Search
Close this search box.

رسائل و مسائل

رسول اللّٰہﷺ کے لعاب سے حصولِ برکت

سوال

صحیح البخاری باب الشروط فی الجہاد والمصالحۃ، حدیث۲۷۳۱میں صحابہ کی ارادت مندی اور عقیدت کاذکر کرتے ہوئے عُروہؓ ذکر کرتے ہیں : فَوَاللَّهِ مَا تَنَخَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ ({ FR 2177 }) نخامہ کھنکارکو بھی کہتے ہیں اور جو غلیظ مواد ناک سے نکلتا ہے اس کو بھی۔ ان میں سے جو بھی ہو، بہرحال قابل غور ہے۔ کیا حضورعلیہ الصلاۃ والسلام کے نخامہ کی یہ کیفیت نہیں ہوتی تھی جو عام طور پر ہوتی ہے؟یافرط عقیدت کی وجہ سے صحابہ کو اسے چہرے اور جسم پر مل لینے میں اجنبیت نہیں محسوس ہوتی تھی؟ حضورﷺ کی نفاست پسندی اس میں حائل کیوں نہ ہوئی؟

جواب

آپ نے جس واقعے پر تعجب کا اظہار کیا ہے وہ درحقیقت کسی تعجب کا محل نہیں ہے۔ بس ذرا اس امر پر غور کرلیجیے کہ معاملہ ایک نبی کا ہے اور ان لوگوں کا ہے جو سچے دل سے مان چکے تھے کہ حضور ﷺ نبی ہیں اور اپنے درمیان اس عظیم المرتبت ہستی کو موجود پا رہے تھے۔ اس مرتبے کی ہستیوں کا جو زبردست اثر ان لوگوں پر ہوسکتا ہے جنھیں یقین ہو کہ ہمارے سامنے وہ شخص موجود ہے جسے اﷲ سے مکالمے کا شرف حاصل ہوتا ہے، اس کا اندازہ آپ بخوبی کرسکتے ہیں اگر تھوڑی دیر کے لیے خود اپنے آپ کو ان لوگوں کی جگہ فرض کرلیں ۔ یہ انبیا؊ کا غیر معمولی اثر ہی تو تھا جس کی بدولت ان کے معتقدین میں سے بکثرت لوگ حد پر نہ رک سکے اور غلو کرکے انھیں خدا اور ابن اﷲ اور اوتار اور نہ معلوم کیا کیا بنا بیٹھے۔ نبیؐ نے اس معاملے میں لوگوں کو حد اعتدال پر قائم رکھنے کے لیے جو کوششیں فرمائیں ، وہ سب کو معلوم ہیں ۔ مگر اس کے ساتھ آپؐ نے انسانی فطرت کی رعایت بھی ملحوظ رکھی اور حد اعتدال کے اندر جہاں تک شدت عقیدت کو جانے کی اجازت دی جاسکتی تھی، وہاں تک جانے سے لوگوں کو نہیں روکا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی وقت لوگوں نے حضورﷺ کا تھوک زمین پر نہ گرنے دیا اور آگے بڑھ کر اسے ہاتھوں پر لینے اور اپنے منہ اور جسم پر مل لینے کی کوشش کی تو آپؐ نے منع نہ فرمایا۔ رہی یہ بات کہ خود لوگوں کو گھن کیوں نہ آتی تھی، تو میں کہوں گا کہ عام انسانوں کے تھوک سے ضرور گھن آسکتی ہے، مگر جس منہ پر خدا کاکلام اترتا ہو، اس کے تھوک سے گھن آنا تو درکنار،اہل ایمان کی نگاہ میں تو عطر کی بھی اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ (ترجمان القرآن،اگست ۱۹۶۰ء)