Search
Close this search box.

رسائل و مسائل

نمازوں کی بروقت ادایگی کی مشکلات

سوال

میرا سوال انگلستان میں نمازوں کے متعلق ہے۔صبح کی نماز کا وقت۶بج کر۳۸منٹ تک رہتا ہے۔یہ تو اﷲ کے فضل وکرم سے ادا کرلیتا ہوں ۔ ظہر کے لیے مشکل سے وقت ملتا ہے۔ساڑھے بارہ سے لے کر ڈیڑھ تک کھانے کے لیے وقت ملتاہے۔اسی ایک گھنٹے میں کلاس سے میس(mess) تک آنے جانے میں بھی وقت لگتا ہے اور اس میں وضو اور نماز کے لیے بھی وقت نکالتا ہوں ۔ لیکن بہت ہی دقت ہوتی ہے۔عصر کے لیے سرے سے وقت ملتا ہی نہیں ، کیوں کہ فرصت ساڑھے چار بجے ہوتی ہے اور ساڑھے چار بجے سے پانچ بجے تک ناشتہ ہوتا ہے اور۴بج کر۴۸منٹ پر مغرب ہوجاتی ہے۔ناشتے کے فوراً بعد مغرب تو ادا کرلیتا ہوں ،لیکن عصر رہ جاتی ہے۔ میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ ظہر اور عصر اور مغرب اور عشا کی نمازوں کو ملا کر پڑھنے کا کیا قاعدہ ہے۔ووکنگ مسجد کے امام صاحب بعض اوقات نمازوں کوملا کر پڑھتے ہیں ۔ یہاں ہم بارہ طلبہ آئے ہوئے ہیں ، جن میں سے مجھ سمیت کل پانچ لڑکے ایسے ہیں جو دین کا لحاظ رکھنا ضروری سمجھتے ہیں ، اور بقیہ ایسے ہیں کہ ہم کو طرح طرح سے بے وقوف بناتے ہیں ۔تاہم اﷲ کا شکر ہے کہ میں ان باتوں سے کبھی نہیں گھبراتا بلکہ صحیح بات معلوم کرکے اس پر عمل بھی کرنا چاہتا ہوں ۔ان مسائل پر میں نے ہمیشہ اﷲ کو حاضرو ناظر جان کر غور کیا ہے اور اس سے ہمیشہ یہی توقع رکھی ہے کہ وہ مجھے ضرور صحیح راستے کی طرف ہدایت دے گا،مگر بشری کمزوریوں کی وجہ سے ڈرتا ہوں کہ کوئی غلط صورت نہ اختیار کر بیٹھوں ۔اس لیے آپ سے یہ سوال کررہا ہوں ۔

جواب

نمازوں کے بارے میں جس مشکل کا آپ نے ذکر کیا ہے،اس کا حل یہ ہے کہ ظہر کی نماز میں اگر سنتیں ادا کرنے کا وقت نہ مل سکے تو صرف فرض پڑھ لیا کریں ،اور عصر کے لیے وقت ملنے کی اگرکوئی صورت ممکن نہ ہو تومغرب کے ساتھ قضا پڑھ لیا کریں ۔دو وقت کی نمازوں کو ملا کر پڑھنے کے معاملے میں اختلاف ہے۔ایک گروہ اس بات کا قائل ہے کہ ظہر او رمغرب کے آخری وقتوں میں عصر کو ظہر کے ساتھ اور عشا کو مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھا جاسکتا ہے،اور دوسرا گروہ اس بات کا قائل ہے کہ ایک وقت کی نماز کے ساتھ دوسرے وقت کی نماز پیشگی بھی پڑھی جاسکتی ہے۔ لیکن اس بات کو قریب قریب تما م علماے اہل سنت نے ناجائز قرار دیا ہے کہ کوئی شخص دو وقت کی نمازوں کو ملا کر پڑھنے کی عادت بنالے۔کیوں کہ اس طرح تو عملاًپانچ وقت کے تین وقت ہی بن کر رہ جاتے ہیں ۔ لہٰذا آپ اس سے تو پرہیز کریں ،البتہ جب کبھی عصر کی نماز پڑھنا ممکن نہ ہو،اسے قضا پڑھ لیا کریں ۔
مجھے افسوس ہے کہ ہماری حکومت جن لوگوں کو تعلیم وتربیت کے لیے باہر بھیجتی ہے،ان کی مذہبی ضروریات کے لیے کوئی اہتمام نہیں کرتی۔اگر سرکاری طور پر اس کی فکر کی جاتی تو انگلستان میں ہمارے طلبہ کے لیے حلال غذا کا بھی انتظام ہوسکتا تھا اور نمازوں کے لیے بھی ان کو وقت دلوایا جاسکتا تھا۔ (ترجمان القرآن، دسمبر۱۹۵۰ء)