہے کہ آپ کے نزدیک نبیﷺ کے یہ سارے کام رسولﷺ کی حیثیت میں نہیں، بلکہ ایک عام انسان کی حیثیت میں تھے اور اسی وجہ سے اس حیثیت میں حضورﷺ نے جو کام کیا ہے اسے آپ وہ سُنّت نہیں مانتے جو مآخذ قانون ہو۔ دوسرے الفاظ میں آں حضورﷺ آپ کے نزدیک ایک معلم تھے مگر خدا کے مقرر کردہ نہیں، بلکہ جیسے دُنیا میں اور استاد ہوتے ہیں ویسے ہی ایک حضور ﷺ بھی تھے۔ اسی طرح آپﷺ قاضی تھے، مگر خدا نے آپﷺ کو اپنی طرف سے قاضی مقرر نہیں کیا تھا بلکہ دُنیا کے عام ججوں اور مجسٹریٹوں کی طرح ایک جج یا مجسٹریٹ آپﷺ بھی تھے۔ یہی پوزیشن حاکم اور مُزکّی اور قائد وراہ نُما کے معاملے میں بھی آپ نے اختیار کی ہے کہ ان میں سے کوئی منصب بھی آپ کے خیال میں نبی ﷺ کو مامور من اللّٰہ ہونے کی حیثیت سے حاصل نہ تھا۔
پہلا سوال یہ ہے کہ پھر یہ مناصب حضور ﷺ کو حاصل کیسے ہوئے۔ کیا مکہ میں اِسلام قبول کرنے والوں نے باختیارِ خود آپﷺ کو اپنا لیڈر منتخب کیا تھا اور اس قیادت کے منصب سے وہ آپﷺ کو ہٹا دینے کے بھی مجاز تھے؟ کیا مدینہ پہنچ کر جب اِسلامی ریاست کی بِنا ڈالی گئی اس وقت انصار ومہاجرین نے کوئی مجلس مشاورت منعقد کر کے یہ طے کیا تھا کہ محمدﷺ ہماری اس ریاست کے صدر اور قاضی اور افواج کے قائد اعلیٰ ہوں گے؟ کیا حضورﷺ کی موجودگی میں کوئی دوسرا مسلمان بھی ان مناصب کے لیے منتخب ہو سکتا تھا؟ اور کیا مسلمان اس کے مجاز تھے کہ آپﷺ سے یہ سب مناصب، یا ان میں سے کوئی منصب واپس لے کر باہمی مشورے سے کسی اور کو سونپ دیتے؟ پھر کیا یہ بھی واقعہ ہے کہ مدینے کی اس ریاست کے لیے قرآن کے تحت تفصیلی قوانین اور ضابطے بنانے کی غرض سے کوئی لیجسلیچر (legislator)حضور ﷺ کے زمانے میں قائم کی گئی تھی جس میں آپﷺ صحابہؓکے مشورے سے قرآن کا منشا معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہوں اور اس مجلس کی رائے سے قرآن کا جو مفہوم متعین ہوتا ہو، اس کے مطابق ملکی قوانین بنائے جاتے ہوں؟ اگر ان سوالات کا جواب اثبات میں ہے تو براہ کرم! اس کا کوئی تاریخی ثبوت ارشاد فرمائیں اور اگر نفی میں ہے اور یقینا نفی میں ہے تو کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نبیﷺ خود راہ نُما، فرماں روا، قاضی، شارع اور قائد ِاعلیٰ بن بیٹھے تھے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ حضور ﷺ کی جو حیثیت آپ قرار دے رہے ہیں، کیا قرآن بھی آپﷺ کی وہ حیثیت قرار دیتا ہے؟ اس سلسلے میں ذرا قرآن کھول کر دیکھیے کہ وہ کیا کہتا ہے۔
رسولﷺ بحیثیت ِمعلم ومربی
اس کتاب پاک میں چار مقامات پر نبی ﷺکے منصبِ رسالت کی یہ تفصیل بیان کی گئی ہے:
۱۔ وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰھٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْمٰعِيْلُ۝۰ۭ …رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰـتِكَ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُزَكِّيْہِمْ۝۰ۭ
البقرہ 127-129:2
اور یاد کرو جب کہ ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ اس گھر (کعبہ) کی بنیادیں اُٹھا رہے تھے (انھوں نے دعا کی) …اے ہمارے پروردگار! ان لوگوں میں خود انھی کے اندر سے ایک رسول مبعوث فرما، جو انھیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔
۲۔ كَـمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَo البقرہ 151:2
جس طرح ہم نے تمھارے اندر خود تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تم کو ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور تمھارا تزکیہ کرتا ہے اور تم کو کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمھیں وہ باتیں سکھاتا ہے جوتم نہیں جانتے تھے۔
۳۔ لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ آل عمران 164:3
اللّٰہ نے ایمان لانے والوں پر احسان فرمایا جب ان کے اندر خود انھی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو انھیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے او ر ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے۔
۴۔ ہُوَالَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْہِمْ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۝۰ۤ الجمعہ 2:62
وہی ہے جس نے امیوں کے درمیان خود انھی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو ان کو اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے۔
ان آیات میں بار بار جس بات کو بتا کیددہرایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو صرف آیات قرآن سنا دینے کے لیے نہیں بھیجا تھا، بلکہ اس کے ساتھ بعثت کے تین مقصد اور بھی تھے:
i ایک یہ کہ آپ لوگوں کو کتاب کی تعلیم دیں۔
ii دوسرے یہ کہ اس کتاب کے منشا کے مطابق کام کرنے کی حکمت سکھائیں۔
iii اور تیسرے یہ کہ آپ افراد کا بھی اور ان کی اجتماعی ہیئت کا بھی تزکیہ کریں، یعنی اپنی تربیت سے ان کی انفرادی اور اجتماعی خرابیوں کو دور کریں اور ان کے اندر اچھے اوصاف اور بہتر نظام اجتماعی کو نشوونما دیں۔
ظاہر ہے کہ کتاب اور حکمت کی تعلیم صرف قرآن کے الفاظ سنا دینے سے زائد ہی کوئی چیز تھی ورنہ اُس کا الگ ذکر کرنا بے معنی تھا۔ اسی طرح افراد اور معاشرے کی تربیت کے لیے آپ جو تدابیر بھی اختیار فرماتے تھے، وہ بھی قرآن کے الفاظ پڑھ کر سنا دینے سے زائد ہی کچھ تھیں، ورنہ تربیت کی اس الگ خدمت کا ذکر کرنے کے کوئی معنی نہ تھے۔ اب فرمائیے کہ قرآن پہنچانے کے علاوہ یہ معلم اورمربی کے مناصب جو حضورﷺ کو حاصل تھے، ان پرآپﷺ خود فائزہوبیٹھے تھے یا اللّٰہ تعالیٰ نے آپﷺ کو ان پر مامور فرمایا تھا؟ کیا قرآن کی ان صاف اور مکرر تصریحات کے بعد اس کتاب پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص یہ کہنے کی جرأت کر سکتا ہے کہ یہ دونوں مناصب رسالت کے اجزا نہ تھے اور آں حضرتﷺ ان مناصب کے فرائض اور خدمات بحیثیت رسول نہیں بلکہ اپنی پرائیویٹ حیثیت میں انجام دیتے تھے؟ اگر نہیں کَہہ سکتا تو بتائیے کہ قرآن کے الفاظ سنانے سے زائد جو باتیں حضورﷺ نے تعلیمِ کتاب وحکمت کے سلسلے میں فرمائیں اور اپنے قول وعمل سے افراد اور معاشرے کی جو تربیت حضورﷺ نے کی اسے من جانب اللّٰہ ماننے اور سند تسلیم کرنے سے انکار خود رسالت کا انکار نہیں تو اور کیا ہے؟
رسولﷺ بحیثیت شارح کتاب اللّٰہ
سورۂ نحل میں اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْہِمْ النحل 44:16
اور (اے نبیﷺ!) یہ ذکر ہم نے تمھاری طرف اس لیے نازل کیا ہے کہ تم لوگوں کے لیے واضح کر دو اُس تعلیم کو جو اُن کی طرف اتاری گئی ہے۔
اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبیﷺ کے سپرد یہ خدمت کی گئی تھی کہ قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ جو احکام وہدایات دے، ان کی آپﷺ توضیح وتشریح فرمائیں۔ ایک موٹی سی عقل کا آدمی بھی کم از کم اتنی بات تو سمجھ سکتا ہے کہ کسی کتاب کی توضیح وتشریح محض اس کتاب کے الفاظ پڑھ کر سنا دینے سے نہیں ہو جاتی، بلکہ تشریح کرنے والا اس کے الفاظ سے زائد کچھ کہتا ہے تاکہ سننے والا کتاب کا مطلب پوری طرح سمجھ جائے، اور اگر کتاب کی کوئی بات کسی عملی مسئلے سے متعلق ہو تو شارح عملی مظاہرہ (practical demonstration)کرکے بتاتا ہے کہ مصنف کا منشا اس طرح عمل کرنا ہے۔ یہ نہ ہو تو کتاب کے الفاظ کا مطلب ومدعا پوچھنے والے کو پھر کتاب کے الفاظ ہی سنا دینا کسی طفل مکتب کے نزدیک بھی تشریح وتوضیح قرار نہیں پا سکتا۔ اب فرمائیے کہ اس آیت کی رو سے نبیﷺ قرآن کے شارح اپنی ذاتی حیثیت میں تھے، یا خدا نے آپﷺ کو شارح مقرر کیا تھا؟ یہاں تو اللّٰہ تعالیٰ اپنے رسول پر کتاب نازل کرنے کا مقصد ہی یہ بیان کر رہا ہے کہ رسول اپنے قول اور عمل سے اس کا مطلب واضح کرے۔ پھر کس طرح یہ ممکن ہے کہ شارحِ قرآن کی حیثیت سے آپﷺ کے منصب کو رسالت کے منصب سے الگ قرار دیا جائے اور آپ کے پہنچائے ہوئے الفاظ قرآن کو لے کر آپﷺ کی شرح وتفسیر قبول کرنے سے انکار کر دیا جائے؟ کیا یہ انکار خود رسالت کا انکار نہ ہو گا۔

رسولﷺ بحیثیت پیشوا ونمونۂ تقلید
سورۂ آل عمران میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ …… قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَo آل عمران 31-32:3
(اے نبیﷺ) کہو کہ اگر تم اللّٰہ سے مَحبّت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللّٰہ تم سے مَحبّت کرے گا… کہو کہ اطاعت کرو اللّٰہ اور رسولﷺ کی، پھر اگر وہ منہ موڑتے ہیں تو اللّٰہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔
اور سورۂ احزاب میں فرماتا ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ
الاحزاب 21:33
تمھارے لیے اللّٰہ کے رسول میں ایک نمونۂ تقلید ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللّٰہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو۔
ان دونوں آیتوں میں خود اللّٰہ تعالیٰ اپنے رسولﷺ کو پیشوا مقرر کر رہا ہے، ان کی پیروی کا حکم دے رہا ہے، ان کی زندگی کو نمونۂ تقلید قرار دے رہا ہے، اور صاف فرما رہا ہے کہ یہ روش اختیار نہ کرو گے تو مجھ سے کوئی امید نہ رکھو، میری مَحبّت اس کے بغیر تمھیں حاصل نہیں ہو سکتی، بلکہ اس سے منہ موڑنا کفر ہے۔ اب فرمائیے کہ حضورﷺ راہ نُما اور لیڈر خود بن بیٹھے تھے؟ یا مسلمانوں نے آپﷺ کو منتخب کیا تھا؟ یا اللّٰہ نے اس منصب پر آپﷺ کو مامور کیا تھا؟ اگر قرآن کے یہ الفاظ بالکل غیرمشتبہ طریقے سے آں حضورﷺ کو مامور من اللّٰہ راہ نُما وپیشوا قرار دے رہے ہیں، تو پھر آپﷺ کی پیروی اور آپﷺ کے نمونۂ زندگی کی تقلید سے انکار کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اس کے جوا ب میں یہ کہنا سراسر لغو ہے کہ اس سے مراد قرآن کی پیروی ہے۔ اگر یہ مراد ہوتی تو فَاتَّبِعُوا الْقُرْآنَ فرمایا جاتا نہ کہ فَاتَّبِعُوْنِیْ اور اس صورت میں رسول اللّٰہﷺ کی زندگی کو اسوۂ حسنہ کہنے کے تو کوئی معنی ہی نہ تھے۔
رسولﷺ بحیثیت شارع
سورۂ اعراف میں اللّٰہ تعالیٰ نبی ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:
۱۔ يَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہٰىہُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَہُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْہِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ
الاعراف 157:7
وہ ان کو معروف کا حکم دیتا ہے اور منکر سے ان کو روکتا ہے اور ان کے لیے پاک چیزوں کو حلال کرتا ہے اور ان پر ناپاک چیزوں کو حرام کرتا ہے اور ان پر سے وہ بوجھ اور بندھن اتار دیتا ہے، جو ان پر چڑھے ہوئے تھے۔
اس آیت کے الفاظ اس امر میں بالکل صریح ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو تشریعی اختیارات (legislative powers) عطا کیے ہیں۔ اللّٰہ کی طرف سے امر ونہی اور تحلیل وتحریم صرف وہی نہیں ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہے، بلکہ جو کچھ نبی ﷺ نے حرام یا حلال قرار دیا ہے اور جس چیز کا حضورﷺ نے حکم دیا ہے یا جس سے منع کیا ہے، وہ بھی اللّٰہ کے دیے ہوئے اختیارات سے ہے، اس لیے وہ بھی قانون خداوندی کا ایک حصہ ہے۔ یہی بات سورۂ حشر میں اسی صراحت کے ساتھ ارشاد ہوئی ہے:
۲۔ وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ۝۰ۤ وَمَا نَہٰىكُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا۝۰ۚ وَاتَّقُوا اللہَ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ شَدِيْدُ الْعِقَابِo الحشر 7:59
جو کچھ رسول تمھیں دے اسے لے لو اور جس سے منع کر دے، اس سے رک جائو اور اللّٰہ سے ڈرو، اللّٰہ سخت سزا دینے والا ہے۔
ان دونوں آیتوں میں سے کسی کی یہ تاویل نہیں کی جا سکتی کہ ان میں قرآن کے امر ونہی اور قرآن کی تحلیل وتحریم کا ذکر ہے۔ یہ تاویل نہیں بلکہ اللّٰہ کے کلام میں ترمیم ہو گی۔ اللّٰہ نے تو یہاں امر ونہی اور تحلیل وتحریم کو رسول کا فعل قرار دیا ہے نہ کہ قرآن کا۔ پھر کیا کوئی شخص اللّٰہ تعالیٰ سے یہ کہنا چاہتا ہے کہ آپ سے بیان میں غلطی ہو گئی، آپ بھولے سے قرآن کے بجائے رسول کا نام لے گئے؟
رسولﷺ بحیثیت ِقاضی
قرآن میں ایک جگہ نہیں، بکثرت مقامات پر اللّٰہ تعالیٰ اس امرکی تصریح فرماتا ہے کہ اس نے نبیﷺ کو قاضی مقرر کیا ہے، مثال کے طور پر چند آیات ملاحظہ ہوں:
۱۔ اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰىكَ اللہُ۝۰ۭ
النسائ 105:4
(اے نبیﷺ!) ہم نے تمھاری طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے، تاکہ تم لوگوں کے درمیان اللّٰہ کی دکھائی ہوئی روشنی میں فیصلہ کرو۔
۲۔ وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ مِنْ كِتٰبٍ۝۰ۚ وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ الشوریٰ 15:42
اور (اے نبیﷺ!) کہو کہ میں ایمان لایا ہوں اس کتاب پر جو اللّٰہ نے نازل کی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمھارے درمیان عدل کروں۔
۳۔ اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَى اللہِ وَرَسُوْلِہٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَہُمْ اَنْ يَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۝۰ۭ النور 51:24
ایمان لانے والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ بلائے جائیں اللّٰہ اور اس کے رسول کی طرف، تاکہ رسول(ﷺ) ان کے درمیان فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا۔
۴۔ وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَآ اَنْزَلَ اللہُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ رَاَيْتَ الْمُنٰفِقِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاo النسائ 61:4
اور جب ان کو کہا جاتا ہے کہ آئو اللّٰہ کی نازل کردہ کتاب اور رسول کی طرف تو تم دیکھتے ہو منافقوں کو کہ وہ تم سے کنی کتراتے ہیں۔
۵۔ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًاo النسائ 65:4
پس (اے نبیﷺ!) تیرے رب کی قسم، وہ ہرگز مومن نہ ہوں گے جب تک کہ وہ اپنے جھگڑوں میں تجھے فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو فیصلہ تو کرے اس کی طرف سے اپنے دل میں کوئی تنگی تک محسوس نہ کریں، بلکہ اسے بسر وچشم قبول کر لیں۔
یہ تمام آیتیں اس امر میں بالکل صریح ہیں کہ نبی ﷺ خود ساختہ یا مسلمانوں کے مقرر کیے ہوئے جج نہیں، بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے جج تھے۔ تیسری آیت یہ بتا رہی ہے کہ آپ کے جج ہونے کی حیثیت رسالت کی حیثیت سے الگ نہیں تھی، بلکہ رسول ہی کی حیثیت میں آپ جج بھی تھے اور ایک مومن کا ایمان بالرسالت اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ آپ کی اس حیثیت کے آگے بھی سمع وطاعت کا رویہ نہ اختیار کر لے۔ چوتھی آیت میں مَا اَنْزَل اللّٰہ (قرآن) اور رسول دونوں کا الگ الگ ذکر کیا گیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فیصلہ حاصل کرنے کے لیے دو مستقل مرجع ہیں، ایک: قرآن قانون کی حیثیت سے۔ دوسرے: رسولﷺ جج کی حیثیت سے، اور ان دونوں سے منہ موڑنا منافق کا کام ہے، نہ کہ مومن کا۔ آخری آیت میں بالکل بے لاگ طریقے سے کہہ دیا گیا ہے کہ رسولﷺ کو جو شخص جج کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتا وہ مومن ہی نہیں ہے، حتّٰی کہ اگر رسولﷺ کے دیے ہوئے فیصلے پر کوئی شخص اپنے دل میں بھی تنگی محسوس کرے تو اس کا ایمان ختم ہوجاتا ہے۔ کیا قرآن کی ان تصریحات کے بعد بھی آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آں حضور ﷺ رسول کی حیثیت سے قاضی نہ تھے، بلکہ دُنیا کے عام ججوں اور مجسٹریٹوں کی طر ح آپﷺ بھی ایک جج یا مجسٹریٹ تھے، اس لیے ان کے فیصلوں کی طرح حضورﷺ کے فیصلے بھی مآخذ قانون نہیں بن سکتے؟ کیا دُنیا کے کسی جج کی یہ حیثیت ہو سکتی ہے کہ اس کا فیصلہ اگر کوئی نہ مانے، یا اس پر تنقید کرے، یا اپنے دل میں بھی اسے غلط سمجھے تو اس کا ایمان سلب ہو جائے؟
رسولﷺ بحیثیت حاکم وفرماںروا
قرآن مجید اسی صراحت اور تکرار کے ساتھ بکثرت مقامات پر یہ بات بھی کہتا ہے کہ نبی ﷺ، اللّٰہ کی طرف سے مقرر کیے ہوئے حاکم وفرماں روا تھے، اور آپﷺ کو یہ منصب بھی رسول ہی کی حیثیت سے عطا ہوا تھا:
۱۔ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِـاِذْنِ اللہِ۝۰ۭ النسائ 64:4
ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا، مگر اس لیے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللّٰہ کے اِذن (sanction) سے۔
۲۔ مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ۝۰ۚ النسائ 80:4
جو رسولﷺ کی اطاعت کرے اس نے اللّٰہ کی اطاعت کی۔
۳۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللہَ۝۰ۭ الفتح 10:48
(اے نبیﷺ!) یقینا جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللّٰہ سے بیعت کرتے ہیں۔
۴۔ يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَكُمْo
محمد 33:47
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اطاعت کرو اللّٰہ کی اور اطاعت کرو رسولﷺ کی اور اپنے اعمال کو باطل نہ کر لو۔
۵۔ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَى اللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَہُمُ الْخِـيَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ۝۰ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًاo
الاحزاب 33: 36
اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب کسی معاملہ کا فیصلہ اللّٰہ اور اس کا رسولﷺ کر دے تو پھر ان کے لیے اپنے اس معاملے میں خود کوئی فیصلہ کر لینے کا اختیار باقی رہ جائے اور جو شخص اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کرے وہ کھلی گم راہی میں پڑ گیا۔
۶۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ النسائ 59:4
اے لوگو! جو ایمان لائے ہو! اطاعت کرو اللّٰہ کی اور اطاعت کرو رسولﷺ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے اولی الامر ہوں، پھر اگر تمھارے درمیان نزاع ہو جائے تو اس کو پھیر دو اللّٰہ اور رسول کی طرف اگر تم ایمان رکھتے ہو، اللّٰہ اور روزِ آخر پر۔
یہ آیات صاف بتا رہی ہیں کہ رسول کوئی ایسا حاکم نہیں ہے جو خود اپنی قائم کردہ ریاست کا سربراہ بن بیٹھا ہو، یا جسے لوگوں نے منتخب کرکے سربراہ بنایا ہو، بلکہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے مامور کیا ہوا فرماں روا ہے۔ اس کی فرماں روائی اس کے منصبِ رسالت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ اس کا رسول ہونا ہی اللّٰہ کی طرف سے اس کا حاکم مُطاع ہونا ہے۔ اس کی اطاعت عین اللّٰہ کی اطاعت ہے۔ اس سے بیعت دراصل اللّٰہ سے بیعت ہے۔ اس کی اطاعت نہ کرنے کے معنی اللّٰہ کی نافرمانی کے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آدمی کا کوئی عمل بھی اللّٰہ کے ہاں مقبول نہ ہو۔ اس کے مقابلے میں اہل ایمان کو (جن میں ظاہر ہے کہ پوری امت اور اس کے حکمران اور اس کے ’’مرکزِ ملت‘‘ سب شامل ہیں) قطعًا یہ حق حاصل نہیں ہے کہ جس معاملے کا فیصلہ وہ کر چکا ہو، اس میں وہ خود کوئی فیصلہ کریں۔
ان تمام تصریحات سے بڑھ کر صاف اور قطعی تصریح آخری آیت کرتی ہے جس میں یکے بعد دیگرے تین اطاعتوں کا حکم دیا گیا ہے:
۱۔سب سے پہلے اللّٰہ کی اطاعت۔
۲۔اس کے بعد رسولﷺ کی اطاعت۔
۳۔پھر تیسرے درجے میں اولی الامر (یعنی آپ کے ’’مرکزِ ملت‘‘) کی اطاعت۔
اس سے پہلی بات تو یہ معلوم ہوئی کہ رسول اولی الامر میں شامل نہیں ہے، بلکہ ان سے الگ اور بالاتر ہے اور اس کا درجہ خدا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ دوسری بات جو اس آیت سے معلوم ہوئی وہ یہ کہ اولی الامر سے نزاع ہو سکتی ہے مگر رسول سے نزاع نہیں ہو سکتی۔ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ نزاعات میں فیصلے کے لیے مرجع دو ہیں، ایک: اللّٰہ، دوسرا: اس کے بعد اللّٰہ کا رسولﷺ۔ ظاہر ہے کہ اگر مرجع صرف اللّٰہ ہوتا تو صراحت کے ساتھ رسول کا الگ ذکر محض بے معنی ہوتا۔ پھر جب کہ اللّٰہ کی طرف رجوع کرنے سے مراد کتاب اللّٰہ کی طرف رجوع کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے تو رسول کی طرف رجوع کرنے کا مطلب بھی اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا کہ عہدِ رسالت میں خود ذاتِ رسولﷺ کی طرف اور اس عہد کے بعد سُنّتِ رسولؐ کی طرف رجوع کیا جائے۔({ FR 6804 })
سُنّت کے مآخذِ قانون ہونے پر اُمّت کا اجماع
اب اگر آپ واقعی قرآن کو مانتے ہیں، اور اس کتاب مقدس کا نام لے کر خود اپنے من گھڑت نظریات کے معتقد بنے ہوئے نہیں ہیں، تو دیکھ لیجیے کہ قرآن مجید صاف وصریح اور قطعًا غیر مشتبہ الفاظ میں رسول اللّٰہﷺ کو خدا کی طرف سے مقرر کیا ہوا معلم، مربی، پیشوا، راہ نُما، شارح کلام اللّٰہ، شارع (law giver)، قاضی اور حاکم وفرماں روا قرار دے رہا ہے، اور حضور ﷺ کے یہ تمام مناصب اس کتاب پاک کی رو سے منصب رسالت کے اجزائے لاینفک ہیں۔ کلام الٰہی کی یہی تصریحات ہیں جن کی بِنا پر صحابہ کرامؓ کے دور سے لے کر آج تک تمام مسلمانوں نے بالاتفاق یہ مانا ہے کہ مذکورہ بالا تمام حیثیات میں حضورﷺ نے جو کام کیا ہے وہ قرآن کے بعد دوسرا ماخذ قانون (source of law) ہے جب تک کوئی شخص انتہائی برخود غلط نہ ہو، وہ اس پندار میں مبتلا نہیں ہو سکتا کہ تمام دُنیا کے مسلمان اور ہر زمانے کے سارے مسلمان قرآن پاک کی ان آیات کو سمجھنے میں غلطی کر گئے ہیں اور ٹھیک مطلب بس اس نے سمجھا ہے کہ حضورﷺ صرف قرآن پڑھ کر سنا دینے کی حد تک رسولﷺ تھے، اور اس کے بعد آپﷺ کی حیثیت ایک عام مسلمان کی تھی۔ آخر اس کے ہاتھ وہ کون سی نرالی لغت آ گئی ہے جس کی مدد سے قرآن کے الفاظ کا وہ مطلب اس نے سمجھا جو پوری امت کی سمجھ میں کبھی نہ آیا۔

شیئر کریں