Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

دیباچہ
مقدمہ طبع اوّل
تعارف مقصد
تحریک اِسلامی کا تنزل
ضمیمہ
نسلی مسلمانوں کے لیے دوراہیں عمل‘ خواہ انفرادی ہویااجتماعی‘ بہرحال اس کی صحت کے لیے دو چیزیں شرط لازم ہیں:
اقلیت واکثریت
شکایات ناظرین’’ترجمان القرآن‘‘میں سے ایک صاحب لکھتے ہیں:
راہ رَوپِشت بمنزل
اسلام کی دعوت اور مسلمان کا نصب العین
اصلی مسلمانوں کے لیے ایک ہی راہِ عمل
اسلام کی راہِ راست اور اس سے انحراف کی راہیں
۱۔اسلامی نصب العین
۲- اس نصب العین تک پہنچنے کا سیدھا راستہ
۳-مشکلات
۴-انحراف کی راہیں
۵- منحرف راستوں کی غلطی
پاکستانی خیال کے لوگ
۶-مشکلات کا جائزہ
اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے؟
استدراک
ایک صالح جماعت کی ضرورت
مطالبۂ پاکستان کو یہود کے مطالبہ ’’قومی وطن‘‘ سے تشبیہ دینا غلط ہے
مسلم لیگ سے اختلاف کی نوعیت
وقت کے سیاسی مسائل میں جماعت ِاسلامی کا مسلک
نظام کفر کی قانون ساز مجلس میں مسلمانوں کی شرکت کا مسئلہ
مجالس قانون ساز کی رکنیت شرعی نقطۂ نظر سے
پُر امن اِنقلاب کا راستہ
۱۹۴۶ء کے انتخابات اور جماعت ِاسلامی
جواب
تقسیم سے قبل ہندستان کے مسلمانوں کو آخری مشورہ (یہ وہ تقریر ہے‘ جو ۲۶اپریل ۱۹۴۷ء کو جماعت ِاسلامی کے اجلاس منعقدہ مدراس میں کی گئی تھی)
صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں جماعت ِاسلامی کا مسلک
تقسیم ہند‘ حالات پر تبصرہ
تقسیم کے وقت مسلمانوں کی حالت کا جائزہ
تقسیم کے بعد سامنے آنے والے مسائل
کیا پاکستان کو ایک مذہبی ریاست ہونا چاہئے؟
پاکستان میں اسلامی قانون کیوں نہیں نافذ ہوسکتا؟
اسلامی نظامِ زندگی کا مآخذ
پاکستان میں اسلامی قانون کس طرح نافذ ہوسکتا ہے؟
مطالبہ نظام اسلامی

تحریک آزادی ہند اور مسلمان (حصہ دوم)

اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

پاکستان میں اسلامی قانون کس طرح نافذ ہوسکتا ہے؟

(یہ تقریر۱۹؍ فروری۱۹۴۸ء کو لاء کالج لاہور میں کی گئی تھی)
اس سے پہلے میں آپ کے سامنے ایک تقریر اس موضوع پر کر چکا ہوں کہ اسلامی قانون کی حقیقت کیا ہے‘ اس کی روح اور اس کا مقصد کیا ہے‘ اس کے بنیادی اصول کیا ہیں‘ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا اس کے ساتھ تعلق کیا ہے‘ اور ہم کیوں اپنے ملک میں اسے نافذ کرنے کے پابند ہیں‘ اور وہ شبہات کیا وزن رکھتے ہیں‘ جو اس کے بارے میں عام طور پر پیش کیے جاتے ہیں‘ میری وہ تقریر محض ایک تعارفی تقریر تھی۔ اب میں ذرا تفصیل کے ساتھ اس مسئلے پر بحث کرنا چاہتا ہوں‘ کہ اگر اب ہم اس ملک میں اسلامی قانون کو از سرِنو جاری کرنا چاہتے ہیں‘ تو ہمیں اس کے لیے کیا تدبیریں کرنی ہوں گی۔
فوری انقلاب نہ ممکن ہے نہ مطلوب
اس سلسلہ میں سب سے پہلے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اس غلط فہمی کو دور کر دوں جو اسلامی قانون کے اجراء کے متعلق کثرت سے لوگوں کے ذہن میں پائی جاتی ہے۔ لوگ جب سُنتے ہیں‘ کہ ہم یہاں اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں‘ اور اس حکومت میں ملک کا قانون اسلامی قانون ہوگا‘ تو انہیں یہ گمان ہوتا ہے‘ کہ شاید نظامِ حکومت کے تغیّر کا اعلان ہوتے ہی تمام پچھلے قوانین یک لخت منسوخ ہوجائیں گے‘ اور اسلامی قانون بیک وقت نافذ کر دیا جائے گا۔ یہ غلط فہمی صرف عام لوگوں ہی میں نہیں پائی جاتی‘ بلکہ اچھے خاصے مذہبی طبقے بھی اس میں مبتلا ہیں۔ ان کے نزدیک ایسا ہونا چاہیے کہ اِدھر اسلامی حکومت قائم ہو‘ اور اُدھر فوراً ہی غیراسلامی قوانین کا نفاذ بند اور اسلامی قانون کا نفاذ شروع ہوجائے۔ درحقیقت یہ لوگ اس بات کو بالکل نہیں سمجھتے‘ کہ ایک ملک کا قانون اس کے اخلاقی‘ معاشرتی‘ معاشی اور سیاسی نظام کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔ انہیں معلوم نہیں ہے‘ کہ جب تک کسی ملک کا نظامِ زندگی اپنے سارے شعبوں کے ساتھ نہ بدلے اس کے قانونی نظام کا بدل جانا ممکن نہیں ہے۔ انہیں‘ اس کا بھی اندازہ نہیں ہے‘ کہ پچھلے سو ڈیڑھ سو برس سے ہم پر جو انگریزی اقتدار مسلّط رہا ہے اس نے کس طرح ہماری زندگی کے پورے نظام کو اسلامی اصولوں سے ہٹا کر غیراسلامی پر چلادیا ہے‘ اور اب اسے پھر بدل کر دوسری بنیادوں پر قائم کرنا کتنی محنت کتنی کوشش اور کتنا وقت چاہتا ہے۔ یہ لوگ عملی مسائل میں بصیرت نہیں رکھتے‘ اس لیے اجتماعی نظام کی تبدیلی کو ایک کھیل سمجھتے ہیں‘ اور ہتھیلی پر سرسوں جمانے کا خواب دیکھتے ہیں۔ پھر ان کی یہی باتیں ان لوگوںکو جو اسلامی نظام سے فرار کی راہیں ڈھونڈ رہے ہیں‘ یہ موقع دے دیتی ہیں‘ کہ وہ اس تخیل کا مذاق اڑائیں اور اس کے حامیوں کا استخفاف کریں۔
تدریج کا اصول
اگر ہم فی الواقع اپنے اس تخیل کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں‘ تو ہمیں فطرت کے اس اٹل قاعدے سے غافل نہ ہوناچاہئے‘ کہ اجتماعی زندگی میں جتنے تغیّرات بھی ہوتے ہیں‘ بتدریج ہی ہوا کرتے ہیں۔ انقلاب جتنا اچانک اور جس قدر یک رخا ہوگا اتنا ہی وہ ناپائدار ہوگا‘ ایک مستحکم اور پائندہ انقلاب کے لیے یہ بالکل ضروری ہے‘ کہ وہ زندگی کی ہر جہت اور ہر پہلو میں پورے توازن کے ساتھ کار فرما ہو‘تاکہ اس کا ہر گوشہ دوسرے گوشہ کو سہارا دے سکے۔
عہد نبوی کی مثال
اس کی بہترین مثال خود وہ انقلاب ہے‘ جو نبی a نے عرب میں برپا کیا تھا۔ جو شخص حضورa کے کارنامے سے تھوڑی سی واقفیت بھی رکھتا ہے وہ بھی جانتا ہے‘ کہ آپؐ نے پورا اسلامی قانون اس کے سارے شعبوں کے ساتھ بیک وقت نافذ نہیں کر دیا تھا‘ بلکہ معاشرے کو بتدریج اس کے لیے تیار کیا تھا‘ اور اس تیاری کے ساتھ آہستہ آہستہ سابق جاہلیت کے طریقوں اور قاعدوں کو بدل کر نئے اسلامی طریقے اور قاعدے جاری کیے تھے۔آپؐ نے سب سے پہلے اسلام کے بنیادی تصوّرات اور اخلاقی اصول لوگوں کے سامنے پیش کیے۔ پھر جو لوگ اس دعوت کو قبول کرتے گئے‘ انہیں آپؐ تربیت دے کر ایک ایسا مصلح گروہ تیار کرتے چلے گئے جس کا ذہن اور زاویہ نظر اور طرزِعمل خالص اسلامی تھا۔ جب یہ کام ایک خاص حد پایہ تکمیل کو پہنچ گیا‘ تو آپؐ نے دوسرا قدم اُٹھایا اور وہ یہ تھا‘ کہ مدینے میں ایک ایسی حکومت قائم کر دی‘ جو خالص اسلامی نظر یہ پر مبنی تھی‘ اور جس کا مقصد ہی یہ تھا‘ کہ ملک کی زندگی کو اسلام کے نقشے پر ڈھال دے۔ اس طرح سیاسی طاقت اور ملکی ذرائع کو ہاتھ میں لے کر نبیaنے وسیع پیمانے پر اصلاح وتعمیر کا وہ کام شروع کیا‘ جس کے لیے آپؐ پہلے صرف دعوت وتبلیغ کے ذریعہ سے کوشش فرما رہے تھے۔ آپ ؐ نے ایک مرتّب اور منظم طریقے سے لوگوں کے اخلاق‘ معاشرت‘ تمدّن اور معیشت کو بدلنے کی جدوجہد کی۔ تعلیم کا ایک نیا نظام قائم کیا جو اس زمانے کے حالات کے لحاظ سے زیادہ تر زبانی تلقین کے طریقے پر تھا۔ جاہلیت کے خیالات کی جگہ اسلامی طرز فکر کی اشاعت کی۔ پرانی رسموں اور طور طریقوں کی جگہ نئے اصلاح یافتہ رواج اور آداب واطوار جاری کیے اور اس ہمہ گیر اصلاح کے ذریعہ سے جوں جوں زندگی کے مختلف گوشوں میں انقلاب رونما ہوتا گیا‘ آپؐ اسی کے مطابق پورے توازن اور تناسب کے ساتھ اسلامی قانون کے احکام جاری کرتے چلے گئے‘ یہاں تک کہ ۹ سال کے اندر ایک طرف اسلامی زندگی کی تعمیر مکمل ہوئی اور دوسری طرف پورا اسلامی قانون ملک میں نافذ ہوگیا۔
قرآن اور حدیث کے غائر مطالعے سے ہمیں واضح طور پر یہ معلوم ہوجاتا ہے‘ کہ آپ ؐ نے یہ کام کس ترتیب وتدریج کے ساتھ کیا تھا۔ وراثت کا قانون ۳ ہجری میں جاری کیا گیا۔ نکاح وطلاق کے قوانین رفتہ رفتہ ۷ ہجری میں مکمل ہوئے۔ فوجداری قوانین کئی سال تک ایک ایک دفعہ کر کے نافذ کیے جاتے رہے‘ یہاں تک کہ ۵ ہجری میں ان کی تکمیل ہوئی۔ شراب کی بندش کے لیے بتدریج فضا تیار کی گئی اور ۵ ہجری میں اس کا قطعی انسداد کر دیا گیا۔ سود کی برائی اگر چہ مکہ ہی میں صاف صاف بیان کی جاچکی تھی‘ مگر اسلامی حکومت قائم ہوتے ہی اسے یک لخت بند نہیں کر دیا گیا‘ بلکہ ملک کے پورے معاشی نظام کو بدل کر جب نئے سانچوں میں ڈھال لیا گیا‘ تب کہیں ۹؍ہجری میں سُود کی قطعی حرمت کا قانون جاری کیا گیا۔ یہ کام بالکل ایک معمار کا سا کام تھا‘ جس نے اپنے پیشِ نظر نقشے کی عمارت بنانے کے لیے کاری گر اور مزدور جمع کیے ذرائع ووسائل مہیا کیے زمین ہموار کی بنیادیں کھو دیں‘ پھر ایک ایک اینٹ رکھ کر ہر جہت سے عمارت کو اُٹھاتا ہوا اوپر تک لے گیا‘ اور چند سال کی مسلسل محنت کے بعد‘ آخر کار وہ عمارت مکمل کر دی جس کا خاکہ اس کے ذہن میں تھا۔
انگریزی دور کی مثال
قریب کے زمانہ میں خود ہمارے ملک پر جب انگریزوں کی حکومت قائم ہوئی تھی تو کیا انہوں نے یک لخت یہاں کا سارا نظام بدل ڈالا تھا؟ نہیں۔ ان کی حکومت سے پہلے چھ سات سو برس سے یہاں کا پورا نظامِ زندگی اسلامی فقہ پر چل رہا تھا۔ اس صدیوں کی جمی ہوئی عمارت کو ڈھا دینا اور مغربی اصول ونظریات کے مطابق ایک دوسرے نظام کی عمارت کھڑی کر دینا ایک دن کا کام نہ تھا۔ تاریخ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے‘ کہ انگریزی اقتدار قائم ہونے کے بعد بھی ایک مدّت تک ہندستان میں اسلامی فقہ ہی رائج رہی۔ عدالتوں میں قاضی ہی انصاف کے لیے بیٹھتے تھے‘ اور اسلام کا قانون صرف پرسنل لاء کی حد تک محدود نہ تھا‘ بلکہ وہی ملکی قانون (law of the land)بھی تھا۔ انگریزوں کو یہاں کا قانونی نظام بدلتے بدلتے ایک صدی لگ گئی۔ انہوں نے بتدریج یہاں کا نظام بدل کر اپنے مطلب کے آدمی ڈھالے‘ اپنے خیالات کی اشاعت سے ذہنیتیں بدلیں۔ اپنے اقتدار کے اثر سے لوگوں کے اخلاق بدلے‘ اپنی بالا دستی کے زور سے معاشی نظام بدلا‘ اور پھر جیسے جیسے یہ مختلف قسم کے ہمہ گیر اثرات یہاں کی اجتماعی زندگی کو بدلتے گئے اسی کے مطابق پرانے قوانین منسوخ اور نئے قوانین جاری ہوتے چلے گئے۔
تدریج ناگزیر ہے
اب اگر ہم یہاں پھر اسلامی قانون جاری کرنا چاہتے ہیں‘ تو ہمارے لیے بھی انگریزی حکومت کے صد سالہ نقوش کو کھرچ دینا اور نئے نقوش ثبت کر دینا محض ایک جنبش قلم سے ممکن نہیں ہے۔ ہمارا پرانا نظامِ تعلیم‘ زندگی اور اس کے عملی مسائل سے ایک مدّت دراز تک بے تعلق رہنے کے باعث اس قدر بے جان ہوچکا ہے‘ کہ اس کے فارغ التحصیل لوگوں میں ایک فی ہزار کے اوسط سے بھی ایسے آدمی نہیں نکل سکتے جو ایک جدید ترقی یافتہ ریاست کے جج اور مجسٹریٹ بنائے جا سکیں۔ دوسری طرف موجودہ نظامِ تعلیم نے جو آدمی تیار کیے ہیں‘ وہ اسلام اور اس کے قوانین سے بالکل بے بہرہ ہیں‘ اور ان میں ایسے افراد بھی خال خال ہی پائے جاتے ہیں‘ جن کی ذہنیت ہی کم از کم اس تعلیم کے زہریلے اثرات سے محفوظ رہ گئی ہو۔ پھر سو ڈیڑھ سو برس تک معطل رہنے کی وجہ سے ہمارا قانونی ذخیرہ بھی زمانے کی رفتار سے اچھا خاصا پیچھے رہ گیا ہے‘ اور اسے موجودہ دور کی عدالتی ضروریات کے لیے کار آمد بنانا کافی محنت چاہتا ہے۔اور سب سے بڑی بات یہ ہے‘ کہ ایک طویل مدّت تک اسلامی اثر سے آزاد اور انگریزی حکومت کے تابع رہتے رہتے‘ ہمارے اخلاق‘ تمدّن‘ معاشرت‘ معیشت اور سیاست کا نقشہ اصل اسلامی نقشے سے بہت مختلف ہوچکا ہے۔ اس حالت میں ملک کے قانونی نظام کو یک لخت بدل دینا‘ اگر ایسا کرنا ممکن بھی ہو‘نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا‘ کیونکہ اس صورت میں زندگی کا نظام اور قانونی نظام دونوں ایک دوسرے سے بیگانہ بلکہ باہم متصادم ہوں گے‘ اور ایسے قانونی تغیّر کا وہی حشر ہوگا‘ جو ایک پودے کو ایسی آب وہوا اور ایسی زمین میں لگا دینے سے ہوا کرتا ہے‘ جو اس کے مزاج سے کوئی مناسبت نہ رکھتی ہو۔ لہٰذا یہ بالکل ناگزیر ہے‘ کہ جس اصلاح وتغیّر کے ہم طالب ہیں‘ وہ تدریج کے ساتھ ہو‘ اور قانونی تبدیلیاں اخلاق‘ تعلیم‘ معاشرت‘ تمدّن‘ معیشت اور سیاست کی تبدیلیوں کے ساتھ متوازن طریقہ سے کی جائیں۔
ایک غلط بہانہ
لیکن تدریج کے اس معقول اور بجائے خود بالکل صحیح اصول کو بہانہ بنا کر جو لوگ اس بات کے حق میں استد لال کرنے کی کوشش کرتے ہیں‘ کہ سرِدست تو یہاں ایک غیر دینی… بلکہ زیادہ صحیح الفاظ میں ایک بے دین ریاست ہی قائم ہونی چاہیے‘ پھر جب اسلامی ماحول تیار ہوجائے گا‘ تو وہ اسلامی ریاست بھی قائم ہوجائے گی ‘جو اسلامی قانون جاری کر سکے‘ وہ سراسر ایک نامعقول بات کہتے ہیں‘ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ یہ ماحول تیار کون کرے گا؟ کیا ایک بے دین ریاست جس کی باگیں فرنگیت زدہ حکام اور لیڈروں کے ہاتھ میں ہوں؟ کیا وہ معمار جو صرف میخانہ وجم خانہ ہی کی تعمیر جانتے اور اسی سے دل چسپی بھی رکھتے ہیں‘ ایک مسجد تعمیر کرنے کا سامان کریں گے؟ اگر ان لوگوں کا یہی مطلب ہے‘ تو انسانی تاریخ میں یہ پہلا اور بالکل نرالا تجربہ ہوگا‘ کہ بے دینی خود دین کو پروان چڑھا کر اپنی جگہ لینے کے لیے تیار کرے گی۔ اور اگر ان کا مطلب کچھ اور ہے‘ تو وہ ذرا اس کی صاف صاف توضیح فرمائیں کہ اسلامی ماحول کی تیاری کا کام کون‘ کس طاقت اور کن ذرائع سے کریگا؟اور اس دوران میں خود بے دین ریاست اپنے ذرائع اور اقتدار کو کس چیز کی تعمیر وترقی میں صرف کرتی رہے گی؟
ابھی ابھی تدریج کا اصول ثابت کرنے کے لیے جو مثالیں میں نے پیش کی ہیں‘ انہیں اگر آپ ایک مرتّبہ پھر اپنے ذہن میں تازہ کر لیں تو آپ یہ بات اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ اسلامی نظامِ زندگی کی تعمیر ہویا غیراسلامی نظامِ زندگی کی‘ اگر چہ وہ ہوتی تو بتدریج ہی ہے‘ لیکن تدریجاً اس کی تعمیر صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہے‘ جب کہ ایک معمار طاقت‘ اپنے سامنے ایک مقصد اور ایک نقشہ رکھ کرمسلسل اس کے لیے کام کرے۔ صدرِ اوّل میں جو اسلامی انقلاب ہوا تھا اسی طرح ہوا تھا‘ کہ نبی a نے برسوں اس کے لیے موزوں آدمی تیار کیے‘ تعلیم وتبلیغ کے ذریعہ سے لوگوں کے خیالات بدلے‘ حکومت کے پورے نظم ونسق کو معاشرے کی اصلاح اور ایک نئے تمدّن کی تخلیق کے لیے استعمال کیا‘ اور اس طرح وہ ماحول بنا‘ جس میں اسلامی قانون جاری ہوسکا۔ ماضی قریب میں انگریزوں نے ہندستان کے نظامِ زندگی میں جو تغیّرات کیے وہ بھی تو اسی طرح ہوئے کہ زمامِ کار ایسے لوگوں کے ہاتھ میں تھی جو اس تغیّر کے خواہش مند تھے‘ اور اس کے لیے کام کرنا جانتے تھے۔ انہوں نے ایک مقصد اور ایک نقشے کو نگاہ میں رکھ کر پیہم اس تغیّر کے لیے کوشش کی‘ اور آخر کار یہاں کے پورے نظامِ زندگی کو اس سانچے میں ڈھال کر ہی چھوڑا‘ جو ان کے اصول وقوانین سے مناسبت رکھتا تھا۔ پھر کیا اب ہماری پیشِ نظر تعمیر اس معمار طاقت کے بغیر ہوجائے گی؟ یا ایسے معماروں کے ہاتھوں ہوسکے گی ‘جو اس نقشے پر تعمیر کا کام نہ جانتے ہوں ‘اور نہ چاہتے ہوں؟

صحیح ترتیب ِکار
میں سمجھتا ہوں ‘اور مجھے اُمید ہے‘ کہ ہر معقول آدمی اس معاملہ میں مجھ سے اتفاق کرے گا‘ کہ جب پاکستان اسلام کے نام سے اور اسلام کے لیے مانگا گیا ہے‘ اور اسی بنا پر ہماری یہ مستقل ریاست قائم ہوئی ہے‘ تو ہماری اس ریاست ہی کو وہ معمار طاقت بننا چاہئے‘ جو اسلامی زندگی کی تعمیر کرے۔ اور جب کہ یہ ریاست ہماری اپنی ریاست ہے‘ اور ہم اپنے تمام قومی ذرائع ووسائل اس کے سپرد کر رہے ہیں‘ تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس تعمیر کے لیے کہیں اور سے معمار فراہم کریں۔
پہلا قدم
یہ بات اگر صحیح ہے‘ تو پھر اس تعمیر کی راہ میں پہلا قدم یہ ہونا چاہئے‘ کہ ہم اپنی اس ریاست کو‘ جو ابھی تک انگریز کی چھوڑ ی ہوئی کا فرانہ بنیادوں پر قائم ہے‘ مسلمان بنائیں۔ اور اسے مسلمان بنانے کی آئینی صورت یہ ہے‘ کہ ہماری دستور ساز اسمبلی باقاعدہ اس امر کا اعلان کرے کہ:۔
۱- پاکستان میں حاکمیت خدا کی ہے‘ اور ریاست اس کے نائب کی حیثیت سے ملک کا انتظام کرے گی۔
۲- ریاست کا اساسی قانون‘ شریعت ِخدا وندی ہے‘ جو محمدa کے ذریعہ سے ہمیں پہنچی ہے۔
۳- تمام پچھلے قوانین جو شریعت سے متصادم ہوتے ہیں‘ بتدریج بدل دئیے جائیں گے‘ اور آئندہ کوئی ایسا قانون نہ بنایا جا سکے گا‘ جو شریعت سے متصادم ہوتا ہے۔
۴- ریاست اپنے اختیارات کے استعمال میں اسلامی حدود سے تجاوز کرنے کی مجاز نہ ہوگی۔
یہ وہ کلمۂ شہادت ہے‘ جسے اپنی آئینی زبان… یعنی دستور ساز اسمبلی… کے ذریعہ سے ادا کر کے ہماری ریاست ’’مسلمان‘‘ہو جائے گی۔

دوسرا قدم
اس اعلان کے بعد ہی صحیح طور پر ہمارے رائے دہندوں کو یہ معلوم ہوگا کہ اب انہیں کس مقصد اور کس کام کے لیے اپنے نمائندے منتخب کرنے ہیں۔ عوام میں علم ودانش کی لاکھ کمی سہی‘ مگر وہ اتنی سمجھ بوجھ ضرور رکھتے ہیں‘ کہ انہیں کس کام کے لیے کس طرف رجوع کرنا چاہئے‘ اور ان کے درمیان کون لوگ کس مطلب کے لیے موزوں ہیں۔ آخر وہ اتنے نادان تو نہیں ہیں‘ کہ علاج کے لیے وکیل اور مقدمہ لڑنے کے لیے ڈاکٹر کو تلاش کریں۔ وہ اس کو بھی کسی نہ کسی حد تک جانتے ہی ہیں‘ کہ ان کی بستیوں میں ایمان دار اور خدا ترس کون ہیں چالاک اور دنیا پرست کون‘ اور شریر ومفسد کون‘ جیسا مقصد ان کے سامنے ہوتا ہے ویسے ہی آدمی وہ اس کے لیے اپنے اندر سے ڈھونڈ نکالتے ہیں۔اب تک ان کے سامنے یہ مقصد آیا ہی نہ تھا‘ کہ انہیں ایک دینی نظام چلانے کے لیے آدمی درکار ہیں۔ پھر وہ اس کے چلانے والے آخر تلاش کرتے ہی کیوں؟ جیسا بے دین اور غیر اخلاقی نظام ملک میں قائم تھا‘ اور اس کا مزاج جس قسم کے آدمی چاہتا تھا‘ اس کے لیے ویسے ہی آدمیوں پر لوگوں کی نگاہ انتخاب پڑی‘ اور انہی کو رائے دہندوں نے چن کر بھیج دیا۔ اب اگر ہم ایک اسلامی ریاست کا دستور بنائیں‘ اور لوگوں کے سامنے سوال یہ آجائے کہ اس نظام کو چلانے کے لیے انہیں موزوں آدمی منتخب کرنے ہیں‘ تو چاہے ان کا انتخاب کمال درجہ کا معیاری نہ ہو‘ مگر بہرحال اس کام کے لیے ان کی نگاہیں فُساق وفجار اور دینِ مغربی کے مومنین پر نہیں پڑیں گی۔ وہ اس کے لیے انہی لوگوں کو تلاش کریں گے‘ جو اخلاقی‘ ذہنی اور علمی حیثیت سے اس کے اہل ہوں گے۔
پس ریاست کو مسلمان بنانے کے بعد تعمیرِ حیاتِ اسلامی کی راہ میں دوسرا قدم یہ ہے‘ کہ جمہوری انتخاب کے ذریعہ سے‘ اب ریاست کی زمام کار ایسے لوگوں کے ہاتھ میں منتقل ہو‘جو اسلام کو جانتے بھی ہوں ‘اور اس کے مطابق ملک کے نظامِ زندگی کو ڈھالنا چاہتے بھی ہوں۔
تیسرا قدم
اس کے بعد تیسرا قدم یہ ہے‘ کہ اجتماعی زندگی کے مختلف پہلوئوں کی ہمہ گیر اصلاح کا ایک منصوبہ (plan)بنایاجائے‘ اور اسے عمل میں لانے کے لیے‘ ریاست کے تمام ذرائع ووسائل استعمال کیے جائیں۔ تعلیم کا نظام بدلا جائے۔ ریڈیو‘ پریس‘ سینما اور خطابت کی ساری طاقتیں‘ لوگوں کے خیالات کی اصلاح اور ایک نئی اسلامی ذہنیت کی تخلیق میں صرف کی جائیں۔ معاشرت اور تمدّن کو نئے سانچوں میں ڈھالنے کے لیے‘ پیہم اور باقاعدہ کوشش کی جائے۔ سول سروس‘ پولیس‘ جیل‘ عدالت اورفوج سے بتدریج ان لوگوں کو خارج کیا جائے‘ جو پرانے فاسقانہ وکافرانہ نظام کی عادات وخصائل میں ڈھل کر سُوکھ چکے ہیں‘ اور ان نئے عناصر کو کام کرنے کا موقع دیا جائے‘ جو اس اصلاح کے کام میں مدد گار بن سکتے ہیں۔ معاشی نظام میں بنیادی تبدیلیاں کی جائیں‘ اور اس کا پورا ڈھانچہ جو پرانی ہندوانہ اور جدید فرنگیانہ بنیادوں پر چل رہا ہے ادھیڑ ڈالا جائے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر ایک صالح اور مدّبر گروہ اقتدار کے منصب پر فائز ہو‘ اور ملک کے سارے وسائل اور حکومت کے پورے نظم ونسق کی طاقت سے کام لے کر باقاعدگی کے ساتھ اصلاح کے ایک سوچے سمجھے منصوبے پر عمل شروع کر دے‘ تو دس سال کے اندر اس ملک کی اجتماعی زندگی کا نقشہ بالکل بدلا جا سکتا ہے۔ اور جیسے جیسے یہ تبدیلی واقع ہوتی جائے ایک صحیح توازن کے ساتھ سابق قوانین کی ترمیم وتنسیخ اور اسلامی قوانین کے نفاذ کا سلسلہ جاری ہوسکتا ہے‘ یہاں تک کہ بالآخر جاہلت کا کوئی قانون ہمارے ملک میں باقی نہ رہے‘ اور اسلام کا کوئی حکم نافذ ہونے سے نہ رہ جائے۔
اجراء قانون اسلامی کے لیے تعمیری کام
اب میں خاص طور پر اس تعمیری کام کی کچھ تفصیل آپ سے بیان کروں گا‘ جو ملک کے قانونی نظام کو بدلنے اور اسلام کے قوانین کو جاری کرنے کے لیے ہمیں کرنا ہوگا۔ جس اصلاحی پروگرام کی طرف ابھی میں اشارہ کر چکا ہوں‘ اس کے سلسلہ میں ہم کو قریب قریب ہر شعبہ زندگی میں بہت سے تعمیری کام کرنے پڑیں گے‘ کیونکہ مدّت ہائے دراز کے تعطل‘ انحطاط اور غلامی نے ہمارے تمدّن کی عمارت کے ہر گوشے کو خراب کر کے چھوڑا ہے۔ لیکن اس وقت میری تقریر ایک خاص موضوع سے تعلق رکھتی ہے‘ اس لیے دوسرے گوشوں کے تعمیری کام سے قطع نظر کر کے یہاں میں صرف اس کام کے متعلق کچھ عرض کروں گا‘ جو ہمیں قانون کے سلسلے میں کرنا ہے۔
ایک قانونی اکیڈمی کا قیام
اس پہلو میں اوّلین کام جو ہمیں کرنا چاہئے‘ یہ ہے‘ کہ ایک قانونی اکیڈمی قائم کی جائے‘ جو اس پورے کام کا جائزہ لے‘ جو علمِ قانون میں ہمارے اسلاف اس سے پہلے کر چکے ہیں‘ اور ان ضروری کتابوں کو جو فقہ اسلامی کی واقفیت کے لیے ناگزیر ہیں‘ اُردو زبان میں صرف منتقل ہی نہ کرے بلکہ ان کے مواد کو زمانہ حال کے طرز ترتیب کے مطابق مرتّب بھی کر دے‘ تاکہ ان سے پورا فائدہ اُٹھایا جا سکے۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے ہماری فقہ کا اصل ذخیرہ عربی زبان میں ہے‘ اور ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ بالعموم اس زبان سے ناواقف ہے۔ اس ناواقفیت کی وجہ سے اور کچھ سنی سنائی باتوں کی بنا پر ہمارے پڑھے لکھے لوگ عموماً اس فقہی ذخیرے کے متعلق طرح طرح کی بدگمانیاں رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان میں سے بہت سے لوگ تو یہاں تک کہہ بیٹھتے ہیں‘ کہ دورازکار لاطائل اختلافی بحثوں کے اس دفتر بے معنی کو دریا برد کر دیا جائے‘ اور نئے سرے سے اجتہاد کر کے کام چلایا جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے‘ کہ جو لوگ اس قسم کے مہمل خیالات ظاہر کرتے ہیں وہ محض اپنے علم ہی کی کمی کا نہیں فکرو تدبر کے فقدان کا بھی راز فاش کرتے ہیں۔ اگر وہ اپنے بزرگوں کے فقہی کارناموں کا واقعی مطالعہ کریں‘ تو مجھے یقین ہے‘ کہ انہیں اپنی ان باتوں پر خود ہی شرم آنے لگے گی۔ انہیں معلوم ہوگا کہ پچھلی بارہ تیرہ صدیوں میں ہمارے اسلاف محض فضول بحثوں میں وقت ضائع نہیں کرتے رہے ہیں‘ بلکہ انہوں نے اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے بڑی قیمتی میراث چھوڑی ہے۔ وہ بہت سی ابتدائی منزلیں ہمارے لیے تعمیر کر گئے ہیں‘ اور ہم سے بڑھ کر زیاں کار کوئی نہ ہوگا اگر ہم محض جہالت کی بنا پر اس بنی ہوئی عمارت کو خواہ مخواہ ڈھا کر نئے سرے سے ہی تعمیر کی ابتدا کرنے پر اصرار کریں۔ ہمارے لیے عقل مندی یہی ہے‘ کہ جو اگلے بنا گئے ہیں اسے اپنی آج کی ضرورتوں کے لیے کار آمد بنائیں‘ اور آگے جن چیزوں کی ضرورت پیش آئے اس کے لیے مزید تعمیر کرتے رہیں۔ ورنہ ہر نسل اگر یوں ہی اپنے سے پہلی نسلوں کے کام پر پانی پھیرتی رہے‘ اور نئے سرے سے سب کچھ بنانے کی کوشش کرے تو یقینا ترقی کی طرف قدم آگے بڑھ ہی نہیں سکتا۔
میں اس سلسلہ کی پہلی تقریر میں عرض کر چکا ہوں کہ پچھلی صدیوں میں دنیا کے ایک بہت بڑے حصے پر مسلمانوں کی جس قدر سلطنتیں قائم ہوتی تھیں‘ ان سب کا قانون فقہ اسلامی ہی تھی۔ اس زمانے میں مسلمان نری گھاس نہیں کھودتے تھے بلکہ ایک اعلیٰ درجہ کا تمدّن ان کے اندر موجود تھا۔ ان کے وسیع تمدّن کی ساری ہی ضروریات پر ان کے فقہا نے اسلامی قوانین کو منطبق کیا تھا۔ یہی فقہا ان حکومتوں کے جج مجسٹریٹ اور چیف جسٹس ہوتے تھے‘ اور ان کے فیصلوں سے نظائر کا ایک وسیع ذخیرہ فراہم ہوگیا تھا۔ انہوں نے قریب قریب ہر شعبہ قانون سے بحث کی ہے۔ محض دیوانی وفوج داری قوانین ہی نہیں‘ دستوری اور بین الاقوامی قوانین کے متعلق بھی ان کے قلم سے ایسی ایسی لطیف بحثیں نکلی ہیں‘ کہ ان کا مطالعہ کر کے ایک قانون دان آدمی‘ ان کی ژرف نگاہی{ FR 2572 } کی داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ضرورت ہے‘ کہ ہم اہلِ علم کے ایک گروہ کو ان بزرگوں کے چھوڑے ہوئے ذخیرہ کا جائزہ لینے پر مامور کریں‘ اور وہ موجودہ زمانے کی قانونی کتابوں کے طرز پر اس تمام کار آمد مواد کو مرتّب کر ڈالے‘ جو اس ذخیرے میں مل سکتا ہو۔
خصوصیت کے ساتھ چند کتابیں تو ایسی ہیں‘ جن کو اردو زبان میں منتقل کر لینا نہایت ضروری ہے۔
۱- احکام القرآن پر تین کتابیں‘ جصّاص‘ ابنؔ العربی اور قُرطبی۔
ان کتابوں کا مطالعہ ہمارے قانونی طلبہ کو قرآن مجید سے احکام مستنبط کرنے کی بہترین تربیت دے گا۔ ان میں قرآن کی تمام احکامی آیات کی تفسیرکی گئی ہے۔ احادیث اور آثار صحابہؓ میں ان کی جو تشریح ملتی ہے‘ اسے نقل کیا گیا ہے‘ اور مختلف ائمہ مجتہدین نے ان سے جو احکام نکالے ہیں‘ انہیں ان کے دلائل سمیت مفصل بیان کر دیا گیا ہے۔
۲- دوسرا قیمتی ذخیرہ کتب ِحدیث کی شرحوں کا ہے‘ جن میں احکام کے علاوہ نظائر اور تشریحی بیان کا بھی بہترین مواد ملتا ہے۔ ان میں خاص طور پر یہ کتابیں اردو میں منتقل ہونی چاہئیں۔
بخاری پر فتح الباری اور عینی
مُسلم پر نووی اور مولانا شبیر احمد صاحب ؒ عثمانی کی فتح الملہم۔
ابودائود پر عون المعبود اور بذل المجہود۔
موطاپر شاہ ولی اﷲ صاحب کی مُسَوّیٰ اور مصفّٰی اور موجودہ دور کے
ایک ہندوستانی عالم کی اَوْجَزْ المسالک
منتقی الاخبار پر شو کانی کی نیل الاوطار
مشکوٰۃ پر مولانا محمدادریس کاندھلوی کی التعلیق الصبیّح۔
علم الآثار میں امام طحاوی کی شرح معانی الآثار۔
۳- اس کے بعد ہمیں فقہ کی ان بڑی بڑی کتابوں کو لینا چاہئے‘ جو اس علم میں امہات کتب کا درجہ رکھتی ہیں۔ ان میں خصوصیّت کے ساتھ یہ کتابیں منتقل ہونی چاہئیں۔
فقہ حنفی پر ……امام سر خسی کی المبسوط اور شرح السیر الکبیر۔ کا سانی کی بدائع الصنائع
ابنِ ہمام کی فتح القدیر مع ہدایہ۔ اور فتاویٰ عالمگیری۔
فقہ شافعی پر……کتاب الاُم۔ شرح المہذب اور مغنی المحتاج۔
فقہ مالکی پر……المدّونہ اور کوئی اہم کتاب ‘جس کا اہلِ علم انتخاب کریں۔
فقہ حنبلی پر……ابنِ قدامہ کی المغنی
فقہ ظاہری پر……ابنِ حزم کی المحلی۔
مذاہب اربعہ پر……ابن رشد کی بدایۃ المجتہد۔ اور علما مصر کی مرتّب کردہ الفقہ
علیٰ المذاہب الاربعہ۔ نیز ابن القیم کی زاد المعاد میں سے وہ
حصے جو قانونی مسائل سے متعلق ہیں۔
مخصوص مسائل …… امام ابویوسف کی کتاب الخراج۔ یحییٰ بن آدم کی الخراج۔
ابوعبید القاسم کی کتاب الاموال۔ ہلال بن یحییٰ کی احکام الوقف۔
ومیاطی کی احکام المواریث۔
۴- پھر ہمیں اصول قانون اور حکمت ِتشریع کی بھی چند اہم کتابوں کو اردو کا جامہ پہنا لینا چاہئے‘ تاکہ ان کی مدد سے ہمارے اہلِ قانون میں اسلامی فقہ کا صحیح فہم اور اس کی روح سے گہری واقفیت پیدا ہو۔ میرے خیال میں اس موضوع پر یہ کتابیں قابلِ انتخاب ہیں۔
ابنِ حزم کی اصول الاحکام۔ علامہ آمدی کی لاحکام الاصول الاَحکام۔ خضری کی اصول الفقہ۔ شاطبی کی الموافقات۔ ابن القیم کی اعلام الموقعین اور شاہ ولی اﷲ صاحب کی حجتہ اﷲ البالغہ۔
ان کتابوں کے متعلق ہمیں صرف اتنا ہی نہیں کرنا ہے‘ کہ محض ان کے ترجمے اردو زبان میں کر ڈالے جائیں‘ بلکہ ان کے مضامین کو موجودہ زمانہ کی قانونی کتابوں کے طرز پر از سرِنو مرتّب بھی کرنا ہوگا‘ نئے عنوانات قائم کرنے ہوں گے۔ منتشر مسائل کو ایک ایک عنوان کے تحت جمع کرنا ہوگا۔ فہرستیں بنانی پڑیں گی‘ اور انڈکس تیار کرنے ہوں گے۔ اس محنت کے بغیر یہ کتابیں آج کل کی ضروریات کے لیے پوری طرح کار آمد نہ ہوسکیں گی۔ قدیم زمانے کا طریقِ تدوین کچھ اور تھا‘ اور اس زمانے میں قانونی مسائل کے لیے اتنے مختلف عنوانات بھی پیدا نہیں ہوئے تھے‘ جتنے آج پیدا ہوگئے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ لوگ دستوری قانون اور بین الاقوامی قانون کے لیے کوئی الگ نام نہیں رکھتے تھے‘ بلکہ ان کے مسائل کو وہ نکاح‘ خراج‘ جہاد‘ امارت اور میراث کے ابواب میں بیان کرتے تھے۔ فوجداری قانون ان کے ہاں کوئی الگ عنوان نہ تھا۔ بلکہ اس کے مسائل حدود‘ جنایات اور دیات کے مختلف عنوانوں میں تقسیم کر دئیے جاتے تھے۔ دیوانی قانون کو بھی انہوں نے الگ مرتّب نہیں کیا تھا‘ بلکہ ایک ہی مجموعہ قوانین میں بہت سے عنوانات کے تحت اس کو جمع کر دیا تھا۔ مالیات اور معاشیات وغیرہ نام ان کے ہاں نہ تھے‘ اس سلسلہ کے مسائل کو وہ کتاب البیوع‘ کتاب الصرف‘ کتاب المضاربہ اور کتاب المزارعہ وغیرہ عنوانات کے تحت بیان کرتے تھے۔ اسی طرح قانونِ شہادت‘ ضابطہ دیوانی‘ ضابطۂ فوجداری‘ اور ضابطۂ عدالت وغیرہ جدید اصطلاحیں ان کے ہاں نہیں بنی تھیں۔ ان قوانین کے مسائل‘ ان کی کتابوں میں آدابُ القاضی‘ کتاب الدعویٰ‘ کتاب الاکراہ‘ کتاب الشہادت اور کتاب الاقرار وغیرہ عنوانات کے تحت ملتے ہیں۔ اب اگر یہ کتابیں جوں کی توں اُردو میں منتقل کر لی جائیں‘ تو ان سے کما حقہ فائدہ اُٹھانامشکل ہے۔ ضرورت ہے‘ کہ کچھ قانونی نظر رکھنے والے اہلِ علم ان پر کام کریں‘ اور ان کی ترتیب بدل کر ان کے مواد کو جدید طرز پر مرتّب کر ڈالیں۔ اور بالفرض اگر یہ بہت زیادہ محنت طلب کام نظر آئے‘ تو کم از کم اتنا تو ضرور ہی ہونا چاہئے ‘کہ ان کی فہرستیں پوری باریک بینی کے ساتھ بنائی جائیں‘ اور مختلف قسم کے انڈکس بنا دئیے جائیں جن کے ذریعہ سے ان میں مسائل کا تلاش کرنا آسان ہوجائے۔
تدوین احکام
اس سلسلہ کا دوسرا اہم کام یہ ہے‘ کہ ذمّہ دار علما اور ماہرین قانون کی ایک ایسی مجلس مقرر کی جائے‘ جو اسلام کے قانونی احکام کو جدید دور کی کتب ِقانون کے طرز پر دفعہ وار مدون(codify)کر دے۔
میں اپنی پہلی تقریر میں وضاحت کے ساتھ یہ بات آپ سے عرض کر چکا ہوں کہ اسلامی نقطۂ نظر سے قانون کا اطلاق ہر اُس قول پر نہیں ہوتا جو کسی فقیہ یا امام مجتہد کی زبان سے نکلا ہو‘یا کسی فقہی کتاب میں لکھا ہوا ہو۔ قانون صرف چار چیزوں کا نام ہے۔
۱- کوئی حکم جو قرآن میں اﷲ تعالیٰ نے دیا ہو۔
۲- کسی قرآنی حکم کی تشریح وتفصیل‘ یا کوئی مستقل حکم جو نبی a سے ثابت ہو۔
۳- کوئی استنباط‘ قیاس‘ اجتہاد یا استحسان‘ جس پر اُمت کا اجماع ہو‘ یا جمہور علما کا ایسا فتویٰ ہو‘ جسے ہمارے ملک کے مسلمانوں کی عظیم اکثریت تسلیم کرتی رہی ہے۔
۴- اسی قبیل کا کوئی ایسا امر جس پر ہمارے ملک کے اہلِ حل وعقد کا اب اجماع یا جمہوری فیصلہ ہوجائے۔
میری تجویز یہ ہے‘ کہ پہلی تین قسموں کے احکام کو‘ ماہرین کی ایک جماعت ایک مجلہ احکام کی شکل میں مرتّب کر دے۔ پھر جو جو قوانین آئندہ اجماعی یا جمہوری فیصلوں سے بنتے جائیں‘ ان کا اضافہ ہماری کتاب آئین میں کیا جاتا رہے۔ اگر اس قسم کا ایک مجلۂ احکام بن جائے‘ تو اصل قانون کی کتاب وہ ہوگی‘ اور باقی تمام فقہی کتابیں اس کے لیے شرح (commentary)کا کام دیں گی۔ نیز اس طرح عدالتوں میں قانونِ اسلامی کی تنفیذ اور لاکالجوں میں اس قانون کی تعلیم بھی آسان ہوجائے گی۔
قانونی تعلیم کی اصلاح
اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے‘ کہ ہم اپنے ہاں قانون کی تعلیم کا سابق طریقہ بدل دیں‘ اور اپنے لاکالجوں کے نصاب اور طریقِ تربیت میں ایسی اصلاحات کریں‘ جن سے طلبہ اسلامی قانون کی تنفیذ کے لیے علمی اور اخلاقی دونوں حیثیتوں سے تیار ہوسکیں۔
اس وقت تک جو تعلیم ہماری قانونی درس گاہوں میں دی جا رہی ہے‘ وہ ہمارے نقطۂ نظر سے بالکل ناکارہ ہے۔ اس سے فارغ ہوکر نکلنے والے طالب علم صرف یہی نہیں کہ اسلامی قانون کے علم سے بے بہرہ ہوتے ہیں‘ بلکہ ان کی ذہنیت بھی غیراسلامی افکار کے سانچے میں ڈھل جاتی ہے‘ اور ان کے اندر اخلاقی صفات بھی ویسی ہی پیدا ہوجاتی ہیں‘ جو مغربی قوانین کے اجراء کے لیے موزوں ترین‘ مگر قانون اسلامی نافذ کرنے کے لیے قطعاً غیر موزوں ہیں۔
اس صورت حال کو جب تک ہم بدل نہ دیں گے‘ اور ان درس گاہوں میں اپنے معیار کے فقیہ پیدا کرنے کا انتظام نہ کریں گے‘ ہمارے ہاں وہ آدمی فراہم ہی نہ ہوسکیں گے‘ جو ہماری عدالتوں میں قاضی اور مفتی کے فرائض انجام دینے کے لائق ہوں۔
اس مقصد کے لیے جو تجاویز میرے ذہن میں ہیں‘ وہ میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں دوسرے اہلِ علم بھی ان پر غور کریں‘ اور ان میں اصلاح واضافہ فرمائیں‘ تاکہ ایک اچھی قابلِ عمل اسکیم بن سکے۔
۱- سب سے مقدم اصلاح یہ ہونی چاہئے کہ آئندہ سے لاکالجوں میں داخلہ کے لیے عربی زبان کی واقفیت… اتنی واقفیت جو قرآن‘ حدیث اور فقہ کامطالعہ کرنے کے لیے کافی ہولازم قرار دی جائے۔ اگر چہ ہم اسلامی قانون کی پوری تعلیم اُردو میں دینا چاہتے ہیں اور اس فن کی تمام ضروری کتابوں کو بھی اردو میں منتقل کر لینا چاہتے ہیں‘ لیکن اس کے باوجود عربی زبان کے علم کی ضرورت پھر بھی باقی رہے گی۔ اس لیے کہ اسلامی فقہ میں بصیرت بہرحال اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتی‘ جب تک آدمی اس زبان سے واقف نہ ہو‘ جس میں قرآن نازل ہوا ہے‘ اور جس میں رسول اﷲ a نے کلام فرمایا ہے۔ ابتداً ہمیں لاکالجوں کے لیے عربی داں اُمیدوار فراہم کرنے میں دشواری ضرور پیش آئے گی۔ممکن ہے اس غرض کے لیے ہم کو چند سال تک ہر لاکالج میں ایک مستقل کلاس عربی تعلیم کے لیے کھولنی پڑے‘ اور شائد تعلیم قانون کی مدّت میں ایک سال کا اضافہ بھی کر دینا پڑے۔ لیکن آگے چل کر جب ہمارے پورے نظامِ تعلیم میں عربی بطور ایک لازمی زبان کے شامل ہوجائے گی‘ تو لاکالج میں داخلہ کے لیے جو گریجویٹ بھی آئیں گے‘ وہ پہلے ہی عربی زبان سے بخوبی واقف ہوں گے۔
۲- عربی زبان کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے‘ کہ قانون کی تعلیم شروع کرنے سے پہلے طلبہ کو قرآن اور حدیث کے براہِ راست مطالعہ سے دین کا مزاج اور اس کا پورا نظام اچھی طرح سمجھا دیا جائے۔ ہماری عربی درس گاہوں میں بھی ایک مدّت دراز سے یہ غلط طریقہ چلا آرہا ہے۔کہ تعلیم کی ابتداء فقہ سے کی جاتی ہے‘ پھر ہر مذہب (اسکول) کے لوگ اپنے مخصوص فقہی نقطۂ نظر سے حدیث پڑھاتے ہیں‘ اور قرآن کی صرف ایک یا دو بڑی سورتیں محض تبر کاً داخل درس کر دی جاتی ہیں‘ بلکہ ان میں بھی کلامِ الٰہی کی ادبی خوبیوں کے سوا کسی اور چیز کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔ اس کا نقصان یہ ہوتا ہے‘ کہ جو فضلاء ان درس گاہوں سے نکلتے ہیں‘ وہ قانون کے جزئیات وفروع سے تو خوب واقف ہوتے ہیں‘ مگر جس دین کو قائم کرنے کے لیے یہ قانون بنایا گیا ہے‘ اس کے مجموعی نظام اس کے مقاصد‘ اس کے مزاج اور اس کی روح سے بڑی حد تک نابلد رہتے ہیں۔ ان کو یہ تک معلوم نہیں ہوتا‘کہ دین سے شریعت کا اور شریعت سے فقہی مذاہب کا تعلق کیا ہے۔ وہ قانونی جزئیات اور اپنے مذاہب ِخاص کے فروعی مسائل ہی کو اصل دین سمجھ بیٹھتے ہیں۔ اسی چیز نے ہمارے ہاں فرقہ بندی کے جھگڑے اور تعصّبات پیدا کیے ہیں۔ اسی چیز کا نتیجہ یہ ہے‘ کہ مسائلِ زندگی پر فقہی احکام کا انطباق کرنے میں بار ہا شریعت کے اہم ترین مقاصد تک نظر انداز کر دئیے جاتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں‘ کہ اب اس غلطی کی اصلاح ہو‘ اور کسی طالب علم کو اس وقت تک قانون نہ پڑھا یا جائے‘ جب تک وہ پہلے قرآن اور پھر حدیث سے دین کو اچھی طرح نہ سمجھ لے۔
اس معاملہ میں بھی ہمیں ابتداً چند سال تک کچھ مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا‘ کیونکہ قرآن وحدیث سے واقف گریجویٹ نہ مل سکیں گے‘ اور اس کے لیے شاید ہمیں لاکالجوں ہی میں اس تعلیم کا بھی انتظام کرنا پڑے گا۔ لیکن آگے چل کر جب ہماری عام تعلیمی اصلاحات بار آور ہوجائیں گی‘ تو آسانی کے ساتھ یہ ضابطہ بنایا جا سکے گا‘ کہ لاکالجوں میں صرف وہی طلبہ داخلہ لے سکتے ہیں‘ جو تفسیر اور حدیث کو مخصوص مضامین کی حیثیت سے لے کر بی اے کر چکے ہوں‘ ورنہ دوسرے مضامین کے طلبہ کو ایک سال زائد ان مضامین پر صَرف کرنا ہوگا۔
۳- تعلیمِ قانون کے نصاب میں تین مضامین ضرور شامل ہونے چاہئیں۔ ایک جدید زمانے کے اصول قانون(jurisprudence)کے ساتھ ساتھ‘ اصولِ فقہ کا مطالعہ۔ دوسرے اسلامی فقہ کی تاریخ کا مطالعہ۔ تیسرے فقہ کے تمام بڑے بڑے مذاہب (اسکولوں) کا غیر متعصّبانہ مطالعہ۔ ان تینوں چیزوں کے بغیر طلبہ میں نہ تو فقہ کا پورا فہم پیدا ہوسکتا ہے‘ نہ ان کے اندروہ اجتہادی صلاحیتیں ابھر سکتی ہیں‘ جو اعلیٰ درجہ کے قاضی اور مفتی بننے کے لیے ناگزیر ہیں‘ اور نہ ان کے اندر سے ایسے ماہرین نکل سکتے ہیں‘ جو ہماری ترقی پذیر ریاست کی روز افزوں ضروریات کے لیے تعبیر وقیاس اور اجتہاد واستحسان کے صحیح طریقے استعمال کر کے قوانین بنا سکیں۔ اپنے قانون کے اصولوں کو پوری طرح سمجھے بغیر آخر وہ روز نت نئے پیش آنے والے مسائل پر‘ ان کا انطباق کیسے کر سکیں گے۔ اپنی فقہ کی تاریخ کو جانے بغیر انہیں کیونکر معلوم ہوگا‘ کہ اسلامی قانون کا ارتقاکس طریقہ پر ہوا ہے‘ اور آئندہ کس طریقہ پر ہوسکتا ہے‘ فقہائے اسلام کے جمع کیے ہوئے پورے ذخیرے پر وسیع نظر رکھے بغیر‘ وہ کیونکر اس قابل ہوسکیں گے‘ کہ جب کسی مسئلے میں ایک فقہی مذہب سے رہنمائی نہ ملتی ہو‘ تو نیا اجتہاد کرنے سے پہلے دوسرے مذاہب ِفقہ سے استفادہ کر لیں۔ انہی وجہ سے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ ہماری تعلیمِ قانون کے نصاب میں یہ تنیوں مضامین داخل ہوں۔
۴- تعلیم کی اس اصلاح کے ساتھ ہمیں اپنے لاکالجوں میں‘ طلبہ کی اخلاقی تربیت کا بھی خاص انتظام کرنا ہوگا۔ اسلامی نقطۂ نظر سے لاکالج‘ چالاک وکیل‘ نفس پرست مجسٹریٹ اور بدکردار جج تیار کرنے کی فیکٹری نہیں ہے‘ بلکہ اس کا کام تو ایسے قاضی اور مفتی پیدا کرنا ہے‘ جو اپنی قوم میں اپنی سیرت وکردار کے لحاظ سے بلند ترین لوگ ہوں‘ جن کی راست بازی اور عدل وانصاف پر کام اعتماد کیا جا سکے‘ جن کی اخلاقی ساکھ ہر شبہ سے بالا تر ہو۔ یہ وہ جگہ ہے ‘جہاں سب سے بڑھ کر خدا ترسی‘ پرہیز گاری اور احساس ذمّہ داری کا دور دورہ ہونا چاہئے۔یہاں سے نکلنے والے طلبہ کو اس مسند کے لیے تیار ہونا ہے‘ جس پر کبھی قاضی شریح ؒ‘ امام ابوحنیفہ ؒ‘ امام مالک ؒ‘ امام احمد بن حنبل ؒ‘ اور قاضی ابویوسف ؒ جیسے لوگ بیٹھ چکے ہیں۔ یہاں ایسے مضبوط کیرکٹر کے آدمی تیار ہونے چاہئیں‘ جو کسی مسئلہ شرعی میں فتوے دیتے وقت یا کسی معاملہ کا فیصلہ کرتے وقت‘ خدا کے سوا کسی کی طرف نظر نہ رکھیں۔ کوئی لالچ‘ کوئی خوف‘ کوئی ذاتی دلچسپی‘ کوئی محبت اور کوئی نفرت ان کو اس بات سے نہ ہٹا سکے‘ جسے وہ اپنے علم اور اپنے ضمیر کے لحاظ سے حق اور انصاف کی بات سمجھتے ہوں۔{ FR 2573 }
(ترجمان القرآن۔ اگست ۱۹۴۸ء)
خ خ خ

شیئر کریں