Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

اسلام کا نظریۂ سیاسی
تمام اِسلامی نظریات کی اساس
انبیا علیہم السلا م کا مشن
الٰہ کے معنی
رَبّ کا مفہوم
فتنے کی جڑ
انبیاؑ کا اصل اصلاحی کام
نظریّۂ سیاسی کے اوّلیں اُصُول
اِسلامی اسٹیٹ کی نوعیت
ایک اعتراض
حُدودُ اللّٰہ کا مقصد
اِسلامی اسٹیٹ کا مقصد
ایجابی اسٹیٹ
جماعتی اور اُصولی اسٹیٹ
نظریہ خلافت اور اس کے سیاسی مضمرات
اِسلامی جمہوریت کی حیثیت
انفرادیت اور اجتماعیت کا توازن
اِسلامی اسٹیٹ کی ہیئتِ ترکیبی

اسلام کا نظریۂ سیاسی

اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

رَبّ کا مفہوم

اور ’’ربّ‘‘ کا مفہوم کیا ہے؟ عربی زبان میں ربّ کے اصلی معنی پرورش کرنے والے کے ہیں اور چوں کہ دنیا میں پرورش کرنے والے ہی کی اطاعت و فرماں برداری کی جاتی ہے، لہٰذا ربّ کے معنی مالِک اور آقا کے بھی ہوئے، چنانچہ عربی محاورہ میں مال کے مالک کو ربُّ المال اور صاحبِ خانہ کو ربّ الدار کہتے ہیں۔ آدمی جسے اپنا رازق اور مرَبیّ سمجھے، جس سے نوازش اور سرفرازی کی اُمید رکھے، جس سے عزت اور ترقی اور امن کا متوقع ہو، جس کی نگاہِ لطف کے پھر جانے سے اپنی زندگی برباد ہو جانے کا خوف کرے، جسے اپنا آقا اور مالک قرار دے اور جس کی فرماں برداری اور اطاعت کرے وہی اس کا رب ان دونوں اصطلاحوں کی مفصل تشریح کے لیے ملاحظہ ہو ’’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘‘ مطبوعہ اسلامک پبلی کیشنز لمیٹڈ لاہور
ہے۔
ان دونوں لفظوں کے معنی پر نگاہ رکھیے اور پھر غور سے دیکھیے، انسان کے مقابلہ میں یہ دعوٰی لے کر کون کھڑا ہو سکتا ہے کہ مَیں تیرا الٰہ ہوں اور مَیں تیرا رب ہوں، میری بندگی و عبادت کر، کیا درخت؟پتھر؟ دریا؟ جانور؟ سورج؟ چاند؟ تارے؟ کسی میں بھی یہ یارا ہے کہ وُہ انسان کے سامنے آ کر یہ دعوٰی پیش کر سکے؟ نہیں ہرگز نہیں، وُہ صرف انسان ہی ہے جو انسان کے مقابلہ میں خدائی کا دعوٰی لے کر اُٹھتا ہے اور اُٹھ سکتا ہے۔ خدائی کی ہوس انسان ہی کے سر میں سما سکتی ہے، انسان ہی کی حد سے بڑھی خواہش اقتدار یا خواہش انتفاع اسے اس بات پر ابھارتی ہے کہ وُہ دوسرے انسانوں کا خدا بنے، ان سے اپنی بندگی کرائے، ان کے سر اپنے آگے جھکوائے، ان پر اپنا حکم چلائے، اُنھیں اپنی خواہشات کے حصول کا آلہ بنائے۔ یہ خدا بننے کی لذت ایسی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی لذیذ چیز انسان آج تک دریافت نہیں کر سکا ہے، جسے کچھ طاقت یا دولت، یا چالاکی یا ہوشیاری یا کسی نوع کا کچھ زور حاصل ہے وُہ یہی چاہتا ہے کہ اپنی فطری اور جائز حدود سے آگے بڑھے، پھیل جائے اور آس پاس کے انسانوں پر ’’جو اس کے مقابلہ میں ضعیف یا مفلس یا بے وقوف یا کسی حیثیت سے بھی کم زور ہوں‘‘ اپنی خدائی کا سکہ جما دے۔
اس قسم کی ہوسِ خداوندی رکھنے والے لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں اور دو مختلف راستے اختیار کرتے ہیں۔
ایک قسم اُن لوگوں کی ہے جن میں زیادہ جرأت ہوتی ہے، یا جن کے پاس خدائی کے ٹھاٹھ جمانے کے لیے کیا ذرائع ہوتے ہیں وُہ براہِ راست اپنی خدائی کا دعوٰی پیش کر دیتے ہیں۔ مثلاً ایک وُہ فرعون تھا جس نے اپنی بادشاہی اور اپنے لشکروں کے بل بوتے پر مصر کے باشندوں سے کَہ دیا کہ اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی (النازعات79:24) (مَیں تمھارا سب سے اُونچا رب ہوں)، اورمَاعَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ (القصص 28:38)(مَیں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمھارا اور بھی کوئی الٰہ ہے)
جب حضرت مُوسٰیؑ نے اس کے سامنے اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ پیش کیا اور اس سے کہا کہ تُو خود بھی الٰہ العالمین کی بندگی اختیار کر، تو اُس نے کہا کہ ’’مَیں تمھیں جیل بھیج دینے کی قدرت رکھتا ہوں لہٰذا تم مجھے الٰہ تسلیم کرو‘‘:
لَىِٕنِ اتَّخَذْتَ اِلٰــہًا غَيْرِيْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِيْنَo الشعرائ 26:29
اسی طرح ایک وُہ بادشاہ تھا جس سے حضرت ابراہیم ؑ کی بحث ہوئی تھی، قرآن میں اس کا ذکر جن الفاظ کے ساتھ آیا ہے اُنھیں ذرا غور سے پڑھیے:
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْ حَاۗجَّ اِبْرٰھٖمَ فِيْ رَبِّہٖٓ اَنْ اٰتٰىہُ اللہُ الْمُلْكَ۝۰ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰھٖمُ رَبِّيَ الَّذِيْ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ۝۰ۙ قَالَ اَنَا اُحْيٖ وَاُمِيْتُ۝۰ۭ قَالَ اِبْرٰھٖمُ فَاِنَّ اللہَ يَاْتِيْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِہَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُہِتَ الَّذِيْ كَفَرَ۝۰ۭ البقرہ 258:2
تُو نے نہیں دیکھا اس شخص کو جس نے ابراہیم ؑسے حجت کی اس بارے میں کہ ابراہیم ؑکا رب کون ہے اور یہ بحث اس نے اس لیے کی کہ اللّٰہ نے اُسے حکومت دے رکھی تھی۔ جب ابراہیم ؑنے کہا کہ میرا رب وُہ ہے جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے تو اس نے جواب دیا کہ زندگی اور موت میرے ہاتھ میں ہے۔ ابراہیم ؑ نے کہا، اچھا اللّٰہ تو سورج کو مشرق کی طرف سے لاتا ہے تُو ذرا مغرب کی طرف سے نکال لا، یہ کافر ہکّا بکّا رہ گیا۔
غور کیجیے! وُہ کافر ہکّا بکّا کیوں رَہ گیا؟ اس لیے کہ وُہ اللّٰہ کے وجود کا منکر نہ تھا۔ وُہ اس بات کا بھی قائل تھا کہ کائنات کا فرماں روا اللّٰہ ہی ہے۔ سورج کو وہی نکالتا اور وہی غروب کرتا ہے۔ جھگڑا اس بات میں نہ تھا کہ کائنات کا مالک کون ہے بلکہ اس بات میں تھا کہ انسانوں کا اور خصوصًا سرزمین عراق کے باشندوں کا مالک کون ہے؟ وُہ اللّٰہ ہونے کا دعوٰی نہیں رکھتا تھا، بلکہ اس بات کا دعوٰی رکھتا تھا کہ سلطنتِ عراق کے باشندوں کا رَب مَیں ہوں۔ اور یہ دعوٰی اس بِنا پر تھا کہ حکومت اس کے ہاتھ میں تھی، لوگوں کی جانوں پر وُہ قابض و متصرف تھا، اپنے آپ میں یہ قدرت پاتا تھا کہ جسے چاہے پھانسی پر لٹکا دے اور جس کی چاہے جان بخشی کر دے۔ یہ سمجھتا تھا کہ میری زبان قانون ہے اور میرا حکم ساری رعایا پر چلتا ہے۔ اس لیے حضرت ابراہیم ؑسے اس کا مطالبہ یہ تھا کہ تم مجھے رب تسلیم کرو، میری بندگی اور عبادت کرو۔ مگر جب حضرت ابراہیم ؑنے کہا کہ مَیں تو اُسی کو رب مانوں گا اور اُسی کی بندگی و عبادت بھی کروں گا جو زمین و آسمان کا رب ہے اور جس کی عبادت یہ سورج کر رہا ہے تو وُہ حیران رَہ گیا اور اس لیے حیران رَہ گیا کہ ایسے شخص کو کیوں کر قابو میں لائوں۔ واضح رہے کہ یہ مقالہ اکتوبر ۱۹۳۹ء؁ میں لکھا گیا تھ
یہ خدائی جس کا دعوٰی فرعون اور نمرود نے کیا تھا کچھ انھی دو آدمیوں تک محدود نہ تھی۔ دُنیا میں ہر جگہ فرماں روائوں کا یہی دعوٰی تھا۔ ایران میں بادشاہ کے لیے خدا اور خداوند کے الفاظ مستعمل تھے اور ان کے سامنے پورے مراسمِ عبودیت بجا لائے جاتے تھے، حالانکہ کوئی ایرانی انھیں خدائے خدائگاں (یعنی اللّٰہ) نہیں سمجھتا تھا اور نہ وُہ خود اس کے مدعی تھے۔ اسی طرح ہندوستان میں فرماں روا خاندان اپنا نسب دیوتائوں سے ملاتے تھے… چنانچہ سورج بنسی اور چندر بنسی آج تک مشہور ہیں… راجا کو اَن داتا یعنی رازق کہا جاتا تھا اور اس کے سامنے سجدے کیے جاتے تھے، حالانکہ پرمیشور ہونے کا دعوٰی نہ کسی راجا کو تھا اور نہ پرجا ہی ایسا سمجھتی تھی۔ ایسا ہی حال دُنیا کے دوسرے ممالک کا بھی تھا اور آج بھی ہے۔ بعض جگہ فرماں روائوں کے لیے الٰہ اور رب کے ہم معنی الفاظ اب بھی صریحًا بولے جاتے ہیں۔ مگر جہاں یہ نہیں بولے جاتے وہاں اسپرٹ وہی ہے جو ان الفاظ کے مفہوم میں پوشیدہ ہے۔ اس نوع کے دعوائے خداوندی کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی صاف الفاظ میں الٰہ اور رب ہونے ہی کا دعوٰی کرے۔ نہیں وُہ سب لوگ جو انسانوں پر اس اقتدار، اس فرماں روائی و حکم رانی، اس آقائی و خداوندی کو قائم کرتے ہیں جسے فرعون اور نمرود نے قائم کیا تھا، دراصل وُہ الٰہ اور رب کے معنی و مفہوم کا دعوٰی کرتے ہیں، چاہے الفاظ کا دعوٰی نہ کریں اور وُہ سب لوگ جو ان کی اطاعت و بندگی کرتے ہیں وُہ بہرحال ان کے الٰہ و ربّ ہونے کو تسلیم کرتے ہیں، چاہے زبان سے یہ الفاظ نہ کہیں۔
غرض ایک قسم تو انسانوں کی وُہ ہے جو براہِ راست اپنی الٰہیت اور ربوبیت کا دعوٰی کرتی ہے۔ دُوسری قسم وُہ ہے جس کے پاس اتنی طاقت نہیں ہوتی، اتنے ذرائع نہیں ہوتے کہ خود ایسا دعوٰی لے کر اُٹھیں اور اسے منوا لیں، البتہ چالاکی اور فریب کاری کے ہتھیار ہوتے ہیں جن سے وُہ عام انسانوں کے دل ودماغ پر جادُو کر سکتے ہیں۔ سو ان ذرائع سے کام لے کر وُہ کسی رُوح، کسی دیوتا، کسی بُت، کسی قبر، کسی سیارے یا کسی درخت کو الٰہ بنا دیتے ہیں اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ تمھیں نفع اور ضرر پہنچانے پر قادر ہیں۔ یہ تمھاری حاجت روائی کر سکتے ہیں۔ یہ تمھارے ولی اور محافظ اور مددگار ہیں۔ انھیں خوش نہ کرو گے تو یہ تمھیں قحط اور بیماریوں اور مصیبتوں میں مبتلا کر دیں گے، انھیں خوش کرکے حاجتیں طلب کرو گے تو یہ تمھاری مدد کو پہنچیں گے۔ مگر انھیں خوش کرنے اور انھیں تمھارے حال پر متوجہ کرنے کے طریقے ہمیں معلوم ہیں، ان تک پہنچنے کا ذریعہ ہم ہی بَن سکتے ہیں۔ لہٰذا ہماری بزرگی تسلیم کرو، ہمیں خوش کرو اور ہمارے ہاتھ میں اپنی جان، مال، آبرو سب کچھ دے دو۔ بہت سے بے وقوف انسان اس جال میں پھنس جاتے ہیں اور یوں جھوٹے خدائوں کی آڑ میں ان پروہتوں اور پجاریوں اور مجاوروں کی خداوندی قائم ہوتی ہے۔
اسی نوع میں کچھ دوسرے لوگ ہیں جو کہانت اور نجوم اور فال گیری اور تعویذ گنڈوں اور منتروں کے وسیلے اختیار کرتے ہیں۔ کچھ اور لوگ ہیں جو اللّٰہ کی بندگی کا اقرار تو کرتے ہیں مگر کہتے ہیں کہ تم براہِ راست اللّٰہ تک نہیں پہنچ سکتے، اس کی بارگاہ تک پہنچنے کا ذریعہ ہم ہیں۔ عبادت کے مراسم ہمارے ہی واسطے سے اَدا ہوں گے اور تمھاری پیدائش سے لے کر موت تک ہر مذہبی رسم ہمارے ہاتھوں سے انجام پائے گی۔ کچھ دوسرے لوگ ہیں جو اللّٰہ کی کتاب کے حامل بن جاتے ہیں، عام لوگوںں کو اس کے علم سے محروم کر دیتے ہیں اور خود اپنے زُعم میں خدا کی زبان بن کر حلال و حرام کے احکام دینا شروع کر دیتے ہیں یوں اُن کی زبان قانون بن جاتی ہے اور وُہ انسانوں کو خدا کے بجائے خود اپنے حکم کا تابع بنا لیتے ہیں۔ یہی اصل ہے اس برہمنیت اور پاپائیت کی جو مختلف ناموں اور مختلف صورتوں سے قدیم ترین زمانہ سے آج تک دُنیا کے مختلف گوشوں میں پھیلی ہوئی ہے، اور جس کی بدولت بعض خاندانوں، نسلوں یا طبقوں نے عام انسانوں پر اپنی سیادت کا سکہ جما رکھا ہے۔

شیئر کریں