Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

اسلام میں قانون سازی کا دائرہ عمل اور اس میں اجتہاد کا مقام
ایک منکر حدیث کے اعتراضات اور ان کا جواب
مسئلہ اجتہاد کے بارے میں چند شبہات
اجتہاد اور اُس کے تقاضے
مسئلہ اجتہاد میں الفاظ اور رُوح کی حیثیت
قانون سازی، شوریٰ اور اجماع
نظامِ اسلامی میں نزاعی امور کے فیصلے کا صحیح طریقہ
سنت ِرسول بحیثیت ِماخذ قانون
اسلام میں ضرورت و مصلحت کا لحاظ اور اس کے اصول و قواعد
دین میں حکمت ِ عملی کا مقام
غیبت کی حقیقت اور اس کے احکام
غیبت کے مسئلے میں ایک دو ٹوک بات
غیبت کے مسئلے میں بحث کا ایک اور رُخ
دو اہم مبحث:
اسلام اور عدل اجتماعی
یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ
عائلی قوانین کے کمیشن کا سوالنامہ اور اُس کا جواب
اہلِ کتاب کے ذبیحہ کی حِلّت و حُرمت
انسان کے بنیادی حقوق
مسئلہ خلافت میں امام ابوحنیفہؒ کا مسلک حاکمیت
شہادتِ حسین ؑ کا حقیقی مقصد ۱؎
اقوامِ مغرب کا عبرت ناک انجام
دنیائے اِسلام میں اسلامی تحریکات کے لیے طریق کار

تفہیمات (حصہ سوم)

اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

دو اہم مبحث:

۱- خلافت کے لیے قرشیت کی شرط
۲- حکمت ِ عملی اور اختیار اَہْوَنُ الْبَلِیَّتین کی تشریح
حکمت ِ عملی کے موضوع پر مصنف نے کلام کرتے ہوئے حدیث اَلْاَئِمَّۃٌ مِّنْ قُرَیْشِ سے جو استدلال کیا تھا اس پر بعض حلقوں سے متعدد اعتراضات کیے گئے تھے۔ ذیل میں ان تمام اعتراضات کو نقل کرکے مصنف کی طرف سے ان کا جواب دیا گیا ہے۔
’’حدیث اَلْاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ کے متعلق آپ نے اپنے مضامین میں جو کچھ لکھا ہے۱؎ اور اس پر بعض حلقوں کی طر ف سے جو اعتراضات کیے گئے ہیں، ان دونوں بحثوں کو دیکھ کر حسب ذیل امور تنقیح طلب محسوس ہوتے ہیں جن پر خالص علمی حیثیت سے روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے۔
۱- کہا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نہ امر ہے نہ خبر نہ وصیت بلکہ یہ ایک قضیے کا فیصلہ تھا جو خلافت کے بارے میں قریش اور انصار کے درمیان حضور کی زندگی ہی میں ذہنوں کے اندر موجود تھا اور حضورؐ کو اندیشہ تھا کہ آپ کے بعد یہ ایک نزاع کی صورت اختیار کر لے گا، اس لیے آپ نے اپنی زندگی میں یہ فیصلہ فرما دیا کہ آپ کے بعد قریش اور انصار میں سے قریش ہی خلافت کے حق دار ہیں۔ بالفاظِ دیگر یہ محض ایک وقتی فیصلہ تھا جس سے مقصود حضور کے فوراً بعد رونما ہونے والی نزاع کو رفع کرنا تھا اور بس۔ کیا حدیث مذکور کی یہ تعبیر درست ہے؟
۲- یہ بھی کہا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے سے مساوات کا اصول نہیں ٹوٹتا کیونکہ اسلام میں مساوات کا اصول مطلق نہیں ہے بلکہ اہلیت و قابلیت کی شرط سے مقیّد ہے اور یہ شرط اصولِ مساوات کی ضد نہیں ہے۔ مساوات کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہر شخص بلا لحاظِ اہلیت و صلاحیت ہر منصب کا مستحق ہو۔ اب چونکہ خلافت کے لیے اہلیت کی دوسری صفات کے ساتھ ساتھ سیاسی زورواثر بھی ایک ضروری صفت ہے۔ اور اس وقت یہ سیاسی زورواثر قریش ہی کو حاصل تھا، اس لیے انصار کے مقابلے میں ان کے استحقاقِ خلافت کو جو ترجیح دی گئی وہ اہلیت ہی کی بنا پر دی گئی۔ اس استدلال کی بنا پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس فیصلے سے اصول مساوات نہیں ٹوٹتا۔ کیا یہ استدلال صحیح ہے؟
۳- یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ کبھی اس حدیث کو امر قرار دیتے ہیں اور کبھی اسے خبر ثابت کرتے ہیں۔ چنانچہ ایک صاحب نے چراغ راہ کے اسلامی قانون نمبر (جلد اوّل صفحہ ۱۸۰) سے آپ کی ایک عبارت نقل کی ہے جس میں آپ نے اس حدیث کو محض ایک پیشین گوئی قرار دیا تھا اور اس کے حکم ہونے سے انکار کیا تھا۔ حالانکہ اب آپ اسے ایک حکم قرار دیتے ہیں۔ کیا اس سے یہ شبہ کرنے کی گنجائش نہیں نکلتی کہ یا تو آپ اس مسئلے کو سمجھے نہیں ہیں یا پھر آپ کبھی اپنے مطلب کے مطابق اس کا ایک مفہوم بناتے ہیں اور کبھی دوسرا؟
۴- اس سلسلے میں یہ امر بھی وضاحت طلب ہے کہ وہ اصول کیا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے آپ مستنبط کرتے ہیں اور اس کا انطباق آپ کے نزدیک کن امور پر کس طرح ہو گا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اگر آپ امورِ ذیل کی وضاحت بھی کر دیں تو مناسب ہو گا:
(الف) حکمت ِ عملی اور قاعدہ اہون البلیتین سے آپ کی کیا مراد ہے؟
(ب) کیا یہ قاعدہ دو ناگزیر برائیوں کی طرح دو ناگزیر بھلائیوں اور دو واجب الاطاعت احکام کے درمیان بھی استعمال ہو سکتا ہے؟
(ج) کیا آپ چاہتے ہیں کہ اب اقامت دین کی جدوجہد انبیا کے طریق عزیمت کو چھوڑ کر صرف رخصتوں اور حیلوں ‘ مصلحت پرستیوں ہی کے بل پر چلے اور سیاسی اغراض کے لیے دین کے جس اصول میں ترمیم کی ضرورت محسوس ہو اسے حدودِ شریعت کا لحاظ کیے بغیر دینی حکمت و مصلحت کے نام سے کر ڈالا جائے؟
(د) کیا آپ تحریک اقامت دین کے قائد کی حیثیت سے خود اپنے لیے اس اختیار کے مدعی ہیں کہ حکمت ِ عملی یا عملی سیاست یا اقامت دین کے مصالح کے تحت دین کے احکام و قوانین میں سے کسی کو ترک اور کسی کو اختیار کریں، کسی کو جائز اور کسی کو ناجائز ٹھہرائیں‘ اور کسی کو مقدّم اور کسی کو مؤخر کر دیں؟
(ھ)اگر یہ ڈھیلا ڈھالا اصول لوگوں کے ہاتھ میں پکڑا دیا جائے کہ تم دین کی مصلحتوں کو سامنے رکھ کر جس بات کو چاہو اختیار اور جسے چاہو ترک کر سکتے ہو تو کیا اس سے یہ خطرہ نہیں کہ دین کے معاملے میں بالکل امان ہی اٹھ جائے گی اور جس کے ہاتھ میں یہ نسخہ پکڑا دیا جائے گا وہ پورے دین کا تیا پانچا کرکے رکھ دے گا؟
(و)یہ امر تو مسلّم ہے کہ شارع کو خود اپنے احکام میں تغیّرّ و تبدل کرنے اور تقدیم و تاخیر کرنے یا ان میں رخصتیں دینے اور استثنا نکالنے کے اختیارات حاصل ہیں، مگر کیا شارع کے ان تصرّفات پر قیاس کرکے اور ان سے کچھ اصول مستنبط کرکے دوسرے بھی انھیں نئے پیش آمدہ مسائل پر چسپاں کرنے کا اختیار رکھتے ہیں؟ اور یہ اختیار آخر کس کو حاصل ہے؟‘‘
مصنف کا جواب
آپ کے سوالات کی ترتیب توڑ کر تیسرے سوال کا جواب میں پہلے دوں گا تاکہ ایک ضمنی بحث بیچ میں آ کر اصل مسائل سے توجہ نہ ہٹا سکے۔ چراغِ راہ کے اسلامی قانون نمبر سے میری جو عبارت نقل کی گئی ہے وہ دراصل آج سے ۲۰ سال پہلے اگست ۱۹۳۹ئ کے ترجمان القرآن میں ایک مستشرق کے مضمون ’’اسلامی قانون اور نظامِ معاشرت‘‘ پر مختصر نوٹ کی حیثیت سے لکھی گئی تھی۔ اس وقت تک مجھے اس مسئلے کی تحقیق کا موقع نہ ملا تھا اور میں نے مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم کی تحقیق پر اعتماد کرکے ایک رائے ظاہر کر دی تھی۔ ۱؎ لیکن بعد میں جب میں نے خود تحقیق کی تو مجھے وہ رائے غلط محسوس ہوئی اور میں نے اپریل ۱۹۴۶ئ کے ترجمان القرآن میں اس کے خلاف اپنی اس راے کا اظہار کیا جسے آپ ’’خلافت کے لیے قرشیت کی شرط‘‘ کے زیر عنوان رسائل و مسائل جلد اوّل میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ علمی مسائل میں رائے بدلنا کوئی نیا اور نرالا واقعہ نہیں ہے۔ اس کو اگر کسی برے معنی پر کوئی شخص محمول کرنا چاہے تو اسے اپنے فعل کا اختیار ہے۔ میری تبدیلی رائے کے وجوہ آگے آپ خود دیکھ لیں گے۔
اب اصل مسائل کی طرف آیئے۔ آپ نے اپنے سوال نمبر ۱ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی جو توجیہ نقل کی ہے اس میں پہلی ناقابلِ فہم بات تو یہ ہے کہ کسی معاملے میں ایک حکم دینے اور کسی قضیے کا فیصلہ کر دینے میں آخر وہ کیا باریک فرق ہے جس کی بنا پر یہ کہا گیا ہے کہ یہ امر نہ تھا بلکہ ایک قضیے کا فیصلہ تھا۔ پھر یہ بات بھی سمجھ میں نہیں آئی کہ حضورؐ نے خواہ انصار پر قریش کے حق خلافت کو ترجیح دی ہو یا تمام عرب و عجم پر، اس سے نفس مسئلہ زیر بحث پر آخر کیا اثر پڑتا ہے۔ لیکن ان دونوں باتوں کو تھوڑی دیر کے لیے نظرانداز کرکے اگر آپ بجائے خود اس توجیہ کا علمی جائزہ لیں تو آپ کو محسوس ہو گا کہ یہ محض ایک خانہ ساز توجیہ ہے جس کی پشت پر زعم اور ادّعاء کے سوا کوئی دلیل و ثبوت نہیں ہے۔ کیا فی الواقع حدیث، سیرت اور تاریخ کے پورے ذخیرے میں کوئی شہادت اس امر کی ملتی ہے کہ حضورؐ کے حینِ حیات انصار اور مہاجرین کے درمیان خلافت کے متعلق کوئی قضیہ پایا جاتا تھا؟ صحابہ کرام کا حال تو یہ تھا کہ وہ حضورؐ کی وفات کا تصوّر بھی برداشت نہ کرتے تھے، کجا کہ یہ جاں نثارانِ نبی آپؐ کے جیتے جی اپنی جگہ بیٹھ بیٹھ کر یہ سوچتے ہوں کہ آپ کی جانشینی ان میں سے کسے حاصل ہو‘ اور یہ سوچ اس حد تک پہنچ جائے کہ وہ انصار و مہاجرین کے درمیان ایک قضیے کی شکل اختیار کر گئی ہو۔ یہ ایک سراسر بے اصل بات ہے جو تاریخی ثبوت کے ادنیٰ شائبے کے بغیر گھر بیٹھے تصنیف کر ڈالی گئی ہے۔ پھر اس پر اس سے بھی زیادہ ایک ہوائی مفروضے کی عمارت یہ تعمیر کی گئی ہے کہ حضورؐ نے قریش کے استحقاقِ خلافت کے بارے میں جو کچھ بھی فرمایا اس سے مقصود دراصل اسی قضیے کا فیصلہ کرنا تھا۔ سوال یہ ہے کہ آخر کس شخص کو حضورؐ کے اس منشا کا علم کس ذریعے سے حاصل ہو گیا؟ کیا حضورؐ نے خود اس کی صراحت فرمائی تھی؟ یا آپ کے کلام یا اس کے متعلقات میں کوئی قرینہ ایسا پایا جاتا ہے جس سے یہ منشا مترشح ہوتا ہو؟ یا حضورؐ کے بعد ائمۂ اہلِ علم میں سے کسی نے آپ کا یہ منشا سمجھا؟ اگر ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے تو آخر اس جسارت کی کوئی حد بھی ہے کہ آدمی جس چیز کو چاہے بلا دلیل و ثبوت شارع کا منشا قرار دے بیٹھے۔
امامت قریش کے بارے میں آنحضورؐ کے ارشادات
احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایک ہی قول اس مسئلے سے متعلق منقول نہیں ہے بلکہ حضورؐ نے متعدد مواقع پر اسے مختلف طریقوں سے ارشاد فرمایا ہے۔ ان ارشادات کو خود دیکھ لیجیے اور بتایئے کہ ان میں کہاں اس منشا کا کوئی سراغ ملتا ہے۔
بخاری میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ فِیْ قُرَیْشٍ لَایُعَادِیْہِمْ اَحَدٌ اِلَّا اَکَبَّہُ اللّٰہُ فِی النَّارِ عَلٰی وَجْہِہٖ مَا اَقَامُوا الدِّیْنَ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ یہ کام قریش میں رہے گا جو شخص بھی اس میں ان کی مخالفت کرے گا اسے اللہ اوندھے منہ آگ میں پھینک دے گا، جب تک کہ وہ دین کو قائم کرتے رہیں۔
مُسند احمد میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ حضورؐ کی ایک تقریر نقل کرتے ہیں جو آپ نے قریش کو خطاب کرکے ارشاد فرمائی، اَمَّابَعْدُ یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ فَاِنَّکُمْ اَہْلَ ہٰذَا الْاَمْرِ مَا لَمْ تَعْصُوا اللّٰہَ فَاِذَا عَصَیْتُمُوْہُ بَعَثَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ مَنْ یَّلْحَاکُمْ کَمَا یُلْحٰی ہٰذَا اْلقَضِیْبَ ۔ امابعد، اے گروہِ قریش تم اس کام کے اہل ہو جب تک کہ اللہ کی نافرمانی نہ کرو۔ پھر اگر نافرمانی کرو گے تو اللہ تم پر کسی کو بھیجے گا جو تمھاری کھال اس طرح اتارے گا جیسے اس ٹہنی کی چھال اتار دی جائے۔
مسند احمد اور مسند ابودائود طیالسی میں حضرت ابوبرزہؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: اَلْاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ مَا عَمِلُوْا بِثَلٰثٍ، مَا حَکَمُوْا فَعَدَلُوْا وَاْسَتْرَحُمْوا فَرَحِمُوْا وَعَاہَدُوْا فَوَفُوْا فَمَنْ لَّمْ یَفْعَلْ ذٰلِکَ مِنْہُمْ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔ ائمہ قریش میں سے ہوں گے جب تک کہ وہ تین باتوں پر عمل کرتے رہیں۔ حکم کریں تو عدل کے ساتھ کریں۔ جب ان سے رحم طلب کیا جائے تو رحم کریں۔ جب عہد کریں تو وفا کریں۔ پھر جوان میں سے ایسا نہ کرے اس پر خدا اور فرشتوں اور انسانوں کی لعنت۔ قریب قریب یہی مضمون اس سے ملتے جلتے الفاظ میں ان دونوں ائمہ حدیث نے حضرت انس بن مالکؓ سے بھی نقل کیا ہے۔
امام شافعیؒ اور بیہقیؒ نے عطا کی مرسل روایت نقل کی ہے کہ حضورؐ نے قریش کو خطاب کرکے فرمایا:
اَنْتُمْ اَوْلَی النَّاسِ بِہٰذَا الْاَمْرِ مَا کُنْتُمْ عَلَی الْحَقِّ اِلَّا اَنْ تَعْدِ لْوا عَنْہُ فَتُلْحَوْنَ کَمَا تُلحٰی ہٰذِہِ الْجَرِیْدَۃُ ۔
تم اس کارِ حکومت کے سب لوگوں سے زیادہ مستحق ہو جب تک کہ حق پر قائم رہو لیکن اگر حق سے منہ موڑو گے تو تمھاری کھال اس طرح کھینچی جائے گی جیسے اس ٹہنی کی چھال اتار دی جائے۔
بیہقیؒ ، طبرانیؒ اور شافعیؒ نے مختلف سندوں سے حضورؐ کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ قَدِّمُوْا قُرَیْشًا وَلاَ تَقْدِمُوْہَا قریش کو آگے کرو اور ان سے آگے نہ بڑھو۔
مسند احمد میں حضرت عمرو بن العاصؓ کی روایت ہے کہ قُرَیْشٌ قَادَّۃُ النَّاسِ ۔ قریش لوگوں کے قائد و رہنما ہیں۔
ارشادات مذکورہ کا منشا
یہ تمام روایات صاف بتا رہی ہیں کہ حضورؐ نے محض اپنے فورًا بعد رونما ہونے والے کسی قضیہ خلافت کا فیصلہ نہیں فرمایا تھا بلکہ مستقل طور پر یہ طے فرما دیا تھا کہ جب تک قریش میں چند خاص صفات موجود ہیں اس وقت تک دوسروں کی بہ نسبت (چاہے ان دوسروں میں بھی یہ صفات موجود ہوں) خلافت پر ان کا حق مرّجح ہو گا۔ اس میں صرف انصار پر ترجیح کا مسئلہ نہ تھا بلکہ تمام عرب و عجم کے مسلمانوں پر اس قبیلے کی مشروط ترجیح کا فیصلہ تھا۔ یہی مطلب ان ارشادات کا تمام علمائے امّت نے بالا تفاق سمجھا ہے اور تاریخ میں بجز خوارج اور معتزلہ کے کسی کا اختلاف منقول نہیں ہوا ہے۔
امامت قریش کے بارے میں علمائے امت کا مسلک
عبدالقاہر بغدادی (متوفی ۴۲۹ھ) اپنی مشہور کتاب اَلْفَرق بَیْنَ الفِرَقِ کی تیسری فصل میں وہ پندرہ اصول بیان کرتے ہیں جن پر گمراہ فرقوں کے مقابلے میں اہل السنت کا اتفاق ہے۔ ان میں سے بارہواں اصول ان کے بیان کے مطابق یہ ہے:
امامت کا قیام امت پر فرض و واجب ہے … اس امت میں امامت منعقد ہونے کا طریقہ اجتہاد سے کسی شخص کا انتخاب ہے۔ … اور وہ سب اس بات کے قائل ہیں کہ امامت کے لیے قرشی النسب ہونا شرط ہے۔ (صفحہ ۳۴۰- ۳۴۱)
ابن حزم (متوفی ۴۵۶ھ) میں الفِصَل فی المِلَلْ و النَحل میں لکھتے ہیں:
اہل السنت اور تمام شیعہ اور بعض معتزلہ اور جمہور مُرجئہ کا مذہب یہ ہے کہ امامت جائز نہیں ہے مگر خصوصیت کے ساتھ قریش میں … اور تمام خوارج اور جمہور معتزلہ اور بعض مرحبۂ کا مذہب یہ ہے کہ یہ منصب ہر اس شخص کے لیے جائز ہے جو کتاب و سنّت پر قائم ہوخواہ قریشی ہو یا عام عرب یا کوئی غلام زادہ۔ اور ضرار بن عمرو غطفانی کہتا ہے کہ اگر حبشی و قرشی دو شخص کتاب و سنّت پر قائم ہوں تو واجب یہ ہے کہ حبشی کو آگے کیا جائے کیونکہ بد راہ ہو جانے کی صورت میں اسے ہٹانا آسان ہے۔ (اس کے بعد ابن حزم خود اپنی تحقیق بیان کرتے ہیں کہ) فہر بن مالک کی اولاد کے لیے امامت کو خاص کرنے کا وجوب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نص کی بنا پر مانتے ہیں کہ آپ نے امامت قریش ہی میں رکھنے کی ہدایت فرمائی تھی اور یہ روایت تواتر کی حد کو پہنچی ہوئی ہے … اور اس روایت کی صحت پر سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ انصار نے سقیفۂ بنی ساعدہ میں اس کے آگے سر تسلیم خم کر دیا حالانکہ شہر ان کا تھا، وہ سروسامان اور تعداد رکھتے تھے اور اسلامی خدمات میں کسی سے کم نہ تھے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نص سے یہ حجت قائم نہ ہو جاتی کہ اس معاملے میں دوسروں کا حق ان پر فائق ہے تو وہ اپنے اجتہاد کے مقابلے میں دوسرے کسی کا اجتہاد ماننے پر مجبور نہ تھے۔ (جلد ۴ ص ۸۹)
عبدالکریم شہر ستانی (متوفی ۵۴۸ھ) اپنی کتاب المِلَلْ والنّحِلَ میں لکھتے ہیں کہ: ان الامۃ اجتمعت علی انہالا تصلح لغیر قریش تمام امت اس بات پر متفق ہے کہ امامت قریش کے سوا کسی کے لیے درست نہیں ہے۔ (ج ۱ ص ۱۰۶)
امام نَسفِی (متوفی ۵۳۷ھ) عقائد نسفی میں لکھتے ہیں: وینبغی ان یکون الامام من قریش ولا یجوز من غیرہم ضروری ہے کہ امام قریش میں سے ہو اور ان کے سوا کسی دوسرے کو امام بنانا جائز نہیں ہے۔ اس کی تشریح کرتے ہوئے علاّمہ تفتازانی شرح عقائد نسفی میں لکھتے ہیں کہ اس پر اجماع ہے اور بجز خوارج اور بعض معتزلہ کے کسی نے اس سے اختلاف نہیں کیا ہے۔
قاضی عیاض (متوفی ۵۴۴ھ) لکھتے ہیں کہ امامت کے لیے قرشیت کا شرط ہونا تمام علما کا مذہب ہے اور علما نے اس کو اجماعی مسائل میں شمار کیا ہے۔
(شرح مسلم للنووی، کتاب الامارہ)
امام نووی (متوفی ۷۷۶ھ) شرح مسلم میں لکھتے ہیں: یہ احادیث اور اسی معنی کی دوسری احادیث اس بات پر کھلی دلیل ہیں کہ خلافت قریش کے لیے خاص ہے اور ان کے سوا کسی اور کے لیے اس کا انعقاد جائز نہیں ہے۔ اس پر صحابہ کے زمانے میں اجماع ہو چکا تھا اور اسی طرح ان کے بعد بھی یہ اجماع قائم رہا۔ (کتاب الامارۃ باب الخلافتہ فی قریش)
یہ تمام اکابر اہلِ علم آٹھ صدیوں تک مسلسل اس مسئلے پر امت کا اجماع نقل کرتے چلے گئے ہیں۔ نویں صدی کے قریب پہنچ کر ابن خلدون یہ خبر دیتا ہے کہ یہ اجماع ٹوٹنا شروع ہو گیا مگر اس بنا پر نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نص کے کوئی نئے معنی اس وقت منکشف ہونے لگے تھے بلکہ اس بنا پر کہ:
جب قریش کا اثرو اقتدار کمزور پڑ گیا اور مسلسل عیش و عشرت میں رہتے رہتے ان کی عصبیت ختم ہو گئی اور سلطنت کے معاملات نے ان کو تمام روئے زمین پر منتشر کر دیا تو وہ بارِ خلافت اٹھانے سے عاجز ہو گئے اور عجمیوں کو ان پر اتنا غلبہ حاصل ہو گیا کہ تمام حل و عقد کے وہی مالک ہو گئے۔ اس وجہ سے بکثرت محققین پر ان کا معاملہ مشتبہ ہو گیا اور وہ یہ رائے قائم کرنے لگے کہ اب خلافت کے لیے قرشیت کی شرط باقی نہیں رہی ہے۔ (مقدمہ۔صفحہ۱۹۴)
یہی بنیاد تھی اس امر کی کہ آخر کار دسویں صدی میں علما کے ایک بڑے گروہ نے سلاطین آلِ عثمان کی خلافت تسلیم کر لی۔ اب آپ خود دیکھ لیں کہ آیا علمائے امت نے حضورؐ کے ارشادات کو انصار و مہاجرین کے کسی قضیے کا وقتی فیصلہ سمجھا تھا یا بعض اوصاف کی شرط کے ساتھ ایک مستقل دستوری حکم۔ کیا یہ بات باور کیے جانے کے لائق ہے کہ پوری امت کے علما بالا تفاق ایک نص کا مطلب سمجھنے میں غلطی کر جائیں اور صدیوں اس غلطی میں پڑے رہیں؟
خلافت کے لیے قرشیت کی شرط کی حقیقت
اس کے بعد دوسرے سوال کو لیجیے۔ یہ بات سمجھنے کے لیے کسی بڑی عقل و خرد کی ضرورت نہیں ہے کہ ’’اہلیت و قابلیت‘‘ کا اطلاق صرف انھی اوصاف پر ہوتا ہے جو ہر شخص کو حاصل ہونا ممکن ہوں‘ نہ کہ کسی ایسے وصف پر جو کسی شخص کو اس وقت تک نصیب نہ ہو سکے جب تک وہ کسی خاص قبیلے، خاندان، وطن یا رنگ و نسل میں پیدا نہ ہو۔ اصولِ مساوات کے ساتھ اگر مطابقت رکھتی ہے تو صرف پہلی قسم کے اوصاف کی شرط ہی رکھتی ہے۔ رہا دوسرا وصف تو چاہے آپ کھینچ تان کر اس پر بھی ’’اہلیت و قابلیت‘‘ کی اصطلاح استعمال کر ڈالیں، لیکن اس نوع کی ’’اہلیت‘‘ کو کسی منصب کے قابل ہونے کے لیے شرط قرار دے دینا اصولِ مساوات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مثال کے طور پر اگر آپ کہیں کہ پاکستان کے باشندوں میں سے جو شخص بھی عمدہ قانونی قابلیت رکھتا ہو وہ جج بنائے جانے کا اہل ہے تو یہ بات حقوق میں تمام پاکستانیوں کی مساوات کے اصول سے پوری طرح مطابق ہو گی۔ لیکن اگر آپ مثلاً یہ کہیں کہ صرف ایک قانون دان جاٹ ہی پاکستان میں جج بن سکتا ہے تو اسے کوئی صاحب عقل آدمی اصولِ مساوات سے مطابق نہیں مانے گا۔ اس پر آپ خواہ کتنی ہی منطق بگھاریں کہ عدالت کے لیے قانونی دھاک کی ضرورت ہے اور یہاں مدتوں سے جاٹوں ہی کی قانونی دھاک بیٹھی ہوئی ہے اس لیے جاٹ ہونا بھی قابلیت ہی کا ایک حصّہ ہے، مگر آپ کی کوئی سخن سازی بھی کسی سیدھی سادھی عقل کے آدمی کو اس بات پر مطمئن نہ کر سکے گی کہ اس خاص قسم کی ’’قابلیت‘‘ کو عدالتی مناصب کے لیے شرط ٹھہرانے پر بھی اس معاملے میں تمام پاکستانیوں کی مساوات کا اصول قائم رہتا ہے۔ وہ کہے گا کہ اگر آپ اپنے ہاں کے مخصوص حالات کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں تو صاف کہیے کہ ہم بربنائے مصلحت ایسا کر رہے ہیں، آخر یہ خواہ مخواہ محض زبان کے زور سے آپ اصولِ مساوات کے گول سوراخ میں اس نئے تصوّرِ اہلیت کی چوکھونٹی میخ کیوں ٹھونک رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی شریعت اپنی کسی بات کی صحت و صداقت ثابت کرنے کے لیے اس طرح کی لاطائل سخن سازیوں کی محتاج نہیں ہے۔ سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ اسلام اپنے نظامِ زندگی میں بلا امتیاز نسل و وطن و رنگ تمام مسلمانوں کو برابر کے حقوق دینے کا قائل ہے۔ اس میں ہر شخص ہر منصب کا اہل ہے جب کہ وہ اس کی صلاحیت رکھتا ہو‘ خواہ وہ کالا ہو یا گورا، عربی ہو یا عجمی، سامی ہو یا حامی خلافت کے سوا باقی تمام مناصب کے معاملے میں یہ اصول اوّل روز ہی سے اسلام میں عملاً قائم کر دیا گیا تھا۔ اور خود خلافت کے معاملے میں بھی اسلام کا مطمح نظر یہی تھا کہ اِسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا وَلَوِ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبْشِیٌّ۔سنو اور مانو خواہ تمھارے اوپر ایک حبشی غلام ہی امیر بنا دیا جائے۔ لیکن اس خاص منصب کے لیے اس وقت جس وجہ سے قرشیت کی شرط لگائی گئی وہ یہ تھی کہ خلافت اسلامیہ کے لیے عربوں ہی کو ایک طویل مدت تک ریڑھ کی ہڈی کا کام دینا تھا اور عربوں کے اندر سے قبائلی عصبیتیں اس حد تک عملاً نہیں نکل سکی تھیں کہ کوئی مسلمان بھی خلیفہ بنا دیا جاتا تو وہ اس کی قیادت میں پوری طرح مجتمع ہو کر کام کر سکتے، اس لیے ایک ایسے قبیلے کو خلافت کا علمبردار بنا دینا مناسب سمجھا گیا جس کی قیادت ایک مدت دراز سے عرب میں مسلّم چلی آ رہی تھی جس کی سربراہی عربوں کو متحد رکھ سکتی تھی اور جس کی طاقت انحراف کرنے والوں کو دبا سکتی تھی۔ یہ وہ مصلحت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے متعدد ارشادات میں واضح فرمائی ہے۔ مسند احمد میں سقیفہ بنی ساعدہ کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے صحابہ کی بھری مجلس میں حضرت سعد بن عُبادہ کو خطاب کرکے فرمایا۔
لَقَدْ عَلِمْتَ یَا سَعْدُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ وَاَنْتَ قَاعِدٌ، قُرَیْشٌ وَلَاۃُ ہٰذَا الْاَمْرِ فَبَرُّ النَّاسِ تَبْعٌ لِبَرِّہِمْ وَفَاجِرُہُمْ تَبْعٌ لِفَاجِرِہِمْ فَقَالَ سَعْدٌ صَدَقْتَ۔ (مرویات ابی بکر صدیق، حدیث ۱۸)
اے سعد تم کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا اور تم اس وقت بیٹھے تھے جب حضورؐ نے یہ فرمایا کہ قریش اس قیادت کے متولی ہیں۔ نیک لوگ ان کے نیک لوگوں کی پیروی کرتے ہیں اور بد ان کے بدوں کی۔ سعد نے کہا آپ سچ کہتے ہیں۔
پھر اسی تقریر میں حضرت ابوبکرؓ نے کہا:
وَلَمْ تَعْرِفِ الْعَرَبُ ہٰذَا الْاَمْرَ اِلاَّ لِہٰذَا الْحَیِّ مِنْ قُرَیْشٍ (مرویات عمر فاروق حدیث ۳۹۱)
اور عرب اس قبیلہ قریش کے سوا کسی اور کی قیادت کو نہیں جانتے۔
اسی مسند میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ
سَمِعْتُ اُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِیْ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَیْشٍ صَالِحُہُمْ تَبْعٌ لِصَالِصَالِحِھِمْ وَشِرَارُہُمْ تَبَعٌ لِشِرَارِھِمْ (حدیث: ۷۹)
میرے ان دونوں کانوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے کہ لوگ قریش کے پیچھے چلنے والے ہیں، ان کے صالح قریش کے صالحوں کی پیروی کرتے ہیں اور ان کے اشرار قریش کے اشرار کی۔
اسی مضمون کی روایات مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ اور جابر بن عبداللہ سے بھی منقول ہوئی ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بنا پر قریش کے لیے خلافت مخصوص کرنے کی ہدایت فرمائی وہ یہ تھی کہ عرب میں ان کا اثرو اقتدار پہلے سے قائم چلا آ رہا تھا۔ اصولِ مساوات قائم کرنے کے لیے اگر اس وقت خلافت کا منصب ہر عربی و عجمی مسلمان کے لیے کھلا چھوڑ دیا جاتا اور کسی غیر قریشی عرب یا عجمی مسلمان یا غلام زادے کو خلیفہ منتخب کر لیا جاتا تو نہ صرف یہ کہ عرب قبائل اس کے قابو میں نہ رہتے بلکہ خود قریش کے اندر جو برے لوگ تھے ان کو بھی سر اٹھانے کا موقع مل جاتا اور قریش کی طاقت کا بڑا حصّہ خلافت اسلامیہ کی مزاحمت میں صرف ہوتا۔ اس طرح یہ خطرہ تھا کہ سرے سے وہ اسلامی نظام ہی مستحکم نہ ہو سکتا جس کے بے شمار اصولِ خیر میں سے صرف ایک یہ اصولِ مساوات تھا۔ اس لیے حضورؐ نے اولیٰ اور انسب یہی سمجھا کہ ان حالات میں قریش کے صالحین کو کام کرنے کا موقع دیا جائے تاکہ اس قبیلے کی طاقت اسلامی خلافت کی مزاحم بننے کے بجائے اس کی پشت پناہ بنے۔ اس صورت میں یہ غالب توقع تھی کہ اسلامی نظامِ زندگی غالب اور مستحکم ہو کر رہے گا۔ اور جب وہ پوری طرح نافذ و مستحکم ہو گا تو جہاں اور بے شمار بھلائیاں قائم ہوں گی وہیں ایک روز خلافت کے معاملے میں بھی اصولِ مساوات قائم کرنے کے لیے سازگار حالات پیدا ہو جائیں گے۔
حدیث امامت قریش سے مستنبط ہونے والے اصول
یہ ہے صحیح توجیہ حضورؐ کے اس فیصلے کی۔ اس سے جو اصول مستنبط ہوتے ہیں وہ مختصراً یہ ہیں۔
اولاً، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی جن لوگوں کو قائم کرنا اور چلانا ہو انھیں آنکھیں بند کرکے حالات کا لحاظ کیے بغیر پورا کا پورا نسخۂ اسلام یکبارگی استعمال نہ کر ڈالنا چاہیے بلکہ عقل اور بینائی سے کام لے کر زمان و مکان کے حالات کو ایک مومن کی فراست اور فقیہ کی بصیرت و تدبّر کے ساتھ ٹھیک ٹھیک جانچنا چاہیے۔ جن احکام اور اصولوں کے نفاذ کے لیے حالات سازگار ہوں انھیں نافذ کرنا چاہیے اور جن کے لیے حالات سازگار نہ ہوں ان کو موخر رکھ کر پہلے وہ تدابیر اختیار کرنی چاہییں جن سے ان کے نفاذ کے لیے فضا موافق ہو سکے۔ اسی چیز کا نام حکمت یا حکمت ِ عملی ہے جس کی ایک نہیں بیسیوں مثالیں شارع علیہ السّلام کے اقوال اور طرزِ عمل میں ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اقامت دین بدّھوئوں کے کرنے کا کام نہیں ہے۔
ثانیاً، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب زمان و مکان کے حالات کی وجہ سے اسلام کے دو احکام یا اصولوں یا مقاصد کے درمیان عملاً تضاد واقع ہو جائے یعنی دونوں پر بیک وقت عمل کرنا ممکن نہ رہے تو دیکھنا چاہیے کہ شریعت کی نگاہِ میں اہم تر چیز کون سی ہے اور پھر جو چیز اہم تر ہو اس کی خاطر شرعی نقطۂ نظر سے کم تر اہمیّت رکھنے والی چیز کو اس وقت تک ترک کر دینا چاہیے جب تک دونوں پر ایک ساتھ عمل کرنا ممکن نہ ہو جائے لیکن اسی حد تک ایسا کرنا چاہیے جس حد تک یہ ناگزیر ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت اسلامیہ کے استحکام کو اصولِ مساوات کے قیام پر ترجیح دی کیونکہ خلافت کے استحکام پر پورے اسلامی نظام زندگی کا قیام و نفاذ موقوف تھا۔
اور یہ کل اسلام کی نگاہ میں ایک جز کی بہ نسبت عظیم تر اہمیّت رکھتا تھا لیکن آپ نے اس مقصد کے لیے اصولِ مساوات کو بالکلیہ نہیں بلکہ اس کے صرف اس حصّے کو معطل رکھا جو منصب خلافت سے متعلق تھا، کیونکہ صرف اسی حد تک اس کا تعطُّل ناگزیر تھا۔ یہ ایک مثال ہے قاعدہ اختیار اہون البلیتین کی۔ اس سے وہ موقع و محل بھی معلوم ہو جاتا ہے جس میں یہ قاعدہ جاری ہو گا اور اس کے حدود و شرائط پر بھی روشنی پڑتی ہے۔
ثالثاً، اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ جہاں قبائلیت اور برادریوں کے تعصبات یا دوسری گروہوی عصبیتیں زندہ و متحرک ہوں، وہاں ان سے براہِ راست تصادم کرنا مناسب نہیں ہے بلکہ جہاں جس قبیلے یا برادری یا گروہ کا زور ہو وہاں اسی کے نیک لوگوں کو آگے لانا چاہیے تاکہ زور آور گروہ کی طاقت اسلامی نظام کے نفاذ کی مزاحم بننے کے بجائے اس کی مددگار بنائی جا سکے اور بالآخر نیک لوگوں کی کار فرمائی سے وہ حالات پیدا ہو سکیں جن میں ہر مسلمان مجرد اپنی دینی و اخلاقی اور ذہنی صلاحیت کی بنا پر بلا لحاظ نسل و نسب و وطن سربراہی کے مقام پر آ سکے۔ یہ بھی اسی حکمت کا ایک شعبہ ہے جسے حکمت ِ عملی کے نام سے یاد کرنے کا گناہ مجھ سے سرزد ہو ا ہے۔
یہ اصول جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول و عمل سے میں نے مستنبط کیے ہیں اگر ان میں کوئی قباحت کسی کو نظر آتی ہو تو وہ دلیل کے ساتھ اس کی نشان دہی کرے۔ رہا اس پر کسی کا یہ اعتراض کہ اس نوع کے تصرفات کرنے کا حق صرف شارع کو پہنچتا تھا۔ دوسرا کوئی اس کا مجاز نہیں ہو سکتا، تو میں صاف عرض کروں گا کہ یہ بات اگر مان لی جائے تو فقہ اسلامی کی جڑ ہی کٹ جاتی ہے۔ کیونکہ اس کا تو سارا نشووارتقا ہی اس بنیاد پر ہوا ہے کہ شارع کے زمانے میں جو حوادث اور معاملات پیش آئے تھے ان میں شارع کے احکام اور تصرفات اور طرزِ عمل کا گہرا مطالعہ کرکے وہ اصول اخذ کیے جائیں جو شارع کے بعد پیش آنے والے حوادث و معاملات پر منطبق ہو سکتے ہیں۔ اس کا دروازہ بند ہو جائے تو پھر فقہ اسلامی صرف انہی حوادث و معاملات کے لیے رہ جائے گی جو شارع کے زمانے میں پیش آئے تھے۔ بعد کے نئے حالات میں ہم بالکل بے بس ہوں گے۔
یہ آپ کے چوتھے سوال کا جواب ہے۔ اب میں آپ کے اس سوال کی ایک ایک شق پر الگ الگ کچھ عرض کروں گا۔
حکمت ِ عملی کیا ہے؟
الف- حکمت ِ عملی کی تشریح میں اوپر کر چکا ہوں۔ مختصراً اس سے مراد یہ ہے کہ دین کی اقامت اور احکامِ شرعیہ کی تنفیذمیں ان حالات پر نگاہِ رکھی جائے جن کے اندر ہم کام کر رہے ہوں۔ اور حالات کے تغیّر و تبدل سے فتوے اور طرزِ عمل میں ایسا تغیّر و تبدّل کیا جائے جس سے مقاصد شرعیہ ٹھیک ٹھیک حاصل ہو سکیں نہ کہ نا مناسب حالات پر احکام اور اصولوں کے انطباق سے وہ الٹے فوت کر ڈالے جائیں۔ لیکن یہ حکمت بے قید نہیں ہے ، بلکہ اس کے لیے تفقہ فی الدین اور مزاجِ شریعت پر گہری نظر درکار ہے تاکہ آدمی شارع کے منشا سے قریب ترین ممکن تدبیر اختیار کر سکے اور اس حکمت کے قابلِ تسلیم یا قابلِ ردّ ہونے کا انحصار اس پر ہے کہ آدمی کسی خاص معاملے میں جب اس کو استعمال کر رہا ہو تو وہ کتاب و سنّت سے اپنے فتوے یا فیصلے یا طرزِ عمل کا ماخذ پیش کرے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ وہ شارع کے کس تصرف پر قیاس، یا کس ارشاد سے استنباط کر رہا ہے۔
اختیار اہون البلیتین کا ضابطہ
قاعدہ اختیار اہون البلیتین یہ ہے کہ جب کبھی آدمی کو ایسے حالات سے سابقہ پیش آئے جن کے اندر دو برائیوں میں سے ایک کو اختیار کرنا ناگزیر ہو جائے تو وہ اس برائی کو اختیار کرے جو شریعت کی نگاہِ میں کم بری ہو۔ اسی طرح جب شریعت کی دو قدروں یا دو مقاصد کو بیک وقت حاصل کرنا ممکن نہ ہو، یا دو احکام پر ایک ساتھ عمل نہ ہو سکے تو ان میں سے اس چیز کو اختیار کیا جائے جس کی قدرو اہمیّت شریعت کی نگاہ میں زیادہ ہو اور کم تر قدرواہمیّت کی چیز کو زیادہ بیش قیمت چیز پر اس حد تک قربان کیا جائے جس حد تک کہ وہ اس موقع و محل میں واقعی ناگزیر ہو۔ اس قاعدے کے استعمال کی صحت کا انحصار بھی اس پر ہے کہ آدمی جس چیز کو جس چیز پر ترجیح دے رہا ہے اس کے اہم تر ہونے کی دلیل اس کے پاس کتاب و سنّت سے ہو اور وہ یہ ثابت کر سکے کہ اس وقت یہ ترجیح فی الواقع ناگزیر ہے۔
ب:- اس قاعدے کے متعلق جو شخص یہ کہتا ہے کہ یہ صرف دو برائیوں ہی کے معاملے میں جاری ہو گا اور دو بھلائیوں یا دو احکام کے معاملے میں جاری نہ ہو گا، وہ ایک غلط بات کہتا ہے۔ اوپر میں خود اسوۂ نبوی سے اس کی ایک مثال دے چکا ہوں۔ ایک دوسری مثال نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے عہد کی وہ ہے جو جنگ احزاب کے متصلاً بعد پیش آئی تھی۔ بخاری، مسلم، طَبرَانی، بیہقی، ابن سعد اور ابن اسحاق وغیرہ نے متعدد سندوں سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ جنگ احزاب سے فارغ ہوتے ہی حضورؐ نے صحابہ کی ایک جماعت کو بنی قریظہ کی بستی پر چڑھائی کرنے کا حکم دیا اور بتاکید فرمایا کہ تم میں سے کوئی عصر کی نماز (اور بعض روایات کے مطابق ظہر کی نماز) نہ پڑھے جب تک وہاں نہ پہنچ جائے۔ مگر ان لوگوں کو راستے میں دیر لگ گئی اور نماز کا وقت ختم ہونے لگا۔ اجتماعی طور پر وہ فیصلہ نہ کر سکے کہ آیا وقت پر نماز پڑھنے کے حکمِ عام کو چھوڑیں یا حضورؐ کے اس حکمِ خاص کو۔ آخرکار بعض لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ نماز پڑھ لیں گے اور پھر آگے جائیں گے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ حضورؐ تو دراصل یہ چاہتے تھے کہ ہم جلدی جلدی کوچ کرکے وہاں پہنچ جائیں۔ نہ یہ کہ ہم نماز ہی نہ پڑھیں۔ اور بعض نے فیصلہ کیا کہ ہم وہاں پہنچنے سے پہلے نماز نہ پڑھیں گے کیونکہ حضورؐ نے صاف الفاظ میں یہی حکم دیا ہے۔ بعد میں جب حضورؐ کے سامنے یہ معاملہ رکھا گیا تو آپ نے ان میں سے کسی کے فعل کو بھی غلط نہ کہا۔ اب دیکھ لیجیے یہاں دو واجب الاطاعت احکام میں جب عملاً تضاد واقع ہو گیا تو ان میں سے کسی ایک کو ترک اور دوسرے کو اختیار کرنے کا فیصلہ ہر سپاہی نے اپنی صوابدید کے مطابق بطورِ خود کیا اور یہ کام خود صاحب شریعت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کیا گیا۔ اگر اس طرح کے فیصلے کا ان لوگوں کو حق نہ ہوتا تو حضورؐ صاف فرما دیتے کہ تم نے دین میں وہ اختیار استعمال کیا ہے جو شرعاً تمھیں حاصل نہ تھا۔ ۱؎
اسی طرح وہ شخص بھی بالکل ایک غلط بات کہتا ہے جو کہتا ہے کہ اس قاعدے کا استعمال شخصی حاجات و مشکلات رفع کرنے کی حد تک تو درست ہے مگر دین کے لیے یا اقامت ِدین کے کام میں اسے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سراسر ایک بے بنیاد دعویٰ ہے جس کے لیے کتاب و سنّت میں کوئی دلیل نہیں ہے اور اس کے خلاف دلائل کثرت سے موجود ہیں۔ خلافت و امامت سے بڑھ کر اقامت ِدین کا کام اور کون سا ہو سکتا ہے؟ اور آپ ابھی دیکھ چکے ہیں کہ اس کے قیام و استحکام کی خاطر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اہون البلیتین کے قاعدے کو استعمال فرمایا۔ جہاد فی سبیل اللہ سے بڑھ کر اقامت ِدین کا کام آپ کس کو کہہ سکتے ہیں؟ اور اس کی جنگی ضروریات کے لیے جہاں ناگزیر ہو وہاں جھوٹ کی اجازت حضورؐ نے خود دی ہے جیسا کہ مسلم اور ترمذی کی مستند احادیث سے ثابت ہے۔ اس چیز سے جس شخص کو انکار ہے اس سے میں پوچھتا ہوں کہ آج اگر آپ ایک حکومت خلافت علی منہاج النبوت کی بنیاد پر قائم کریں تو فرمایئے آپ کی حکومت دشمن ملکوں میں اپنے جاسوس بھیجے گی یا نہیں؟ اور اگر بھیجے گی تو انھیں بہت سے احکامِ شرعیہ کے معاملے میں ڈھیل دے گی یا نہیں؟ کیا وہ انھیں اس امر کا پابند بنائے گی کہ دشمن کے ملک میں پورے ناپ کی داڑھی رکھیں۔ تشبّہ بالکفار سے بچیں، کھانے پینے کے معاملے میں تمام شرعی قیود کا لحاظ رکھیں اور اپنا کام بس سیدھے سیدھے حلال و طیب ذرائع ہی سے انجام دیں؟ فرض کیجیے کسی قوم سے آپ کو لڑائی پیش آتی ہے اور آپ ایسے مواقع پاتے ہیں کہ دشمنوں میں روپیہ پھیلا کر پھوٹ ڈلوا سکیں۔ ان کے کام کے آدمیوں کو توڑ سکیں، ان کے جنگی راز معلوم کر سکیں اور ان میں اپنا ایک پانچواں کالم پیدا کر سکیں۔ آپ ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں گے یا ان سے تنزّہ برتیں گے؟ فرض کیجیے آپ خود اللہ کی راہ میں لڑنے جاتے ہیں اور دشمن کے ہاتھ گرفتار ہو جاتے ہیں۔ دشمن آپ سے اسلامی حکومت کے جنگی راز معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ خاموش رہنا ممکن ہے نہ توریہ سے کام چلتا ہے۔ اس حالت میں آپ اپنی فوج اور حکومت کے راز بتا دیں گے یا دشمن کو قصداً جھوٹی اطلاعات دے کر خلافت اسلامیہ کو نقصان اور تباہی سے بچانے کی کوشش کریں گے؟ اس کا جواب نفی یا اثبات جس میں بھی ہو صاف صاف ہونا چاہیے تاکہ آپ کا صحیح موقف معلوم ہو سکے۔ اور ساتھ ساتھ یہ بھی وضاحت فرما دیں کہ خلافت علیٰ منہاج النبوت کا کام اور قتال فی سبیل اللہ بھی آپ کے ہاں ’’اقامت دین‘‘ میں شمار ہوتا ہے یا نہیں؟
مصنف پر بے بنیاد الزامات اور ان کا جواب
(ج) اس شق میں آپ نے جن اعتراضات و الزامات کا خلاصہ درج کیا ہے ان کی بنیاد تین صریح غلط بیانیوں پر ہے جنھیں نہ معلوم کس اضطرار کی حالت میں حلال کر لیا گیا ہے۔
اوّل یہ کہ میں اب اقامت دین کی جدوجہد طریقِ عزیمت کو چھوڑ کر صرف رخصتوں اور حیلوں اور مصلحت پرستیوں ہی کے بل پر چلانا چاہتا ہوں حالانکہ دراصل میرے نزدیک اصل شاہ راہ یہی طریقِ عزیمت ہے اور اسی پر چلنے اور اپنی جماعت کو چلانے کی میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے البتہ میں نے کبھی اپنی جماعت کو حالات کی تبدیلی کے ساتھ مباح و جائز تدابیر میں سے بعض کے ترک اور بعض کے اختیار کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے، اور کبھی بالکل مستثنیٰ مواقع پر دو ناگزیر برائیوں میں سے بڑی برائی کو دفع کرنے کے لیے ایک کم تر درجے کی برائی تابحدِّ ضرورت اختیار کرنے کی بھی رائے دی ہے۔ اسی چیز کو (خدا ہی جانے کن پاکیزہ جذبات کے ساتھ) الزام تراشیوں کا بہانہ بنا لیا گیا ہے اور شور مچایا جا رہا ہے کہ یہ شخص تو اب بس رخصتوں‘ حیلوں اور مصلحت پرستیوں ہی پر اتر آیا ہے۔
دوم یہ کہ میں اپنی کوئی سیاسی اغراض رکھتا ہوں اور انھی کی خاطر میں نے ایسا کیا ہے حالانکہ میں نے آج تک جو کچھ کیا ہے وہ صرف دین کو زندگی کا نظامِ غالب بنانے کی خاطر کیا ہے، میری کوئی سیاسی یا ذاتی غرض اس میں کار فرما نہیں رہی ہے۔
سوم یہ کہ میں دین کے جس اصول میں ترمیم کی ضرورت محسوس کرتا ہوں اسے حدود شرعیہ کا لحاظ کیے بغیر دینی حکمت و مصلحت کے نام سے کر ڈالنا چاہتا ہوں حالانکہ میں اس شخص کو خدا کی لعنت کا مستحق سمجھتا ہوں جو ایسا کرے یا اس کا قائل ہو۔ میرا مسلک اس باب میں جو کچھ ہے اسے میں اس مضمون میں جگہ جگہ واضح کر چکا ہوں۔ میں نہ دین کے کسی اصول میں ’’ترمیم‘‘ کا قائل ہوں، نہ حدودِ شرعیہ سے یک سرِمُو باہر جانے کو جائز رکھتا ہوں اور نہ دینی حکمت و مصلحت کے نام سے کوئی کام کرنا صحیح سمجھتا ہوں جب تک کہ میں دلائل شرعیہ سے واقعی اس کو دینی حکمت و مصلحت نہ ثابت کر سکوں اور اس کام کے جائز ہونے کی شرعی دلیل نہ دے سکوں۔
(د) اس شق میں جو الزام آپ نے نقل کیا ہے وہ بھی ایک قطعی جھوٹا الزام ہے جس کے ثبوت میں میری کسی تحریر یا تقریر کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا۔ میں نے دراصل جو کچھ کہا ہے وہ یہ ہے کہ جس کو بھی اقامت دین کے لیے عملاً کام کرنا ہو، خواہ وہ کوئی ایک شخص ہو یا کوئی جماعت یا کوئی ریاست، اسے لازماً حالات پر نگاہ رکھ کر حکمت کے ساتھ ہی کام کرنا ہو گا اور اس راہ میں کام کرتے ہوئے ضرورت پیش آنے پر اس کو صرف جائز تدابیر ہی میں ردّوبدل نہیں کرنا ہو گا بلکہ بعض اوقات اس نوعیت کی رخصتوں سے بھی فائدہ اٹھانا پڑے گا جو شریعت نے دی ہیں جن سے استفادہ کرنے میں انبیا اور صحابہ کرام نے بھی تنزّہ نہیں برتا ہے۔ اس چیز کو یہ معنی پہنائے گئے ہیں کہ میں خود اپنے لیے دین کے احکام و قوانین میں سے کسی کو ترک اور کسی کو اختیار کرنے اور کسی کو جائز اور کسی کو ناجائز ٹھیرانے اور کسی کو مقدّم اور کسی کو موخر کرنے کے اختیارات کا مدعی ہوں۔
یہ ایک عجیب نفسیاتی کیفیت ہے کہ آپ منطق کے زور لگا لگا کر ایک شخص کی بات میں سے بدترین معنی نکالنے کی کوشش کریں، اور وہ چاہے کتنی ہی وضاحت کے ساتھ اپنا صحیح مدعا بیان کر دے مگر آپ یہی اصرار کیے چلے جائیں کہ نہیں تیرا اصل مدعا وہ نہیں ہے جو تو بیان کرتا ہے بلکہ وہ ہے جو ہم تیری طرف منسوب کر رہے ہیں۔ گویا آپ کوئی وکیل استغاثہ ہیں جس نے ملزم کو کسی نہ کسی طرح پھانسنے ہی کے لیے اپنے موکل سے فیس لی ہے۔ ستم یہ ہے کہ یہاں موکّل کوئی اور نہیں آپ کا اپنا نفس ہے۔ اس کی فیس لذتِ نفس کے سوا کچھ نہیں اور آپ کی ساری دلچسپی کا محور بس یہ ہے کہ جس سے آپ ناراض ہیں اسے جس طرح بھی ہو جہنم کا مستحق ثابت کر دیں۔ناخدا ترس حکّام جب کسی پر بگڑتے ہیں تو اسے قانون اور نظم و ضبط کا دشمن قرار دے کر پکڑتے ہیں۔ خود غرض سیاسی لیڈر جس کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں اسے ملک اور قوم کا دشمن قرار دے کر گرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر ایک خاص مزاج کے علما جب کسی پر غضب ناک ہوتے ہیں تو ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنے ساتھ خدا اور رسول کو بھی فریق مقدمہ بنائیں اور یہ ثابت کریں کہ جس شخص سے ہم ناراض ہیں وہ کم بخت تو دین کا دشمن ہے، بڑی گمراہی کا فتنہ اٹھا رہا ہے اور ایک جھوٹا دعویٰ لے کر اٹھا ہے۔ اس لیے ہم یہ سارے پاپڑ صرف خدا کے دین کو بچانے کے لیے بیل رہے ہیں۔ کاش ان حضرات کا غیظ اور طیش انھیں یہ سوچنے کی مہلت دے کہ یہ باتیں کرکے وہ اپنی اور اہلِ دین کی عزت میں کیا اضافہ فرما رہے ہیں۔
(ھ) اپنے سوال کی اس شق میں جو اعتراض آپ نے نقل کیا ہے وہ بھی دوسرے کی بات کو زیادہ سے زیادہ مبالغہ کرکے برے معنی پہنانے کی کوشش کے سوا اور کچھ نہیں ہے میں جس اصول کا قائل ہوں وہ سرے سے یہ ہے ہی نہیں کہ ’’تم دین کی مصلحتوں کو سامنے رکھ کر جس بات کو چاہو اختیار اور جسے چاہو ترک کر سکتے ہو۔‘‘ اس لیے یہ ڈھیلا ڈھالا اصول جن لوگوں نے گھڑا ہو وہی اس کے بُرے نتائج کی تشریح فرماتے رہیں۔ مجھ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔
(و) اس شق کا جواب یہ ہے کہ بجز ان امور کے جو خصوصیات نبوی میں شمار کیے گئے ہیں، باقی تمام معاملات میں شارع کا قول، فعل، تقریر، غرض شارع کے جملہ تصرفات ایک ماخذ قانون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے نظائر پر قیاس کرکے نئے حوادث کے لیے حکم نکالنا اور ان سے اصول مستنبط کرکے پیش آمدہ مسائل پر انھیں منطبق کرنا ہی فقہ اسلامی کا مدارِ کار ہے۔ اس قیاس و استنباط کے اختیارات مختلف لوگوں کو ان کے دائرہ کار کے لحاظ سے حاصل ہوتے ہیں، مفتی اور قاضی، صدر ریاست اور مجلس وزرا‘ مجلس شوریٰ اور اس کی کمیٹیاں‘ محکمہ جنگ اور محکمہ مال‘ محکمہ خارجیہ اور محکمہ داخلیہ، غرض اسلامی نظام کا ہر شعبہ اپنے اپنے کام اور منصب سے متعلق امور میں انھیں استعمال کرے گا۔ فوج کے ایک کمانڈر کو میدان ِجنگ میں اور پولیس کے ایک سپاہی کو بازاروں اور محلوں میں جس وقت اچانک کسی معاملے سے سابقہ پیش آئے گا اسی وقت اور اسی جگہ اسے یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ میں شرعاً اس موقع پر کیا کچھ کرنے کا مجاز ہوں۔ یہی نہیں، ایک عام شہری بھی اگر مخمصے میں مبتلا ہو تو اس وقت کوئی مفتی نہیں بلکہ وہ شخص خود ہی یہ فیصلہ کرنے کا مجاز ہو گا کہ آیا یہ حالت وہ ہے یا نہیں جس میں اس کے لیے حرام چیز کھا لینا جائز ہو۔ اگر اس کی جان مال یا آبرو پر حملہ ہو رہا ہو تو اسی کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا حفاظت ِخود اختیاری میں اس کے لیے اس وقت کسی ایسی جان کو ہلاک کرنا جائز ہے یا نہیں جسے اﷲ نے حرام کیا ہے۔ اگر زچگی کے موقع پر ماں اور بچے کی جان ایک ساتھ بچا لینا ممکن نظر نہ آئے تو اس وقت ایک دایہ ہی یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا یہ وقت وہ ہے یا نہیں جس میں وہ ایک نفس کی ہلاکت کی ذمہ داری اپنے اوپر لے۔ غرض ایک نوعیت کے معاملات جس شخص سے متعلق ہوں ان میں فیصلہ کرنا اسی کا کام ہے اور اس طرح کے فیصلوں کی صحت کا مدار دو چیزوں پر ہے۔ ایک یہ کہ آدمی واقعی قانونِ الٰہی کے اتباع کی نیّت رکھتا ہو۔ دوسرے یہ کہ کتاب و سنّت میں اس کے فیصلے کے لیے کوئی ماخذ پایا جاتا ہو۔
یہ اصول بہت کسا ہوا ہے اگر اخلاص اور قواعد شرعیہ کی پابندی کے ساتھ اسے استعمال کیا جائے اور یہ بہت ڈھیلا ڈھالا ہے اگر جہالت اور بدنیّتی کے ساتھ کوئی اسے استعمال کرنے پر اتر آئے۔ بلکہ شریعت کا پورا نسخہ ہی ایسا ہے کہ اگر حدودِ شریعت سے آزادی کی خواہش رکھنے والوں کے ہاتھ میں وہ تھما دیا جائے تو وہ دین اور اخلاق کا تیا پانچا کرکے رکھ دیں۔ وہ بے وضو نماز پڑھا سکتے ہیں، کیونکہ شریعت نے کسی کو اس کا پابند نہیں کیا ہے کہ مقتدیوں کے سامنے وضو کرکے امامت کرائے۔ وہ ہر روز چار عورتوں سے نکاح کرکے انھیں طلاق دے سکتے ہیں کیونکہ شریعت نے ایک مرد کو چار تک نکاح کرنے اور جب چاہے طلاق دے دینے کی آزادی دی ہے۔ وہ اضطرار کے بہانے سے جب چاہیں حرام چیز کھا اور پی سکتے ہیں کیونکہ مضطر کو تو شریعت نے یہ اجازت دی ہی ہے۔ اس خطرے کا سدّباب کرنے کے لیے اگر کوئی شخص ان دروازوں کو بند کرنا چاہے جو شریعت نے خود ہی بندوں کی مصلحت اور بھلائی کے لیے رکھے ہیں تو اسے پوری شریعت کو بند کرنا پڑے گا کیونکہ یہ شریعت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس کی پابندی کرنا چاہیں۔ خروج کی نیت رکھنے والوں کے لیے تو اس میں رخنے ہی رخنے ہیں۔
(ترجمان القرآن۔ جولائی ۱۹۵۹ء)
٭…٭…٭…٭…٭

شیئر کریں