دوسری راہوں میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کہاں تک پہنچے‘ زاد راہ کیا ہے اور منزل کتنی باقی ہے۔ کامیابی کے امکانات کا حساب ہوتا ہے۔ لیکن ہماری کامیابی کا معیار یہ ہے کہ حسن نیت اور اخلاص کس قدر تھا۔ یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ کتنے قدم چلے۔ پہلے قدم پر موت آگئی تب بھی کامرانی ہے‘ اور منزل تک پہنچ گئے تو پھر کہنا ہی کیا ہے۔ ایمان خالص اس سفر میں زاد راہ ہے‘ اور عزم صادق راحلہ ہے۔ جو اپنی جانیں اللہ کی نذر کر چکے وہ کامیاب ہو چکے‘ جو باقی ہیں وہ جس دن نذر گذران دیں گے‘ کامیاب ہو جائیں گے۔ رجال صدقوا ما عاھدوا واللہ علیہ فمنھم من قضیٰ نحیہ و منھم من ینتظر و ما بدلوا تبدیداً ۔ (الاحزاب: ۲۳)
کامیابی و ناکامی کا حساب نہ لگائیے۔ مجھے فیصد کے لفظ سے سخت نفرت ہے‘ یہ کام بہرحال ہمیں کرنا ہے‘ حالات نامساعد ہیں تو ہوا کریں‘ دنیا میں کب حق کا خیر مقدم کیا گیا ہے؟ کب ایسا ہوا کہ اہل حق چلے ہوں اور چوبداروں نے ان کے آگے ’’ہٹو بچو‘‘ کی صدائیں بلند کی ہوں۔ حق کی راہ میں طائف اور غار ثور‘ خندق اور احزاب کا ہونا ضروری ہے۔ حق کی خاطر رسولؐ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے‘ دندان مبارک شہید کیے گئے‘ سر پر اوجھ ڈالی گئی‘ ہر طرح کی اذیت پہنچائی گئی۔ بدقسمت ہیں ہمارے وجود اگر ہماری ایک ہڈی بھی نہ ٹوٹے۔ حق پرستی کی راہ میں کب مشکلات حائل نہ تھیں‘ تاریخ کا جو ورق حق کے لیے مشکلات سے خالی ہوا‘ اسے اٹھا کر لائیے۔ میں اس کو چوم لوں۔
مشکلات تو اس راہ میں اعوان و انصار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ خوب سمجھ لیجئے کہ یہاں ناکامیابی کا وجود ہی نہیں‘ نہ صرف یہ کہ ایک قدم بھی اٹھ جائے تو کامیابی ہے بلکہ جس راستے پر آپ گامزن ہیں اگر اس سے آپ پیچھے ہٹ جائیں جب بھی کامیابی ہے بشرطیکہ آپ خود پیچھے نہ بھاگے ہوں۔ اہل حق نے شکستیں بھی کھائی ہیں لیکن ان شکستوں پر ہزار فتح مندیاں قربان۔ یہ کس قدر مضحکہ انگیز بات ہے کہ شیطان سے پورا تعاون کیا جائے اور پھر ربنا ثبت اقدامنا کی دعا مانگی جائے۔اس دعا کے اثرات کو تو وہ قلب مومن ہی جان سکتا ہے جس کے سر پر حق کی راہ میں اوجھ ڈالی گئی‘ جس کے دندان مبارک زخمی ہوئے۔ طائف کی پتھریلی زمین میں جس کے پائوں لہولہان ہوئے۔ جب یہ کہتا ہے ربنا ثبت اقدامنا تب زمین سے آسمان تک لرزہ پڑ جاتا ہے‘ خدا نے اپنی کتاب میں کوئی بے معنی بات نہیں فرمائی ہے۔ سوچئے تو سہی اگر کوئی آدمی حق کو پیٹھ دکھا دے‘ اور پھر دا کرے کہ اے پروردگار! مجھے ثابت رکھ‘ تو اس کی یہ دعا کتنی بے معنی ہوگی‘ بہرحال ہماری پکار اسی راستہ کے لیے ہے‘ بدگمانیوں کا ہمارے پاس کوئی مداوا نہیں ہے۔ لیکن خوب سن لیجئے کہ اللہ کے پیغام کے علاوہ ہمارا کوئی پیغام نہیں۔ رسولؐ کی سنت کے سوا ہمارے لیے کوئی سنت نہیں۔ کتاب موجود ہے‘ غلطی دیکھیں‘ ٹوک دیجئے۔ صاف الفاظ میں کہہ دو‘ کافر ہو جو انکار کرے۔ ہم پر ہر شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کی تعلیم سے حجت قائم کرسکتا ہے۔ باقی سارے قبل وقال کو ہم نے تج دیا ہے۔ ہم اپنا راستہ اپنی دونوں آنکھو ں سے دیکھ رہے ہیں‘ آپ اگر چلنے کے لیے راضی ہیں تو آپ کے لیے مبارک ہے‘ کیونکہ یہ آپ کا فرض ہے‘ ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں‘ درخواست نہیں کرتے۔ یہ ہماری دلی تمنا ہے‘ اور یہ بڑی سے بڑی چیز ہے جو ہم چاہ سکتے ہیں۔
ہم اسلام کے راستے میں خود بڑا حجاب بن گئے ہیں‘ وہ قوم اسلام کی وارث بنی ہے جو حق کو خود ذبح کرتی ہے‘ دوسروں کو جھٹکا نہیں کرنے دیتی۔ حالانکہ آپ کا تعلق کسی قوم سے نہیں ہے جو کلمہ کا دوست ہے‘ آپ کا دوست ہے‘ جو حق کا باغی ہے‘ آ پ کا باغی ہے۔ آپ کا تعلق اللہ کے دین ہی سے ہے۔ جس دن دنیا پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ آپ خدا کے دین کی سربلندی کے سوا اور کچھ نہیں چاہتے۔ آپ دیکھیں گے کہ آپ کے لیے دنیا بالکل بدل گئی ہے۔ آپ کے لیے پتھروں کے دل موم ہو جائیں گے اور بہرے کانوں میں بھی سماعت حق کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی۔ حق کے ساتھ فطرت انسانی کو ازلی محبت ہے‘ بشرطیکہ حق اس کے سامنے بے حجاب ہو کر آئے۔