Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

دیباچۂ طبع اوّل
عرض ناشر
حقیقت عبادت
نماز
فرض شناسی
تعمیر سیرت
ضبط ِ نفس
افراد کی تیاری کا پروگرام
تنظیمِ جماعت
نماز باجماعت
مسجد میں اجتماع
صف بندی
اجتماعی دُعائیں
امامت
روزہ
روزے کے اثرات
اِحساس بندگی
اِطاعت امر
تعمیر سیرت
ضبط نفس
انفرادی تربیت کا اجمالی نقشہ
روزے کا اجتماعی پہلو
تقوٰی کی فضا
جماعتی احساس:
امداد باہمی کی روح

اسلامی عبادات پر تحقیقی نظر

ریڈ مودودی ؒ کی اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

نماز

یاد دہانی
انسان کی زندگی کو عبادت میں تبدیل کرنے کے لیے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اس کے ذہن میں اس بات کا شعور ہر وقت تازہ، ہر وقت زندہ اور ہر وقت کارفرما رہے کہ وہ خدا کا بندہ ہے۔ اور اسے دنیا میں سب کچھ بندہ ہونے کی حیثیت ہی سے کرنا ہے۔ اس شعور کو بار بار ابھارنے اور تازہ کرنے کی ضرورت اس لیے لاحق ہوتی ہے کہ انسان درحقیقت جس کا بندہ ہے وہ تو اس کی آنکھوں سے اوجھل اور اس کے حواس سے دور ہے، لیکن اس کے برعکس ایک شیطان خود آدمی کے اپنے نفس میں موجود ہے جو ہر وقت کہتا رہتا ہے کہ تو میرا بندہ ہے اور لاکھوں کروڑوں شیطان ہر طرف دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں جن میں سے ہر ایک دعوٰی کرتا ہے کہ تو میرا بندہ ہے۔ یہ شیاطین آدمی کو محسوس ہوتے ہیں، نظر آتے ہیں اور ہر آن نت نئے طریقوں سے اپنی طاقت اسے محسوس کراتے رہتے ہیں۔ ان دو گونہ اسباب سے یہ شعور کہ میں خدا کا بندہ ہوں اور اس کے سوا مجھے کسی کی بندگی نہیں کرنی ہے، آدمی کے ذہن سے گم ہو جاتا ہے۔ اسے زندہ اور کارفرما رکھنے کے لیے صرف یہی کافی نہیں ہے کہ انسان خدا کی خدائی کا زبان سے اقرار کرلے، یا محض ایک علمی فارمولا کی حیثیت سے اسے سمجھ لے، بلکہ اس کے لیے قطعاً ناگزیر ہے کہ اسے بار بار اُبھارا اور تازہ کیا جائے۔ یہی کام نماز کرتی ہے۔ صبح اٹھتے ہی سب کاموں سے پہلے وہ آپ کو یہی بات یاد دلاتی ہے۔ پھر جب آپ دن کو اپنے کام کاج میں مشغول ہوتے ہیں تو وہ ہنگامۂ سعی و عمل کے دوران میں دو دفعہ آپ کو تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے الگ کھینچ بلاتی ہے تاکہ احساس بندگی کا نقش اگر دھندلا ہو گیا ہو تو اسے تازہ کر دے۔ پھر شام کو جب تفریحوں اور دل چسپیوں کا وقت آتا ہے تو پھر یہ آپ کو آگاہ کرتی ہے کہ تم خدا کے بندے ہو شیطان نفس کے بندے نہیں ہو۔ اس کے بعد رات آتی ہے، وہ رات جسے اندر کا شیطان اور باہر کے شیاطین، سب مل کر معصیتوں سے سیاہ کر دینے کے لیے دن بھر منتظر رہتے ہیں۔ نماز پھر آپ کو خبردار کرتی ہے کہ تمھارا کام خدا کی بندگی کرنا ہے نہ کہ ان شیاطین کی۔
یہ نماز کا پہلا فائدہ ہے۔ اسی بنا پر اسے قرآن میں ذکر کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے، جس کے معنی یاد دہانی کے ہیں۔ اگر نماز میں اس کے سوا اور کچھ نہ ہوتا، تب بھی صرف یہی ایک صفت اسے رکن اسلام قرار دینے کے لیے کافی تھی۔ کیوں کہ اس فائدے کی اہمیت پر جتنا زیادہ غور کیا جائے اتنا ہی زیادہ اس امر کا یقین حاصل ہوتا ہے کہ آدمی کا عملاً بندۂ خدا بن کر رہنا اس یاد دہانی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

شیئر کریں