Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

مسئلۂ تعدد ازواج
اصل قانون
غلط مفروضہ
تاویل نمبر ۱
تاویل نمبر۲
تاویل نمبر ۳
تاویل نمبر۴
تاویل نمبر ۵
تاویل نمبر ۶
غلط تاویلات کی اصل وجہ
نئی نئی شرطیں
آخری سہارا
دو ٹوک بات

مسئلہ تعدد ازواج

اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

غلط مفروضہ

اس آیت کے الفاظ پر بار بار غور کیجیے۔ اس میں کہیں کوئی اشارہ اور کنایہ تک آپ ایسا نہ پائیں گے جس سے یہ بات نکلتی ہو کہ قرآن کی نگاہ میں تعدد ازواج فی الاصل کوئی برائی ہے اور وہ اس کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتا ہے۔ لیکن ہمارے نئے دور کے یہ مفسرین دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن کا اصل مقصد تو تعدُّد ازواج کے طریقے کو مٹانا تھا، مگر چونکہ یہ بہت زیادہ رواج پاچکا تھا اس لیے اس پر صرف پابندیاں عائد کرکے چھوڑ دیا گیا، تاکہ آئندہ کسی مناسب موقع پر لوگ خود اسے ممنوع قرار دے لیں۔ سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کو قرآن کا یہ منشا آخر کس ذریعے سے معلوم ہوا ہے؟ اگر ان کی اپنی رائے یہ ہے کہ تعدّد ازدواج فی نفسہٖ ایک بُرائی ہے تو انہیں یہ اختیار تو ضرور حاصل ہے کہ چاہیں تو قرآن کے علی الرغم اس کی مذمت کریں اور اسے موقوف کر دینے کا مشورہ دیں۔ لیکن یہ حق انہیں نہیں پہنچتا کہ اپنی رائے کو خواہ مخواہ قرآن کی طرف منسوب کریں۔ قرآن تو صریح الفاظ میں ان کو جائز قرار دیتا ہے اور اشارتاً و کنایتاً بھی اس کی مذمت میں کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں کرتا جس سے معلوم ہو کہ فی الواقع وہ اسے ایک بُرائی سمجھتا ہے اور اس کو روکنا چاہتا ہے۔

شیئر کریں