Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

عرضِ ناشر
دیباچہ طبع اوّل
دیباچہ طبع ہشتم
باب اوّل
مسلمان ہونے کے لیے علم کی ضرورت
مسلم اورکافر کا اصلی فرق
سوچنے کی باتیں
کلمۂ طیبہ کے معنی
کلمۂ طیّبہ اور کلمۂ خبیثہ
کلمۂ طیبہ پر ایمان لانے کا مقصد
باب دوم
مسلمان کسے کہتے ہیں؟
ایمان کی کسوٹی
اسلام کا اصلی معیار
خدا کی اطاعت کس لیے؟
دین اور شریعت
باب سوم
عبادت
نماز
نماز میں آپ کیا پڑھتے ہیں؟
نماز باجماعت
نمازیں بے اثر کیوں ہو گئیں؟
باب چہارم
ہر امت پر روزہ فرض کیا گیا
روزے کا اصل مقصد
باب پنجم
زکوٰۃ
زکوٰۃ کی حقیقت
اجتماعی زندگی میں زکوٰۃ کا مقام
انفاق فی سبیل اللہ کے احکام
زکوٰۃ کے خاص احکام
باب ششم
حج کا پس منظر
حج کی تاریخ
حج کے فائدے
حج کا عالمگیر اجتماع
باب ہفتم
جہاد
جہاد کی اہمیت
ضمیمہ ۱ ۱۔اَلْخُطْبَۃُ الْاُوْلٰی
۲۔اَلْخُطْبَۃُ الثَّانِیَۃُ
ضمیمہ ۲ (بسلسلہ حاشیہ صفحہ نمبر ۲۰۷)

خطبات

اسلام کو دل نشیں، مدلل اور جا مع انداز میں پیش کرنے کا جو ملکہ اور خداداد صلاحیت سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ کو حاصل ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ آپ کی تصانیف و تالیفات کی ایک ایک سطر جیسی یقین آفریں اور ایمان افزا ہے، اس کا ہر پڑھالکھا شخص معترف و مدّاح ہے ۔ کتنے ہی بگڑے ہوئے افراد، جوان، بچے، مرد وعورت ان تحریروں سے متاثر ہو کر اپنے سینوں کو نورِ ایمان سے منور کر چکے ہیں۔ ان کتابوں کی بدولت تشکیک کے مارے ہوئے لاتعداد اشخاص ایمان و یقین کی بدولت سے مالا مال ہوئے ہیں اور کتنے ہی دہریت و الحاد کے علم بردار اسلام کے نقیب بنے ہیں۔ یوں تو اس ذہنی اور عملی انقلاب لانے میں مولانا محترم کی جملہ تصانیف ہی کو پیش کیا جا سکتا ہے لیکن ان میں سر فہرست یہ کتاب خطبات ہے۔ یہ کتاب دراصل مولانا کے ان خطبات کا مجموعہ ہے جو آپ نے دیہات کے عام لوگوں کے سامنے جمعے کے اجتماعات میں دیے۔ ان خطبات میں آپ نے اسلام کے بنیادی ارکان کو دل میں اُتر جانے والے دلائل کے ساتھ آسان انداز میں پیش کیا ہے اور کمال یہ ہے کہ اس کتاب کو عام وخاص،کم علم واعلیٰ تعلیم یافتہ،ہر ایک یکساں ذوق وشوق سے پڑھتا ہے اور اس سے فائدہ اُٹھاتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اسلام کے بنیادی ارکان کو سمجھنے کے لیے ہماری زبان ہی میں نہیں بلکہ دنیا کی دوسری بلند پایہ زبانوں میں بھی اس کتاب کی نظیر نہیں ملتی۔ علم و حقانیت کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے جو ان صفحات میں بند کردیا گیا ہے۔

نماز میں آپ کیا پڑھتے ہیں؟

برادرانِ اسلام! پچھلے خطبے میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ نماز کس طرح انسان کو اللہ کی عبادت، یعنی بندگی اور اطاعت کے لیے تیار کرتی ہے۔ اس سلسلے میں جو کچھ میں نے کہا تھا اس سے آپ نے اندازہ کر لیا ہو گا کہ جو شخص نماز کو محض فرض اور حکمِ الٰہی جان کر باقاعدگی کے ساتھ ادا کرتا رہے وہ اگر نماز کی دعائوں کا مطلب نہ سمجھتا ہو، تب بھی اس کے اندر خدا کا خوف اور اس کے حاضر وناظر ہونے کا یقین اور اس کی عدالت میں ایک روز حاضر ہونے کا اعتقاد ہر وقت تازہ ہوتا رہتا ہے۔ اس کے دل میں یہ عقیدہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی کا بندہ نہیں اور خدا ہی اس کا اصلی بادشاہ اورحاکم ہے۔ اس کے اندر فرض شناسی کی عادت اور خدا کے احکام بجا لانے کے لیے مستعدی پیدا ہوتی ہے۔ اس میں وہ صفات خود بخود پیدا ہونے لگتی ہیں جو انسان کی ساری زندگی کو خدا کی بندگی وعبادت بنا دینے کے لیے ضروری ہیں۔
اب میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر انسان اسی نماز کو سمجھ کر ادا کرے اور نماز پڑھتے وقت یہ بھی جانتا رہے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے تو اس کے خیالات اور اس کی عادات اور خصائل پر کتنازبردست اثر پڑے گا، اس کے ایمان کی قوت کس قدر بڑھتی چلی جائے گی، اور اس کی زندگی کا رنگ کیسا پلٹ جائے گا۔
اذان اور اس کے اثرات
سب سے پہلے اذان کو لیجیے۔ دن میں پانچ وقت آپ کو یہ کہہ کر پکارا جاتا ہے:
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔اَشْہَدُ اَنْ لَّآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ۔اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ ۔حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ ۔اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ
خدا سب سے بڑا ہے، خدا سب سے بڑا ہے۔میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی بندگی کا حقدار نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ آئو نماز کے لیے۔ آئو اس کام کے لیے جس میں فلاح ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
دیکھو! یہ کیسی زبردست پکار ہے۔ ہر روز پانچ مرتبہ یہ آواز کس طرح تمھیں یاد دلاتی ہے کہ ’’زمین میں جتنے بڑے خدائی کے دعوے دار نظر آتے ہیں سب جھوٹے ہیں۔ زمین وآسمان میں ایک ہی ہستی ہے جس کے لیے بڑائی ہے، اور وہی عبادت کے لائق ہے۔ آئو! اس کی عبادت کرو۔ اسی کی عبادت میں تمھارے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے‘‘۔ کون ہے جو اس آواز کو سن کر ہل نہ جائے گا؟ کیوں کر ممکن ہے کہ جس کے دل میں ایمان ہو، وہ اتنی بڑی گواہی اور ایسی زبردست پکار سن کر اپنی جگہ بیٹھا رہے اور اپنے مالک کے آگے سر جھکانے کے لیے دوڑ نہ پڑے؟
وضو
اس آواز کو سن کر تم اٹھتے ہو، اور سب سے پہلے اپنا جائزہ لے کر دیکھتے ہو کہ میں پاک ہوں یا ناپاک؟ میرے کپڑے پاک ہیں یا نہیں؟ میرا وضو ہے یا نہیں؟ گویا تمھیں اس بات کا احساس ہے کہ پادشاہِ دو عالم کے دربار میں حاضری کا معاملہ دنیا کے دوسرے سب معاملات سے مختلف ہے۔ دوسرے کام تو ہرحال میں کیے جا سکتے ہیں، مگر یہاں جسم اور لباس کی پاکی اور اس پاکی پر مزید طہارت (یعنی وضو)کے بغیر حاضری دینا سخت بے ادبی ہے۔ اس احساس کے ساتھ تم پہلے اپنے پاک ہونے کا اطمینان کرتے ہو، اور پھر] بِسْمِ اللّٰہ پڑھ کر[ وضو شروع کر دیتے ہو۔ اس وضو کے دوران میں اگر تم اپنے اعضا دھونے کے ساتھ ساتھ اللہ کا ذکر کرتے رہو، اور فارغ ہو کر وہ دعا پڑھو جو رسول اللہ aنے سکھائی ہے، تو محض تمھارے اعضا ہی نہ دھلیں گے، بلکہ ساتھ ساتھ تمھارا دل بھی دھل جائے گا۔ اس دعا کے الفاظ یہ ہیں:
اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَ ہ، لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُھٗ وَرَسُوْلُہٗ، اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَ اجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ۔ (مشکوٰۃ)
میں شہادت دیتا ہوں کہ اکیلے ایک لاشریک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ خدایا! مجھے توبہ کرنے والوں میں شامل کر اور مجھے پاکیزگی اختیار کرنے والا بنا۔
نیت
اس کے بعد تم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہو۔ منہ قبلے کے سامنے ہے۔ پاک صاف ہو کر پادشاہِ عالم کے دربار میں حاضر ہو۔ سب سے پہلے تمھاری زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں:
اَللّٰہُ اکْبَرُ۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔
اس زبردست حقیقت کااقرار کرتے ہوئے تم کانوں تک ہاتھ اٹھاتے ہو، گویا دنیا ومافیہا سے دست بردار ہو رہے ہو۔ پھرہاتھ باندھ لیتے ہو، گویا اب تم بالکل اپنے بادشاہ کے سامنے باادب دست بستہ کھڑے ہو۔ اس کے بعد تم کیا عرض معروض کرتے ہو۔
تسبیح
سُبْحَا نَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَباَرَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَآاِلٰہَ غَیْرُکَ۔
تیری پاکی بیان کرتا ہوں اے اللہ! اور وہ بھی تیری تعریف کے ساتھ۔ بڑی برکت والا ہے تیرا نام۔ سب سے بلند وبالا ہے تیری بزرگی اور کوئی معبود نہیں تیرے سوا۔
تَعَوُّذْ
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔
خدا کی پناہ مانگتا ہوں میں شیطان مردود کی دراندازی اور شرارت سے۔
بَسْمَلَہ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔
شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔
حمد
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ o مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِo اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُo اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَo صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ۥۙ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلاَ الضَّآلِّیْنَo اٰمِیْن۔
تعریف خدا کے لیے ہے جو سارے جہان والوں کا پروردگار ہے۔نہایت رحمت والا بڑا مہربان ہے۔روزِ آخرت کا مالک ہے(جس میں اعمال کا فیصلہ کیا جائے گا اور ہر ایک کو اس کے کیے کا پھل ملے گا)۔مالک! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ہم کو سیدھا راستہ دکھا۔ایسے لوگوں کا راستہ جن پرتو نے فضل کیا اورانعام فرمایا۔جن پر تیراغضب نازل نہیں ہوا، اور جو بھٹکے ہوئے لوگ نہیں ہیں۔(خدایا! ایسا ہی ہو، مالک ہماری اس دعا کو قبول فرما)
اس کے بعد تم قرآن کی چند آیتیں] یا کوئی چھوٹی سورت[ پڑھتے ہو، جن میں سے ہر ایک میں امرت بھرا ہوا ہے۔ نصیحت ہے، عبرت ہے، سبق ہے، اور اسی راہِ راست کی ہدایت ہے جس کے لیے سورۂ فاتحہ میں تم دعا کرچکے تھے۔مثلا:
قرآن مجید کی مختلف سورتیں
]نماز میں سورۃ الفاتحہ کے بعد، قرآن پاک کی کوئی ایک سورت پڑھی جاتی ہے۔ ہم یہاں تین سورتیں مع ترجمہ پیش کر رہے ہیں[
والعصر
وَالْعَصْرِo اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍo اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِo ( والعصر103: 3-1)
زمانہ کی قسم! انسان ٹوٹے میں ہے۔ مگر ٹوٹے سے بچے ہوئے صرف وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے۔ اور جنھوں نے ایک دوسرے کو حق پر چلنے کی ہدایت کی اور حق پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتے رہے۔
اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ تباہی اور نامرادی سے انسان بس اسی طرح بچ سکتا ہے کہ ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور صرف اتنا ہی کافی نہیں، بلکہ ایمان داروں کی ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو دین پر قائم ہونے اور قائم رہنے میں ایک دوسرے کی مدد کرتی رہے۔
یا مثلاً:
الھُمَزَہ
وَيْلٌ لِّكُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِۨ o الَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَہٗo يَحْسَبُ اَنَّ مَالَہٗٓ اَخْلَدَہٗo كَلَّا لَيُنْۢبَذَنَّ فِي الْحُطَمَۃِo وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَۃُo نَارُ اللہِ الْمُوْقَدَۃُo الَّتِيْ تَطَّلِعُ عَلَي الْاَفْــِٕدَۃِo اِنَّہَا عَلَيْہِمْ مُّؤْصَدَۃٌo فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَۃٍo (الھمزہ 104:9-1)
افسوس ہے اس شخص کے حال پر جو لوگوں کی عیب چینی کرتا اور لوگوں پر آوازے کستا ہے۔ روپیہ جمع کرتا اور گِن گِن کر رکھتا ہے۔ اپنے دل میں سمجھتا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ رہے گا۔ ہرگز نہیں، وہ ایک دن ضرور مرے گا اور حطمہ میں ڈالا جائے گا۔ اور تمھیں معلوم ہے کہ حُطَمَہ کیا چیز ہے؟ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ جس کی لپٹیں دلوں پر چھا جاتی ہیں۔ وہ اونچے اونچے ستون جیسے شعلوں کی صورت میں اُن کو گھیر لے گی۔
یا مثلاً:
الماعون
اَرَئَ یْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِo فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَo وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِo فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَo الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلاَ تِھِمْ سَاھُوْنَo الَّذِيْنَ ہُمْ يُرَاۗءُوْنَo وَیَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَo (الماعون107: 3-1)
تو نے دیکھا کہ جو شخص روزِ جزا کو نہیں مانتا وہ کیسا آدمی ہوتا ہے؟ ایسا ہی آدمی یتیم کو دھتکارتا ہے۔ اور مسکین کو آپ کھانا کھلانا تو درکنار، دوسروں سے بھی یہ کہنا پسند نہیں کرتا کہ غریب کو کھانا کھلا دو۔ تباہی ہے ایسے نمازیوں کے لیے جو (روزِ آخرت پر یقین نہیں رکھتے، اس لیے) نماز سے غفلت کرتے ہیں اور پڑھتے بھی ہیں تو محض دکھاوے کے لیے اور اُن کے دل ایسے چھوٹے ہیں کہ ذرا ذرا سی چیزیں حاجت مندوںکو دیتے ہوئے بھی ان کا دل دُکھتا رہتا ہے۔
اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ آخرت کا یقین اسلام کی جان ہے۔ اس کے بغیر آدمی کبھی اس راستے پر چل ہی نہیں سکتا جو خدا کا سیدھا راستہ ہے۔غرض تم قرآن پاک کی جتنی سورتیں یا آیتیں نماز میں پڑھتے ہو وہ کوئی نہ کوئی اعلیٰ درجے کی نصیحت یا ہدایت تم کو دیتی ہیں، اور تمھیں بتاتی ہیں کہ خدا کے احکام کیا ہیں جن کے مطابق تمھیں دنیا میں عمل کرنا چاہیے۔
رکوع
ان ہدایتوں کو پڑھنے کے بعد تم اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع کرتے ہو۔ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اپنے مالک کے آگے جھکتے ہو اور بار بار کہتے ہو:
سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْعَظِیْمُ۔ ’’پاک ہے میرا پروردگار جو بڑا بزرگ ہے۔‘‘
پھر سیدھے کھڑے ہو جاتے ہو، اور کہتے ہو:
سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ۔ ’’اللہ نے سن لی اس شخص کی بات جس نے اس کی تعریف بیان کی۔‘‘
]اور پھر کہتے ہو: رَبَّنَا وَ لَکَ الْحَمْدُ۔ اے ہمارے ربّ !سب تعریف تیرے لیے ہے۔[
سجدہ
پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے میں گر جاتے ہو،ا ور بار بار کہتے ہو:
سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی۔ ’’پاک ہے میرا پروردگار جو سب سے بالاوبرتر ہے۔‘‘
التّحیات
پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سر اٹھاتے ہو، اور نہایت ادب سے بیٹھ کر یہ پڑھتے ہو:
اَلتّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَ الصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ، اَلسَّلَامُ عَلَیْناَ وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصّٰلِحِیْنَ ‘ اَشْھَدُ اَنْ لَّآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًاعَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔
’’ہماری سلامیاں، ہماری نمازیں، اور ساری پاکیزہ باتیں اللہ کے لیے ہیں۔ سلام آپ پر اَے نبیؐ اور اللہ کی رحمت اور برکتیں۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے سب نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘
یہ شہادت دیتے وقت تم شہادت کی انگلی اٹھاتے ہو، کیوں کہ یہ نماز میں تمھارے عقیدے کا اعلان ہے اور اس کو زبان سے ادا کرتے وقت خاص طور پر توجہ اور زور دینے کی ضرورت ہے۔
درُود
اس کے بعد تم درود پڑھتے ہو:
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَاَ نَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰٓی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَ عَلٰٓی آلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ اَللّٰھُمَّ بَا رِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰٓی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی آلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
خدایا! رحمت فرما ہمارے سردار اور مولیٰ محمدؐ اور ان کی آل پر جس طرح تو نے رحمت فرمائی ابراہیم ؑ اورآلِ ابراہیم ؑپر۔ یقیناً تو بہترین صفات والا اور بزرگ ہے۔ اور خدایا! برکت نازل فرما ہمارے سردار اورمولیٰ محمدؐ اور ان کی آل پر، جس طرح تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم ؑ اور آلِ ابراہیم ؑپر، یقیناً تو بہترین صفات والا اور بزرگ ہے۔
دُعا
یہ درُود پڑھنے کے بعد تم اللہ سے دعا کرتے ہو:
اَللّٰھُمَّ اِنّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَھَنَّمَ ، وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَا تِ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْمَاْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔
خدایا! میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس گمراہ کرنے والے دجّال کے فتنے سے جو زمین پر چھا جانے والا ہے اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے۔ خدایا! مَیں تیری پناہ مانگتا ہوں برے اعمال کی ذمہ داری اور قرض داری سے۔
سلام
یہ دعا پڑھنے کے بعد تمھاری نماز پوری ہو گئی۔ اب تم مالک کے دربار سے واپس ہوتے ہو، اور واپس ہو کر پہلا کام کیا کرتے ہو؟ یہ کہ دائیں اور بائیں مڑ کر تمام حاضرین اور دنیا کی ہر چیز کے لیے سلامتی اور رحمت کی دعا کرتے ہو:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔
گویا یہ بشارت ہے جو خدا کے دربار سے پلٹتے ہوئے تم دنیا کے لیے لائے ہو۔
یہ ہے وہ نماز جو تم صبح اٹھ کر دنیا کے کام کاج شروع کرنے سے پہلے پڑھتے ہو۔ پھر چند گھنٹے کام کاج میں مشغول رہنے کے بعد دوپہر کو خدا کے دربار میں حاضر ہو کر دوبارہ یہی نماز ادا کرتے ہو۔ پھر چند گھنٹوں کے بعد تیسرے پہر کو یہی نماز پڑھتے ہو۔ پھر چند گھنٹے مشغول رہنے کے بعد شام کو اسی نماز کا اعادہ کرتے ہو۔ پھر دنیا کے کاموں سے فارغ ہو کر سونے سے پہلے آخری مرتبہ اپنے مالک کے سامنے جاتے ہو۔ اس آخری نماز کا خاتمہ وتر پر ہوتا ہے جس کی تیسری رکعت میں تم ایک عظیم الشان اقرار نامہ اپنے مالک کے سامنے پیش کرتے ہو۔ یہ دعائے قنوت ہے۔ قنوت کے معنی ہیں خدا کے آگے ذلت وانکساری، اطاعت اور بندگی کا اقرار۔ یہ اقرار تم کن الفاظ میں کرتے ہو، ذرا غور سے سنو:
دعائے قنوت
اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَھْدِیَکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَنُؤْمِنُ بِکَ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ وَنُثْنِیْ عَلَیْکَ الْخَیْرَ کُلَّہٗ۔ نَشْکُرُکَ وَلَا نَکْفُرُکَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ۔ اَللّٰھُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّیْ وَنَسْجُدُ وَاِلَیْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ۔ نَرْجُوْا رَحْمَتَکَ وَنَخْشٰی عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ۔
خدایا! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔ تجھ سے ہدایت طلب کرتے ہیں۔ تجھ سے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں۔ تجھ پر ایمان لاتے ہیں۔ تجھ ہی پر بھروسا رکھتے ہیں۔ اور ساری تعریف تیرے ہی لیے خاص کرتے ہیں۔ ہم تیرا شکرادا کرتے ہیں، ناشکری نہیں کرتے۔ ہم ہر اس شخص کو چھوڑ دیں گے اور اس سے تعلق کاٹ دیں گے جو تیرا نافرمان ہو۔ خدایا! ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تیرے ہی لیے نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں اورہماری ساری کوششیں اور ساری دوڑ دھوپ تیری ہی خوشنودی کے لیے ہے۔ ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ یقیناً تیرا سخت عذاب ایسے لوگوں پر پڑے گا جو کافر ہیں۔
نماز اور تعمیر سیرت
برادرانِ اسلام! غور کرو، جو شخص دن میں پانچ مرتبہ اذان کی یہ آواز سنتا ہو، اور سمجھتا ہو کہ کیسی بڑی چیز کی شہادت دی جا رہی ہے اور کیسے زبردست بادشاہ کے حضور میں بلایا جا رہا ہے، اور جو شخص ہر مرتبہ اس پکار کو سن کر اپنے سارے کام کاج چھوڑ دے اور اس ذاتِ پاک کی طرف دوڑے جسے وہ اپنا اور تمام کائنات کا مالک جانتا ہے ، اور جو شخص ہر نماز سے پہلے اپنے جسم اور دل کو وضو سے پاک کرے، اور جو شخص کئی کئی بار نماز میں وہ ساری باتیں سمجھ بوجھ کر ادا کرے جو ابھی آپ کے سامنے میں نے بیان کی ہیں، کیوں کر ممکن ہے کہ اس کے دل میں خدا کا خوف پیدا نہ ہو؟ اس کو خدا کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شرم نہ آئے؟ اس کی روح گناہوں اور بدکاریوں کے سیاہ دھبے لے کر بار بار خدا کے سامنے ہوتے ہوئے لرز نہ اٹھے؟ کس طرح ممکن ہے کہ آدمی نماز میں خدا کی بندگی کا اقرار، اس کی اطاعت کا اقرار، اس کے مالکِ یوم الدین ہونے کا اقرار کرکے جب اپنے کام کاج کی طرف واپس آئے تو جھوٹ بولے؟ بے ایمانی کرے؟ لوگوں کے حق مارے؟ رشوت کھائے اور کھلائے؟ سود کھائے اور کھلائے، خدا کے بندوں کو آزار پہنچائے؟ فحش اور بے حیائی اور بدکاری کرے؟ اور پھر ان سب اعمال کا بوجھ لاد کر دوبارہ خدا کے سامنے حاضر ہونے اور انھی سب باتوں کا اقرار کرنے کی جرأت کر سکے؟ ہاں! یہ کیسے ممکن ہے کہ تم جان بوجھ کر خدا سے چھتیس{ FR 1616 }(۳۶) مرتبہ اقرار کرو کہ ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور پھر خدا کے سوا دوسروں کی بندگی کرو اور دوسروں کے آگے مدد کے لیے ہاتھ پھیلائو؟ ایک بار تم اقرار کرکے خلاف ورزی کرو گے تو دوسری مرتبہ خدا کے دربار میں جاتے ہوئے تمھارا ضمیر ملامت کرے گا اور شرمندگی پیدا ہو گی۔ دوسری بار خلاف ورزی کرو گے تو اور زیادہ شرم آئے گی، اور زیادہ دل اندر سے لعنت بھیجے گا۔ تمام عمر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ روزانہ پانچ پانچ مرتبہ نماز پڑھو اور پھر بھی تمھارے اعمال درست نہ ہوں؟ تمھارے اخلاق کی اصلاح نہ ہو؟ اور تمھاری زندگی کی کایا نہ پلٹے؟ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے نماز کی یہ خاصیت بیان فرمائی ہے کہ:
اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ۝۰ۭ (العنکبوت 29:45)
’’یقیناً نماز انسان کو بے حیائی اور بدکاری سے روکتی ہے۔‘‘
لیکن اگر کوئی ایسا ہے کہ اتنی زبردست اصلاح کرنے والی چیز سے بھی اس کی اصلاح نہیں ہوتی تو یہ اس کی طینت کی خرابی ہے، نماز کی خرابی نہیں۔ پانی اور صابن کا قصور نہیں، اس کی وجہ کوئلے کی اپنی سیاہی ہے۔
بھائیو! آپ کی نمازوں میں ایک بہت بڑی کمی ہے، اور وہ یہ ہے کہ آپ نماز میں جو کچھ پڑھتے ہیں اس کو سمجھتے نہیں۔ اگر آپ تھوڑا سا وقت صَرف کریں تو ان ساری دعائوں کا مطلب اردو میں، یا اپنی مادری زبان میں یاد کر سکتے ہیں۔ اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ جو کچھ آپ پڑھیں گے اسے سمجھتے بھی جائیں گے۔

٭…٭…٭

شیئر کریں