Search
Close this search box.

رسائل و مسائل

نقدی، سونا، چاندی اورجواہرات پر زکاۃ

سوال

کن کن اثاثوں اور چیزوں پر اور موجودہ سماجی حالت کے پیش نظر کن کن حالات میں زکاۃواجب ہوتی ہے؟بالخصوص نقدی، سونا،چاندی،زیورات او رجواہرات کے بارے میں زکاۃ کی کیا صورت ہوگی؟

جواب

شریعت میں جو اشیا محل زکاۃ ہیں وہ حسب ذیل ہیں :زرعی پیداوار فصل کٹنے کے بعد، سونا چاندی جب کہ وہ سال کے آغاز واختتام پر بقدر نصاب یا اس سے زائد موجود ہوں ، اسی طرح نقد روپیا جو سونے چاندی کا قائم مقام ہو،مواشی جب کہ وہ افرائش نسل کے لیے پالے گئے ہوں اور سال کے آغاز واختتام پر وہ بقدر نصاب ہوں ،اموال تجارت،جب کہ وہ سال کے آغاز واختتام پر بقدر نصاب ہوں ،معادن ورِکاز۔
نقدی،سونے چاندی اور زیورات پر زکاۃہے۔ زیور کی زکاۃ میں صرف اُس سونے یاچاندی کے وزن کا اعتبار کیا جائے گا جو ان میں موجود ہو۔ جواہر خواہ زیور میں جڑے ہوئے ہوں یا کسی اور صورت میں ہوں ،زکاۃسے مستثنیٰ ہیں ۔البتہ اگر کوئی شخص جواہرکی تجارت کرتا ہو تو اُس پر وہی زکاۃعائد ہوگی جو دوسرے اموال تجارت پر ہے،یعنی ان کی قیمت کا ڈھائی فی صدی۔الفقہ علی المذاھب الاربعۃمیں لکھا ہے:’’موتی،یاقوت اور دوسرے تمام جواہر پر زکاۃ واجب نہیں ہے جب کہ وہ تجارت کے لیے نہ ہوں ۔اس پر تمام مذاہب کا اتفاق ہے۔‘‘({ FR 2041 }) (ترجمان القرآن،نومبر ۱۹۵۰ء)