Search
Close this search box.

رسائل و مسائل

فرضیتِ حج کی تاریخ

سوال

تفہیم القرآن جلد۲، صفحہ ۱۷۴(پر آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ)’’اس مقام پر یہ جان لینا فائدے سے خالی نہ ہوگا کہ فتح مکہ کے بعد دور اسلامی کا پہلا حج ۸ہجری میں قدیم طریقے پر ہوا،پھر۹ ہجری میں دوسرا حج مسلمانوں نے اپنے طریقے پر کیا اور مشرکین نے اپنے طریقے پر، اس کے بعد تیسرا حج۱۰ ہجری میں خالص اسلامی طریقے پر ہوا۔‘‘ ۸ ہجری میں کون سے صحابہ حج کو تشریف لے گئے؟حج کی فرضیت کس سنہ میں ہوئی؟حج کی فرضیت کے ساتھ احکام نہ تھے؟ حضورﷺ نے عازمین حج کو کوئی ہدایات نہ دیں ؟ ۹ہجری میں صدیقؓ کی زیر قیادت اسلامی طریقے کو چھوڑ کر اپنے طریقے پر کیسے حج کیا؟ پھر حضور ﷺ نے صحابہ کو غیر اسلامی طریق پر حج کرنے میں کوئی تنبیہ نہ فرمائی؟ قدیم طریقے میں ننگے طواف ہوتا تھا۔ کیا صحابہؓ نے بھی ایسا کیا؟ ہر ایک جزیے کا تفصیلی جواب تحریر فرمادیں ۔

جواب

آپ کے سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ بات عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میری تحریروں کے متعلق جو شکو ک اورشبہات بعض لوگ جان بوجھ کر دلوں میں ڈال رہے ہیں ،ان کو صاف کرنے کے لیے میری طرف رجوع کرنا تو بلاشبہہ ایک درست طریقہ ہے،مگر تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے مناسب یہ ہے کہ پہلے خود بھی تحقیق کی کوشش کرلیا کریں ،تاکہ جس اُلجھن کو وہ تھوڑا سا وقت صرف کرکے خود رفع کرسکتے ہوں ، اس کے لیے خواہ مخواہ خط وکتابت کی زحمت میں نہ پڑیں ۔ اصحاب فتنہ کے لیے تو اب کوئی کام کرنے کا اس کے سوا باقی نہیں رہا ہے کہ وہ میری تحریروں میں کیڑے چنتے پھریں اور جگہ جگہ انھیں پھیلا کر لوگوں کے دماغوں میں اُلجھنیں پیداکیا کریں ۔مگر میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ سارے کام چھوڑچھاڑ کر بس ان اُلجھنوں ہی کو صاف کرنے میں لگا رہوں جو ان حضرات نے پیدا کی ہیں ۔ آپ براہِ کرم خود غور کریں کہ ان حضرات کی انگیخت سے ۱۴ سوالات تو تنہا آپ نے فرمائے ہیں ۔ اور ایسے سوالات کرنے والے اکیلے آپ نہیں ہیں ، پاکستان او ر ہندستان کے ہر گوشے سے اس طرح کے سوالات آئے دن میرے پاس آتے رہتے ہیں ۔کیوں کہ سارے برعظیم میں فتنہ پردازوں کا ایک پورا طائفہ ان سوالات کی فصل بونے میں لگا ہوا ہے۔اب کیا آپ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح یہ حضرات اپنی عمر عزیز اس فضول کام میں ضائع کر رہے ہیں ، اسی طرح میں بھی ان کے پیدا کردہ سوالات کی جواب دہی میں اپنی عمر عزیز ضائع کر دوں ؟
اب آپ کےسوال کا جواب حاضر ہے:
اس عبارت کا منشا سمجھنے میں آپ کو کسی قسم کی دقت پیش نہ آتی اگر معترضین نے آپ کے دل کو شک وشبہہ کی بیماری نہ لگا دی ہوتی،اور آپ خود بھی کچھ عقل سے کام لیتے۔عبارت یہ ہے کہ’’فتح مکہ کے بعد پہلا حج ۸ ہجری میں قدیم طریقے پر ہوا۔‘‘اس میں یہ کہاں لکھا ہے کہ صحابہ کرامؓ نے یہ حج قدیم طریقے پر کیا؟پھر وہ سوالات جو اس عبارت پر آپ نے کیے ہیں ، آخر کہاں سے پیدا ہوگئے؟آپ سیرت پاکؐ کے موضوع پر کوئی کتاب بھی اٹھا کر دیکھتے تو آپ کو معلوم ہوجاتا کہ مکہ معظمہ رمضان ۸ ہجری میں فتح ہوا۔ دوسرے ہی مہینے حنین اور طائف کے معرکے پیش آئے جن سے ذی القعدہ ۸ ہجری کے وسط میں حضورﷺ فارغ ہوئے اور عمرہ کرکے حج کیے بغیر اپنے اصحاب کے ساتھ مدینے واپس تشریف لے گئے۔اس وقت یہ ممکن ہی نہ تھا کہ حج کے قدیم طریقے کو جو صدیوں سے زمانۂ جاہلیت میں رواج پاچکا تھا،اور جس کے مطابق حج کرنے کے لیے ہزاروں لاکھوں مشرکین مکہ میں جمع ہوچکے تھے یا عن قریب جمع ہونے والے تھے،یک لخت بدل ڈالا جاتا۔ اگر اس وقت ایساکیا جاتا تو حنین کے معرکے سے کئی گنا زیادہ شدید معرکہ مسجد الحرام کے حدود میں پیش آجاتا۔اس لیے اس سال جاہلیت کے طریقوں سے کوئی تعرض نہ کیا گیا اور حج جس طرح پہلے ہوتا تھا،اسی طرح ہونے دیا گیا۔({ FR 1738 })
دوسرے سال ۹ ہجری میں آپؐ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت علی ؓ کو حج کے موقع پر بھیجا اور اعلان کردیا کہ:
لَا یَحُجَّنَّ بَعْدَ اْلعَامِ مُشْرِکٌ و لَاَ یَطُوَّفَنَّ بِالْبَیْتِ عُرْیانٌ({ FR 1931 })
’’اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرنے پائے اور نہ کوئی شخص برہنہ طواف کرے۔‘‘
یہ اعلان قرآن مجید کے اس حکم کی بنیاد پر تھا کہ
اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا۝ ( التوبہ:۲۸)
’’مشرکین تو نجس ہیں ، لہٰذا اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آنے پائیں ۔‘‘
تیسرے سال ۱۰ہجری میں اس حکم کی تعمیل کی گئی اور نبیﷺ نے خود تشریف لے جاکر حج کے خالص اسلامی طریقے کو ہمیشہ کے لیے قائم فرما دیا۔
آپ کا یہ سوال کہ حج کس سال فرض ہوا؟اس کا جواب یہ ہے کہ محققین کے نزدیک وہ۹ ہجری یا ۱۰ ہجری کے آغاز میں فرض ہوا ہے،اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ صحیحین میں بنی عبدالقیس کے وفد کی حاضری کا جو قصہ آیا ہے،اس میں نبیؐ نے ارکان اسلا م بیان کرتے ہوئے صرف چار ارکان کا ذکر فرمایا ہے،حج کا ذکر نہیں فرمایا۔({ FR 2221 })یہ وفد بالاتفاق۹ہجری میں غزوۂ تبوک کے بعد حاضر ہوا تھا({ FR 2139 }) لیکن چوں کہ اس سال جاہلیت کے رواج ’’نسی ٔ ‘‘ کی وجہ سے حج ذی القعدہ میں پڑتا تھا، اور مشرکین کے ساتھ حج کرنا بھی نبیؐ کے شایان شان نہ تھا، اس لیے آپؐ خود حج کے لیے تشریف نہ لے گئے اور حضرت ابوبکرؓ و علیؓ کو بھیجا تاکہ جاہلیت کے طریقوں کی تنسیخ کا اعلان فرمادیں ۔حج کے اسلامی احکام کی تشریح وتوضیح اور عملی تعلیم۱۰ ہجری میں حجۃ الوداع کے موقع پر ہی ہوئی ہے۔ ( ترجمان القرآن، مئی ۱۹۵۶ء)