مقننہ (Legislature) وہی چیز ہے جسے ہمارے ہاں کی قدیم اصطلاح میں ’’اہل الحل والعقد‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے معاملے میں یہ بات بالکل صاف ہے کہ جو ریاست اللہ اور رسولﷺ کی قانونی حاکمیّت مان کر بنائی گئی ہو، اس کی مقننہ کتاب اللہ وسنت رسولؐ اللہ کی ہدایات کے خلاف اپنے اجماع سے بھی کوئی قانون سازی کرنے کی مجاز نہیں ہو سکتی۔ ابھی میں آپ کو قرآن کا یہ فیصلہ سنا چکا ہوں کہ ’’کسی مومن مرد اور عورت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اللہ اور رسولؐ جس معاملے کا فیصلہ کر چکے ہوں اس میں ان کو پھر خود کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار باقی رہے۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔‘‘ ان احکام کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اللہ اور رسولؐ کے خلاف کوئی قانون سازی کرنا مجلسِ قانون ساز کے حدودِ اختیار سے باہر ہو، اور ہر ایسا قانون اگر وہ لیجسلیچر پاس بھی کر دے‘ تو لازماً حدودِ دستور سے متجاوز(Ultra Vires of the Constitution) قرار پائے۔
اس سلسلے میں یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ پھر اسلامی ریاست میں مقننہ کا کام ہی کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں مقننہ کے کئی کام ہیں:۔
(۱) جن معاملات میں اللہ اور رسولؐ کے واضح اور قطعی احکام موجود ہیں ان میں اگرچہ مقننہ کوئی ردوبدل نہیں کر سکتی، مگر یہ کام مقننہ ہی کا ہے کہ ان کے نفاذ کے لیے ضروری قواعد و ضوابط (Rules and Regulations) مقرر کرے۔
(۲) جن معاملات میں کتاب و سنت کے احکام ایک سے زیادہ تعبیرات کے متحمل ہوں۔ ان میں مقننہ ہی یہ طے کرے گی کہ کون سی تعبیر کو قانونی شکل دی جائے اس غرض کے لیے ناگزیر ہے کہ مقننہ ایسے اہل علم پر مشتمل ہو جو تعبیر احکام کی اہلیت رکھتے ہوں، ورنہ ان کے غلط فیصلے شریعت کو مسخ کر ڈالیں گے۔ لیکن یہ سوال رائے دہندوں کی صلاحیت انتخاب سے تعلق رکھتا ہے، اصولاً یہ ماننا پڑے گا کہ قانون سازی کی اغراض کے لیے مقننہ ہی مختلف تعبیرات میں سے ایک کو ترجیح دینے کی مجاز ہے اور اسی کی تعبیر قانون بنے گی، بشرطیکہ وہ تعبیر کی حد سے گزر کر تحریف کی حد تک نہ پہنچ جائے۔
(۳) جن معاملات میں احکام موجود ہوں ان میں مقننہ کا کام یہ ہے کہ اسلام کے اصول عامہ کو پیش نظر رکھ کر نئے قوانین وضع کرے، یا اگر ان کے بارے میں پہلے سے مدّون کیے ہوئے قوانین کتبِ فقہ میں موجود ہوں تو ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرے۔
(۴) جن معاملات میں کوئی اصولی رہنمائی بھی نہ ملتی ہو ان میں یہ سمجھا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قانون سازی میں آزاد چھوڑ دیا ہے۔ اس لیے ایسے معاملات میں مقننہ ہر طرح کے مناسب قوانین بنا سکتی ہے، بشرطیکہ وہ کسی شرعی حکم یا اصول سے متصادم نہ ہوتے ہوں۔ اس معاملے میں اصول یہ ہے کہ جو کچھ ممنوع نہیں ہے وہ مباح ہے۔
یہ چاروں قاعدے ہم کو سنت رسولؐ اور تعامل خلفائے راشدینؓ اور مجتہدینِ امت کی آراء سے معلوم ہوتے ہیں، اور اگر ضرورت ہو تو میں ان میں سے ہر ایک کا ماخذ بتا سکتا ہوں، لیکن میرا خیال یہ ہے کہ جو شخص اسلامی ریاست کے بنیادی اصول سمجھ لے اسے خود عقل عام Common-Sense بھی یہ بتا سکتی ہے کہ اس طرز کی ریاست میں مقننہ کے یہی حدودِ عمل ہونے چاہییں۔