Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

اسلام میں قانون سازی کا دائرہ عمل اور اس میں اجتہاد کا مقام
ایک منکر حدیث کے اعتراضات اور ان کا جواب
مسئلہ اجتہاد کے بارے میں چند شبہات
اجتہاد اور اُس کے تقاضے
مسئلہ اجتہاد میں الفاظ اور رُوح کی حیثیت
قانون سازی، شوریٰ اور اجماع
نظامِ اسلامی میں نزاعی امور کے فیصلے کا صحیح طریقہ
سنت ِرسول بحیثیت ِماخذ قانون
اسلام میں ضرورت و مصلحت کا لحاظ اور اس کے اصول و قواعد
دین میں حکمت ِ عملی کا مقام
غیبت کی حقیقت اور اس کے احکام
غیبت کے مسئلے میں ایک دو ٹوک بات
غیبت کے مسئلے میں بحث کا ایک اور رُخ
دو اہم مبحث:
اسلام اور عدل اجتماعی
یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ
عائلی قوانین کے کمیشن کا سوالنامہ اور اُس کا جواب
اہلِ کتاب کے ذبیحہ کی حِلّت و حُرمت
انسان کے بنیادی حقوق
مسئلہ خلافت میں امام ابوحنیفہؒ کا مسلک حاکمیت
شہادتِ حسین ؑ کا حقیقی مقصد ۱؎
اقوامِ مغرب کا عبرت ناک انجام
دنیائے اِسلام میں اسلامی تحریکات کے لیے طریق کار

تفہیمات (حصہ سوم)

اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ

(’’اسلام میں یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ‘‘ ایک عرصے سے اخبارات میں موضوع بحث بنا ہوا تھا۔ منکرین حدیث کے لیے چونکہ اس مسئلے کی آڑ میں حدیث کے متعلق اپنے گمراہ کن خیالات پیش کرنے کا ایک نادر موقع ہے اس لیے انھوں نے اسے ایک جذباتی پس منظر میں رکھ کر اس پر خوب لے دے کی ہے۔ ان حالات میں اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ نہ صرف اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی جائے بلکہ اس کے مالہ و ماعلیہ پر بھی اظہارِ خیال کیا جائے۔ وقت کی اس اہم ضرورت کے پیش نظر مصنف نے ذیل کا مضمون لکھا جو دو خطوط کی صورت میں روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہوا۔ اس مضمون سے نہ صرف مسئلہ زیر بحث کو سمجھنے میں رہنمائی ملے گی بلکہ اس ذہن کی کجی کا بھی اندازہ ہو گا جو اس کے پیچھے کام کر رہا ہے۔)
پہلا خط
ایک مدت سے بعض حضرات نے یہ پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے کہ یتیم پوتے کا اپنے دادا کی میراث سے محروم ہونا قرآن کے خلاف ہے۔ چونکہ وراثت سے یتیم پوتے کی محرومی ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر صحابۂ کرام کے دور سے لے کر آج تک تمام امت کے فقہا متفق رہے ہیں اور اس میں حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، ظاہری، اہلِ حدیث، شیعہ وغیرہ گروہوں کے علما میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ اس لیے اس پروپیگنڈے کے اثرات بڑے دوررس ہیں۔ اگر ایک دفعہ یہ مان لیا جائے کہ یہ مسئلہ قرآن کے خلاف ہے اور دوسری طرف یہ دیکھا جائے کہ اس میں فقہائے امت کے درمیان ایسا مکمل اتفاق ہے تو پھر کوئی شخص بھی اس نتیجے تک پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ فقہائے اسلام یا تو قرآن کی سمجھ نہیں رکھتے تھے، یا پھر وہ سب جان بوجھ کر قرآن کی خلاف ورزی پر متفق ہو گئے تھے۔
اس پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اب سے چند سال پہلے ۱؎ چودھری محمد اقبال صاحب چیمہ نے سابق پنجاب اسمبلی میں ایک مسودہ قانون پیش کیا تھا جس کا مقصد اسلامی قانونِ وراثت میں ترمیم کرنا تھا اور اس کی تائید لاہور ہائیکورٹ کے ججوں سے لے کر اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں، ڈسٹرکٹ ججوں، سول ججوں، سرکاری محکموں کے اعلیٰ و ادنیٰ عہدے داروں، وکیلوں اور میونسپل کمشنروں کی ایک کثیر تعداد نے کی تھی۔ اس کے بعد سابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں عبدالرشید صاحب کی صدارت میں عائلی کمیشن نے اپنی رپورٹ پیش کی اور اس نے بھی اسی ترمیم کے حق میں رائے دی۔ اب آپ کے اخبار میں بعض حضرات نے ازسرنو یہ مسئلہ چھیڑا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس معاملے میں کوئی رائے زنی کرنے سے پہلے لوگ اس کی شرعی حیثیت کو اچھی طرح سمجھ لیں۔
میراث کے متعلق قرآن و سنّت کے اصولی احکام
۱- میراث کا سوال آدمی کی زندگی میں نہیں بلکہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ وہ کچھ مال چھوڑ کر مر گیا ہو۔ قرآن میں اس بنیادی قاعدے کو متعدد مقامات پر وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ ایک جگہ فرمایا۔
مردوں کے لیے اس مال میں سے حصّہ ہے جو والدین اور قریب تر رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیے اس مال میں سے حصّہ ہے جو والدین اور قریب تر رشتہ داروں نے چھوڑا ہو۔ (النساء۴:۷)
دوسری جگہ فرمایا:
اگر کوئی شخص ہلاک ہو جائے اور اس کے کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو جو کچھ اس نے چھوڑا اس کا نصف بہن کے لیے ہے۔ (النساء۴:۱۷۶)
اسی طرح سورۂ نساء کی آیات ۱۱،۱۲ میں میراث کا قانون بیان کرتے ہوئے بار بار تَرَکَ اور تَرَکْتُمْ اور تَرَکْنَ کے الفاظ کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ وراثت کا حکم صرف تر کے سے متعلق ہے۔
۲- مذکورہ بالا بنیادی قاعدے سے جو اصول نکلتے ہیں وہ یہ ہیں:
(الف) میراث کا کوئی حق مورث کی موت سے پہلے پیدا نہیں ہوتا۔
(ب) میراث کے حقوق صرف ان لوگوں کو پہنچتے ہیں جو مورث کی موت کے بعد فی الواقع زندہ موجود ہوں نہ کہ زندہ فرض کر لیے گئے ہوں۔
(ج) مورث کی زندگی ہی میں جو لوگ وفات پا چکے ہوں ان کا کوئی حق اس کے ترکے میں نہیں ہے، کیونکہ وہ اس وقت مر چکے تھے جب کہ سرے سے کوئی حق وراثت پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔ لہٰذا کوئی شخص ان پہلے کے فوت شدہ لوگوں کا وارث یا قائم مقام ہونے کی حیثیت سے مورث کے ترکے میں اپنے کسی حق کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ البتہ اگر وہ بجائے خود اپنا کوئی شرعی حق اس کی میراث میں رکھتا ہو تو وہ اسے پا سکتا ہے۔
۳- مورث کے وفات پا جانے پر جو لوگ زندہ ہوں ان کے درمیان میراث تقسیم کرنے کے لیے قرآن جو قاعدہ مقرر کرتا ہے وہ یہ نہیں ہے کہ جو حاجت مند یا قابل رحم ہو اس کو دیا جائے بلکہ یہ ہے کہ جو رشتے میں مورث سے قریب تر ہو یا بالفاظ دیگر مورث جس سے رشتے میں قریب تر ہو، وہ حصّہ پائے اور قریب تر رشتہ دار کی موجودگی میں بعید تر حصّہ نہ پائے۔ یہ قاعدہ سورۂ نساء کی آیت ۷ کے ان الفاظ میں بیان ہوا ہے۔
اس مال میں سے جو چھوڑا ہو والدین اور قریب تر رشتہ داروں نے۔
۴- ایک آدمی کے قریب ترین رشتہ دار کون ہیں، اس کو قرآن خود بیان کر دیتا ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی بتا دیتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کا کتنا حصّہ ہے۔ اس کے بیان کی رو سے وہ رشتہ دار یہ ہیں۔
باپ اور ماں
بربنائے حق والدیت
بیوی یا شوہر میت جس کی میراث کا سوال درپیش ہے بہن بھائی
بربنائے حق زوجیت بربنائے حق اخوت
بیٹے اور بیٹیاں
بربنائے حق ولدیت
۵- تقسیم وراثت کی اس اسکیم میں جس رشتہ دار کو بھی کوئی حصّہ ملتا ہے میت کے ساتھ خود اپنے قریبی تعلق کی بنا پر ملتا ہے۔ کوئی دوسرا نہ تو قریبی حق دار کی موجودگی میں اس کے حق کا شریک بن سکتا ہے اور نہ اس کی غیرموجودگی میں اس کا قائم مقام بن کر اس کا حصّہ لے سکتا ہے۔
(الف) حق مادری و پدری میت کے حقیقی ماں اور باپ کو پہنچتا ہے، ان کی موجودگی میں کوئی دوسرا اس حق کو نہیں پا سکتا۔ البتہ اگر باپ نہ ہو تو حق پدری دادا کو اور دادا بھی نہ ہو تو پر دادا کو پہنچے گا۔ اسی طرح اگر ماں نہ ہو تو حق مادری دادی اور نانی کو اور دادی اور نانی بھی نہ ہوں تو پردادی اور پرنانی کو پہنچ جائے گا۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ حقیقی ماں باپ کے قائم مقام ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ باپ کی غیرموجودگی میں باپ کا باپ اور ماں کی غیر موجودگی میں ماں کی ماں اور باپ کی ماں خود حق پدری و مادری رکھتے ہیں۔
(ب) حق ولدیت صرف انھی بیٹوں اور بیٹیوں کو پہنچتا ہے جو میت کے نطفے یا اس کے بطن سے پیدا ہوئے ہوں۔ ان کی موجودگی میں یہ حق کسی طرح بھی اولاد کی اولاد کو نہیں پہنچ سکتا۔ البتہ اگر ان میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو حق ولدیت اولاد کی اولاد کو پہنچ سکتا ہے۔ باپ اور ماں کے برعکس ایک آدمی کے بچے چونکہ بہت سے ہو سکتے ہیں اس لیے یہ بات اکثر پیش آتی ہے کہ ایک یا چند بچے آدمی کی زندگی میں مر جائیں اور ایک یا چند بچے اس کے مرنے کے بعد زندہ رہیں۔ اسی وجہ سے حق والدیت کے برعکس حق ولدیت کے معاملے میں یہ صورت پیدا ہو جاتی ہے کہ اولاد کی موجودگی میں اولاد کی اولاد کو میراث نہیں پہنچتی۔ اس معاملے کی اصولی نوعیت کو جو لوگ نہیں سمجھتے وہ اس صورتِ حال کو دیکھ کر یہ اعتراض جڑ دیتے ہیں کہ جب باپ کے مرنے پر حق والدیت دادا کو پہنچ جاتا ہے تو بیٹے کے مر جانے کی صورت میں حق ولدیت پوتے کو کیوں نہیں پہنچتا؟ حالانکہ یہ اعتراض اگر صحیح ہو سکتا تھا تو صرف اس صورت میں جب کہ ایک آدمی بیک وقت تین چار آدمیوں کا بیٹا ہوتا اور پھر ان میں سے کسی ایک کے مر جانے پر دادا کو حصّہ پہنچ جاتا، یا پھر ایک آدمی کی زندگی میں اس کی ساری اولاد کے مر جانے کے باوجود اس آدمی کے پوتوں پوتیوں کو حصّہ نہ دیا جاتا۔ پھر یہ لوگ اس پر مزید ایک غلطی یہ کرتے ہیں کہ باپ کی غیر موجودگی میں دادا کے حق پدری پانے کو ’’قائم مقامی‘‘ (Representation) کے قاعدے پر مبنی سمجھ لیتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ جس طرح باپ کے سر کتے ہی دادا اس کی جگہ آ کھڑا ہوتا ہے۔ اسی طرح بیٹے کے سرکتے ہی پوتے کو اس کی جگہ آ کھڑا ہونے کی اجازت دی جائے حالانکہ یہ معاملہ راشن ڈپو کے خریداروں کی قطار کا نہیں ہے بلکہ اصول قرب و بعد کا ہے۔ جب تک وہ شخص موجود ہے جس کا ایک آدمی براہِ راست نطفہ ہے اس وقت تک حق پدری کسی ایسے شخص کو نہیں پہنچ سکتا جس کا وہ بالواسطہ نطفہ ہو اسی طرح جب تک وہ اولاد موجود ہے جو آدمی کی صلب سے براہِ راست پیدا ہوئی ہے اس وقت تک بالواسطہ اولاد کبھی ’’اولاد‘‘ کا حق لینے کی مستحق نہیں ہو سکتی۔ باپ کے نہ ہونے کی صورت میں دادا اس بنا پر حق پدری نہیں پاتا کہ وہ باپ کی جگہ آ کھڑا ہوا ہے بلکہ اس بنا پر پاتا ہے کہ بلاواسطہ پدر کی غیر موجودگی میں بالواسطہ پدر خود یہ حق رکھتا ہے۔
ج۔ حق زوجیت صرف اس شخص کو پہنچ سکتا ہے جس سے میت کا اپنا ازدواجی رشتہ ہو اور چونکہ یہ رشتہ بالواسطہ نہیں ہو سکتا اس لیے مورث کی زندگی میں شوہر یا بیوی کے مر جانے سے اس کا حق میراث بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ قائم مقامی کا اصول یہاں بھی نہیں پایا جاتا کہ شوہر کے حینِ حیات اگر بیوی مر چکی ہو تو اس کے وارثوں میں سے کوئی اس کا قائم مقام ہونے کی حیثیت سے شوہر کے ترکے میں سے حق زوجیّت مانگ سکے، یا شوہر بیوی کی زندگی میں مر چکا ہو تو اس کے وارثوں میں سے کوئی عورت کے مال میں سے حق زوجیت کا طلب گار ہو سکے۔
د۔ حقِ اخوت اولاد اور باپ کے نہ ہونے کی صورت میں صرف بھائی بہنوں ہی کو پہنچتا ہے۔ خواہ وہ حقیقی ہوں یا علاتی (یعنی باپ کی طرف سے) یا اخیافی (یعنی ماں کی طرف سے) قائم مقامی کا اصول یہاں بھی نہیں ہے کہ بھائی کی غیرموجودگی میں اس کی اولاد قائم مقام ہونے کی حیثیت سے اس کا حصّہ پائے۔ بھتیجوں کو اگر حصّہ پہنچے گا تو ذوی الفروض کے نہ ہونے کی صورت میں، یا ذوی الفروض کے حصّے ادا ہوجانے کے بعد عصبات ہونے کی حیثیت سے اپنے ذاتی حق کی بنا پر پہنچے گا نہ کہ کسی کا قائم مقام ہونے کی حیثیت سے۔
۶- قرآن مجید نے صرف ان رشتہ داروں کے حقوق بیان کیے ہیں جو مذکورہ بالا چار حقوق میں سے کوئی حق رکھتے ہوں اور ان کے حصّے اس نے خود مقرر کر دیئے ہیں۔ اس کے بعد دو سوالات کا جواب باقی رہ جاتا ہے۔ اوّل یہ کہ قرآن نے جو حصّے مقرر کر دیئے ہیں ان کو ادا کرنے کے بعد جو کچھ بچے وہ کہاں جائے گا؟ اور دوم یہ کہ قرآن نے جن رشتہ داروں کے حقوق مقرر کیے ہیں وہ اگر نہ ہوں تو کن کو وراثت پہنچے گی؟ ان دونوں سوالات کا جواب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مستند شارحِ قرآن ہونے کی حیثیت سے خود قرآن ہی کے اشارات کی بنا پر یہ دیا ہے کہ قریب ترین رشتہ داروں کے حق ادا ہو چکنے کے بعد یا ان کی غیرموجودگی میں حق میراث ان قریب تر جدّی رشتہ داروں کو پہنچے گا جو ایک آدمی کے فطرتاً پشتیبان اور حامی و ناصر ہوتے ہیں۔ یہی معنی ہیں ’’عصبات‘‘ کے یعنی آدمی کے وہ اہلِ خاندان جو اس کے لیے تعصب کرنے والے ہوں۔ اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو پھر یہ حق ’’ذوی الارحام‘‘ (رحمی رشتہ داروں مثلاً ماموں، نانا، بھانجے اور بیٹی یا پوتی کی اولاد) کو دیا جائے گا۔ یہاں بھی نہ تو قائم مقامی کا اصول کام کرتا ہے اور نہ یہ اصول کہ جو محتاج اور قابلِ رحم ہو اس کو میراث دی جائے۔ بلکہ قرآن کے بتائے ہوئے چار اصول اس معاملے میں کار فرما ہیں:
ایک یہ کہ قریب ترین کے بعد حصّہ قریب تر کو پہنچے گا اور قریب ترکی موجودگی میں بعید تر حصّہ نہ پائے گا۔ (مِمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالْاَقْرَبُوْنَ)
دوسرے یہ کہ غیر ذوی الفروض کو وارث قرار دینے میں یہ دیکھا جائے گا کہ میت کے لیے نفع کے لحاظ سے قریب تر، یعنی اس کی حمایت و نصرت میں فطرتاً زیادہ سرگرم کون ہو سکتے ہیں۔ (اَیُّہُمْ اَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعًا)
تیسرے یہ کہ عورتوں کی بہ نسبت مرد فطرۃً عصبہ ہونے کے زیادہ اہل ہوتے ہیں۔ اسی لیے قرآن ماں اور باپ میں سے عصبہ باپ کو قرار دیتا ہے اور اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ فرض حصّے ادا کرنے کے بعد مابقی ترکہ قریب ترین مرد کو دو لیکن بعض حالات میں عورت بھی عصبہ ہو سکتی ہے مثلاً یہ کہ میت کی وارث بیٹیاں ہی ہوں اور کوئی مرد عصبہ موجود نہ ہو تو بیٹیوں کا حصّہ فرض ادا کرنے کے بعد مابقی میت کی بہن کو دیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی پشتیبان ہوتی ہے۔
چوتھا اصول قرآن نے اس طرح بیان کیا ہے کہ اُولُو الْاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ (رحمی رشتہ دار اجنبیوں کی بہ نسبت ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں) اسی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اَلْخَالُ وَارِثُ مَنْ لاَّ وَارِثَ لَہٗ (جس کا کوئی اور وارث نہ ہو اس کا وارث اس کا ماموں ہے)
یہ ہیں تقسیم میراث کے اسلامی اصول جن کو سمجھنے میں کوئی ایسا شخص غلطی نہیں کر سکتا جس نے کبھی قرآن کو سمجھ کر پڑھا ہو اور اس کے مضمرات پر غور کیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ عصبات کی تعیین اور ذوی الارحام کی میراث کے مسائل کو چھوڑ کر قانونِ وراثت کے بنیادی اصولوں میں تمام امت کے علما شروع سے آج تک متفق رہے ہیں اور زمانۂ حال سے پہلے کبھی اسلامی تاریخ کے دوران میں یہ آواز نہیں سنی گئی کہ قرآن کے اس قانون کو سمجھنے میں ساری امت کے علما بالاتفاق غلطی کر گئے ہیں۔
قائم مقامی کے اصول کی غلطی
اب میں یہ بتائوں گا کہ فوت شدہ بیٹے اور بیٹی کی اولاد کو وارث قرار دینے پر اصولاً کیا اعتراضات وارد ہوتے ہیں اور یہ تجویز ایک معقول اور منظم قانونِ میراث کو کس طرح غیر معقول اور پراگندہ کرکے رکھ دیتی ہے۔
اس پر پہلا اعتراض یہ ہے کہ یہ اسلامی قانونِ میراث میں ’’قائم مقامی‘‘ کا ایک بالکل غلط نظریہ داخل کر دیتی ہے جس کا کوئی ثبوت قرآن میں ہم کو نہیں ملتا۔ قرآن کی رُو سے جو شخص بھی میراث کا کوئی حصّہ پاتا ہے خود میت کا اقرب ہونے کی حیثیت سے پاتا ہے نہ کہ کسی دوسرے اقرب کے قائم مقام کی حیثیت سے۔ اولاد کی غیرموجودگی میں اولاد کی اولاد اور والدین کی غیرموجودگی میں والدین کے والدین اس لیے میراث نہیں پاتے کہ وہ کسی کے قائم مقام ہیں بلکہ اس لیے پاتے ہیں کہ بلا واسطہ اولاد اور بلاواسطہ والدین کی غیرموجودگی میں بالواسطہ اولاد اور بالواسطہ والدین کو آپ سے آپ حقِ ولدیت اور حقِ والدیت پہنچ جاتا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ بیوی اور شوہر کے وارث چونکہ کوئی بالواسطہ یا بلاواسطہ حق زوجیت نہیں رکھتے۔ اس لیے ایک مرد کے مرنے پر اس کی فوت شدہ بیوی یا ایک عورت کے مرنے پر اس کے فوت شدہ شوہر کا حصّہ کسی حال میں بھی اس کے وارثوں کو نہیں ملتا۔ ورنہ اگر قائم مقامی کا اصول واقعی اسلامی قانون میں موجود ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ ساس اور خسر اور سالے اور سوتیلے بچے میراث میں حصّہ نہ پاتے۔
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ قائم مقامی کا اصول تسلیم کر لینے کے بعد یہ تجویز اس کو صرف بیٹے، بیٹیوں کی اولاد تک محدود رکھتی ہے حالانکہ اس کے لیے کوئی معقول دلیل موجود نہیں ہے۔ اگر قائم مقامی کا اصول واقعی کوئی صحیح اصول ہے تو پھر قانون یہ ہونا چاہیے:
’’ہر ایسا شخص جو مورث کی وفات کے بعد زندہ موجود ہونے کی صورت میں شرعاً وارث ہوتا وہ اگر مورث کی زندگی ہی میں مر گیا ہو تو اس کے تمام شرعی وارثوں کو اس کا قائم مقام مانا جائے گا اور وہ مورث کی وفات کے بعد میراث میں سے حصّہ پائیں گے۔‘‘
مثلاً ایک شخص کی بیوی اس کی زندگی میں مر چکی تھی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اب شوہر کے ترکے میں اس فوت شدہ بیوی کے وارث اس کے قائم مقام نہ مانے جائیں؟ ایک شخص کا باپ اس کی زندگی میں مر گیا تھا۔ قائم مقامی کا اصول تسلیم کر لینے کے بعد کون سی معقول دلیل ایسی ہے جس کی بنا پر اس متوفی باپ کے تمام وارثوں کو اس کا قائم مقام مان کر سب کو اس شخص کے ترکے میں حصّہ دار نہ بنایا جائے؟ ایک شخص کے چار چھوٹے بچے اس کی زندگی میں مر چکے تھے۔ کیا وجہ ہے کہ ان بچوں کی ماں ان کی قائم مقام نہ مانی جائے اور شوہر کے مرنے پر حق زوجیت کے علاوہ اسے ان مرے ہوئے بچوں کا حصّہ بھی بحیثیت قائم مقام نہ ملے؟ ایک شخص کا ایک شادی شدہ لڑکا اس کی زندگی میں لاولد مر گیا تھا۔ کیا وجہ ہے کہ اس کی بیوہ اس کی قائم مقام ہو کر خسر کے ترکے میں سے حصّہ نہ لے؟ صرف اولاد کی اولاد تک اس قائم مقامی کے اصول کو محدود رکھنا اور دوسرے سب لوگوں کو اس سے مستثنیٰ کر دینا اگر کسی قرآنی دلیل پر مبنی ہے تو اس کی نشان دہی کی جائے اور اگر کسی عقلی دلیل پر مبنی ہے تو اسے بھی چھپا کر نہ رکھا جائے۔ ورنہ پھر سیدھی طرح یہ کہہ دیا جائے کہ جس طرح قائم مقامی کا اصول خود ساختہ ہے اسی طرح اس کا انطباق بھی من مانے طریقے پر کیا جائے گا۔
تیسرا اعتراض یہ ہے کہ یہ تجویز ان اصولوں کے بالکل خلاف ہے جو قانونی سمجھ بوجھ رکھنے والا کوئی آدمی قرآن مجید کے احکام میراث سے سمجھ سکتا ہے۔ قرآن کی رو سے کوئی حق وراثت مورث کی زندگی میں پیدا نہیں ہوتا مگر یہ تجویز اس مفروضے پر قائم ہے کہ یہ حق مورث کی زندگی ہی میں قائم ہو جاتا ہے اور صرف اس کا نفاذ مورث کے مرنے تک ملتوی رہتا ہے۔ قرآن کی رو سے میراث میں صرف ان لوگوں کا حصّہ ہے جو مورث کی وفات کے وقت زندہ موجود ہوں مگر یہ تجویز ان لوگوں کا حق بھی ثابت کرتی ہے جو اس کی زندگی میں مر چکے ہوں۔
چوتھا اعتراض یہ ہے کہ قرآن بعض رشتہ داروں کے حصّے قطعی طور پر مقرر کر دیتا ہے جن میں کمی بیشی کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے، مگر قائم مقامی کا اصول خود قرآن کے مقرر کیے ہوئے بعض حصّوں میں کمی اور بعض میں بیشی کر دیتا ہے۔ مثلاً فرض کیجیے کہ ایک شخص کے دو ہی لڑکے تھے اور دونوں اس کی زندگی میں وفات پا گئے۔ ایک لڑکا اپنے پیچھے چار بچے چھوڑ کر مرا۔ دوسرا لڑکا صرف ایک بچہ چھوڑ کر مرا۔ قرآن کی رُو سے یہ پانچوں پوتے حق ولدیت میں بالکل برابر ہیں۔ اس لیے دادا کے ترکے میں سے ان سب کو برابر حصّہ ملنا چاہیے، مگر قائم مقامی کے اصول پر اس کی جائداد میں سے آٹھ آنے ایک پوتے کو ملیں گے اور باقی چار پوتوں کے حصّے میں صرف دو دو آنے آئیں گے۔
ایک اور غلط تجویز
حال میں بعض لوگوں نے وراثت کے متعلق اپنی تجویز اس طرح مرتّب کی ہے:
’’مورث کا کوئی ایسا نسبی رشتہ دار جو اس کے ترکے میں سے اس کی وفات کے بعد حصّہ پاتا، لیکن جو مورث کی وفات سے پہلے ہی فوت ہو گیا ہو، اس کی جگہ اس کا قریب ترین نسبی رشتہ دار لے لے گا اور مورث کی وفات کے وقت وہی حصّہ پائے گا جو اس فوت شدہ کو ملتا۔ اگر وہ متعدد ہیں تو وہ حصّہ ان میں قرآنی قانونِ وراثت کے مطابق تقسیم کر دیا جائے گا۔‘‘
اس تجویز میں دو مرحلے پر ’’نسبی رشتہ دار‘‘ کی قید لگائی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں مورث کے وفات یافتہ ممکن وارثوں میں سے صرف اس کے نسبی رشتہ داروں کو حصّہ پانے کے لیے منتخب کر لیا جاتا ہے اور دوسروں کو یونہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں ان مردہ حصّہ داروں کے بھی صرف نسبی رشتہ داروں کو میراث پانے کے لیے چھانٹ لیا جاتا ہے اور باقیوں کو محروم کر دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دو دو مرحلوں پر ’’نسبی رشتہ دار‘‘ کی یہ قید قرآن کے کس حکم سے اخذ کی گئی ہے؟ اگر قرآن واقعی یہ اجازت دیتا ہے کہ ایک شخص کے جو ممکن وارث اس کی زندگی میں مر چکے ہوں انھیں اس کی وفات کے بعد میراث وصول کرنے کی خاطر قانونی زندگی عطا کی جائے تو پھر یہ انعام سارے ممکن وارثوں پر عام ہونا چاہیے۔ ان میں سے صرف نسبی رشتہ داروں کو چھانٹ لینے کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے۔ پھر ان نسبی رشتہ داروں کو بھی قانونی زندگی عطا کرکے آپ ان کے صرف نسبی رشتہ داروں کو وراثت دیتے ہیں اور دوسرے حق داروں کو محروم الارث کر دیتے ہیں۔ کیا آپ قرآن سے یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ایک شخص اگر مورث کی وفات کے وقت قانونی مفروضے کے طور پر نہیں بلکہ واقعی زندہ ہوتا اور مورث کی وراثت میں سے حصّہ پانے کے بعد مرتا تو اس کے صرف نسبی رشتہ دار ہی اس کی میراث پاتے؟
اچھا تھوڑی دیر کے لیے ان اصولی اعتراضات کو بھی جانے دیجیے۔ اس تجویز میں ’’نسبی رشتہ دار‘‘ سے ماں باپ تو خارج نہ ہوں گے۔ فرض کیجیے کہ ایک شخص کی زندگی میں اس کے باپ کا انتقال ہو جاتا ہے۔ باپ کی ایک دوسری بیوی بھی تھی جس سے اولاد موجود ہے اور باپ کی اس بیوی سے بھی اولاد ہے جس کے بطن سے یہ شخص پیدا ہوا ہے اس شخص کے اپنے بیٹے بیٹیاں بھی موجود ہیں۔ اب اس شخص کا انتقال ہوتا ہے۔ آپ اپنے قاعدے کے مطابق اس کے فوت شدہ باپ کا حصّہ نکالنے پر مجبور ہیں اور وہ کُل میراث کا ۶۔۱ وصول کر لیتا ہے۔ پھر اس حصّے کو آپ اس کے نسبی رشتہ داروں میں تقسیم کرتے ہیں یعنی اس کے وہ سب بیٹے بیٹیاں جو اس کی دونوں بیویوں کے بطن سے پیدا ہوئے تھے اور اس کے وہ پوتے اور پوتیاں اور نواسے نواسیاں بھی جن کے ماں باپ اس کی زندگی میں مر چکے تھے۔ اس طرح میت کی اولاد کے ساتھ اس کے سگے اور سوتیلے بھائی بہن ہی نہیں بلکہ بھتیجے اور بھانجے تک بھی ترکے میں حصّہ دار بن جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ صریح احکامِ قرآن کے خلاف ہے۔ قرآن کی رُو سے جس شخص کی اولاد موجود ہو اس کے سگے اور سوتیلے بھائیوں کو میراث کا کوئی حصّہ نہیں پہنچتا اور نہ اس کے مرے ہوئے بھائی بہنوں کی اولاد کوئی حصّہ پانے کی حق دار ہے، مگر آپ نے اس کے فوت شدہ باپ کو حصّہ دار قرار دے کر اس کی زندہ اولاد کی حق تلفی کر دی۔
یہ صرف ایک مثال ہے۔ ایسی اور بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں جن سے معلوم ہو گا کہ مرے ہوئے باپ، ماں، دادا، دادی، نانی وغیرہ کو جو سب ’’نسبی رشتہ دار‘‘ کی تعریف میں آتے ہیں۔ قانونی طور پر زندہ وارثوں کی طرح میراث کا حق دار قرار دینے اور پھر ان کے نسبی رشتہ داروں میں یہ حصّہ تقسیم کرنے سے کیا پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔
اس مختصر بحث سے میں صرف یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ علمائے اسلام کے متفق علیہ قانونِ میراث میں آج جو ترمیمات تجویز کی جا رہی ہیں ان کی علمی و عقلی حیثیت کیا ہے۔ باقی رہا یہ سوال کہ یتیم بچوں کے معاملے میں پیچیدگی پیدا ہونے کا اصل سبب کیا ہے اور اس کا حل کیسے ہو، تو اس کا جواب بھی کچھ ایسا مشکل نہیں ہے۔ اہلِ علم کے مشورے سے ایسی صورتیں تلاش کی جا سکتی ہیں جن کی اصولِ شریعت کے اندر گنجائش بھی ہے اور جن سے یہ مسئلہ بھی مجوزہ ترمیمات کی بہ نسبت زیادہ بہتر طریقے سے حل ہو سکتا ہے۔
————
دوسرا خط
’’نوائے وقت‘‘ میں یتیم پوتے کی وراثت کے متعلق میرے سابق مضمون کی اشاعت کے بعد تونسہ شریف سے ایک صاحب نے مجھے مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم کے ایک خط کا تراشا بھیجا ہے اور خواہش ظاہر کی ہے کہ میں اس پر اظہار رائے کروں۔نیز اس سلسلے میں کچھ سوالات بھی کیے ہیں۔ میں ان کا خط اور اس کے جواب میں ان کو جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ آپ کے پاس بغرض اشاعت بھیج رہا ہوں۔ کیونکہ اس میں ان بیشتر قابلِ لحاظ اعتراضات کا جواب آ گیا ہے جو میرے مضمون کی اشاعت کے بعد نوائے وقت میں بعض اصحاب نے اٹھائے ہیں۔
صرف ایک دو باتیں وضاحت طلب باقی رہ جاتی ہیں جو آپ کے ہاں شائع شدہ مراسلات میں کہی گئی ہیں۔ ایک صاحب نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ میں نے پہلے تو کبھی یہ لکھا تھا کہ قرآن و حدیث میں یتیم پوتے کی محرومی کے متعلق کوئی صریح حکم موجود نہیں ہے اور اب اسے قرآن و حدیث سے ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ لیکن میں گزارش کروں گا کہ انھوں نے میرا مدعا سمجھنے کی کوشش نہیں فرمائی۔ میرا مطلب صرف یہ تھا کہ قرآن و حدیث میں صراحتہً تو کہیں یہ حکم نہیں دیا گیا ہے کہ بیٹوں کی موجودگی میں پوتوں کو وراثت نہ دی جائے (اور اسی طرح قرآن و حدیث میں کوئی صریح حکم یہ بھی نہیں ہے کہ پوتوں کو وراثت ضرور دی جائے) لیکن تقسیم میراث کی اس اسکیم پر اگر غور کیا جائے جو کتاب و سنّت میں بیان ہوئی ہے تو نتیجہ یہی مستنبط ہوتا ہے کہ ایسی صورت میں پوتوں کو وراثت نہ دی جائے اور یہ استنباط تمام علمائے امت کا متفق علیہ ہے۔ ایک تازہ خط میں خلافت کے قریش تک محدود ہونے پر فقہائے سلف کے اجماع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ اس اجماع سے بعد کے علما نے اختلاف کیا ہے۔ اس لیے پوتے کی وراثت کے معاملے میں بھی اجماع کی خلاف ورزی کی جا سکتی ہے۔ مگر اس معاملے کی اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ اجماع جن ارشاداتِ نبویؐ پر مبنی تھا انھی ارشادات میں یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ قریش میں خلافت اس وقت تک رہے گی جب تک کہ وہ ’’دین کو قائم کرتے رہیں‘‘ اسی بات کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی سقیفہ بنی ساعدہ میں واضح کر دیا تھا کہ ’’یہ حکومت قریش میں رہے گی جب تک وہ اللہ کی اطاعت کرتے رہیں اور اس کے حکم پر ٹھیک ٹھیک چلتے رہیں۔‘‘ پس بعد کے ادوار میں غیر قریش کی خلافت کے جواز کا فتویٰ اجماعِ سلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہیں دیا گیا بلکہ ان اوصاف کے فقدان کی وجہ سے دیا گیا ہے جو قریش میں خلافت کے رہنے کے لیے شرط کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس لیے اس معاملے میں یہ استدلال صحیح نہیں ہے کہ بعد کے علما نے سابق اجماع کو توڑ دیا۔ اس سلسلے میں یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ کسی اجماع کا ماخذ اگر قرآن و سنّت میں سرے سے موجود ہی نہ ہو تب تو اس پر نظرثانی ہو سکتی ہے لیکن اگر اس کا ماخذ قرآن و سنّت میں ہو تو پھر اس پر نظرثانی خود قرآن و سنّت کے دلائل کی بنیاد پر ہی ممکن ہے جیسا کہ اوپر میں نے قریش کے استحقاقِ خلافت کے معاملے میں واضح کیا ہے۔
اب میں تونسہ شریف سے آمدہ خط کا ضروری حصّہ اور اس کا جواب ذیل میں نقل کرتا ہوں۔
(۱) وراثت کے متعلق مولانا آزاد مرحوم کے خط سے جس نئے نظریۂ فکر کی نشان دہی ہوتی ہے کیا آپ اس پر کچھ روشنی ڈال سکیں گے۔؟
(۲) اس عبارت سے تو یہ مطلب پایا جاتا ہے کہ لڑکا باپ کے گھر پیدا ہونے سے مالکِ ورثہ قرار پایا البتہ قابض ترکہ باپ کے مرنے کے بعد ہو گا (اس لیے لڑکے کے مرنے سے پوتا دادا کی جائداد سے محجوب الارث نہیں)
(۳) اگر یہ نظریہ غلط ہے تو باپ کے خبطی یا اوباش ہو جانے کی صورت میں لڑکا اپنی جدّی جائداد کا تحفظ یا (کورٹ آف وارڈ) کرانے کا حق کس طرح رکھتا ہے؟‘‘
مصنف کا جواب
(۱) مولانا آزاد مرحوم کے مطبوعہ مکتوب سے کس نئے نظریۂ فکر کی نشان دہی نہیں ہوتی۔ ان کے خط میں پہلے تو یتیم پوتے کے محجوب الارث ہونے کے حق میں فقہا کی ایک دلیل نقل کی گئی ہے اور پھر اس دلیل کا ردّ کیے بغیر محض یہ فرمایا گیا ہے کہ ’’فقہا کی نظر صرف ایک علّت کی طرف گئی ہے اور تمام علل و اصول جو اس باب میں ثابت و معلوم ہیں نظرانداز کر دیئے گئے ہیں۔‘‘ لیکن وہ تمام، علل و اصول جو مولانا کے نزدیک ’’ثابت و معلوم‘‘ تھے ان کی کچھ تفصیل انھوں نے بیان نہیں فرمائی۔ اس لیے نہ تو یہی معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ علل و اصول کیا تھے جنھیں نظرانداز کر دیا گیا ہے اور نہ یہی پتہ چل سکتا ہے کہ وہ علل و اصول فی الواقع ثابت و معلوم ہیں بھی یا نہیں۔
(۲) آپ نے مولاناؒ کے مکتوب کی کس عبارت سے یہ مطلب اخذ کیا ہے کہ لڑکا باپ کے گھر پیدا ہونے سے مالک ورثہ قرار پاتا ہے۔ البتہ قابض ترکہ باپ کے مرنے کے بعد ہو گا؟‘‘ اس مطلب کا تو کوئی اشارہ تک مجھے اس خط میں نظر نہیں آیا۔ درحقیقت یہ خیال قرآن کے بالکل خلاف ہے جیسا کہ میں اپنے اس مضمون میں بیان کر چکا ہوں جو نوائے وقت میں آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے۔ قرآن کی رُو سے کوئی حق وراثت مورث کی زندگی میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ مورث کی موت کے ساتھ یہ حق صرف ان رشتہ داروں کے لیے ثابت ہوتا ہے جو اس وقت زندہ موجود ہوں۔ آپ جس نظریے کا ذکر کررہے ہیں وہ تو دراصل اس ہندوانہ رواجی قانون میں پایا جاتا ہے جو مدتوں تک یہاں مسلمانوں میں بھی رائج رہا ہے۔ ہندوئوں کے ہاں تصوّر یہ ہے کہ موروثی جائداد دراصل خاندان یا پوری نسل کی مشترک ملکیت ہے۔ خاندان کے افراد یکے بعد دیگرے جائداد کے محدود مالک بنتے ہیں اور ان کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ جائداد کو بجنسہٖ ایک سے دوسرے کی جانب منتقل کرتے چلے جائیں۔ ان کے ہاں گویا تمام موجود اور آیندہ نسل بیک وقت شریک ورثہ ہے۔ اسی اصول کے تحت رواجی قانون میں لڑکوں کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ اگر ان کا باپ جدّی جائداد کو تلف کرنے یا کسی اجنبی کی جانب منتقل کرنے کی کوشش کرے تو وہ ’’وارثانِ باز گشت‘‘ کی حیثیت سے استقرار حق کا دعویٰ دائر کرکے باپ کے خلاف حکم امتناعی حاصل کر سکتے ہیں۔ اسلام میں نہ تو موروثی اور غیر موروثی جائداد کے درمیان کوئی امتیاز قائم کیا گیا ہے اور نہ مالک کے اختیارات مشروط و محدود ہی رکھے گئے ہیں۔ ازروئے اسلام ایک مالک اپنی زندگی میں اپنی جائداد کا مالک ِکامل ہے خواہ اس نے وہ جائداد خود پیدا کی ہو یا آبائو اجداد سے وراثت میں لی ہو اور وہ حینِ حیات اس میں بیع، ہبہ، وصیت، وقف، ہر طرح کے تصرف کے جملہ اختیارات رکھتا ہے۔
(۳) بے شک اسلامی قانون میں اس کی گنجائش موجود ہے کہ صاحب ِجائداد کے فاتر العقل یا سفِیہ ہونے کی صورت میں قاضی جائداد کو اپنی تحویل میں لے لے۔ لیکن اس معاملے میں بھی نہ تو جدّی جائداد کی کوئی تمیز روا رکھی گئی ہے اور نہ یہی ضروری قرار دیا گیا ہے کہ صاحب جائداد کی اولاد یا کوئی دوسرا متوقع وارث ہی عدالت میں استغاثہ دائر کرے۔ بلکہ اس معاملے سے تعلق رکھنے والا ہر شخص عدالت کو متوجہ کر سکتا ہے۔ قانونِ اسلامی میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہو کہ کوئی شخص وراثت میں حقدار ہونے کی وجہ سے زندہ مالک ِ جائداد کے خلاف شکایت کا خصوصی استحقاق رکھتا ہے۔ اسلامی قانون کی اس شق کا مقصد کسی وارث کے ورثے کو محفوظ کرنا نہیں بلکہ اسراف و تبذیر اور ضیاع اموال کو روکنا ہے اور اس کا ماخذ آیت لَا تُؤْتُو السُّفَہَآئَ اَمْوَالَکُمْ ہے۔ اس قانون کی رو سے ایسے مالک کے تصرفات پر بھی پابندی عائد کی جا سکتی ہے جس کا سرے سے کوئی متوقع وارث موجود ہی نہ ہو۔
جو لوگ پوتے کی وراثت کے معاملے میں بہت زیادہ مضطرب ہیں انھیں چاہیے کہ وہ آخر کوئی اصول تو متعیّن کریں جس کی بنا پر بیٹوں کی موجودگی میں پوتے کو وراثت دی جا سکے۔ اگر یہ کہا جائے کہ پوتا اولاد ہونے کی حیثیت سے بجائے خود میراث کا حق رکھتا ہے اور وہ اپنے دادا کی اسی معنی میں اولاد ہے جس معنی میں بیٹا باپ کی اولاد ہے تو پھر جس پوتے کا باپ زندہ ہو اسے بھی اپنے باپ سمیت اپنے دادا کے تمام بیٹوں کے ساتھ برابر حق وراثت میں شریک ہونا چاہیے مثلاً اگر ایک شخص کے چار بیٹے ہیں اور آٹھ پوتے ہیں تو وراثت چار کے بجائے بارہ برابر حصّوں میں تقسیم ہونی چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہے اور کوئی اس کا قائل نہیں ہے تو پھر محض یُوْمِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْ اَوْلاَدِکُمْ والی آیت کو پوتے کے حق وراثت میں پیش کرنا یا عربی اشعار کی مدد سے پوتے کو بمنزلہ اولاد قرار دے کر اسے دادا کا وارث بنانا کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟ اگر یہ کہا جائے کہ پوتا اپنے باپ کی زندگی میں نہیں بلکہ اپنے باپ کے مرنے کی صورت میں چچائوں کے ساتھ دادا کی وراثت کا حق دار ہوتا ہے۔ تو اوّل تو قرآن میں اس کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں ہے لیکن تھوڑی دیر کے لیے دلیل کے سوال کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تب بھی ولدیت کی بنا پر زندہ بیٹوں کے ساتھ یتیم پوتے کو حق دار قرار دینے کے معنی یہ ہیں کہ اسے بیٹوں کے ساتھ مساوی حصّہ ملے۔ مثلاً ایک شخص کے اگر تین بیٹے زندہ ہیں اور ایک بیٹا چار لڑکے چھوڑ کر مرا ہے تو اس شخص کی جائداد سات برابر حصّوں میں تقسیم ہونی چاہیے۔ لیکن اگر اس بات کا بھی کوئی قائل نہیں ہے تو پھر پوتے کی وراثت لا محالہ اس بنیاد پر ہو گی کہ اس کا وفات یافتہ باپ اپنے باپ کی زندگی میں ورثے کا حق دار ہو چکا تھا اور اب یہ یتیم پوتا اپنے دادا کی نہیں بلکہ اپنے باپ کی میراث پا رہا ہے۔ اب اگر یہ اصول مان لیا جائے کہ باپ کی زندگی میں مر جانے والے لڑکے کا حق باقی رہتا ہے تو پھر یہ صرف صاحب ِاولاد لڑکے کی حد تک محدود نہیں رہ سکتا بلکہ جو بیٹے لاولد مر گئے ہوں یا کمسنی اور شیر خوارگی کی حالت میں مر گئے ہوں ان کا حق بھی باقی رہنا چاہیے اور ان کے شرعی وارثوں (مثلاً ان کی بیوی، ماں، یا ماں کی عدم موجودگی میں بہن بھائیوں) کو لازماً ملنا چاہیے ۱؎ صرف صاحب ِاولاد لڑکے کی اولاد تک اس قاعدے کو محدود رکھنے کے لیے کوئی شرعی یا عقلی دلیل پیش نہیں کی جا سکتی۔ بعض لوگ مرے ہوئے بیٹے کی محض اولاد تک ورثے کو محدود رکھنے کے لیے نسبی و غیر نسبی یا خونی و غیر خونی رشتہ داروں کی تمیز قائم کرتے ہیں حالانکہ اوّل تو اس تمیز کی بنا پر بعض حق داروں کو محروم کرنا خلافِ قرآن اور خالص ہندوانہ ذہنیت ہے۔ اور دوسرے یہ بات قطعی ناقابلِ فہم بلکہ لغو ہے کہ نسبی رشتہ داروں کی صف میں صرف اولاد کو شامل کیا جائے اور والدہ اور بھائی بہنوں کو خارج کر دیا جائے۔
(ترجمان القرآن۔ جنوری ۱۹۵۹ء)
٭…٭…٭…٭…٭

شیئر کریں