Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

دینِ حق
اَلِّدیْن َکا مفہوم
الاِسلام کا مفہوم
قرآن کا دعوٰی کیا ہے؟
طریقِ زندگی کی ضرورت
زندگی کا انقسام پذیر نہ ہونا
زندگی کی جغرافی ونسلی تقسیم
زندگی کی زمانی تقسیم
انسان کیسے طریقِ زندگی کا حاجت مند ہے
کیا انسان ایسا نظام خود بنا سکتا ہے؟
الدین کی نوعیت
انسانی ذرائع کا جائزہ
۱۔ خواہش
۲۔ عقل
۳۔ سائنس
۴۔ تاریخ
مایوس کُن نتیجہ
اُمِّید کی ایک ہی کرن
قرآن کے دلائل
خدائی ہدایت کے پرکھنے کا معیار
ایمان کے تقاضے

دینِ حق

اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

خدائی ہدایت کے پرکھنے کا معیار

اب آگے بڑھنے سے پہلے مَیں ایک سوال کا جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں جو لازماً اس مرحلے پر پہنچ کر ہر شخص کے دل میں پیدا ہوتا ہے اور اپنی تحقیق کے دَوران میں خود میرے دل میں بھی پیدا ہو چکا ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر اس شخص کی بات مان لیں جو ایک دین ہمارے سامنے اس دعوے کے ساتھ پیش کر دے کہ یہ خدا کی طرف سے ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو آخر ہمارے پاس وہ کیا معیار ہے جس سے ہم انسانی ساخت کے دین اور خدائی ہدایت کے دین میں فرق کر سکیں۔ اس کا جواب اگرچہ بڑی مفصل تحقیقی بحث چاہتا ہے، مگر میں یہاں مختصر اشاروں میں وہ چار بڑے معیار بیان کروں گا جو انسانی فکر اور خدائی فکر کو ممیز کرتے ہیں۔
انسانی فکر کی پہلی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں علم کی غلطی، اور محدودیت کا اثر لازماً پایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس خدائی فکر میں غیر محدود علم اور صحیح علم کی شان بالکل نمایاں ہوتی ہے۔ جو چیز خدا کی طرف سے ہو گی اس میں آپ ایسی کوئی چیز نہیں پا سکتے جو کبھی کسی زمانے میں کسی ثابت شدہ علمی حقیقت کے خلاف ہو، یا جس کے متعلق یہ ثابت کیا جا سکے کہ اس کے مصنف کی نظر سے حقیقت کا فلاں پہلو اوجھل رہ گیا۔ مگر اس معیارِ تحقیق کو استعمال کرتے ہوئے یہ بات نہ بھول جائیے کہ علم، اور علمی قیاس، اور نظریۂ علمی میں بڑا فرق ہے۔ ایک وقت میں جو علمی قیاسات اور علمی نظریات دماغوں پر چھائے ہوئے ہوتے ہیں، اکثر غلطی سے ان کو ’’علم‘‘ سمجھ لیاجاتا ہے۔ حالانکہ ان کے غلَط ہونے کا بھی اتنا ہی امکان ہوتا ہے جتنا ان کے صحیح ہونے کا۔ تاریخ علم میں ایسے بہت کم قیاسات ونظریات کی نشان دہی کی جا سکتی ہے جو بالآخر ’’علم‘‘ ثابت ہوئے ہیں۔
انسانی فکر کی دوسری بڑی کم زوری نقطۂ نظر کی تنگی ہے۔ اس کے برخلاف خدائی فکر میں وسیع ترین نقطۂ نظر پایا جاتا ہے۔ جب آپ خدائی فکر سے نکلی ہوئی کسی چیز کودیکھیں گے تو آپ کو ایسا محسوس ہو گا جیسے اس کا مصنف ازل سے ابد تک دیکھ رہا ہے، پوری کائنات کو دیکھ رہا ہے، تمام حقیقتوں کو بیک نگاہ دیکھ رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں بڑے سے بڑے فلسفی اور مفکّر کی فکر بھی ایک بچے کی فکر محسوس ہو گی۔
انسانی فکر کا تیسرا اہم خاصہ یہ ہے کہ اس میں حکمت ودانش، جذبات وخواہشات کے ساتھ کہیں نہ کہیں ساز باز اور مصلحت کرتی نظر آ ہی جاتی ہے۔ بخلاف اس کے خدائی فکر میں بے لاگ حکمت اور خالص دانش مندی کی شان اتنی نمایاں ہوتی ہے کہ اس کے احکام میں کہیں آپ جذباتی جھکائو کی نشان دہی نہیں کر سکتے۔ انسانی فکر کی ایک اور کم زوری یہ ہے کہ جو نظامِ زندگی وہ خود تصنیف کرے گا اس میں جانب داری، انسان اور انسان کے درمیان غیر عقلی امتیاز اور غیر عقلی بنیادوں ہی پر ترجیحِ بعض علیٰ بعض کا عنصر لازماً پایا جائے گا کیوں کہ ہر انسان کی کچھ ذاتی دل چسپیاں ہوتی ہیں، جو بعض انسانوں کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں اور بعض کے ساتھ وابستہ نہیں ہوتیں۔ بخلاف اس کے خدائی فکر سے نکلا ہوا نظامِ زندگی ایسے ہی عنصر سے بالکل پاک ہو گا۔
اس معیار پر آپ ہر اُس نظام کو جانچ کر دیکھیے جو اپنے آپ کو خدا کی طرف سے ’’الدین‘‘ کہتا ہو۔ اگر وہ انسانی فکر کی ان تمام خصوصیات سے خالی ہو اور پھر جامعیت اور ہمہ گیری کی وہ شان بھی رکھتا ہو جو اس سے پہلے مَیں نے ’’اَلدّین‘‘کی ضرورت ثابت کرتے ہوئے بیان کی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ اس پر ایمان لانے میں تامل کریں۔

شیئر کریں