دنیا میں اللہ کی اس قانونی حاکمیّت کے نمائندے انبیاء علیہم السلام ہیں یعنی جس ذریعے سے ہم کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے شارع (Law Giver) کا ہمارے لیے کیا حکم اور کیا قانون ہے؟ وہ ذریعہ انبیا ہیں اور اسی بنا پر اسلام میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ان کی بے چون وچرا اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن میں آپ دیکھیں گے کہ خدا کی طرف سے جو نبی بھی آیا اس نے یہی اعلان کیا ہے کہ اِتَّقُوْا اللہَ وَاَطِیعُوْنِ ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ اور قرآن اس بات کو بطور ایک قطعی اصول کے بیان کرتا ہے:
وَمَا اَرْسَلنَا مِن رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ۔ (النساء: ۶۴)
ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن سے اس کی اطاعت کی جائے۔
وَمَنْ یُّطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ۔ (النساء۔۸۰)
اور جو رسول کی اطاعت کرے اس نے دراصل اللہ کی اطاعت کی۔
حتیٰ کہ قرآن کسی ایسے شخص کو مسلمان ماننے سے انکار کرتا ہے جو اختلافی امور میں رسول کو آخری فیصلہ دینے والی اتھارٹی تسلیم نہ کرے:۔
’’فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُم ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًامِمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمَاً۔ (النساء:۶۵)
پس نہیں تیرے رب کی قسم وہ ہرگز مومن نہ ہوں گے جب تک کہ اپنے اختلاف میں تجھے فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو فیصلہ تو کرے اس پر اپنے دل میں کوئی تنگی بھی محسوس نہ کریں بلکہ سر بسر تسلیم کرلیں۔
پھر وہ کہتا ہے :
وَمَا کَانَ لِمُؤمِنِ وَّلَا مُؤمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُولُہٗ اَمْرًا اَن یَّکُوْنَ لَھُمْ الخِیرَۃُ مِن اَمرِھِمْ وَمَنْ یّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُولَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِیْنَا۔ (الاحزاب:۵)
اور کسی مومن مرد اور عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ اللہ اور رسولؐ جب کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو ان کے لیے پھر خود اپنے معاملے میں فیصلہ کرنے کا اختیار باقی رہ جائے اور جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کرے وہ کھلی گمراہی میں پڑ گیا۔
اس کے بعد یہ شبہ کرنے کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی کہ اسلام میں قانونی حاکمیّت خالصۃً اور کلیۃً اللہ اور اس کے رسولؐ کی ہے۔