Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

شہادتِ امام حسین
مقصدِ شہادت
ریاست کے مزاج، مقصد اور دستور کی تبدیلی
نقطۂِ انحراف
اِنسانی بادشاہی کا آغاز
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا تعطّل
اسلامی دستور کے بنیادی اصول
آزادانہ انتخاب
شُورائی نظام
اظہار رائے کی آزادی
خدا اور خلق کے سامنے جواب دہی
بیت المال۔ ایک امانت
قانون کی حکومت
حقوق اور مراتب کے لحاظ سے کامل مساوات
امام حسین ص کا مومنانہ کردار

شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ

اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

نقطۂِ انحراف

اس چیز کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے ہمیں دیکھنا چاہیے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدینؓ کی سربراہی میں ریاست کا جو نظام چالیس سال تک چلتا رہا تھا اس کے دستور کی بنیادی خصوصیات کیا تھیں، اور یزید کی ولی عہدی سے مسلمانوں میں جس دُوسرے نظامِ ریاست کا آغاز ہوا، اس کے اندر کیا خصوصیات دولتِ بنی امیہ و بنی عباس اور بعد کی بادشاہیوں میں ظاہر ہوئیں، اسی تقابل سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ یہ گاڑی پہلے کِس لائن پر چل رہی تھی، اور اس نقطۂِ انحراف پر پہنچ کر آگے وہ کس لائن پر چل پڑی۔ اور اسی تقابل سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جس شخص نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور سیدۂ فاطمہؓ اور حضرت علیؓ کی آغوش میں تربیت پائی تھی‘ اور جس نے صحابہؓ کی بہترین سوسائٹی میں بچپن سے بڑھاپے تک کی منزلیں طے کی تھیں، وہ کیوں اس نقطۂِ انحراف کے سامنے آتے ہی گاڑی کو اُس نئی لائن پر جانے سے روکنے کے لیے کھڑا ہو گیا، اور کیوں اس نے اس بات کی بھی پروا نہ کی کہ اس زوردار گاڑی کا رُخ موڑنے کے لیے اس کے آگے کھڑے ہو جانے کا کیا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

شیئر کریں