Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

وہابی اور وہابیت
وہابی اور نجد کا فرقہ
حضرت حوا کی پیدائش
مالی عبادات اور بدنی عبادات کے ایصالِ ثواب کا معاملہ
ایصالِ ثواب کا اللّٰہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہونا
دوسروں کے لیے ایصالِ ثواب
اصحاب ِقبور سے دُعا کی درخواست
دُعا میں بزرگوں کی حرمت وجاہ سے توسل
مسئلہ حیات النبیﷺ
سجود لِغیر اﷲ
علمِ غیب
حاضر وناظرہونے کا معاملہ
خواب میں زیارتِ نبویؐ
سحر کی حقیقت اور معوّذتین کی شان نزول
گھر،گھوڑے اور عورت میں نحوست
شفاعت کا انکار
شفاعت کا صحیح تصور
اذان میں رسالت کی شہادت
کیا نماز میں درود پڑھنا شرک ہے؟
رسول اللّٰہﷺ کا تشہد
سنت نماز اور شرک
نماز کے آخر میں سلام کے مخاطب
رسول اللّٰہ ﷺ کی رکعاتِ نماز کی تعداد
اجنبی ماحول میں تبلیغِ اسلام
غیر مسلموں کے برتنوں میں کھانا
دعوت میں شراب پیش کرنا
روزے رکھنے کی طاقت کے باوجود فدیہ دینا
کُتوں کے منہ لگے ہوئے کپڑوں کو دھونا
جرابوں پر مسح
مہر معجل کا حکم
غیر محرم قریبی اعزّہ سے پردے کی صورت
غیر محرم رشتہ دار اور غیر محرم اجانب سے پردہ
غیر مَحرم اَعِزّہ کے سامنےآمنے کا مطلب
اللّٰہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کے مقابلے میں ماں کی اطاعت
عورت کا مردوں کو خطاب
خواتین کی تعلیم اور ملازمت
جہاد کے موقع پر خواتین کی خدمات
شادی پر استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرنا
ہم پلا لوگوں میں شادی کرنا
لڑکی والوں کی طرف سے رشتہ میں پہل کرنا
شادی بیاہ ،پیدائش اور موت کی تقریبات
رسُومات کی اصلاح میں ترجیحات
مہر کے تقرر میں حیلے نکالنا
آلات کے ذریعے سے توالد وتناسل
آلاتِ موسیقی اور ان کی تجارت
شادی بیاہ کے موقع پر باجے وغیرہ بجانا
موسیقی استعمال کرنے والوں کے ساتھ تعلق داری
موسیقی والی شادی میں شرکت
دُف کی ترقی یافتہ شکلوں کا حکم
دُف کے استعمال کا مفہوم
گڑیوں(کھلونوں) کاحکم
اشتہاری تصویریں
کنیز کی تعریف اور شرعی حیثیت
تعددِ ازواج اور لونڈیاں
تعدّدِ ازواج پرپابندی
توأم متحد الجسم لڑکیوں کا نکاح
طلاق قبل از نکاح
عدت خلع
ضبطِ ولادت کے جدید طریقوں کا حکم
ضبطِ ولادت اور بڑھتی ہوئی آبادی
جرم کی دنیوی سزا ملنے کی صورت میں آخرت کی سزا کا معاملہ
اپنی قوم میں شادی
نکاح و طلاق کےملکی قوانین اور شریعت
منکوحہ کتابیہ کے لیے آزادیِ عمل کے حدود
نکاح بلا مہر
اﷲ تعالیٰ کے حقوق ا ور والدین کے حقوق
پردہ اور اپنی پسند کی شادی
لفظ نکاح کا اصل مفہوم
عورت کی عصمت وعفت کا مستقبل
بیوی اور والدین کے حقوق
قرآن میں زنا کی سزا
بالغ عورت کا اختیار ِنکاح
شادی بیاہ میں کفاء ت کا لحاظ
نکاحِ شِغار

خواتین اور دینی مسائل

اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

روزے رکھنے کی طاقت کے باوجود فدیہ دینا

سوال: یہاں کیمبل پور (موجودہ ضلع اٹک) میں ایک صاحب علم نے پچھلے ماہ رمضان میں ایک فتنہ کھڑا کیا تھا کہ رمضان کے بارے میں سورۃ البقرہ کی آیات بیک وقت نازل ہوئی تھیں اس لیے اﷲ نے شروع میں جو رعایت دی ہے کہ’’جو روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں،اور پھر نہ رکھیں، تو وہ فدیہ ادا کریں‘‘،یہ ایک اٹل رعایت ہے اور اب بھی اس سے فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔اس کی حمایت میں ایک آیت183 کے آخری حصے کو پیش کیا گیا کہ اگر روزہ رکھو تو بہتر ہے اور نہ رکھو تو فدیہ ادا کردو۔ان کا کہنا تھاکہ آیت 184پہلی آیات کے ساتھ ہی نازل ہوئی تھی،وہ پہلی آیات کی رعایت کو کیسے چھین سکتی ہے۔
آپ کی تفسیر کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ آیات82اور183 تو جنگ بدر سے پہلے 2 ہجری میں نازل ہوئیں اور آیت184 ایک سال بعد نازل ہوئی۔اگریہ بات پایہِ ثبوت کو پہنچ جائے تو پھر ان کے اس خیال کی تردید ہوسکتی ہے کہ آج بھی ایک تندرست ہٹا کٹا انسان فدیہ دے کر روزے کی فرضیت سے بچ سکتا ہے۔
مذکورہ بالا صاحب اپنے آ پ کو علم حدیث کے استاد اور قرآن کے مفسر سمجھتے ہیں اور ہر دو کے متعلق اپنے افکار وخیالات دنیا کے سامنے پیش کرچکے ہیں۔آپ براہ مہربانی کچھ تکلیف گوارا کرکے ان کتب کا حوالہ دے دیں جن سے آپ کو ثبوت ملا ہو کہ آیات 182اور183 تو 2ہجری میں جنگ بدر سے پہلے نازل ہوئیں اور آیت184 ایک سال بعد نازل ہوئی۔اس طرح ہمارے پاس ایک سند ہوجائے گی اورہم انھیں اپنے فاسد خیالات کی نشرو اشاعت سے باز رکھنے کی کوشش کریں گے۔یہ اسلام کی ہی خدمت ہے۔اُمید ہے کہ آپ ضرور ہمیں اپنے افکارِ عالیہ سے مستفید فرمائیں گے۔

جواب: اس سوال میں جس فتنے کا ذکر کیا گیا ہے،اُس کا منشا تو خود اُس کے موضوع و مضمون ہی سے ظاہر ہے۔اس کے مصنف کا صاف مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ رمضان میں روزے رکھنے کی ’’مصیبت‘‘ سے خود بھی بچیں اور اپنے ہم مشرب ’’صاحب لوگوں‘‘کو بھی بچائیں۔عام فساق غنیمت ہیں کہ کھلی کھلی نافرمانی کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور جو نافرمانی کرنا چاہتے ہیں،اُسے بے محابا کر گزرتے ہیں۔ان میں کم ازکم یہ مکاری موجود نہیں ہے کہ خدا کی نافرمانی کرنے کے لیے خود خدا ہی کی کتاب کو حجت بنائیں۔ لیکن یہ نرالی قسم کے فساق وہ ہیں کہ اپنے فسق وفجور کے لیے قرآن کو آڑ بناتے ہیں، اور قرآن سے یہ خدمت لینے ہی کے لیے انھوں نے اس کا رشتہ حدیث سے توڑا ہے، تاکہ اس کی آیات کو جیسے چاہیں معنی پہنائیں۔ان لوگوں کو آج کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے،جس جس طرح چاہتے ہیں،خلق خدا کو خدا کی کتاب کا نام لے لے کرخدا کے دین سے پھیرتے ہیں۔ پہلے انھوں نے ’’دو قرآن‘‘ تصنیف کیے تھے،پھر’’ دو اسلام‘‘وضع کیے۔ آگے چل کر یہ ’’دو خدا‘‘ بھی بناڈالیں تو کون ان کا ہاتھ پکڑ سکتا ہے۔
روزوں کے بارے میں قرآن سے جو غلط استدلال انھوں نے کیا ہے،اُس کی غلطی واضح کرنے کے لیے سب سے پہلے ہم خود قرآن کی شہادت پیش کرتے ہیں۔ زیر بحث آیات کالفظی ترجمہ یہ ہے:
’’اے لوگو!جوایمان لائے ہو،لکھ دیے گئے تم پر روزے جس طرح لکھے گئے تھے تم سے پہلے کے لوگوں پر،تاکہ تم پرہیز گاری کرو۔ روزہ رکھنا چند گنے چنے دنوں کا، پھرجو کوئی تم میں سے مریض ہو،یا سفرپر ہو،تو پورا ہونا چاہیے شمار دوسرے دنوں سے۔ اور جو لوگ اس کی(یعنی روزے کی) طاقت رکھتے ہوں،ان پر فدیہ ہے ایک مسکین کا کھانا۔پھرجو کوئی رضاکارانہ بجا لائے نیکی تو وہ بہتر ہے اسی کے لیے۔ اور یہ کہ تم روزہ رکھو، یہ بہتر ہے تمھارے لیے اگر علم رکھتے ہو۔ ماہِ رمضان وہ ہے جس میں نازل کیا گیاقر آن، راہ نمابنا کر انسانوں کے لیے، اور روشن آیات لیے ہوئے ہدایت اور تفریق حق وباطل کی۔ پس جو پائے تم میں سے اس مہینے کو، تو چاہیے کہ اس کے روزے رکھے۔اور جو مریض ہو یا سفر پر ہو،تو پورا ہونا چاہیے شمار دوسرے دنوں سے۔‘‘{ [ يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَـمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَo اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ۝۰ۭ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ۝۰ۭ وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَہٗ فِدْيَۃٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ۝۰ۭ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَہُوَخَيْرٌ لَّہٗ۝۰ۭ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰى وَالْفُرْقَانِ۝۰ۚ فَمَنْ شَہِدَ مِنْكُمُ الشَّہْرَ فَلْيَصُمْہُ۝۰ۭ وَمَنْ كَانَ مَرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ۝۰ۭ ] (البقرہ 2:185-183 ) }
(ملاحظہ فرمایے سورۃ البقرہ،رکوع 23، اوراصل سے مقابلہ کرکے خوب اطمینان کرلیجیے کہ اصل اور ترجمے میں معنی کے لحاظ سے کوئی فرق تو نہیں ہے)۔
اس عبارت کو جو شخص خالی الذہن ہوکر پڑھے گا،اُس کے دل میں لازماًپہلا سوال یہ پیدا ہوگا کہ اگر یہ پوری عبارت ایک ہی سلسلۂ تقریر کی ہے جو بیک وقت ارشاد ہوئی تھی، تو اس میں پہلے ہی یہ کیوں نہ کہہ دیا گیا کہ ماہ رمضان میں تم کو یہ نعمت دی گئی تھی اس لیے تم میں سے جو اس کو پائے،اُسے چاہیے کہ اس مہینے کے روزے رکھے؟آخر یہ کیا اندازِ بیان ہے کہ پہلے کہا’’روزہ رکھنا چند گنے چنے دنوں کا‘‘پھر تین چار فقروں میں روزوں کے متعلق بعض احکام بیان کیے،پھر بتایا گیا کہ وہ گنے چنے دن رمضان کے ہیںاور رمضان کو اس کام کے لیے اس وجہ سے منتخب کیا گیا ہے اور اس پورے مہینے کے روزے رکھنے چاہییں۔ ایک مربوط سلسلہ تقریر میں شاید ایک اناڑی بھی اپنی بات یوں ادا نہ کرتا، بلکہ یوں کہتا کہ اگلی قوموں کی طرح تم پر بھی روزے فرض کیے گئے ہیں اور رمضان کے مہینے میں تم کو قرآن کی نعمت دی گئی ہے اس لیے یہ فرض روزے تم اس مہینے میں رکھو۔ اس کے بعد اس کو جو کچھ احکام بیان کرنے ہوتے وہ بیان کردیتا۔
دوسرا سوال ایک خالی الذہن ناظر کے دل میں یہ پیدا ہوگا کہ اس سلسلہ عبارت میں جب پہلے یہ فقرہ آچکا تھا کہ ’’جو کوئی تم میں سے مریض ہو،یا سفرپر ہو، تو پورا ہونا چاہیے شمار دوسرے دنوں سے‘‘ تو اسی فقرے کو بعد میں پھر دہرانے کی کیا حاجت تھی؟اور اگر فی الواقع اس کا دہرانا ضروری تھا تو پھر یہ فقرہ بھی کیوں نہ دہرایا گیا کہ’’جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں،ان پر فدیہ ہے ایک مسکین کا کھانا‘‘۔ حقیقت میں ضرورت تو دونوں میں سے ایک کو بھی دہرانے کی نہ تھی۔لیکن ایک کو دہرانا اور دوسرے کو نہ دہرانا تو ایک معما سا محسوس ہوتا ہے۔
تیسرا سوال جو اُس کے دل میں کھٹکے گا وہ یہ ہے کہ’’ماہ رمضان وہ ہے‘‘ سے پہلے کی عبارت اور اس کے بعد کی عبارت کا مضمون ایک دوسرے سے صریحاً متنا قض نظر آتا ہے۔پہلا مضمون صاف طور پر یہ کہہ رہا ہے کہ جو شخص طاقت رکھنے کے باوجود روزہ نہ رکھے،وہ فدیہ دے دے،لیکن اگر وہ روزہ ہی رکھے تویہ اُسی کے حق میں اچھا ہے۔اس کے بالکل برعکس دوسرا مضمون یہ ظاہر کررہا ہے کہ جو شخص ماہ رمضان کو پائے وہ اس میں ضرور روزے رکھے اور اس لازمی حکم کو یہ بات مزید تقویت پہنچا رہی ہے کہ اس حکم کے بعد اس رعایت کا تو اعادہ کردیا گیا ہے جو پہلے مضمون میں مریض اور مسافر کو دی گئی تھی،مگر اس رعایت کو ساقط کردیا گیا جو اوپر روزے کی طاقت رکھنے والے کو دی گئی تھی۔ایک معمولی عقل وخرد رکھنے والے قانون ساز سے بھی یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ ایک ہی معاملے میں وہ بیک وقت دومختلف احکام دے تو پھر بھلا یہ فعل اﷲ تعالیٰ کے شایان شان کیسے ہوسکتا ہے؟
پہلے دو سوالات صرف سوالات ہی ہیں۔ لیکن یہ آخری سوال تو ایک سخت اعتراض ہے جو اس عبارت پر وارد ہوتا ہے، اورمیں نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص حدیث سے مدد لیے بغیر اسے کیسے رفع کرسکتاہے۔جو لوگ حدیث کی مدد کے بغیر قرآن کو سمجھنے کے مدعی ہیں،اور حدیث کو احکام دین کا ماخذ اور قرآن کی مستند شرح ماننے سے انکار کرتے ہیں،ان سے پوچھیے کہ ان کے پاس ان سوالات اور اس اعتراض کا کیا جواب ہے؟
اب دیکھیے کہ حدیث کس طرح ہمیں قرآن مجید کے اس مقام کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ جن لوگوں کے سامنے قرآن کے یہ احکام نازل ہوئے تھے،ان کا بیان یہ ہے کہ اس عبارت کا ایک حصہ جو’’اے لوگو‘‘ سے شروع ہوکر’’اگر تم علم رکھتے ہو‘‘ پر ختم ہوتا ہے،ابتداء ً نازل ہوا تھا، اور دوسرا حصہ اس کے ایک سال بعد نازل ہوا۔ پہلے سال روزے فرض کرتے وقت یہ رعایت رکھی گئی تھی کہ آدمی روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود اگر روزہ نہ رکھے تو فدیہ دے دے۔ مگر دوسرے سال اس رعایت کو منسوخ کردیا گیا۔البتہ مسافر اور مریض کے لیے سابق رعایت بحال رکھی گئی۔
اس بیان میں نہ صرف یہ کہ سارے اشکالات رفع ہوگئے،بلکہ یہ بات بھی سمجھ میں آگئی کہ دوسرے سال آخری اور قطعی حکم دیتے ہوئے یہ تمہید کیوں اُٹھائی گئی کہ یہ رمضان کامہینہ وہ ہے جس میں تمھیں قرآن جیسی نعمت دی گئی ہے۔اب بات سمجھ میں آگئی کہ پہلے اﷲ کی اس نعمت کا احساس دلایا گیا، پھر حکم دیا گیا کہ اس نعمت کے شکریے میں تم کو اس مہینے کے روزے ضرور رکھنے چاہییں۔
محدثین ومفسرین نے یہ تشریح متعدد صحابہ اور تابعین سے نقل کی ہے۔ مثلاً امام احمدؒ بن حنبل،حضرت معاذ ؓ بن جبل سے ایک طویل تشریحی بیان نقل کرتے ہیں جس میں وہ فرماتے ہیں کہ نماز اور روزہ، دونوں کی موجودہ صورت بتدریج قائم کی گئی ہے۔نماز میں پہلے بیت المقدس کی طرف رُ خ کیا جاتا تھا۔پھر مکے کی طرف رُخ پھیرا گیا۔پہلے لوگ ایک دوسرے کو نماز کے وقت اطلاع دیتے تھے۔پھر اذان کا طریقہ مقرر کیا گیا۔پہلے طریقہ یہ تھا کہ اگر ایک شخص بیچ کے کسی مرحلے پر آکر جماعت میں شریک ہوتا تھا تو اپنی نماز کا چھوٹا ہوا حصہ ادا کرنے کے بعد امام کی پیروی شروع کرتا تھا۔پھر یہ طریقہ مقرر کیا گیا کہ جماعت میںجس مرحلے پر بھی آکر شریک ہو،امام کی پیروی میں نماز پڑھنی شروع کردو۔پھر امام کے سلام پھیر دینے کے بعد اُٹھ کر اپنی نماز پوری کرو۔ اسی طرح روزے کے احکام بھی بتدریج آئے ہیں۔ جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپؐہر مہینے تین دن کے روزے رکھتے تھے اور ایک روزہ محرم کی دسویں کو رکھا کرتے تھے۔ پھر اﷲ نے رمضان کے روزے فرض کیے،مگر یہ رعایت رکھی کہ جو روزہ نہ رکھے،وہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔اس کے بعد حکم آیا کہ رمضان کے روزے ضرور رکھے جائیں، اور تندرست مقیم آدمی کے لیے فدیے کی رعایت منسوخ کردی۔ پہلے لوگ افطار کے بعد اُس وقت تک کھانا پینا،مباشرت کرنا جائزسمجھتے تھے جب تک سو نہ جائیں۔سونے کے بعد وہ سمجھتے تھے کہ دوسرے دن کا روز ہ شروع ہوگیا۔ اگرچہ اس باب میں کوئی صریح حکم نہ تھامگر لوگ ایسا ہی سمجھے ہوئے تھے۔بعد میں حکم آیا کہ ﴿ اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمْ۔۔۔ اِلٰی قَوْلِہٖ ۔۔۔ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ ﴾ {مسند أحمد، مسند معاذ بن جبل، حدیث22124؛اسماعیل ا بن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، دارطیبۃ ،1999م، تفسیر سورۃ البقرہ، آیت 187 }
اس مضمون کی تائید میں بخاری، مسلم، ابو دائود اور دوسرے محدثین نے متعدد روایات نقل کی ہیں جو حضرت عائشہ، حضرت عبداﷲ بن عمر، حضرت عبداﷲ بن مسعود اور حضرت سلمہ بن اکوع؇ سے مروی ہیں۔{صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب قول اللہ جل ذکرہ احل لکم لیلۃ الصیام الرفث إلی… ؛سنن ابی داود، کتاب الصوم، باب مبدائ فرض الصیام } مشہور مفسر ابن جریر طبریؒ (متوفی310ھ) نے پوری سند کے ساتھ جن صحابہؓ اور تابعینؒ سے اس کی تائید میں روایات نقل کی ہیں،ان کے نام یہ ہیں:معاذؓ بن جبل، ابن عمرؓ، ابن عباسؓ، سلمہؓ بن اکوع، علقمہؒ، حسن بصریؒ،شعبیؒ، عطاؒء، زُہریؒ۔ ان میں سے ایک روایت میں وہ حضرت معاذ بن جبلؒ کی یہ تصریح نقل کرتے ہیں کہ پہلے چوں کہ اہل عرب روزوں کے عادی نہ تھے اور روزہ ان پر سخت گراں گزرتا تھا، اس لیے ان کو یہ رعایت دی گئی تھی کہ رمضان میں جس دن روزہ نہ رکھیں، اُس دن کسی مسکین کو کھانا کھلادیں۔ بعد میں تاکیدی حکم آگیا کہ پورے مہینے کے روزے رکھو، اِلاّ یہ کہ تم مریض ہو یا سفرپر ہو۔{ جامع البیان عن تاویل القرآن ، تفسیر سورۃ البقرہ، آیت 184 ، حدیث 2733۔2734
} ایک اور روایت میں وہ ابن عباسؓ کی یہ تصریح نقل کرتے ہیں کہ پہلے سال کے روزوں میں اﷲ تعالیٰ نے فدیے کی رخصت رکھی تھی،مگر دوسرے سال جو حکم آیااُس میں مریض ومسافر کی رعایت تو بحال تھی لیکن مقیم کے لیے فدیے کی رعایت کا ذکر نہ تھا، اس لیے یہ رعایت منسوخ ہوگئی۔{جامع البیان عن تاویل القرآن ، تفسیر سورۃ البقرہ، آیت 184 ، حدیث 2738 }
اس تشریح سے ہر شخص خود اندازہ کرسکتا ہے کہ جو لوگ حدیث سے بے نیاز ہوکر،بلکہ احادیث کو حقارت اور تضحیک کے ساتھ پھینک کر قرآن سے من مانے احکام نکال رہے ہیں،وہ کس طرح خود گمراہ ہورہے ہیں اور عام مسلمانوں کو گمراہ کررہے ہیں۔

(ترجمان القرآن ، اپریل مئی 1953ء)

شیئر کریں