Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

عرضِ ناشر
جدید ایڈیشن
مقدمہ
۱ اِلٰہ: لغوی تحقیق
اہلِ جاہلیت کا تصورِ اِلٰہ
اُلوہیّت کے باب میں ملاک اَمر
قرآن کا استدلال
۲ رَبّ: لغوی تحقیق
قرآن میں لفظ ’’رَبّ‘‘ کے استعمالات
ربُوبیّت کے باب میں گم راہ قوموں کے تخیلات
قومِ نوحؑ
قومِ عاد
قومِ ثمود
قومِ ابراہیم ؑونمرود
قومِ لُوطؑ
قومِ شعیبؑ
فرعون اور آلِ فرعون
یہود ونصارٰی
مشرکینِ عرب
قرآن کی دعوت
۳ عبادت: لغوی تحقیق
لفظِ عباد ت کا استعمال قرآن میں
عبادت بمعنی اطاعت
عبادت بمعنی پرستش
مثالیں
عبادت بمعنی بندگی واطاعت وپرستش
۴ دین: لغوی تحقیق
قرآن میں لفظِ ’’دین‘‘ کا استعمال
دین بمعنی اوّل ودُوُم
دین بمعنی سوم
دین بمعنی چہارم
دین ایک جامع اصطلاح

قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں

اُمت مسلمہ کے زوال کے اسباب پر اگرغور کیا جائے تو اس میں سر فہرست یہ سبب نظر آئے گا کہ اس نے قرانی تعلیمات کو فراموش کر دیا اور اس کی انقلابی دعوت سے نا آشنا ہوگئی۔ آج اگر ہم قرآن مجید کو پڑھتے ہیں تو اس کے معانی ومفہوم سے بے خبر اور محض رسماً۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے دکھوں کا علاج اور ترقی کا زینہ دنیا بھر کے افکار ونظریات میں تلاش کرتے ہیں لیکن خود نسخہ شفا سے استفادہ نہیں کرتے یا استفادے کی اہلیت نہیں رکھتے جواللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے نازل کیا ہے۔ مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒنے اس کتاب کو لکھ کر قرآن کی اس ہی انقلابی دعوت کو واضح کیا ہے۔ جس نے اونٹوں کی نکیل پکڑنے والوں کو دنیا کا امام بنا دیا تھا اور اس کے ذریعے سے فہم قرآن کی راہ کو آسان بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مولانا موصوف کو علوم قرانی میں جوگہری بصیرت عطا فرمائی ہے۔ یہ کتاب اس کی پوری طرح آئنہ دارہے۔

قرآن کا استدلال

یہی اقتدار کا تصور ہے جس کی بنیاد پر قرآن اپنا سارا زور غیر اللہ کی اِلٰہیّت کے انکار اور صرف اللہ کی الٰہیّت کے اثبات پر صرف کرتا ہے۔ اس کا استدلال یہ ہے کہ زمین اور آسمان میں ایک ہی ہستی تمام اختیارات واقتدارات کی مالک ہے۔ خلق اسی کی ہے، نعمت اسی کی ہے، امر اسی کا ہے، قوت اور زور بالکل اسی کے ہاتھ میں ہے۔ ہر چیز چار وناچار اسی کی اطاعت کر رہی ہے، اس کے سوا نہ کسی کے پاس کوئی اقتدار ہے، نہ کسی کا حکم چلتا ہے، نہ کوئی خلق اور تدبیر اورانتظام کے رازوں سے واقف ہے اور نہ کوئی اختیاراتِ حکومت میں ذرّہ برابر شریک وحصہ دار ہے۔ لہٰذااس کے سوا حقیقت میں کوئی الٰہ نہیں ہے، اور جب حقیقت میں کوئی دوسرا الٰہ نہیں ہے تو تمھارا ہر وہ فعل جو تم دوسروں کو الٰہ سمجھتے ہوئے کرتے ہو، اصلاً غلط ہے، خواہ وہ دعا مانگنے یا پناہ ڈھونڈنے کا فعل ہو، یا سفارشی بنانے کا فعل ہو، یا حکم ماننے اور اطاعت کرنے کا فعل ہو۔ یہ تمام تعلقات جو تم نے دوسروں سے قائم کر رکھے ہیں صرف اللہ کے لیے مخصوص ہونے چاہئیں، کیوں کہ وہی اکیلا صاحبِ اقتدار ہے۔
اس باب میں قرآن جس طریقہ سے استدلال کرتا ہے وہ اسی کی زبان سے سنیے:
وَہُوَالَّذِيْ فِي السَّمَاۗءِ اِلٰہٌ وَّفِي الْاَرْضِ اِلٰہٌ۝۰ۭ وَہُوَالْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُo
(الزخرف۴۳:۸۴)
وہی ہے جو آسمان میں بھی الٰہ ہے اور زمین میں بھی الٰہ ہے، اور وہی حکیم اور علیم ہے( یعنی آسمان وزمین میں حکومت کرنے کے لیے جس علم اور حکمت کی ضرورت ہے وہ اسی کے پاس ہے)
اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ۝۰ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَo …… وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَـيْـــًٔـا وَّہُمْ يُخْلَقُوْنَo…… اِلٰـہُكُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ۝۰ۚ
(النحل۱۶: ۱۷۔۲۰۔۲۲)
تو کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اور جو پیدا نہیں کرتا، دونوں یکساں ہو سکتے ہیں؟ کیا تمھاری سمجھ میں اتنی بات نہیں آتی؟… خدا کو چھوڑ کر یہ جن دوسروں کو پکارتے ہیں وہ تو کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کرتے، بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں… تمھارا الٰہ توایک ہی الٰہ ہے۔
يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَيْكُمْ۝۰ۭ ہَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللہِ يَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ۝۰ۭ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۝۰ۡۖ فَاَنّٰى تُـؤْفَكُوْنَo (الفاطر۳۵: ۳)
لوگو! تم پر اللہ کا جو احسان ہے اس کا دھیان کرو۔ کیا اللہ کے سوا کوئی دوسرا خالق ہے جو تمھیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو؟ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ پھر تم کدھر بھٹکائے جا رہے ہو؟
قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللہُ سَمْعَكُمْ وَاَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلٰي قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰہٌ غَيْرُ اللہِ يَاْتِيْكُمْ بِہٖ۝۰ۭ (الانعام۶:۴۶)
کہو تم نے کبھی سوچا کہ اللہ تمھاری سننے اور دیکھنے کی قوتیں سلب کر لے اور تمھارے دلوں پر مہر کر دے (یعنی عقل چھین لے) تو اللہ کے سوا کون سا الٰہ ہے جو یہ چیزیں تمھیں لا دے گا؟
وَہُوَاللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۝۰ۭ لَہُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَالْاٰخِرَۃِ۝۰ۡوَلَہُ الْحُكْمُ وَاِلَيْہِ تُرْجَعُوْنَo قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللہُ عَلَيْكُمُ الَّيْلَ سَرْمَدًا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ مَنْ اِلٰہٌ غَيْرُ اللہِ يَاْتِيْكُمْ بِضِيَاۗءٍ۝۰ۭ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَo قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللہُ عَلَيْكُمُ النَّہَارَ سَرْمَدًا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ مَنْ اِلٰہٌ غَيْرُ اللہِ يَاْتِيْكُمْ بِلَيْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِيْہِ۝۰ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَo (القصص۲۸: ۷۰۔ ۷۲)
اور وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی دوسرا الٰہ نہیں ہے۔ اسی کے لیے تعریف ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور وہی اکیلا صاحبِ حکم واقتدار ہے اور اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو۔ کہو تم نے کبھی غور کیا کہ اگر اللہ تم پر ہمیشہ کے لیے روزِ قیامت تک رات طاری کر دے تو اس کے سوا کون سا دوسرا الٰہ ہے جو تمھیں روشنی لا دے گا؟ کیا تم سنتے نہیں ہو؟ کہو تم نے کبھی اس پر غور کیا کہ اگر تمھارے اوپر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے تو اس کے سوا اور کون سا الٰہ ہے جو تمھیں رات لا دے گا کہ اس میں تم سکون حاصل کرو؟ کیا تمھیں نظر نہیں آتا؟
قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَمَا لَہُمْ فِيْہِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِيْرٍo وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ۝۰ۭ (سبا۳۴: ۲۲۔۲۳)
کہو کہ اللہ کے سوا تم نے جن کو کچھ سمجھ رکھا ہے انھیں پکار دیکھو، وہ نہ آسمانوں میں ذرّہ برابر کسی چیز کے مالک ہیں اور نہ زمین میں، نہ آسمان وزمین کے انتظام میں ان کی کوئی شرکت ہے، نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے، اور نہ اللہ کے ہاں کوئی سفارش کام آتی ہے بجز اس کے جس کے حق میں اللہ خود ہی سفارش کی اجازت دے۔
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَـقِّ۝۰ۚ يُكَوِّرُ الَّيْلَ عَلَي النَّہَارِ وَيُكَوِّرُ النَّہَارَ عَلَي الَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ۝۰ۭ كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى۝۰ۭ …… خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَۃَ اَزْوَاجٍ۝۰ۭ يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّہٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ۝۰ۭ ذٰلِكُمُ اللہُ رَبُّكُمْ لَہُ الْمُلْكُ۝۰ۭ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۝۰ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَo (الزمر۳۹: ۵۔۶)
اُس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ وہ رات کو دن پراور دن کو رات پر چڑھا کر لاتا ہے، اُس نے سورج اور چاند کو تابع کر رکھا ہے اور ہر ایک اپنی مدتِ مقررہ تک چل رہا ہے… اس نے ایک نفس سے تمھاری پیدائش کی ابتدا کی (یعنی انسانی زندگی کا آغاز کیا) پھر اسی نفس سے اس کا جوڑا بنایا اور تمھارے لیے مویشیوں کے آٹھ جوڑے اتارے۔ وہ تمھیں تمھاری مائوں کے پیٹ میں اسی طرح پیدا کرتا ہے کہ تین { FR 7426 } پردوں کے اندر تمھاری تخلیق کے یکے بعد دیگرے کئی مدارج طے ہوتے ہیں۔ یہی اللہ تمھارا ربّ ہے۔ اقتدارِ حکومت اسی کا ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ پھر تم کدھر سے پھرائے جا رہے ہو؟
اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً۝۰ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِہٖ حَدَاۗىِٕقَ ذَاتَ بَہْجَۃٍ۝۰ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَـرَہَا۝۰ۭ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللہِ۝۰ۭ بَلْ ہُمْ قَوْمٌ يَّعْدِلُوْنَo اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّجَعَلَ خِلٰلَہَآ اَنْہٰرًا وَّجَعَلَ لَہَا رَوَاسِيَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا۝۰ۭ ءَاِلٰہٌ مَّعَ اللہِ۝۰ۭ بَلْ اَكْثَرُہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَo اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ۝۰ۭ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللہِ۝۰ۭ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَo اَمَّنْ يَّہْدِيْكُمْ فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ يُّرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِہٖ۝۰ۭ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللہِ۝۰ۭ تَعٰلَى اللہُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَo اَمَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُہٗ وَمَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ۝۰ۭ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللہِ۝۰ۭ قُلْ ہَاتُوْا بُرْہَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَo
(النمل۲۷: ۶۰۔۶۴)
کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمھارے لیے آسمان سے پانی برسایا پھر وہ خوش منظر باغ اگائے جن کے درخت اگانا تمھارے بس میں نہ تھا؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور اِلٰہ ان کاموں میں شریک ہے؟ مگر یہ لوگ حقیقت سے منہ موڑتے ہیں۔ پھر وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں دریا جاری کیے اور اس کے لیے پہاڑوں کو لنگر بنایا اور دو سمندروں کے درمیان پردہ حائل کیا؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور اِلٰہ ان کاموں میں شریک ہے۔ مگر اکثر مشرکین بے علم ہیں۔ پھر وہ کون ہے جو اضطرار کی حالت میں آدمی کی دعا سنتا ہے اور تکلیف دور کرتا ہے؟ اور وہ کون ہے جو تم کو زمین میں خلیفہ بناتا ہے؟ (تصرّف کے اختیارات دیتا ہے) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور اِلٰہ ان کاموں میں بھی شریک ہے؟ مگر تم کم ہی دھیان کرتے ہو۔ پھر وہ کون ہے جو تم کو خشکی اور تری کے اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے اور اپنی رحمت (یعنی بارش) سے پہلے خوش خبری لانے والی ہوائیں بھیجتا ہے؟ کیا اللہ کے سوا کوئی اور اِلٰہ ان کاموں میں بھی شریک ہے؟ اللہ بالاتر ہے ان کے اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں۔ پھر وہ کون ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا اور اس کا اعادہ کرتا ہے؟ اور کون تمھیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور اِلٰہ ان کاموں میں بھی شریک ہے؟ کہو اگر تم اپنے شرک میں سچے ہو تو اس پر دلیل لائو۔ { FR 7427 }
الَّذِيْ لَہٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّہُ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَہٗ تَقْدِيْرًاo وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِہَۃً لَّا يَخْلُقُوْنَ شَـيْـــــًٔا وَّہُمْ يُخْلَقُوْنَ وَلَا يَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِہِمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا وَّلَا يَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّلَا حَيٰوۃً وَّلَا نُشُوْرًاo (الفرقان۲۵: ۲۔۳)
وہ جو آسمانوں اور زمین کی حکومت کا مالک ہے اور جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا اور اقتدارِ حکومت میں جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور ہر چیز کے لیے پورا پورا اندازہ مقرر کیا۔ لوگوں نے اسے چھوڑ کر ایسے اِلٰہ بنا لیے ہیں جو کسی کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں، جو خود اپنی ذات کے لیے بھی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے اور جنھیں موت اور زندگی اور دوبارہ پیدائش پر کسی قسم کا اقتدار حاصل نہیں ہے۔
بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۭ اَنّٰى يَكُوْنُ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَكُنْ لَّہٗ صَاحِبَۃٌ۝۰ۭ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ۝۰ۚ وَہُوَبِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌo ذٰلِكُمُ اللہُ رَبُّكُمْ۝۰ۚ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۝۰ۚ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوْہُ۝۰ۚ وَہُوَعَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌo (الانعام۶: ۱۰۱۔۱۰۲)
آسمان وزمین کو عدم سے وجود میں لانے والا۔ اس کا کوئی بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جب کہ اس کی کوئی بیوی نہیں ہے۔ اس نے تو ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ یہ ہے اللہ تمھارا ربّ، کوئی اس کے سوا الٰہ نہیں ہے، ہر چیز کا خالق، لہٰذا تم اسی کی عبادت کرو اور وہی ہر چیز کی حفاظت وخبر گیری کا کفیل ہے۔
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللہِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَہُمْ كَحُبِّ اللہِ۝۰ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلہِ۝۰ۭ وَلَوْ يَرَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ۝۰ۙ اَنَّ الْقُوَّۃَ لِلہِ جَمِيْعًا۝۰ۙ (البقرہ۲: ۱۶۵)
بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو خدائی کا شریک ومماثل قرار دیتے ہیں اور اللہ کی طرح انھیں بھی محبوب رکھتے ہیں، حالانکہ جو ایمان لانے والے ہیں وہ سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ کاش یہ ظالم اس حقیقت کو جسے نزولِ عذاب کے وقت محسوس کریں گے، آج ہی محسوس کر لیتے کہ قوت ساری کی ساری اللہ ہی کے پاس ہے۔
قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ اَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَــہُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوٰتِ۝۰ۭ…… وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَہٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ …… (الاحقاف۴۶: ۴۔۵)
کہو تم نے اپنے معبودوں کی حالت پر کبھی غور بھی کیا جنھیں تم خدا کی بجائے حاجت روائی کے لیے پکارتے ہو؟ مجھے دکھائو تو سہی کہ زمین کا کتنا حصہ ان کا بنایا ہوا ہے، یا آسمان کی پیدائش میں ان کی کس قدر شرکت ہے؟……اس سے بڑھ کر اور کون گم راہ ہو گا جو اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتا۔{ FR 7428 }
لَوْ كَانَ فِيْہِمَآ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللہُ لَفَسَدَتَا۝۰ۚ فَسُبْحٰنَ اللہِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُوْنَo لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَہُمْ يُسْــَٔــلُوْنَo (الانبیائ ۲۱: ۲۲۔۲۳)
اگر زمین وآسمان میں اللہ کے سوا اور بھی الٰہ ہوتے تو نظامِ عالم درہم برہم ہو جاتا۔ پس اللہ جو عرش (یعنی کائنات کے تختِ سلطنت) کا مالک ہے اُن تمام باتوں سے پاک ہے جو یہ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ وہ اپنے کسی فعل کے لیے جواب دہ نہیں ہے اور وہ سب جواب دہ ہیں۔
مَا اتَّخَذَ اللہُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَہٗ مِنْ اِلٰہٍ اِذًا لَّذَہَبَ كُلُّ اِلٰہٍؚبِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُہُمْ عَلٰي بَعْضٍ۝۰ۭ (المومنون۲۳: ۹۱)
اللہ نے نہ کوئی بیٹا بنایا اور نہ اُس کے ساتھ کوئی دوسرا الٰہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر الٰہ اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کو لے کر الگ ہو جاتا اور ہر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتا۔
قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَہٗٓ اٰلِـہَۃٌ كَـمَا يَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِي الْعَرْشِ سَبِيْلًاo سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِيْرًاo (بنی اسرائیل۱۷: ۴۲۔۴۳)
اے نبیؐ! کہو اگر اللہ کے ساتھ دوسرے الٰہ ہوتے جیسا کہ لوگوں کا بیان ہے، تو وہ مالکِ عرش کی حکومت پر قبضہ کرنے کے لیے ضرور تدبیریں تلاش کرتے۔ پاک ہے وہ اور بہت بالاتر ہے اُن باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔
ان آیات میں اوّل سے آخر تک ایک ہی مرکزی خیال پایا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ الٰہیّت واقتدار لازم وملزوم ہیں اور اپنی روح ومعنی کے اعتبار سے دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ جو اقتدارنہیں رکھتا وہ الٰہ نہیں ہو سکتا اور اسے الٰہ نہ ہونا چاہیے۔ کیوں کہ الٰہ سے تمھاری جس قدر ضروریات متعلق ہیں یا جن ضروریات کی خاطر تمھیں کسی کو الٰہ ماننے کی حاجت پیش آتی ہے، ان میں سے کوئی ضرورت بھی اقتدار کے بغیر پوری نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا غیر مقتدر کا اِلٰہ ہونا بے معنی ہے، حقیقت کے خلاف ہے، اور اس کی طرف رجوع کرنا لاحاصل ہے۔
اس مرکزی خیال کو لے کر قرآن جس طریقہ سے استدلال کرتا ہے اس کے مقدمات اور نتائج حسبِ ذیل ترتیب کے ساتھ اچھی طرح سمجھ میں آ سکتے ہیں:
۱۔ حاجت روائی، مشکل کشائی، پناہ دہندگی، امداد واعانت، خبر گیری وحفاظت اور استجابتِ دعوات، جنھیں تم نے معمولی کام سمجھ رکھا ہے، دراصل یہ معمولی کام نہیں ہیں بلکہ ان کا سررشتہ پورے نظامِ کائنات کی تخلیقی اور انتظامی قوتوں سے جا ملتا ہے۔ تمھاری ذرا ذرا سی ضرورتیں جس طرح پوری ہوتی ہیں اس پر غور کرو تو معلوم ہو کہ زمین وآسمان کے عظیم الشان کارخانہ میں بے شمار اسباب کی مجموعی حرکت کے بغیر ان کا پورا ہونا محال ہے۔ پانی کا ایک گلاس جو تم پیتے ہو، اور گیہوں کا ایک دانہ جو تم کھاتے ہو، اسے مہیا کرنے کے لیے سورج اور زمین اور ہوائوں اور سمندروں کو خدا جانے کتنا کام کرنا پڑتا ہے تب کہیں یہ چیزیں تمھیں بہم پہنچتی ہیں۔ پس تمھاری دعائیں سننے اور تمھاری حاجتیں رفع کرنے کے لیے کوئی معمولی اقتدار نہیں بلکہ وہ اقتدار درکار ہے جو زمین وآسمان پیدا کرنے کے لیے، سیاروں کو حرکت دینے کے لیے، ہوائوں کو گردش دینے اور بارش برسانے کے لیے، غرض پوری کائنات کا انتظام کرنے کے لیے درکا رہے۔
۲۔ یہ اقتدار ناقابل تقسیم ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ خلق کا اقتدار کسی کے پاس ہو، اور رزق کا کسی اور کے پاس، سورج کسی کے قبضہ میں ہو اور زمین کسی اور کے قبضہ میں، پیدا کرنا کسی کے اختیار میں ہو، بیماری وصحت کسی اور کے اختیار میں اور موت اور زندگی کسی تیسرے کے اختیار میں، اگر ایسا ہوتا تو یہ نظامِ کائنات کبھی چل ہی نہ سکتا۔ لہٰذا تمام اقتدارات واختیارات کا ایک ہی مرکزی فرماںروا کے قبضہ میں ہونا ضروری ہے۔ کائنات کا انتظام چاہتا ہے کہ ایسا ہو، اور فی الحقیقت ایسا ہی ہے۔
۳۔ جب تمام اقتدار ایک ہی فرماں روا کے ہاتھ میں ہے اور اقتدار میں کسی کا ذرّہ برابر کوئی حصہ نہیں ہے، تو لامحالہ الوہیّت بھی بالکلیہ اسی فرماںروا کے لیے خاص ہے اور اس میں بھی کوئی حصہ دار نہیں ہے۔ کسی میں یہ طاقت نہیں کہ تمھاری فریاد رسی کر سکے، دعائیں قبول کر سکے، پناہ دے سکے، حامی وناصر اور ولی وکارساز بن سکے، نفع یا نقصان پہنچا سکے۔ لہٰذا الٰہ کا جو مفہوم بھی تمھارے ذہن میں ہے، اس کے لحاظ سے کوئی دوسرا الٰہ نہیں ہے۔ حتّٰی کہ کوئی اس معنی میں بھی الٰہ نہیں کہ فرماںروائے کائنات کے ہاں مقرّبِ بارگاہ ہونے کی حیثیت ہی سے اس کا کچھ زور چلتا ہو اور اس کی سفارش مانی جاتی ہو۔ اس کے انتظامِ سلطنت میں کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ کوئی اس کے معاملات میں دخل نہیں دے سکتا، اور سفارش قبول کرنا یا نہ کرنا بالکل اسی کے اختیار میں ہے۔ کوئی زور کسی کے پاس نہیں ہے کہ اس کے بل پر وہ اپنی سفارش قبول کرا سکے۔
۴۔ اقتدارِ اعلیٰ کی وحدانیت کا اقتضا یہ ہے کہ حاکمیت وفرماںروائی کی جتنی قسمیں ہیں سب ایک ہی مقتدرِ اعلیٰ کی ذات میں مرکوز ہوں اور حاکمیت کا کوئی جز بھی کسی دوسرے کی طرف منتقل نہ ہو۔ جب خالق وہ ہے اور خلق میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں، جب رزاق وہ ہے اور رزق رسانی میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں، جب پورے نظامِ کائنات کا مدبرومنتظم وہ ہے اور تدبیر وانتظام میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں، تو یقینا حاکم وآمر اور شارع بھی اسی کو ہونا چاہیے اور اقتدار کی اس شق میں بھی کسی کے شریک ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ جس طرح اس کی سلطنت کے دائرے میں اس کے سوا کسی دوسرے کا فریاد رس اور حاجت روا اور پناہ دہندہ ہونا غلط ہے، اسی طرح کسی دوسرے کا مستقل بالذات حاکم اور خود مختار فرماں روا اور آزاد قانون ساز ہونا بھی غلط ہے۔ تخلیق اور رزق رسانی، احیااور اماتت تسخیرِ شمس وقمر اور تکویرِ لیل ونہار، قضا اور قدر، حکم اور بادشاہی، امر اور تشریع سب ایک ہی کلّی اقتدار وحاکمیت کے مختلف پہلو ہیں اور یہ اقتدار وحاکمیت ناقابل تقسیم ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے حکم کی سند کے بغیر کسی کے حکم کو واجب الاطاعت سمجھتا ہے تو وہ ویسا ہی شرک کرتا ہے جیسا کہ ایک غیر اللہ سے دعا مانگنے والا شرک کرتا ہے اور اگر کوئی شخص سیاسی معنی میں مالک الملک اور مقتدرِ اعلیٰ اور حاکمِ علی الاطلاق ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا یہ دعویٰ بالکل اسی طرح خدائی کا دعویٰ ہے جس طرح فوق الطبعی معنی میں کسی کا یہ کہنا کہ تمھارا ولی و کارساز اور مددگار ومحافظ مَیں ہوں۔ اسی لیے جہاں خلق اور تقدیر اشیااور تدبیر کائنات میں اللہ کے لاشریک ہونے کا ذکر کیا گیا ہے وہیں لَہُ الْحُکْمُ اور لَہُ الْمُلْکُ اور وَّلَمْ يَكُنْ لَّہٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ (بنی اسرائیل۱۷: ۱۱۱) بھی کہا گیا ہے جو اس بات پر صاف دلالت کرتا ہے کہ الوہیّت کے مفہوم میں بادشاہی وحکم رانی کا مفہوم بھی شامل ہے اور توحیدِ اِلٰہ کے لیے لازم ہے کہ اس مفہوم کے اعتبار سے بھی اللہ کے ساتھ کسی کی شرکت نہ تسلیم کی جائے اسے اور زیادہ کھول کر حسبِ ذیل آیات میں بیان کیا گیا ہے:
قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ۝۰ۡوَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ۝۰ۭ (آل عمران۳: ۲۶)
کہو یااللہ، تو جو ملک کا مالک ہے، تجھے اختیار ہے جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے چھین لے اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کر دے۔
فَتَعٰلَى اللہُ الْمَلِكُ الْحَقُّ۝۰ۚ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۝۰ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِo
(المومنون۲۳:۱۱۶)
پس بالا وبرتر ہے اللہ جو حقیقی بادشاہ ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ عرشِ بزرگ کا مالک ہے۔
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِo مَلِكِ النَّاسِo اِلٰہِ النَّاسِo (الناس۱۱۴: ۱۔۳)
کہو میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے ربّ کی، انسانوں کے بادشاہ کی، انسانوں کے اِلٰہ کی۔
اور اس سے زیادہ تصریح سورۃ المؤمن میں ہے جہاں فرمایا:
يَوْمَ ہُمْ بٰرِزُوْنَ۝۰ۥۚ لَا يَخْـفٰى عَلَي اللہِ مِنْہُمْ شَيْءٌ۝۰ۭ لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ۝۰ۭ لِلہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِo (المومن۴۰: ۱۶)
یعنی جس روز سب لوگ بے نقاب ہوں گے، کسی کا کوئی راز اللہ سے چھپا نہ ہو گا، اس وقت پکارا جائے گا کہ آج بادشاہی کس کی ہے؟ اور جواب اس کے سوا کچھ نہ ہو گا کہ اس اکیلے اللہ کی جس کا اقتدار سب پر غالب ہے۔
اس آیت کی بہترین تفسیر وہ حدیث ہے جو امام احمدؒ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ نبی a نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:
اِنَّہُ تَعَالٰی یَطْوِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِیَدِہِ ثُمَّ یَقُوْلُ اَنَا الْمَلِکُ اَنَا الْجَبَّارُ اَنَا الْمُتَکَبِّرُ اَیْنَ مُلُوْکُ الْاَرْضِ؟ اَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ؟ اَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَo { FR 7429 }
اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو اپنی مٹھی میں لے کر پکارے گا میں ہوں بادشاہ، میں ہوں جبّار، میں ہوں متکبر، کہاں ہیں وہ جو زمین میں بادشاہ بنتے تھے؟ کہاں ہیں جبار؟ کہاں ہیں متکبر۔ عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جس وقت حضورؐ خطبہ میں یہ الفاظ فرما رہے تھے اس وقت آپ پر ایسا لرزہ طاری تھا کہ ہم ڈر رہے تھے کہ کہیں آپ منبر سے گر نہ پڑیں۔

شیئر کریں