اس معاملے میں خدا کا نقطۂ نظر، انسانوں کے نقطۂ نظر سے، اسی طرح مختلف ہے جس طرح خود انسانوں میں، ایک باغ کے مالک کا نقطۂ نظر، اس کے مالی کے نقطۂ نظر سے مختلف ہوا کرتا ہے۔ فرض کیجیے کہ مالیوں کا ایک خاندان، دو چار پشت سے ایک شخص کے باغ میں کام کرتا چلا آ رہا ہے۔ ان کا کوئی دادا پر دادا، اپنی لیاقت و قابلیت کی وجہ سے یہاں رکھا گیا تھا۔ پھر اُس کی اولاد نے بھی اچھا کام کیا۔ مالک نے سوچا کہ خواہ مخواہ انھیں ہٹانے اور نئے آدمی رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ جب کام یہ بھی اچھا ہی کر رہے ہیں تو ان کا حق ہے کہ انھیں برقرار رکھ لیتے ہیں۔
اس کے برعکس اگر وہ سِرے سے نہایت نالائق، بے سلیقہ، کام چور اور نافرض شناس ثابت ہوئے ہیں، باغ بانی کی کوئی صلاحیت ان کے اندر نہیں ہے، سارے باغ کا ستیاناس کیے ڈالتے ہیں اور اس پر ان کا دعوٰی ہے کہ ہم باپ دادا کے وقتوں سے اس باغ میں رہتے چلے آتے ہیں، ہمارے پردادا ہی کے ہاتھوں، اوّل اوّل یہ باغ آباد ہوا تھا، لہٰذا، ہمارے اس پر پیدائشی حقوق ہیں، اور اب کسی طرح یہ جائز نہیں کہ ہمیں بے دخل کر کے، کسی دوسرے کو یہاں کا مالی بنا دیا جائے۔ یہ ان نالائق مالیوں کا نقطۂ نظر ہے، مگر کیا باغ کے مالک کا نقطۂ نظر بھی یہی ہو سکتا ہے؟ کیا وہ یہ نہ کہے گا کہ میرے نزدیک تو سب سے مقدم چیز میرے باغ کا حسنِ انتظام ہے۔ مَیں نے یہ باغ تمھارے پردادا کے لیے نہیں لگایا تھا، بلکہ تمھارے پردادا کو اس باغ کے لیے نوکر رکھا تھا۔ تمھارے، اس باغ پر جو حقوق بھی ہیں، خدمت اور قابلیت کے ساتھ مشروط ہیں۔ باغ کو بنائو گے تو تمھارے سب حقوق کا لحاظ کیا جائے گا۔ اپنے پرانے مالیوں سے آخر مجھے کیا دشمنی ہو سکتی ہے کہ وہ کام اچھا کریں، تب بھی انھیں خواہ مخواہ نکال ہی دوں اور نئے امیدواروں کا بِلا ضرورت تجربہ کروں۔ لیکن اگر اس باغ ہی کو تم بگاڑتے اور اجاڑتے رہو، جس کے انتظام کی خاطر تمھیں رکھا گیا ہے تو پھر تمھارا کوئی حق مجھے تسلیم نہیں ہے۔ دوسرے امیدوار موجود ہیں، باغ کا انتظام ان کے حوالے کر دوں گا اور تمھیں، اُن کے ما تحت پیشِ خدمت بن کر رہنا ہو گا۔ اس پر بھی اگر تم درست نہ ہوئے اور ثابت ہوا کہ ماتحت کی حیثیت سے بھی، تم کسی کام کے نہیں ہو، بلکہ کچھ بگاڑنے ہی والے ہو، تو تمھیں یہاں سے نکال باہر کیا جائے گا اور تمھاری جگہ، خدمت گار بھی دُوسرے ہی لا کر بسائے جائیں گے۔