Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

اِسلام اور جاہلیت
زندگی کے بنیادی مسائل
خالص جاہلیت
۱۔ شرک
۲۔ رَہبانیت
۳۔ ہمہ اُوست
انبیا ؑ کا نظریّۂ کائنات وانسان
نظریّۂ اِسلامی کی تنقید
اب اجتماعی پہلو میں دیکھیے:

اسلام اور جاہلیت

اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

نظریّۂ اِسلامی کی تنقید

دُنیا اور انسان کے متعلق یہ نظریہ جو پیغمبروں نے پیش کیا ہے، ایک مکمل نظریہ ہے۔ اس کے تمام اجزا میں ایک منطقی ربط ہے، کوئی جز دوسرے جز سے متناقض نہیں ہے۔ اس سے تمام واقعاتِ عالم کی پوری توجیہہ اور آثار کائنات کی پوری تعبیر ملتی ہے۔ کوئی ایک چیز بھی مشاہدے یا تجربے میں ایسی نہیں آتی جس کی توجیہہ اس نظریے سے نہ کی جا سکتی ہو۔ لہٰذا یہ ایک علمی نظریہ (scientific theory) ہے۔ ’’علمی نظریے‘‘ کی جو تعریف بھی کی جائے وہ اس پر صادق آتی ہے۔
پھر کوئی مشاہدہ یا تجربہ آج تک ایسا نہیں ہوا جس سے یہ نظریہ ٹوٹ جاتا ہو۔ لہٰذا یہ اپنی جگہ پر قائم ہے۔ ٹوٹے ہوئے نظریات میں اسے شمار نہیں کیا جا سکتا۔ { کسی زمانے کے علمی نظریات کا اس کے خلاف ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ یہ نظریہ ٹوٹ گیا ہے۔ ایک علمی نظریے کو صرف حقائق (Facts) توڑ سکتے ہیں نہ کہ نظریات۔ لہٰذا جب تک یہ نہ بتایا جائے کہ انبیاء کے پیش کیے ہوئے اس تصوّر کائنات وانسان کو کس ثابت شدہ حقیقت نے غلط ثابت کر دیا ہے، اسے ٹوٹے ہوئے نظریات میں شمار کرنا قطعاً ایک غیر علمی اور متعصبانہ ادّعا ہے۔ }
پھر نظامِ عالم کا جو مشاہدہ ہم کرتے ہیں اس سے یہ نظریہ نہایت اَغلب (most probable) نظر آتا ہے۔ کائنات میں جو زبردست تنظیم پائی جاتی ہے اسے دیکھ کر یہ کہنا زیادہ قرینِ دانش ہے کہ اس کا کوئی ناظم ہے، بہ نسبت اس کے کہ کوئی ناظم نہیں ہے۔ اسی طرح اس تنظیم کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکالنا زیادہ معقول ہے کہ یہ مرکزی نظام ہے اور ایک ہی مختار کل اس کا ناظم ہے، بہ نسبت اس کے کہ یہ لامرکزی نظام ہے اور بہت سے ناظموں کے ماتحت چل رہا ہے۔ اسی طرح جو حکمت کی شان اس کائنات کے نظام میں علانیہ محسوس ہوتی ہے اُسے دیکھ کر یہ رائے قائم کرنا زیادہ قریب از عقل ہے کہ یہ حکیمانہ اور بامقصد نظام ہے، بہ نسبت اس کے کہ بے مقصد ہے اور محض بچے کا کھیل ہے۔
پھر جب ہم اس حیثیت سے غور کرتے ہیں کہ اگر واقعی یہ نظامِ کائنات ایک سلطنت ہے اور انسان اس نظام کا ایک جز ہے تو یہ بات ہمیں سراسر معقول معلوم ہوتی ہے کہ اس نظام میں انسان کی خود مختاری وغیر ذمہ داری کے لیے کوئی جگہ نہ ہونی چاہیے۔ اس لحاظ سے یہ ہمیں نہایت معقول (most reasonable) نظریہ معلوم ہوتا ہے۔
پھر جب عملی نقطۂ نظر سے ہم دیکھتے ہیں تو یہ بالکل ایک قابلِ عمل نظریہ ہے۔ زندگی کی ایک پور ی اسکیم اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ اس نظریے پر بنتی ہے۔ فلسفہ اور اَخلاق کے لیے، علوم وفنون کے لیے، صلح وجنگ اور بین الاقوامی تعلقات کے لیے، غرض زندگی کے ہر پہلو اور ہر ضرورت کے لیے یہ ایک مستقل بنیاد فراہم کرتا ہے اور کسی شعبۂ زندگی میں بھی انسان کو اپنا رویّہ متعین کرنے کے لیے اس نظریے سے باہر جانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
اب ہمیں صرف یہ دیکھنا باقی رہ گیا ہے کہ اس نظریے سے دُنیا کی زندگی میں کس قسم کا رویّہ بنتا ہے اور اس کے نتائج کیا ہیں؟
انفرادی زندگی میں یہ نظریہ دوسرے جاہلی نظریات کے برعکس ایک نہایت ذمہ دارانہ اور نہایت منضبط رویّہ (discipline) پیدا کرتا ہے۔ اس نظریے پر ایمان لانے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی اپنے جسم اور اس کی طاقتوں اور دُنیا اور اس کی کسی چیز کو بھی اپنی ملک سمجھ کر خودمختارانہ استعمال نہ کرے بلکہ خدا کی ملک سمجھ کر صرف اس کے قانون کی پابندی میں استعمال کرے۔ ہر چیز کو جو اُسے حاصل ہے خدا کی امانت سمجھے اور یہ سمجھتے ہوئے اس میں تصرّف کرے کہ مجھے اس امانت کا پورا حساب دینا ہے، اور حساب بھی اسے دینا ہے جس کی نظر سے میرا کوئی فعل بلکہ کوئی دل میں چھپا ہوا ارادہ تک پوشیدہ نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا شخص ہر حال میں ایک ضابطے کا پابند ہو گا۔ وہ خواہشات کی بندگی میں کبھی شتر بے مہار نہیں بن سکتا۔ وہ ظالم اور خائن نہیں ہو سکتا۔ اس کی سیرت پر کامل اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ وہ ضابطے کی پابندی کے لیے کسی خارجی دبائو کا محتاج نہیں ہوتا۔ اس کے اپنے نفس میں ایک زبردست اَخلاقی انضباط پیدا ہو جاتا ہے جو اسے ان مواقع پر بھی راستی اور حق پر قائم رکھتا ہے جہاں اسے کسی دنیوی طاقت کی باز پُرس کا خطرہ نہیں ہوتا۔ یہ خدا کا خوف اور امانت کا احساس وہ چیز ہے جس سے بڑھ کر سوسائٹی کو قابلِ اعتماد افراد فراہم کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ تصوّر میں نہیں آ سکتا۔
مزید برآں یہ نظریّہ آدمی کو نہ صرف سعی وجہد کا آدمی بناتا ہے، بلکہ اس کی سعی وجہد کوخود غرضی، نفس پرستی، یا قوم پرستی کے بجائے حق پرستی اور بلند تر اَخلاقی مقاصد کی راہ پر لگا دیتا ہے۔ جو شخص اپنے متعلق یہ رائے رکھتا ہو کہ میں دُنیا میں بے کار نہیں آیا ہوں بلکہ خدا نے مجھے کام کرنے کے لیے یہاں بھیجا ہے، اور میری زندگی اپنے لیے یا اپنے دوسرے متعلقین کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کام کے لیے ہے جس میں خدا کی رضا ہو، اور مَیں یوں ہی چھوڑا نہ جائوں گا، بلکہ مجھ سے پورا حساب لیا جائے گا کہ مَیں نے اپنے وقت کا اور اپنی قوتوں کا کتنا اورکس طرح استعمال کیا، ایسے شخص سے زیادہ کوشش کرنے والا اور نتیجہ خیز اور صحیح کوشش کرنے والا آدمی اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یہ نظریہ ایسے بہتر افراد پیدا کرتا ہے کہ ان سے بہتر انفرادی رویّے کا تصوّر کرنا مشکل ہے۔

شیئر کریں