Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

شہادتِ امام حسین
مقصدِ شہادت
ریاست کے مزاج، مقصد اور دستور کی تبدیلی
نقطۂِ انحراف
اِنسانی بادشاہی کا آغاز
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا تعطّل
اسلامی دستور کے بنیادی اصول
آزادانہ انتخاب
شُورائی نظام
اظہار رائے کی آزادی
خدا اور خلق کے سامنے جواب دہی
بیت المال۔ ایک امانت
قانون کی حکومت
حقوق اور مراتب کے لحاظ سے کامل مساوات
امام حسین ص کا مومنانہ کردار

شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ

اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

خدا اور خلق کے سامنے جواب دہی

چوتھا اُصول، جو اس تیسرے اصول کے ساتھ لازمی تعلق رکھتا تھا، یہ تھا کہ خلیفہ اور اس کی حکومت خدا اور خلق دونوں کے سامنے جوابدہ ہے۔ جہاں تک خدا کے سامنے جواب دہی کا تعلق ہے اس کے شدید احساس سے خلفائے راشدینؓ پر دن کا چین اور رات کا آرام حرام ہو گیا تھا۔ اور جہاں تک خلق کے سامنے جواب دہی کا تعلق ہے، وہ ہر وقت، ہر جگہ اپنے آپ کو عوام کے سامنے جواب دہ سمجھتے تھے۔ ان کی حکومت کا یہ اصول نہ تھا کہ صرف مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) میں نوٹس دے کر ہی اُن سے سوال کیا جا سکتا ہے، وہ ہر روز پانچ مرتبہ نماز کی جماعت میں اپنے عوام کا سامنا کرتے تھے۔ وہ ہر ہفتے جمعہ کی جماعت میں عوام کے سامنے اپنی کہتے اور سنتے تھے۔ وہ شب وروز بازاروں میں کسی باڈی گارڈ کے بغیراور کسی ہٹو بچو کی آواز کے بغیر، عوام کے درمیان چلتے پھرتے تھے۔ ان کے گورنمنٹ ہائوس (یعنی ان کے کچے مکان) کا دروازہ ہر شخص کے لیے کھلا تھا اور ہر ایک اُن سے مِل سکتا تھا۔ ان سب مواقع پر ہر شخص ان سے سوال کر سکتا تھا اور جواب طلب کر سکتا تھا۔ یہ محدود جواب دہی نہ تھی بلکہ کھلی اور ہمہ وقتی جواب دہی تھی۔ یہ نمایندوں کے واسطہ سے نہ تھی بلکہ پوری قوم کے سامنے براہِ راست تھی۔ وہ عوام کی مرضی سے برسر اقتدار آئے تھے اور عوام کی مرضی انھیں ہٹا کر دوسرا خلیفہ ہر وقت لا سکتی تھی۔ اس لیے نہ تو انھیں عوام کا سامنا کرنے میں کوئی خطرہ محسوس ہوتا تھا اور نہ اقتدار سے محروم ہونا ان کی نگاہ میں کوئی خطرہ تھا کہ وہ اس سے بچنے کی کبھی فکر کرتے۔ لیکن بادشاہی دَور کے آتے ہی جوابدہ حکومت کا تصوّر ختم ہو گیا۔ خدا کے سامنے جواب دہی کا خیال چاہے زبانوں پر رہ گیا ہو،مگر عمل میں اس کے آثار کم ہی نظر آتے ہیں۔ رہی خلق کے سامنے جواب دہی‘ تو کون مائی کا لال تھا جو ان سے جواب طلب کر سکتا۔ وہ اپنی قوم کے فاتح تھے۔ مفتوحوں کے سامنے کون فاتح جواب دہ ہوتا ہے۔ وہ طاقت سے برسرِ اقتدار آئے تھے اور ان کا نعرہ یہ تھا کہ جس میں طاقت ہو وہ ہم سے اقتدار چھین لے۔ ایسے لوگ عوام کا سامنا کب کیا کرتے ہیں اور اورعوام ان کے قریب کہاں پھٹک سکتے تھے۔ وہ نماز بھی پڑھتے تھے تو نتھو خیرے کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے محلوں کی محفوظ مسجدوں میں، یا باہر اپنے نہایت قابل اعتماد محافظوں کے جُھرمٹ میں۔ ان کی سواریاں نکلتی تھیں تو آگے اور پیچھے مسلح دستے ہوتے تھے اور راستے صاف کر دیے جاتے تھے۔ عوام کی اور ان کی مُٹ بھیڑ کسی جگہ ہوتی ہی نہ تھی۔

شیئر کریں