Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

عرضِ ناشر
دیباچہ ترتیب جدید
تمہید
اسلام، سرمایہ داری اور اشتراکیت کا اُصولی فرق
اسلامی نظامِ معیشت اور اس کے ارکان
حرمت سود
ایجابی پہلو
جدید بینکنگ
سُود کے متعلق اسلامی احکام
سود کے متعلقات
معاشی قوانین کی تدوین جدید اور اُس کے اُصول
اصلاح کی عملی صورت
ضمیمہ نمبر (۱): کیا تجارتی قرضوں پر سود جائز ہے؟
ضمیمہ نمبر ۲ : ادارۂ ثقافت اسلامیہ کا سوال نامہ
ضمیمہ نمبر ۳ :مسئلۂ سود اور دارالحرب
تنقید: (از: ابوالاعلیٰ مودودی)
قولِ فیصل
مصادر ومراجع (Bibliography)

سود

اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

ضمیمہ نمبر ۲ : ادارۂ ثقافت اسلامیہ کا سوال نامہ

اور اس کا جواب
۱۹۶۰ء کے اوائل میں ادارۂ ثقافت اسلامیہ، لاہور نے ایک مجلس مذاکرہ منعقد کی تھی جس میں سود کے متعلق چند اہم سوالات زیر بحث لائے گئے تھے۔ اس غرض کے لیے ادارے نے ایک سوال نامہ مرتب کیا تھا جو زیر بحث مسائل پر مشتمل تھا۔ یہ سوال نامہ اور اس کا جو جواب مصنف نے دیا تھا، وہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔
سوال نامہ
(۱) عرب میں پیغمبر اسلام a کے زمانے میں قرض لینے دینے کی شکل کیا تھی؟
(۲) لفظ ’’رِبا‘‘ کے معنی۔
(۳) ’’رِبا‘‘ اور ’’رِبح‘‘ میں فرق۔
(۴) رِبا میں قرض دینے والا شرائط مقرر کرتا ہے اور بینک انٹرسٹ میں قرض لینے والا پیش کرتا ہے۔
(۵) بیع سَلَم اور کمرشل انٹرسٹ (commercial interest) میں کیا فرق ہے۔ ایک شخص ایک بھینس جو روزانہ دس سیر دودھ دیتی ہے، دوسرے کو دیتا ہے اور کہتا ہے کہ بھئی اس کے دودھ میں سے پانچ سیر ہمیں دے دیا کرو۔ یہ جائز ہے تو پھر اس میں اور منافع پر روپیہ قرض دینے میں کیا فرق ہے؟
(۶) ہم جنس کا تبادلہ ہم جنس سے تفاضل کے ساتھ کیوں ناجائز ہے جب کہ غیر ہم جنس کے ساتھ تفاضل جائز ہے؟
(۷) تجارت میں طرفین کی رضامندی لازمی ہے یا نہیں؟ بعض کے نزدیک تراضیٔ طرفین کی عدم موجودگی ہی ربوٰ کو پیدا کرتی ہے۔ نقصان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیا حرمت ربوٰ کی یہی بنیاد تھی کہ اس میں ایک پارٹی پر ظلم ہوتا ہے؟ کمرشل انٹرسٹ میں کسی پارٹی پر بھی ظلم نہیں ہوتا۔ اگر یہ درست ہے کہ کسی پارٹی پر ظلم نہیں ہوتا تو بینک انٹرسٹ ربوٰ کے تحت کیسے آ سکتا ہے؟
(۸) (ا) صنعتی اداروں کے معمولی حصے[Ordinary shaves]
(ب) ان کے ترجیحی حصے[Preference shaves]
(ج) بینکوں کا فکسڈ ڈیپازٹ[Fixed Deposit]
(د) بینکوں سے لیٹر آف کریڈٹ کھولنا۔ اس کے مختلف پہلو۔ اگر لیٹر آف کریڈٹ کی بنا پر تجارت کے لیے قرض لینا ناجائز ہے تو اس کے لیے جائز صورت کیا ہوگی جس سے نظامِ تجارت میں خلل نہ پڑے؟
(ھ) ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اور انڈسٹریل فنانس کارپوریشن۔
(و) گورنمنٹ کے قرضے (۱) اپنے ملک سے (۲) غیر ملکوں سے۔ اگر یہ تمام قرضے ناجائز ہیں تو پھر گورنمنٹ کی مشینری چلانے کے لیے کیا تجاویز ہو سکتی ہیں؟
جواب
پہلا سوال] عہدِ نبوی میں قرض لینے دینے کی شکل[
پہلے سوال میں دراصل تنقیح طلب امور یہ ہیں:
(۱) نزولِ قرآن کے زمانے میں تجارتی، صنعتی، زراعتی اور ریاستی اغراض کے لیے قرض کے لین دین کا دنیا میں عام رواج تھا یا نہیں؟
(۲) ان قرضوں پر سود لگایا جاتا تھا یا نہیں؟
(۳) اہل عرب میں یہ بات پوری طرح معروف تھی یا نہیں کہ ان اغراض کے لیے بھی قرض کا لین دین ہوتا ہے؟ اور
(۴) اس نوعیت کے قرضوں پر اصل سے زائد جو کچھ وصول کیا جاتا تھا اس کے لیے رِبا ہی کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی یا لغت عرب میں اس کے لیے کوئی دوسرا لفظ مستعمل تھا؟
ان تنقیحات پر کلام کرنے سے پہلے ہمیں قبل اسلام کے عرب کی معاشی تاریخ اور بیرونی دنیا سے اس کے تعلقات پر ایک نگاہ ڈال لینی چاہیے تاکہ یہ غلط فہمی نہ رہے کہ عرب دنیا سے الگ تھلگ پڑا ہوا ایک ملک تھا جس کے باشندے اپنی وادیوں اور صحراؤں سے باہر کی دنیا کو کچھ نہ جانتے تھے۔
]قبل نبوت عرب کی معاشی تاریخ اور بیرونی دنیا سے تعلقات[
زمانہ قدیم کی تاریخ سے متعلق جو مواد آج دنیا میں موجود ہے، اس سے یہ بات پوری طرح ثابت ہے کہ اس زمانے میں چین، ہندوستان اور دوسرے مشرقی ممالک کی اور اسی طرح مشرقی افریقہ کی جتنی تجارت بھی مصر، شام، ایشیائے کوچک، یونان اور روم کے ساتھ ہوتی تھی وہ سب عرب کے واسطے سے ہوتی تھی۔ اس تجارت کے تین بڑے راستے تھے۔ ایک ایران سے خشکی کا راستہ جو عراق اور شام ہوتا ہوا جاتا تھا۔ دوسرا خلیج فارس کا بحری راستہ جس سے تمام تجارتی سامان عرب کے مشرقی سوا حل پر اترتا اور دومۃ الجندل یا تدمر (Palmyra) ہوتا ہوا آگے جاتا تھا۔ تیسرا بحر ہند کا راستہ جس سے آنے جانے والے تمام اموالِ تجارت حضرموت اور یمن سے گزرتے تھے۔ یہ تینوں راستے وہ تھے جن پر عرب آباد تھے۔ عرب خود بھی ایک طرف سے مال خرید کر لے جاتے اور دوسری طرف اسے فروخت کرتے تھے۔ حمل و نقل کا کاروبار (carrying trade) بھی کرتے تھے۔ اور اپنے علاقے سے گزرنے والے قافلوں سے بھاری ٹیکس لے کر انھیں بحفاظت گزارنے کا ذمہ بھی لیتے تھے۔ ان تینوں صورتوں سے ہمیشہ بین الاقوامی تجارت کے ساتھ ان کا گہرا تعلق رہا۔ ۲۷۰۰ برس قبل مسیح سے یمن اور مصر کے تجارتی تعلقات کا صاف ثبوت ملتا ہے۔ ۱۷۰۰ برس قبل مسیح میں بنی اسماعیل کے تجارتی قافلوں کی سرگرمیوں پر توراۃ شہادت دیتی ہے۔ شمالی حجاز میں مدین (مِدیان) اور دِدان کی تجارت ڈیڑھ ہزار برس قبل مسیح اور اس کے بعد کئی صدی تک چلتی نظر آتی ہے۔ حضرت سلیمانؑ و دائود ؑکے زمانے (ایک ہزار سال قبل مسیح) سے یمن کے سبائی قبائل اور ان کے بعد حمیری قبیلے ابتدائی مسیحی صدیوں تک مسلسل تجارتی نقل و حرکت کرتے رہے ہیں۔ مسیح علیہ السلام سے لگ بھگ زمانے میں فلسطین کے یہودی عرب آ کر یثرب، خیبر، وادی القریٰ (موجودہ العلاء) تیماء اور تبوک میں آباد ہوئے اور ان کے دائمی تعلقات، مذہبی بھی اور ثقافتی بھی، شام و فلسطین اور مصر کے یہودیوں کے ساتھ برقرار رہے۔ عرب میں شام اور مصر سے غلہ اور شراب درآمد کرنے کا کام زیادہ تر یہی یہودی کرتے تھے۔ پانچویں صدی سے قریش نے عرب کی بیرونی تجارت میں غالب حصہ لینا شروع کیا اور نبی a کے عہد تک ایک طرف یمن اور حبش سے ، دوسری طرف عراق سے، اور تیسری طرف مصر و شام سے ان کے نہایت وسیع تجارتی تعلقات تھے۔ مشرقی عرب میں ایران کی جتنی تجارت یمن کے ساتھ تھی اس کا بہت بڑا حصہ حیرہ سے یمامہ (موجودہ ریاض) اور پھر بنی تمیم کے علاقے سے گزرتا ہوا نجران اور یمن جاتا تھا۔ صدہا برس کے ان وسیع تجارتی روابط کی موجودگی میں یہ فرض کرنا بالکل خلاف عقل ہے کہ بیرونی دنیا کے ان ممالک میں جو مالی معاملات اور کاروباری طریقے مروّج تھے ان کی عرب کے لوگوں کو خبر نہ ہو۔
ان تجارتی تعلقات کے علاوہ سیاسی اور ثقافتی اعتبار سے بھی عرب کے لوگوں کا اپنے گردوپیش کی مہذب دنیا سے گہرا رابطہ تھا۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں شمالی حجاز کے مقام تیماء کو بابل کے بادشاہ نیبو نیدوس (Nabonidus) نے اپنا گرمائی دارالسلطنت بنایا تھا۔ کیسے ممکن تھا کہ بابل میں جو معاشی قوانین اور طریقے رائج تھے ان سے حجاز کے لوگ بے خبر رہ گئے ہوں۔ تیسری صدی قبل مسیح سے نبیa کے عہد تک پہلے پطرا (Petra) کی نبطی ریاست، پھر تدمر کی شامی ریاست اور اس کے بعد حیرہ اور غسان کی عربی ریاستیں عراق سے مصر کے حدود تک اور حجاز نجد کے حدود سے الجزیرہ اور شام کے حدود تک مسلسل قائم رہیں۔ ان ریاستوں کا ایک طرف یونان و روم سے اور دوسری طرف ایران سے نہایت گہرا سیاسی، تمدنی، تہذیبی اور معاشی تعلق رہا ہے۔ پھر نسلی رشتوں کی بنا پر اندرون عرب کے قبائل بھی ان کے ساتھ وسیع تعلقات رکھتے تھے۔ مدینہ کے انصار اور شام کے غسانی فرماں روا ایک ہی نسل سے تھے اور ان کے درمیان پیہم تعلقات قائم رہے۔ نبیa کے عہد میں خود آپ کے خاص شاعر حضرت حسانؓ بن ثابت غسانی امرا کے ہاں آتے جاتے تھے۔{ FR 2406 } حیرہ کے امرا سے قریش والوں کا بہت میل جول تھا۔ حتیٰ کہ قریش کے لوگوں نے لکھنا پڑھنا بھی انھی سے سیکھا اور حیرہ ہی سے وہ رسم الخط انھیں ملا جو بعد میں خط کوفی کے نام سے مشہور ہوا۔{ FR 2407 } کس طرح باور کیا جا سکتا ہے کہ ان تعلقات کے ہوتے یہ لوگ یونان و روم اور مصر و شام اور عراق و ایران کے مالی و معاشی معاملات سے بالکل ناواقف رہ گئے ہوں۔
مزید برآں عرب کے ہر حصے میں شیوخ، اشراف اور بڑے بڑے تاجروں کے پاس رومی، یونانی اور ایرانی لونڈیوں اور غلاموں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ ایران و روم کی لڑائیوں میں دونوں طرف کے جو جنگی قیدی غلام بنائے جاتے تھے، ان میں سے زائد از ضرورت تعداد کو کھلے بازار میں فروخت کر دیا جاتا تھا، اور عرب اس مال کی بڑی منڈیوں میں سے ایک تھا۔ ان غلاموں میں اچھے خاصے پڑھے لکھے مہذب لوگ بھی ہوتے تھے اور صنعت پیشہ اور تجارت پیشہ لوگ بھی۔ عرب کے شیوخ اور تجاران سے بہت کام لیتے تھے۔ مکہ، طائف، یثرب اور دوسرے مرکزوں میں ان کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اور یہ کاریگروں کی حیثیت سے یا تجارتی کارکنوں کی حیثیت سے اپنے آقاؤں کی قیمتی خدمات بجا لاتے تھے۔ آخر یہ کس طرح ممکن تھا کہ اپنے ان مددگاروں کے ذریعے سے کسی عرب تاجر کے کان میں کبھی یہ بات نہ پڑی ہو کہ گرد وپیش کی دنیا میں مالی و کاروباری معاملات کے کیا طریقے رائج ہیں۔
اس کے ساتھ عرب کی معاشی تاریخ کا ایک اور پہلو بھی نگاہ میں رہنا چاہیے۔ عرب کسی زمانے میں بھی نہ تو خوراک کے معاملے میں خود کفیل رہا ہے، اور نہ وہاں ایسی صنعتوں کو فروغ نصیب ہوا ہے جن سے تمام ضرورت کے سامان ملک ہی میں فراہم ہو جاتے ہوں۔ اس ملک میں ہمیشہ اشیائے خوردنی بھی باہر سے درآمد ہوتی رہی ہیں اور ہر طرح کی مصنوعات بھی، حتیٰ کہ پہننے کے کپڑے تک زیادہ تر باہر ہی سے آتے رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب کے عہد میں یہ درآمدی تجارت زیادہ تر دو گروہوں کے ہاتھ میں تھی۔ ا یک قریش اور ثقیف دوسرے یہود‘ لیکن یہ لوگ مال درآمد کرکے صرف تھوک فروشی ہی کرتے تھے۔ اندرونِ ملک کی چھوٹی چھوٹی بستیوں اور قبائلی ٹھکانوں میں خردہ فروشی کرنا ان کا کام نہ تھا، نہ ہو سکتا تھا اور نہ قبائل اس بات کو کبھی گوارا کر سکتے تھے کہ سارے تجارتی فائدے یہی لوگ لوٹ لے جائیں اور ان کے اپنے آدمیوں کو اس اجارہ داری میں گھسنے کا کسی طرف سے راستہ نہ ملے۔ اس لیے تھوک فروش کی حیثیت سے یہ لوگ اندرون ملک کے خردہ فروش تاجروں کے ہاتھ لاکھوں روپے کا مال فروخت کرتے تھے اور اس کا ایک معتدبہ حصہ ادھار فروخت ہوتا تھا۔ شاید دنیا میں تھوک فروش اور خردہ فروش کے درمیان کبھی اور کہیں خالص نقد لین دین کا طریقہ رائج نہیں رہا ہے۔ اس لین دین میں ادھار بالکل ناگزیر ہے جس سے کبھی مفر نہ تھا۔ اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ صرف عرب ہی میں اس وقت یہ لین دین بالکل نقد انقد کی شرط پر ہوتا تھا اور قرض کا اس میں کوئی دخل نہ تھا تو عقلاً بھی یہ قابل قبول نہیں ہے، اور تاریخی طور پر بھی یہ غلط ہے، جیسا کہ میں آگے چل کر بتاؤں گا۔
اب میں تنقیحات کو لیتا ہوں جن کا ذکر میں نے آغاز میں کیا تھا۔
یہ امر کہ قدیم زمانے میں قرض صرف ذاتی و شخصی ضرورتوں ہی کے لیے نہیں لیا جاتا تھا بلکہ تجارتی، صنعتی اور زراعتی اغراض کے لیے بھی اس کا عام رواج تھا اور حکومتیں بھی اپنی ریاستی اغراض کے لیے قرض لیتی تھیں، تاریخ سے بالکل ثابت ہے اور یہ دعویٰ کرنے کے لیے کوئی بنیاد نہیں ہے کہ پرانی دنیا میں قرض کا لین دین صرف شخصی حاجتوں کے لیے ہوتا تھا۔ اسی طرح یہ بھی ثابت ہے کہ قرض پر اصل سے زائد ایک طے شدہ مقدارِ مال لینے کا طریقہ، شخصی اور کاروباری معاملات کے درمیان کسی قسم کا امتیاز کیے بغیر ہر قسم کے قرضوں کی صورت میں رائج تھا۔
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۴۶ء) کے مضمون (banks) میں بیان کیا گیا ہے کہ بابل اور مصر کے مندر صرف عبادت گاہ ہی نہ تھے بلکہ بینک بھی تھے۔ بابل کے آثار قدیمہ میں جو گِلی تختیاں (clay tablets) ملی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ زمیندار فصل سے پہلے اپنی زرعی ضروریات کے لیے مندروں سے قرضے لیتے تھے اور فصل کاٹنے کے بعد مع سود یہ قرض ادا کرتے تھے۔ یہ ساہو کاری نظام دو ہزار برس قبل مسیح میں پایا جاتا تھا۔ چھٹی صدی قبل مسیح کے لگ بھگ زمانے میں پرائیویٹ بینک بھی بابل میں کام کرتے پائے جاتے ہیں۔ ۵۷۵ ق م میں بابل کے (Igibi bank) کا وجود ملتا ہے جو زمینداروں کو زرعی اغراض کے لیے قرض دیتا تھا۔ نیز یہ بینک لوگوں کے ڈیپازٹ اپنے پاس رکھ کر ان پر سود ادا بھی کرتا تھا۔ یاد رہے کہ یہ وہی زمانہ تھا جب شمالی حجاز کا شہر تیما بابل کی سلطنت کا گرمائی دارالسلطنت تھا۔
ول ڈورانٹ اپنی کتاب (A story of civilization) { FR 2408 }میں بابل کے متعلق لکھتا ہے:
’’ملک میں ازروئے قانون ۲۰ فیصدی نقد روپے کے قرضوں پر اور ۳۳ فیصدی سالانہ اجناس کی صورت میں قرضوں پر سود مقرر تھا۔ بعض طاقتور خاندان نسلاً بعد نسلٍ ساہوکاری کا کام کرتے اور صنعت پیشہ لوگوں کو سود پر قرضے دیتے تھے۔ ان کے علاوہ مندروں کے پروہت فصلوں کی تیاری کے لیے زمینداروں کو قرض دیا کرتے تھے۔‘‘
اس سلسلے میں آگے چل کر یہی مصنف لکھتا ہے:۔
ایک وبا کی طرح پھیلی ہوئی سود خواری وہ قیمت تھی جو ہماری صنعت کی طرح بابل کی صنعت بھی ایک پیچیدہ نظام قرض کے ذریعے سے سیراب ہونے کے بدلے میں ادا کر رہی تھی۔ بابل کا تمدن اصلاً ایک تجارتی تمدن تھا۔ جتنی دستاویزیں بھی اس کے آثار سے اس زمانے میں برآمد ہوئی ہیں وہ زیادہ تر کاروباری نوعیت کی ہیں۔ فروخت، قرضے، ٹھیکے، شراکت، دلالی، مبادلے، اقرار نامے، تمسکات اور اسی طرح کے دوسرے امور۔ ‘‘{ FR 2257 }
سیریا کی حالت بھی اس سے مختلف نہ تھی۔ ساتویں صدی قبل مسیح میں سینا کریب کے زمانے کا حال بیان کرتے ہوئے ول ڈورانٹ لکھتا ہے:۔
’’صنعت اور تجارت کو ایک حد تک نجی کاروبار کرنے والے ساہو کار سرمایہ فراہم کرکے دیتے اور ان قرضوں پر ۲۵ فیصدی سالانہ سود وصول کرتے تھے۔ ‘‘{ FR 2258 }
یونان کے متعلق انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مضمون (banks) میں بیان کیا گیا ہے کہ چوتھی صدی قبل مسیح سے وہاں بینک کاری کے باقاعدہ نظام کا ثبوت ملتا ہے۔ اس نظام میں ایک قسم کے بینک وہ تھے جو لوگوں کے مال بطور امانت اپنے پاس رکھتے تھے اور اس پر سود دیتے تھے۔
ول ڈورانٹ لکھتا ہے کہ پانچویں صدی قبل مسیح ڈلفی کا اپالو مندر تمام یونانی دنیا کا بین الاقوامی بینک تھا۔ اس سے اشخاص کو بھی اور ریاستوں کو بھی معتدل شرح سود پر قرضے حاصل ہوتے تھے۔ اسی طرح پرائیویٹ صراف ۱۲ سے ۳۰ فیصدی تک شرح سود پر تاجروں کو قرضے دیتے تھے۔ یونانیوں نے یہ طریقے مشرقِ قریب (بابل و مصر اور شام) سے سیکھے اور بعد میں رُوم نے ان طریقوں کو یونان سے سیکھا۔ پانچویں صدی کے آخر میں بعض بڑے بڑے پرائیویٹ بینک یونان میں قائم ہو چکے تھے۔ انھی کے ذریعے سے ایتھنز کی تجارت پھیلنی شروع ہوئی۔{ FR 2259 } اس کے بعد روم کا دور آتا ہے۔ ول ڈورانٹ لکھتا ہے کہ:
دوسری صدی قبل مسیح میں روم کی بینک کاری پورے عروج پر تھی۔ ساہو کار لوگوں کے ڈیپازٹ رکھتے تھے اور ان پر سود ادا کرتے تھے۔ قرض لیتے بھی تھے اور دیتے بھی تھے۔ کاروبار میں اپنا روپیہ بھی لگاتے تھے اور دوسروں کا بھی لگواتے تھے۔{ FR 2260 } پہلی صدی عیسوی میں رومی سلطنت کے ہر حصے میں بینک قائم ہو چکے تھے۔ بینک کاری کے دوسرے کاموں کے ساتھ یہ لوگوں کے ڈیپازٹ رکھ کر سود دیتے اور آگے روپیہ قرض دے کر سود وصول کرتے تھے۔ یہ کاروبار زیادہ تر یونانیوں اور شامیوں کے ہاتھ میں تھا۔ گال (gall) میں تو شامی اور ساہوکار، دونوں ہم معنی لفظ ہوگئے تھے۔ اس زمانے میں سرکاری خزانہ بھی زمینداروں کو فصل کی کفالت پر سودی قرضے دیتا تھا۔ آگسٹس کے زمانے میں شرح سود ۴ فیصدی تک گر گئی تھی۔ اس کے مرنے کے بعد شرح ۶ فیصدی تک اور قسطنطین کے زمانے میں ۱۲ فیصدی تک چڑھ گئی۔{ FR 2261 }
اس پہلی صدی عیسوی کے متعلق بیرن (baron) اپنی کتاب (a religious and social history of the jews) میں بیان کرتا ہے کہ اسکندریہ کے یہودی بینکرز الیگزینڈر اور ڈیمسٹریوس نے یہودیہ کے بادشاہ اگریپا اوّل کو دو لاکھ درہم (تقریباً ۳۰ ہزار ڈالر) قرض دیئے تھے۔{ FR 2262 }
نبی a سے بالکل قریب کے زمانے میں قیصر روم جسٹینین نے (جس کی وفات آنحضرتa کی پیدائش سے صرف پانچ برس قبل ہوئی تھی) تمام بیزنطینی سلطنت میں ازروئے قانون زمینداروں اور کاشت کاروں کے قرضوں پر چار فیصدی، شخصی قرضوں پر چھ فیصدی، تجارتی اور صنعتی قرضوں پر آٹھ فیصدی اور بحری تجارت کے قرضوں پر بارہ فیصدی شرح سود مقرر کی تھی۔ یہ قانون جسٹینین کے بعد بھی ایک مدت تک بیز نطینی سلطنت میں رائج رہا۔{ FR 2263 } یہ بات فراموش نہ کرنی چاہیے کہ جس بیزطینی سلطنت میں سود کا یہ قانون رائج تھا اس کی سرحدیں شمالی حجاز سے ملی ہوئی تھیں۔ شام، فلسطین اور مصر کے تمام علاقے اس کے زیر نگین تھے۔ قریش کے تاجر ان علاقوں کی منڈیوں میں پیہم آمدورفت رکھتے تھے۔ اور خود نبیa بچپن سے آغازِ نبوت تک مسلسل تجارتی قافلوں کے ساتھ ان منڈیوں میں جاتے رہتے تھے۔ آخر یہ بات کیسے فرض کی جا سکتی ہے کہ قریش کے ان تاجروں کو اور خود آنحضرت a کو ان بازاروں میں کاروبار کرتے ہوئے کبھی یہ پتہ نہ چلا کہ بیز نطینی سلطنت میں تجارت، صنعت اور زراعت کی اغراض کے لیے بھی قرض کے لین دین کا رواج ہے اور اس پر ازروئے قانون سود کی شرحیں مقرر ہیں۔{ FR 2264 }
عین زمانۂ نبوت میں روم اور ایران کے درمیان وہ زبردست لڑائی ہو رہی تھی جس کا ذکر قرآن مجید کی سورۂ روم میں کیا گیا ہے۔ اس لڑائی میں جب ہر قل نے خسرو پرویز کے مقابلے پرہجومی جنگ کا آغاز کیا، اس وقت اپنی جنگی ضروریات کے لیے اسے کلیساؤں کی جمع شدہ دولت سود پر قرض لینی پڑی تھی۔{ FR 2265 } اب کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ جس عظیم الشان لڑائی نے عراق سے مصر تک عرب کے سارے بالائی حصے کو تہ و بالا کرکے رکھ دیا تھا، جس میں ایران کی زبردست فتوحات کے ہر طرف چرچے ہو رہے تھے، اور جس میں سلطنت روم کے گرتے ہوئے قصر کو بچانے کے بعد اب قیصر نے یکایک خسرو کے مقابلے پر وہ حیرت انگیز پیش قدمی کی تھی جو ساسانی دارالسلطنت، مدائن کی تباہی پر جا کر ختم ہوئی، اس لڑائی کا یہ واقعہ عرب کے لوگوں سے بالکل پوشیدہ رہ گیا ہوگا کہ قیصر نے اپنی اس پیش قدمی کے لیے سرمایہ کلیساؤں سے سود پر حاصل کیا ہے؟ مجوسیوں سے عیسائیت کو بچانے اور بیت المقدس ہی کو نہیں مقدس صلیب کو بھی مشرکین کے قبضے سے نکالنے کے لیے جنگ کی جائے اور کلیسا کے پادری اس کارِ خیر کے لیے سود پر قرض دیں، یہ عجیب و غریب واقعہ آخر ان لوگوں کے علم میں آنے سے کیسے بچ سکتا تھا جن کی نگاہیں دنیا کی ان دو عظیم ترین سلطنتوں کی جنگ کے نتیجے پر لگی ہوئی تھیں؟ خصوصاً قریش اس سے کیسے ناواقف ہو سکتے تھے جب کہ سورۂ روم کے نازل ہونے پر اسی جنگ روم و ایران کے معاملے میں حضرت ابوبکرؓ اور سردارانِ قریش کے درمیان باقاعدہ شرط لگ چکی تھی؟
یہاں تک جو کچھ میں نے عرض کیا ہے اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اہل عرب کے نہایت قریبی تعلقات مشرق اوسط کی معاشی و تمدنی اور سیاسی زندگی کے ساتھ قدیم ترین زمانے سے وابستہ رہے ہیں اور اس خطہ زمین میں ڈھائی ہزار سال سے تجارتی، صنعتی، زراعتی اور ریاستی اغراض کے لیے قرض کے لین دین اور اس پر سود وصول کرنے کا رواج رہا ہے، اور اہل عرب کا اس رواجِ عام سے بے خبر اور غیر متاثر رہنا قطعاً قابل تصور نہیں ہے۔
] عہد نبوت میں عربوں کے مالی معاملات[
اب خود عرب کے مالی معاملات کو دیکھیے جو نبی aکے عہد میں تھے۔ میں پہلے یہ بتا چکا ہوں کہ عرب کی ضروریات کے لیے غلہ اور شراب زیادہ تر یہودی درآمد کرتے تھے اور باقی دوسرا سامان زیادہ تر مکہ اور طائف کے تاجر بیرونی علاقوں سے لاتے تھے۔ میں یہ بھی عرض کر چکا ہوں کہ قریش اور ثقیف اور یہود کا سارا کاروبار تھوک فروشی کی حد تک تھا۔ اندرونِ ملک میں خردہ فروشی دوسرے لوگ کرتے تھے اور وہ ان تھوک فروشوں سے مال خرید کر لے جایا کرتے تھے۔ میں یہ بھی بتا چکا ہوں کہ تھوک فروشوں اور خردہ فروشوں کے درمیان بالکل نقد انقد کی شرط پر کاروبار دنیا میں کبھی نہیں ر ہا ہے۔ اور عرب میں بھی نہیں تھا۔ اس کے بعد ذرا ان روایات کو ملاحظہ فرمایئے جو آیت ربوٰ کی تفسیر میں عہد رسالت سے قریب زمانے کے مفسرین سے منقول ہوئی ہیں۔ ضحاکؓ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں:
کَانَ رِبًا یَتَبَایَعُوْنَ بِہٖ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ۔ { FR 2409 }
یہ وہ سود تھا جس کے ساتھ جاہلیت میں لوگ خریدوفروخت کرتے تھے۔
قتادہؓ کہتے ہیں:
اِنَّ رِبَا اَہْلِ الْجَاہِلِیَّۃِ یَبِیْعُ الرَّجُلُ یَبِیْعُ الرَّجُلُ الْبَیْعَ اِلٰی اُجَلٍ مُسَمّٰی فَاِذَا حَلَّ الْاُجَلَ وَلَمْ یَکُنْ عِنْدَ صَاحِبِہٖ قَضَاء زَادَہٗ وَاَخَّرَ عَنْہُ ۔{ FR 2410 }
اہل جاہلیت کا ربا یہ تھا کہ ایک شخص دوسرے شخص کے ہاتھ مال فروخت کرتا اور قیمت ادا کرنے کے لیے ایک مدت طے ہو جاتی۔ اب اگر وہ مدت پوری ہوگئی اور خریدار کے پاس اتنا مال نہ ہوا کہ قیمت ادا کرے تو بیچنے والا اس پر زائد رقم عائد کر دیتا اور مہلت بڑھا دیتا۔ { FR 2266 }
سدیؒ کہتے ہیں:
نَزَلَتْ ہٰذِہ الآیۃ فی العباس بن عبدالمطلب و رجل من بنی المغیرۃ کانا شریکین فی الجاہلیۃ یسلفان فی الربا الی اناس من ثقیف من بنی عمرو فجاء الاسلام ولہما اموالٌ عظیمۃٌ فی الربا۔ { FR 2411 }
آیت وذروا ما بقی من الربا عباس بن عبدالمطلب اور بنی المغیرہ کے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ دونوں جاہلیت کے زمانے میں شریک تھے اور انھوں نے ثقیف کے بنی عمرو میں لوگوں کو سودی قرض پر مال دے رکھے تھے۔ جب اسلام آیا تو ان دونوں کا بڑا سرمایہ سود میں لگا ہوا تھا۔
یہ سب روایات خردہ فروشوں کے ہاتھ ادھار پر مال فروخت کرنے اور اس پر سود لگانے کی خبر دیتی ہیں اور یہ بھی بتاتی ہیں کہ اس تجارتی سود کے لیے بھی الربا کی اصطلاح ہی استعمال ہوتی تھی، کوئی دوسرا لفظ ایسا نہ تھا جو تجارتی قرضوں کے لیے مستعمل ہو اور الریا صرف ان قرضوں کے سود پر بولا جاتا ہو جو خالص شخصی حاجات کے لیے حاصل کیے جاتے تھے۔
پھر بخاری میں سات مقامات پر اور نسائی میں ایک مقام پر صحیح سندوں کے ساتھ یہ روایت نقل ہوئی ہے کہ نبیa نے بیان فرمایا: بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے دوسرے شخص سے تجارت کے لیے ایک ہزار دینار قرض لیے{ FR 2269 } اور کہا کہ میرے اور تیرے درمیان اللہ گواہ اور اللہ ہی کفیل ہے۔ پھر وہ بحری سفر پر چلا گیا۔ وہاں جب وہ اپنے کاروبار سے فارغ ہوا تو واپسی کے لیے اسے کوئی جہاز نہ ملا اور وہ مدت پوری ہوگئی جس کی قرارداد کرکے اس نے قرض لیا تھا۔ آخر اس نے یہ کیا کہ ایک لکڑی کے اندر سوراخ کرکے ایک ہزار دینار اس میں رکھ دیے اور قرض خواہ کے نام ایک خط بھی لکھ کر ساتھ رکھا اور سوراخ بند کرکے لکڑی سمندر میں چھوڑ دی اور اللہ سے دعا کی کہ میں نے تجھی کو گواہ اور کفیل بنا کر یہ رقم اس شخص سے قرض لی تھی۔ اب تو ہی اسے اس تک پہنچا دے۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ قرض خواہ ایک روز اپنے ملک میں سمندر کے کنارے کھڑا تھا، یکایک لکڑی کا ایک لٹھا اس کے سامنے آ کر رُکا۔ اس نے لکڑی کو اٹھا کر دیکھا تو قرض دار کا خط بھی اسے ملا اور ایک ہزار دینار بھی مل گئے۔ بعد میں جب یہ شخص اپنے وطن واپس پہنچا تو ایک ہزار دینار لے کر اپنا قرض ادا کرنے کے لیے دائن کے پاس گیا۔ مگر اس نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ مجھے میری رقم مل گئی ہے۔{ FR 2412 }
یہ روایت اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ تجارت کے لیے قرض لینے کا تخیل اس وقت عربوں میں غیر معروف نہ تھا۔
ابن ماجہ اور نسائی میں روایت ہے کہ نبیa نے جنگ حنین کے موقع پر عبداللہ بن ربیعہ مخزومی سے ۳۰ یا ۴۰ ہزار درہم قرض لیے تھے اور جنگ سے واپسی پر یہ قرض آپؐ نے ادا فرمایا۔{ FR 2413 } یہ ریاستی اغراض کے لیے قرض کی صریح مثال ہے۔
ایک دوست نے دو اور واقعات کی طرف بھی مجھے توجہ دلائی ہے جس کے لیے میں ان کا شکر گزار ہوں۔ پہلا واقعہ ہندؓ بنت عتبہ کا ہے کہ اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بیت المال کا چار ہزار روپیہ (غالباً درہم) تجارت کے لیے قرض حاصل کیا تھا۔{ FR 2414 }
دوسرا واقعہ بھی حضرت عمرؓ ہی کے عہد کا ہے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری (بصرہ کے گورنر) نے بیت المال کا روپیہ حضرت عمرؓ کے دوصاحبزادوں عبداللہ اور عبید اللہ کو تجارت کے لیے قرض دیا۔ مگر بعد میں حضرت عمرؓ نے اس قرض کو قابل اعتراض قرار دے کر اصل کے علاوہ پورے منافع کا بھی صاحبزادوں سے مطالبہ کیا، اور آخر کار لوگوں کے مشورے سے اس کو قرض کے بجائے قراض (مضاربت) قرار دے کر آدھا منافع وصول کیا۔{ FR 2273 }
یہ دونوں مثالیں زمانۂ جاہلیت سے بہت قریب کے دور کی ہیں۔ عرب میں ۹ھ تک سودی کاروبار چلتا رہا۔ یہ واقعات اس کی آخری بندش سے صرف دس بارہ سال بعد کے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اتنی قلیل مدت میں تصورات نہیں بدل جاتے ہیں۔ اس لیے ان واقعات سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ قرض پر سرمایہ لے کر تجارت کرنے کا تصور عہد جاہلیت میں بھی موجود تھا۔{ FR 2274 }
رہی یہ بات کہ اسلامی عہد کے مورخین اور محدثین و مفسرین نے شخصی حاجات اور تجارتی و کاروباری قرضوں کا واضح طور پر الگ الگ کیوں ذکر نہ کیا، تو اس کا ظاہر سبب یہ ہے کہ ان کے ہاں قرض‘ خواہ جس غرض کے لیے بھی ہو قرض ہی سمجھا جاتا تھا اور اس پر سود کی حیثیت بھی ان کی نگاہ میں یکساں تھی۔ انھوں نے نہ اس تصریح کی کوئی خاص ضرورت محسوس کی کہ بھوکے مرتے ہوئے لوگ پیٹ بھرنے کے لیے قرض لیتے تھے اور نہ خاص طور پر اسی بات کو تفصیل سے بیان کرنا ضروری سمجھا کہ کاروبار کے لیے لوگ قرض لیا کرتے تھے۔
ان امور کی تفصیلات خال خال ہی کہیں ملتی ہیں جن سے صحیح صورتِ حال سمجھنے کے لیے عرب کے حالات کو اس وقت کی دنیا کے مجموعی حالات میں رکھ کر دیکھنا ناگزیر ہے۔ مختلف قرضوں کے درمیان ان کی اغراض کے لحاظ سے فرق و امتیاز کرکے ایک مقصد کے قرض پر سود کو جائز اور دوسرے مقصد کے قرض پر اس کو ناجائز ٹھیرانے کا تخیل غالباً چودھویں صدی عیسوی سے پہلے دنیا میں نہ پایا جاتا تھا۔{ FR 2275 } اس وقت تک یہودیت ، مسیحیت اور اسلام کے تمام اہل دین اور اسی طرح اخلاقیات کے ائمہ بھی اس بات پر متفق تھے کہ ہر قسم کے قرضوں پر سود ناجائز ہے۔
ایک بات یہ بھی کہی جا تی ہے کہ زمانہ قبل اسلام میں یہ ممکن ہی نہ تھا کہ لوگ قرض کے سرمائے سے تجارت کر سکیں، کیونکہ ملک میں کوئی باقاعدہ حکومت نہ تھی، ہر طرف بدامنی پھیلی ہوئی تھی، تجارتی قافلوں کو بہت بھاری ٹیکس دے دے کر مختلف قبائل کے علاقوں سے گزرنا پڑتا تھا اور ان پر خطر حالات کی وجہ سے شرح سود تین چار سو فیصدی تک پہنچی ہوئی تھی جس پر قرض لے کر کاروبار میں لگانا کسی طرح نفع بخش نہ ہو سکتا تھا‘ لیکن یہ قیاس آرائی اصل تاریخی حالات سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ محض ایک مفروضہ ہے جو تاریخ سے بے نیاز ہو کر صرف اس گمان پر قائم کر لیا گیا ہے کہ عرب میں جب کوئی باقاعدہ حکومت نہ تھی اور عام بدامنی پھیلی ہوئی تھی تو ضرور اس کے نتائج یہی ہوں گے۔ حالانکہ تاریخی واقعات یہ بتاتے ہیں کہ اسلام سے قریب عہد میں ایران و روم کی پیہم لڑائیوں اور سیاسی کش مکش کی بدولت چین، انڈونیشیا، ہندوستان اور مشرقی افریقہ کے ساتھ رومی دنیا کے جتنے بھی تجارتی تعلقات تھے ان کا واسطہ مکہ کے عرب تاجر ہی تھے۔ خصوصاً یمن پر ایران کا قبضہ ہو جانے کے بعد تو رومیوں کے لیے مشرقی تجارت کے سارے راستے بند ہو چکے تھے۔ ان حالات میں مشرق کا سارا مالِ تجارت خلیج فارس اور بحر عرب کی عربی بندرگاہوں پر اترتا اور وہاں سے مکہ پہنچ کر رومی دنیا میں جاتا تھا۔ اور اسی طرح رومی دنیا کے سارے اموالِ تجارت قریش ہی کے قافلے مکہ لاتے اور پھر ان بندرگاہوں تک پہنچاتے تھے جن پر مشرق کے تاجر آیا کرتے تھے۔ اولیاری لکھتا ہے کہ اس زمانے میں ’’مکہ‘‘ بینک کاری کا مرکز بن گیا تھا جہاں دور دراز علاقوں کے لیے ادائیگیاں کی جا سکتی تھیں اور وہ بین الاقوامی تجارت کا گھربنا ہوا تھا۔
(Mecca had become a banking centre where payments could be made to many distant lands and clearing house of International Commerce) { FR 2415 }
یہ چمکتی ہوئی تجارت آخر کیسے چل سکتی تھی اگر حالات وہ ہوتے جو فرض کر لیے گئے ہیں۔ معاشی قوانین کی سرسری واقفیت بھی یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ جہاں بدامنی کی وجہ سے کاروبار اس قدر کثیر المصارف اور پر خطر ہو کہ تجارتی سود کی شرح تین چار سو فیصدی تک پہنچ جائے۔ وہاں لازماً مال تجارت کی لاگت (cost price) بھی اس حد تک بڑھ جانی چاہیے کہ بیرونی منڈیوں میں لے جا کر انھیں منافع کے ساتھ فروخت کرنا غیر ممکن ہو جائے۔ آخر اتنی چڑھی ہوئی قیمتوں پر یہ مال مصر و شام کے بازاروں میں کیسے بک جاتا تھا؟ دراصل عرب میں اس ساری بدامنی و بدنظمی کے باوجود جس کا ذکر کیا جاتا ہے، بڑے پیمانے کی تجارت وہ قبیلے کرتے تھے جو بجائے خود طاقت ور ہوتے تھے، بڑے بڑے قبیلوں سے جنھوں نے حلیفانہ معاہدات بھی کر رکھے تھے، سود پر لاکھوں روپے کا مال قبیلوں میں پھیلا کر بھی جنھوں نے بکثرت لوگوں کو اپنے کاروبار کی گرفت میں لے لیا تھا، اور سردارانِ قبائل کو ہر طرح کے سامانِ تعیش بہم پہنچا کر بھی جنھوں نے اپنے وسیع اثرات قائم کر لیے تھے۔
اس کے علاوہ خود قبائل کا اپنا مفاد بھی اس کا متقاضی تھا کہ ان کہ وہ ناگزیر ضروریاتِ زندگی، غلہ، کپڑا وغیرہ بہم پہنچائیں جو باہر سے درآمد ہوتی تھیں۔ اس وجہ سے ان طاقت ور قبیلوں کو بڑے بڑے تجارتی قافلے لے کر، جن میں بسا اوقات ڈھائی ڈھائی ہزار اونٹ ہوتے تھے، عرب کے راستوں سے گزرنے کے لیے اس قدر بھاری ٹیکس نہیں دینے پڑتے تھے اور نہ خطرات سے محفوظ رہنے کے لیے اس قدر خطیر مصارف اٹھانے پڑتے تھے کہ اموالِ تجارت کی قیمتیں ناقابل فروخت حد تک چڑھ جائیں بیرونی تجارت کے علاوہ خود عرب کے مختلف حصوں میں سال کے سال تقریباً ۲۰ مرکزی مقامات پر باقاعدہ ہاٹ (سوق) لگتے تھے جن کا ذکر ہمیں تاریخوں میں ملتا ہے۔ ان ہاٹوں میں عرب کے ہر ہر حصے سے قافلے آ کر خریدوفروخت کرتے اور ان میں سے بعض میں روم و ایران اور چین و ہندوستان تک کے تاجر آیا کرتے تھے۔ یہ پیہم تجارتی نقل و حرکت کیسے جاری رہ سکتی تھی اگر عرب کے حالات اتنے ہی خراب ہوتے جتنے فرض کر لیے گئے ہیں۔ مورخین نے قریش کے تجارتی کاروبار کے متعلق یہ تصریح کی ہے کہ وہ سو فیصدی منافع کمایا کرتے تھے۔ ایسے منافع کے کاروبار کے لیے سودی قرض پر سرمایہ نہ مل سکنا اور شرح سود تین چار سو فیصدی تک ہونا قطعاً خارج از فہم ہے اور اس دعوے کے لیے کوئی تاریخی سند موجود نہیں ہے کہ عرب میں شرح سود اس قدر چڑھی ہوئی تھی۔
دوسرا سوال ] رِبا کی لغوی اور اِصطلاحی تعریفیں[
لفظ رِبا کے معنی لغت عرب میں تو زیادتی اضافے اور بڑھوتری کے ہیں، لیکن ’’الربوٰ‘‘ سے اصطلاحاً جو چیز مراد ہے وہ خود قرآن ہی کے ان الفاظ سے صاف ظاہر ہو جاتی ہے:
وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰٓوا … وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ۝۰ۚ … وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰى مَيْسَرَۃٍ۝۰ۭ (البقرہ 278-280:2 )
سود میں سے جو کچھ باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو … اگر تم توبہ کر لو تو تمھیں اپنے رأس المال لینے کا حق ہے … اور اگر تمھارا دین دار تنگ دست ہو تو ہاتھ کھلنے تک اسے مہلت دو۔
یہ الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ رِبا کا یہ حکم قرض کے معاملے سے متعلق ہے اور قرض میں اصل سے زائد جو کچھ طلب کیا جائے وہ الرِبا ہے جسے چھوڑ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن یہ کہہ کر بھی رِبا کا مفہوم واضح کرتا ہے: اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰو (اللہ نے بیع کو حلال اور رِبا کو حرام کیا ہے) ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ربوٰ میں راس المال قرض دے کر جو کچھ اس سے زیادہ لیا جاتا ہے وہ اس منافع سے مختلف ہے جو بیع کے معاملے میں لاگت سے زائد حاصل ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ربوٰ مال کی وہ زیادتی ہے جو بیع کے طریقے سے نہ ہو۔ اسی بنا پر محدثین ، فقہا اور مفسرین کا پورا اتفاق ہے کہ قرآن میں وہ رِبا حرام کیا گیا ہے جو قرض کے معاملے میں اصل سے زائد طلب کیا جائے۔
جیسا کہ پہلے سوال کے جواب میں تاریخ سے ثابت کیا جا چکا ہے، نزولِ قرآن کے وقت یہ امر عرب میں پوری طرح معلوم و معروف تھا کہ قرض کا معاملہ صرف شخصی حاجات ہی کے لیے نہیں ہوتا بلکہ کاروباری اور قومی اغراض کے لیے بھی ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود قرآن نے ربوٰ کی حرمت کا حکم دیتے ہوئے ایسا کوئی اشارہ نہیں کیا ہے جس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہو کہ اغراض کے اعتبار سے قرض اور قرض میں کوئی فرق ہے، اور سود کی حرمت کا حکم صرف شخصی حاجات کے قرضوں کے لیے مخصوص ہے اور نفع آور اغراض کے لیے جو قرض دیا جائے اس پر سود لگانا حلال ہے۔ فقہائے اسلام بھی پہلی صدی ہجری سے آج تک اس اصول پر متفق رہے ہیں کہ کُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا فَہُورَبَا { FR 2416 } (ہر قرض جس کے ساتھ نفع حاصل کیا جائے ربا ہے) قریب کے زمانے سے پہلے فقہا کی اس متفقہ رائے سے اختلاف کی کوئی ایک مثال بھی تاریخ فقہ سے نکال کر پیش نہیں کی جا سکتی۔
تیسرا سوال] رِبا اور رِبح میں فرق[
رِبا اور رِبح میں فرق یہ ہے کہ ربا قرض پر مال دے کر اصل سے زائد وصول کرنے کا نام ہے اور اس کے برعکس ربح سے مراد بیع میں لاگت سے زائد قیمت فروخت حاصل کرنا ہے۔ اس کے مقابلے میں خسارے کا لفظ بولا جاتا ہے جب کہ لاگت سے کم پر کسی شخص کا مال فروخت ہو۔ لسان العرب میں ربح کے معنی یہ لکھے ہیں:
اَلرِّبْحَ وَالرَّبْحُ… فَالرَّباحُ النِّمَآئُ فِی التَّجْر … وَالْعَرْبُ تَقُوْلُ رَبِحَتْ تِجَارَتُہٗ اِذَا ربحَ صَاَحِبُہَا فِیْہَا … وَقَوْلُہٗ تَعَالٰی فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُہُمْ۔ { FR 2417 }
تجارت میں افزونی کو رَبْحُ اور رَبْحَ اور رباح کہتے ہیں … عرب کہتے ہیں ربحت تجارتہ جبکہ تجارت کرنے والا نفع کمائے … اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُہُمْ
مفردات امام راغب میں ہے:
اَلرِّبْحُ الزِّیَادَۃُ الْحَاصِلَۃُ فِی الْمُبَایَعَۃِ ۔{ FR 2418 }
ربح وہ زیادتی ہے جو خریدوفروخت کے معاملے میں حاصل ہو۔
قرآن مجید خود بھی رِبا اور تجارتی منافع کا فرق بیان کرتا ہے۔ کفارِ عرب حرمت سود کے خلاف جو اعتراض پیش کرتے تھے وہ یہ تھا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰو یعنی بیع میں اصل لاگت سے زائد جو قیمت فروخت وصول کی جاتی ہے وہ بھی تو آخر اسی طرح ہے جس طرح قرض کے معاملے میں اصل راس المال سے زائد ایک رقم لی جاتی ہے۔ قرآن نے اس کے جواب میں صاف کہا کہ اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰو ’’اللہ نے بیع کو حلال کیا اور ربا کو حرام کیا ہے۔‘‘ یعنی دولت میں اضافہ بصورت بیع اور چیز ہے اور بصورت قرض اور چیز۔ ایک کو خدا نے حلال کیا ہے اور دوسرے کو حرام۔ کوئی شخص منافع چاہتا ہو تو اس کے لیے یہ دروازہ کھلا ہے کہ خود بیع یا کاروبار کرے یا کسی دوسرے کے ساتھ اس میں شریک ہو جائے لیکن قرض دے کر منافع طلب کرنے کا دروازہ بند ہے۔
چوتھا سوال] قرض پر سود کی شرط لینے اور دینے والے دونوں کی طرف سے یکساں ہے[
رِبا کی تعریف یہ ہے کہ ’’قرض کے معاملے میں اصل سے زائد جو کچھ بطور شرطِ معاملہ وصول کیا جائے وہ ربوٰ ہے۔‘‘ اس تعریف میں اس سوال کا قطعاً کوئی دخل نہیں ہے کہ یہ ربا قرض دینے والے نے طلب کیا یا قرض لینے والے نے از خود پیش کیا۔ یہ سوال ربوٰ کی قانونی تعریف میں غیر موثر ہے اور قرآن سے یا کسی صحیح حدیث سے اس امر کا کوئی اشارہ تک نہیں نکلتا کہ اگر سود لینے والے کی طرف سے پیش کیا جائے تو اس سے اس کے سود ہونے اور حرام ہونے میں کوئی فرق واقع ہوگا۔ علاوہ بریں کوئی صاحب عقل دنیا میں ایسا موجود نہیں ہے نہ کبھی پایا گیا ہے جسے اگر سود کے بغیر قرض مل سکتا ہو تب بھی وہ سود ادا کرنے کی شرط اپنے طور پر پیش کرے۔ قرض لینے والے کی طرف سے یہ شرط تو اسی صورت میں پیش ہو سکتی ہے جب کہ کہیں سے اس کو بلا سود قرض ملنے کی امید نہ ہو۔ اس لیے سود کی تعریف میں اس کو غیر موثر ہونا ہی چاہیے۔
مزید برآں بینکوں کی طرف سے قدیم زمانے میں بھی اور آج بھی امانت رکھے ہوئے روپے پر سود اس لیے پیش کیا جاتا تھا اور کیا جاتا ہے کہ اس لالچ سے لوگ اپنی جمع شدہ دولت ان کے حوالے کریں اور پھر وہ کم شرح سود پر لی ہوئی دولت کو آگے زیادہ شرح سود پر قرض دے کر اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اس طرح کی پیش کش اگر سود دینے والے کی طرف سے ہوتی ہے تو حرمت سود کے مسئلے میں اس کے قابل لحاظ ہونے کی آخر کیا معقول وجہ ہے۔ امانتوں پر جو سود دیا جاتا ہے اس کی نوعیت دراصل یہ ہے کہ وہ اس سود کا ایک حصہ ہے جو انھی امانتوں کو شخصی، کاروباری اور ریاستی قرضوں کی شکل میں دے کر وصول کیا جاتا ہے۔ یہ تو اسی طرح کا حصہ ہے جیسے کوئی شخص نقب زنی کے آلات کسی سے لے اور جو کچھ چوری کا مال اسے حاصل ہوا اس کا ایک حصہ اس شخص کو بھی دے دے جس نے اسے یہ آلات فراہم کرکے دیے تھے۔ یہ حصہ اس دلیل سے جائز نہیں ہو سکتا کہ حصہ دینے والے نے بخوشی اسے دیا ہے، لینے والے نے جبر سے نہیں لیا ہے۔
پانچواں سوال] بیع سلم اور تجارتی سود میں فرق[
بیع سلم دراصل پیشگی سودے کی ایک صورت ہے، یعنی ایک شخص دوسرے شخص سے آج ایک چیز خرید کر اس کی قیمت ادا کر دیتا ہے اور ایک وقت مقرر کر دیتا ہے کہ بائع وہ چیز اس وقت خاص پر اسے دے گا۔ مثلاً میں ایک شخص سے کپڑے کے سوتھان آج خریدتا ہوں اور ان کی قیمت ادا کر دیتا ہوں اس شرط کے ساتھ کہ یہ تھان میں چار مہینے کے بعد اس سے لوں گا۔ اس سودے میں چار باتیں ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ مال کی قیمت سودا طے ہونے کے وقت ہی ادا کر دی جائے۔ دوسرے یہ کہ مال کی صفت (quality) واضح طور پر معین ہو تا کہ بائع اور مشتری کے درمیان اس کی صفت کے بارے میں کوئی چیز مبہم نہ رہے جو وجہ نزاع بن سکے۔ تیسرے یہ کہ مال کی مقدار بھی وزن، یا ناپ یا تعداد وغیرہ کے لحاظ سے ٹھیک ٹھیک معین ہو۔ اور چوتھے یہ کہ مال خریدار کے حوالے کرنے کا وقت معین ہو اور اس میں بھی کوئی ابہام نہ ہو کہ وہ نزاع کا سبب بنے اس سودے میں جو پیشگی قیمت دی جاتی ہے اس کی نوعیت ہرگز قرض کی نہیں ہے بلکہ وہ ویسی ہی قیمت ہے جیسی دست بدست لین دین میں خریدار ایک چیز کی قیمت ادا کرتا ہے۔ فقہ میں اس کا نام بھی ثمن ہے نہ کہ قرض۔ وقت معین پر مال کی عدم تحویل یا کسی اور سبب سے اگر بیع فسخ ہو جائے تو مشتری کو صرف اصل قیمت واپس دی جاتی ہے، کسی شے زائد کا وہ حق دار نہیں ہوتا۔ اس میں اور عام بیع میں اس کے سوا کوئی فرق نہیں ہے کہ عام بیع میں مشتری بائع سے اپنی خریدی ہوئی چیز دست بدست لے لیتا ہے اور بیع سلم میں وہ اس کا قبضہ لینے کے لیے آئندہ کی ایک تاریخ مقرر کر دیتا ہے۔ اس معاملے کو قرض اور سود کے مسئلے سے خلط ملط کرنے کی کوئی معقول وجہ میں نہیں سمجھ سکا۔
سوال میں بھینس کی جو مثال بیان کی گئی ہے وہ بیع سلم کی نہیں بلکہ شرکت کی شکل ہے، یعنی بھینس ایک شخص کی اور اس پر کام دوسرا شخص کرے اور دودھ دونوں کے درمیان تقسیم ہو جائے۔
چھٹا سوال] ہم جنس چیز کا ہم جنس چیز سے اضافے کے ساتھ تبادلہ[
ہم جنس اشیا کے دست بدست تبادلے میں تفاضل کو حرام کر دینے کا مقصد جیسا کہ ابن قیمؓ اور دوسرے لوگوں نے بیان کیا ہے، دراصل سدباب ذریعہ ہے۔ یعنی اصل حرام تو ربوٰ النسیئہ (قرض کا سود) ہے لیکن زیادہ ستانی کی ذہنیت کا قلع قمع کرنے کے لیے ہم جنس اشیا کے دست بدست تبادلے میں بھی تفاضل کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ امر ظاہر ہے کہ ایک ہی جنس کی اشیا مثلاً چاول کا تبادلہ چاول سے صرف اس صورت میں کیا جاتا ہے جب کہ اس کی ایک قسم بڑھیا ہو اور دوسری گھٹیا۔ شارع کا منشا یہ ہے کہ بڑھیا قسم کے ایک سیر چاول کا تبادلہ گھٹیا قسم کے مثلاً سوا سیر چاول سے نہ کیا جائے خواہ ان دونوں کی بازاری قیمت کا فرق اتنا ہی ہو بلکہ ایک شخص اپنے چاول مثلاً روپے کے عوض فروخت کر دے اور دوسرے چاول روپے کے عوض ہی خرید لے۔ براہ راست چاول کا چاول سے تفاضل کے ساتھ مبادلے کرنے میں اس ذہنیت کو غذا ملتی ہے جو سود خوری کی اصل جڑ ہے اور شارع اسی کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے۔
اس سلسلے میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ فقہا کے درمیان سود کے مسئلے میں جتنے بھی اختلافات ہوئے ہیں وہ صرف ربوٰ الفضل کے معاملے میں ہیں کیونکہ اس کی حرمت کے احکام نبی a نے آخر زمانے میں دیے تھے اور آپ کی حیاتِ طیبہ میں معاملات پر ان احکام کے انطباق کی شکلیں پوری طرح واضح نہ ہو سکی تھیں لیکن جہاں تک ربٰوا النسیئہ (قرض کے معاملے میں اصل سے زائد لینے) کا تعلق ہے، اس کی حرمت اور اس کے احکام میں فقہا کے درمیان پورا اتفاق ہے۔ یہ ایک صاف مسئلہ ہے جس میں کوئی الجھن نہیں ہے۔
ساتواں سوال] تجارت میں طرفین کی رضامندی اور سُود میں طرفین کی رضا مندی[
تجارت میں طرفین کی رضامندی ضرور لازم ہے، لیکن یہ نہ تجارت کے حلال ہونے کی علت ہے نہ اس کا عدم، سود کے حرام ہونے کی علت۔ قرآن میں کہیں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ سود اس لیے حرام کیا جاتا ہے کہ دینے والا اسے بادلِ نخواستہ مجبوراً دیتا ہے۔ اگرچہ دنیا میں کوئی سود بھی برضا و رغبت نہیں دیا جاتا اور بلا سود قرض ملنے کا امکان ہو تو کوئی شخص قرض پر سود نہ دے لیکن اس چیز کی حرمت کے مسئلے میں رضامندی اور نارضامندی کا سوال بالکل غیر متعلق ہے، کیونکہ قرآن مطلقاً اس قرض کو حرام قرار دیتا ہے جس میں رأس المال سے زائد ادا کرنے کی شرط شامل ہو۔ قطع نظر اس سے کہ یہ شرط تراضی طرفین سے طے ہوئی ہو یا کسی اور طرح۔
رہی یہ بحث کہ سودی قرض کی حرمت میں اصل علت ظلم ہے اور جس قرض پر سود وصول کرنے میں ظلم نہ ہو وہ حلال ہونا چاہیے۔ اس کے متعلق میں یہ عرض کروں گا کہ قرآن نے اس امر کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ہے کہ آپ اس کے الفاظ سے صرف ’’ظلم‘‘ کا علت حرمت ہونا نکال لیں اور پھر اس لفظ ظلم کا مفہوم خود جس طرح چاہیں مشخص کریں۔ قرآن جس جگہ یہ علت حرمت بیان کرتا ہے اسی جگہ وہ خود ہی ظلم کا مطلب بھی واضح کر دیتا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:
﴿يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ … وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ۝۰ۚ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ o ﴾ ( البقرہ 278-279:2)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو وہ سود جو (لوگوں کے ذمے) باقی رہ گیا ہے اگر تم مومن ہو … اور اگر تم توبہ کر لو تو تمھیں اپنے راس المال لینے کا حق ہے۔ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔
یہاں دو ظلموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک وہ جو دائن مدیون پر کرتا ہے۔ دوسرا وہ جو مدیون دائن پر کرتا ہے۔ مدیون کا دائن پر ظلم ، جیسا کہ آیت کے سیاق و سباق سے صاف ظاہر ہوتا ہے، یہ ہے کہ اس کا دیا ہوا اصل رأس المال بھی مدیون واپس نہ کرے۔ بالکل اسی طرح مدیون پر دائن کا ظلم جو اس آیت کے سیاق و سباق سے بین طور پر ظاہر ہو رہا ہے، یہ ہے کہ وہ اصل رأس المال سے زائد اس سے طلب کرے۔ اس طرح قرآن یہاں اس ظلم کے معنی خود متعین کر دیتا ہے جو قرض کے معاملے میں دائن و مدیون ایک دوسرے پر کرتے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے انصاف یہ ہے کہ دائن مدیون سے صرف رأس المال واپس لے اور ظلم یہ کہ وہ رأس المال سے زیادہ وصول کرے۔
قرآن کا سیاق و سباق اپنے مفہوم میں اس قدر واضح ہے کہ ابن عباسؓ اور ابن زیدؒ سے لے کر پچھلی صدی کے شوکانی ؒ اور آلوسیؒ تک تمام مفسرین نے اس کا یہی مطلب لیا ہے۔ اس پوری مدت میں کوئی ایک مفسر بھی ایسا نہیں پایا جاتا جس نے قرآن سے صرف ظلم کا لفظ حرمت ربوٰ کی علت کے طور پر نکال لیا ہو اور پھر ظلم کے معنی باہر کہیں سے لینے کی کوشش کی ہو۔ یہ بات اصولاً بالکل غلط ہے کہ ایک عبارت کے اپنے سیاق و سباق سے اس کے کسی لفظ کا جو مفہوم ظاہر ہوتا ہو اسے نظرانداز کرکے ہم اپنی طرف سے کوئی معنی اس کے اندر داخل کریں۔
اس سوال کے سلسلے میں یہ دعویٰ جو کیا گیا ہے کہ کمرشل انٹرسٹ میں کسی پارٹی پر بھی ظلم نہیں ہوتا۔ یہ بھی ہمیں تسلیم نہیں ہے کیا یہ ظلم کچھ کم ہے کہ ایک شخص قرض پر سرمایہ دے کر تو ایک خاص منافع کی ضمانت حاصل کر لے، مگر جو لوگ کاروبار کو پروان چڑھانے کے لیے وقت، محنت اور ذہانت صرف کریں، اُن کے لیے سرے سے کسی منافع کی کوئی ضمانت نہ ہو بلکہ نقصان ہونے کی صورت میں بھی وہ دائن کو اصل مع سود دینے کے ذمہ دار ہیں؟ تمام خطرہ (risk) محنت اور کام کرنے والے فریق کے حصے میں، اور خالص منافع روپیہ دینے والے فریق کے حصّے میں، یہ آخر انصاف کیسے ہو سکتا ہے۔ اس لیے سود بہرحال ظلم ہے خواہ وہ شخصی حاجات کے قرضوں میں ہو یا کاروباری اغراض کے قرضوں میں۔ انصاف چاہتا ہے کہ اگر آپ قرض دیتے ہیں تو آپ کو صرف اپنا رأس المال واپس ملنے کی ضمانت حاصل ہو اور اگر آپ کاروبار میں روپیہ لگانا چاہتے ہیں تو پھر شریک کی حیثیت سے روپیہ لگائیں۔
آٹھواں سوال] صنعتوں اور بینکوں کے معاملات اور حکومتی قرضے[
اس سوال کا تفصیلی جواب میں اپنی کتاب ’’سود‘‘ میں دے چکا ہوں۔{ FR 2277 } یہاں مختصر جواب عرض کرتا ہوں۔
] صنعتی اداروں کے حصے (Shaves)[
(الف) صنعتی اداروں کے معمولی حصے بالکل جائز ہیں۔ بشرطیکہ ان کا کاروبار بجائے خود حرام نوعیت کا نہ ہو۔
] ترجیحی حصص پر منافع[
(ب) ترجیحی حصص، جن میں ایک خاص منافع کی ضمانت ہو، سود کی تعریف میں آتے ہیں اور ناجائز ہیں۔
]بینکوں کے فکسڈ ڈیپازٹ[
(ج) بینکوں کے فکس ڈیپازٹ کے متعلق دو صورتیں اختیار کی جا سکتی ہیں۔ جو لوگ صرف اپنے روپے کی حفاظت چاہتے ہوں اور اپنا روپیہ کسی کاروبار میں لگانے کے خواہش مند نہ ہوں، ان کے روپے کو بینک ’’امانت‘‘ رکھنے کے بجائے ’’قرض‘‘ لیں اسے کاروبار میں لگا کر منافع حاصل کریں، اور ان کا راس المال مدت مقررہ پر ادا کر دینے کی ضمانت دیں۔
اور جو لوگ اپنے روپے کو بینک کی معرفت کاروبار میں لگوانا چاہیں، ان کا روپیہ ’’امانت‘‘ رکھنے کے بجائے بینک ان سے ایک عام شراکت نامہ طے کرے، ایسے تمام اموال کو مختلف قسم کے تجارتی، صنعتی، زراعتی یا دوسرے کاموں میں، جو بینک کے دائرئہ عمل میں آتے ہوں، لگائے اور مجموعی کاروبار سے جو منافع حاصل ہو، اسے ایک طے شدہ نسبت کے ساتھ ان لوگوں میں اسی طرح تقسیم کر دے جس طرح خود بینک کے حصّے داروں میں منافع تقسیم ہوتا ہے۔
] لیٹر آف کریڈٹ کھولنا[
(د) بینکوں سے لیٹر آف کریڈٹ کھولنے کی مختلف صورتیں ہیں جن کی شرعی پوزیشن جداگانہ ہے۔ جہاں بینک کو محض ایک اعتماد نامہ دینا ہو کہ یہ شخص بھروسے کے قابل ہے وہاں بینک جائز طور پر صرف اپنے دفتری اخراجات کی فیس لے سکتا ہے۔ اور جہاں بینک دوسرے فریق کو رقم ادا کرنے کی ذمہ داری لے وہاں اسے سود نہیں لگانا چاہیے۔ اس کے بجائے مختلف جائز طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ مثلاً بینکوں کے کرنٹ اکاؤنٹ میں کاروباری لوگوں کی جو رقمیں رہتی ہیں، ان پر کوئی سود نہ دیا جائے، بلکہ حساب کتاب رکھنے کی اُجرت لی جائے اور ان رقموں کو قلیل المیعاد قرضوں کی صورت میں کاروباری لوگوں کو بلا سود دیا جائے۔ ایسے قرض داروں سے بینک اس رقم کا سود تو نہ لیں، البتہ وہ اپنے دفتری اخراجات کی فیس ان سے لے سکتے ہیں۔
]حکومتی اداروں کے معاملات[
(ھ) حکومت خود، یا اپنے زیر اثر جتنے ادارے بھی قائم کرے ان سے سود کے عنصر کو خارج ہونا چاہیے۔ اس کے بجائے دوسرے طریقے تھوڑی توجہ اور قوتِ اجتہاد سے کام لے کر نکالے جا سکتے ہیں جو جائز بھی ہوں اور نفع بخش بھی۔ اس طرح کے تمام اداروں کے بارے میں کوئی ایک جامع گفتگو چند الفاظ میں یہاں نہیں کی جا سکتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے حرام چیز کو حرام مان لیا جائے پھر اس سے بچنے کا ارادہ ہو۔ اس کے بعد ہر کارپوریشن کے لیے ایک ایسی کمیٹی بنائی جائے جو اس کارپوریشن کے تمام کاموں کو نگاہ میں رکھ کر یہ دیکھے کہ اس کے مختلف کام کہاں کہاں حرام طریقوں سے ملوث ہوتے ہیں اور ان کا بدل کیا ہے جو اسلامی احکام کی رُو سے جائز بھی ہو اور قابل عمل اور نفع بخش بھی۔ اوّلین چیز ہماری اس ذہنیت کی تبدیلی ہے کہ اہل مغرب کے جن پٹے ہوئے راستوں پر چلنے کے ہم پہلے سے عادی چلے آ رہے ہیں انھی پر ہم آنکھیں بند کرکے چلتے رہنا چاہتے ہیں اور سارا زور اس بات پر صرف کر ڈالتے ہیں کہ کسی طرح انھی راستوں کو ہمارے لیے جائز کر دیا جائے۔ ہماری سہولت پسندی ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم کچھ دماغ سوزی اور کچھ محنت کرکے کوئی نیا راستہ نکالیں۔ تقلید جامد کی بیماری بدقسمتی سے ساری قوم کو لگی ہوئی ہے۔ نہ جُبَّہ پوش اس سے شفا پاتے ہیں نہ سوٹ پوش۔
]حکومت کے اندرونی قرضے[
(و) گورنمنٹ کے قرضے جہاں تک اپنے ملک سے حاصل کیے جائیں ان پر سود نہ دیا جائے۔ اس کے بجائے حکومت اپنے ایسے منصوبوں کو جن میں قرض کا روپیہ لگایا جاتا ہے کاروباری اصول پر منظم کرے اور ان سے جو نفع حاصل ہو اس میں سے ایک طے شدہ تناسب کے ساتھ ان لوگوں کو حصہ دیتی رہے جن کا روپیہ وہ استعمال کرتی ہے پھر جب وہ مدت ختم ہو جائے جس کے لیے ان سے روپیہ مانگا گیا تھا، اور ان لوگوں کا راس المال واپس کر دیا جائے تو آپ سے آپ منافع میں ان کی حصّے داری بھی ختم ہو جائے گی۔ اس صورت میں درحقیقت کوئی بہت بڑا تغیر کرنا نہیں ہوگا۔ متعین شرح سود پر جو قرض لیے جاتے ہیں، ان کو تبدیل کرکے بس متناسب منافع پر حصّے داری کی صورت دینی ہوگی۔
]حکومت کے بیرونی قرضے[
غیر ملکوں سے جو قرض لیے جاتے ہیں ان کا مسئلہ اچھا خاصا پیچیدہ ہے جب تک پوری تفصیل کے ساتھ ایسے تمام قرضوں کا جائزہ نہ لیا جائے، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کی نوعیتیں کیا کیا ہیں اور ان کے معاملے میں حرمت سے بچنے کے لیے کس حد تک کیا کچھ کیا جا سکتا ہے۔ البتہ اصولی طور پر جو بات میں کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمیں پہلے اپنی تمام توجہ اندرون ملک سے سود کو ختم کرنے پر صرف کرنی چاہیے اور بیرون ملک میں جہاں سودی لین دین سے بچاؤ کی کوئی صورت نہ ہو وہاں اس وقت تک اس آفت کو برداشت کرنا چاہیے جب تک اس سے بچنے کی صورتیں نہ نکل آئیں، ہم اپنے اختیار کی حد تک خدا کے سامنے جواب دہ ہیں۔ اس حد تک اگر ہم گناہ سے بچیں تو مجبوری کے معاملے میں ہم معافی کی امید رکھ سکتے ہیں۔
(ماہنامہ ترجمان القرآن۔ مئی و جون ۱۹۶۰ء)
٭…٭…٭

شیئر کریں