Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

شہادتِ امام حسین
مقصدِ شہادت
ریاست کے مزاج، مقصد اور دستور کی تبدیلی
نقطۂِ انحراف
اِنسانی بادشاہی کا آغاز
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا تعطّل
اسلامی دستور کے بنیادی اصول
آزادانہ انتخاب
شُورائی نظام
اظہار رائے کی آزادی
خدا اور خلق کے سامنے جواب دہی
بیت المال۔ ایک امانت
قانون کی حکومت
حقوق اور مراتب کے لحاظ سے کامل مساوات
امام حسین ص کا مومنانہ کردار

شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ

اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

حقوق اور مراتب کے لحاظ سے کامل مساوات

مسلمانوں میں حقوق اور مراتب کے لحاظ سے کامل مساوات، اسلامی دستور کا ساتواں اصول تھا جسے ابتدائی اسلامی ریاست میں پوری قوت کے ساتھ قائم کیا گیا تھا۔ مسلمانوں کے درمیان نسل، وطن، زبان وغیرہ کا کوئی امتیاز نہ تھا۔ قبیلے اور خاندان اور حسب ونسب کے لحاظ سے کسی کو کسی پر فضیلت نہ تھی۔ خدا اور رسولؐ کے ماننے والے سب لوگوں کے حقوق یکساں تھے اور سب کی حیثیت برابر تھی۔ ایک کودوسرے پر ترجیح اگر تھی تو سیرت واخلاق اور اہلیت وصلاحیت، اور خدمات کے لحاظ سے تھی۔ لیکن خلافت کی جگہ جب بادشاہی نظام آیا تو عصبیت کے شیاطین ہر گوشے سے سر اٹھانے لگے۔ شاہی خاندان اور ان کے حامی خانوادوں کا مرتبہ سب سے بلند وبرتر ہو گیا۔ ان کے قبیلوں کو دُوسرے قبیلوں پر ترجیحی حقوق حاصل ہو گئے۔ عربی اور عجمی کے تعصبات جاگ اُٹھے اور خود عربوں میں قبیلے اور قبیلے کے درمیان کش مکش پیدا ہو گئی۔ ملت اسلامیہ کو اس چیز نے جو نقصان پہنچایا اس پر تاریخ کے اوراق گواہ ہیں۔

شیئر کریں