Search
Close this search box.

رسائل و مسائل

حدیث لَوْ عَاشَ اِبْرَاھِیْمُ ابْنُ النَّبیِ لَکَانَ صِدِّیْقاً نَبِیّاًسے قادیانیوں کا غلط استدلال

سوال-اسی طرح قادیانی حدیث لَوْعَاشَ اِبْراھِیْمُ لَکَانَ نَبِیًّا({ FR 1821 }) ’’اگر رسول اﷲؐ کے صاحب زادے ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے،‘‘ سے بھی امکان نبوت کے حق میں استدلال کرتے ہیں ۔ براہِ کرم ان دلائل کی حقیقت واضح فرمائیں ۔

جواب-حدیثلَوْ عَاشَ اِبْرَاھِیْمُ لَکَانَ نَبِیَّاسے قادیانی حضرات جو استدلال کرتے ہیں وہ چار وجوہ سے غلط ہے: اول یہ کہ جس روایت میں اسے خود نبیﷺ کے قول کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے اس کی سند ضعیف ہے اور محدثین میں سے کسی نے بھی اس کو قوی تسلیم نہیں کیا ہے۔
دوم یہ کہ نووی اور ابن عبدالبر جیسے اکابر محدثین اس مضمون کو ناقابل اعتبار قرار دیتے ہیں ۔ امام نووی اپنی کتاب تھذیب الاسماء و اللغات میں لکھتے ہیں :
اَمَّا مَارُوِیَ عَنْ بَعْضِ الْمَتَقَدِّمِیْنَ لَّوْعَاشَ اِبْرَاھِیْمُ لَکَانَ نَبِیّاً، فَبَاطِلٌ وَجَسَارَۃٌ عَلَی الْکَلَامِ فِی الْمَغِیْبَاتِ وَمُجَازَفَۃٌ وَھُجُومٌ عَلٰی عَظِیْمٍ مِنَ الزَّلَاتِ۔ ({ FR 1999 })
’’رہی وہ بات جو بعض متقدمین سے منقول ہے کہ ’’اگر ابراہیم زندہ ہوتے تو نبی ہوتے‘‘ تو وہ باطل ہے اورغیب کی باتوں پر کلام کرنے کی بے جا جسارت ہے اور بے سوچے سمجھے ایک بڑی بات منہ سے نکال دینا ہے۔‘‘
اور علامہ ابن عبدالبرّ ’’تمہید‘‘ میں لکھتے ہیں :
لَا أَدْرِی مَاھٰذا؟ فَقَدْ وَلَدَ نُوْحٌ غَیْرَ نَبِیٍّ، وَلَوْلَمْ یَلِدِ النَّبِیُّ الاَّ نَبِیًّا لَکَانَ کُلُّ أَحَدٍ نَبِیّاً، لِأَنُّھُمْ مِنْ وَلَدِ نُوْحٍ عَلَیْہِ السَّلاَم۔ ({ FR 2000 })
’’میں نہیں جانتا کہ یہ کیا مضمون ہے۔ نوح ؈ کے ہاں غیر نبی اولاد ہو چکی ہے۔ حالانکہ اگر نبی کا بیٹا نبی ہونا ضروری ہوتا تو آج سب نبی ہوتے۔ کیونکہ سب کے سب نوح ؈ کی اولاد ہیں ۔‘‘
سوم یہ کہ اکثر روایات میں اسے نبی ﷺ کے بجاے بعض صحابیوں کے قول کی حیثیت سے نقل کیا گیا ہے اور وہ اس کے ساتھ یہ تصریح بھی کر دیتے ہیں کہ نبی ﷺکے بعد چونکہ کوئی نبی نہیں اس لیے اللّٰہ تعالیٰ نے آپؐ کے صاحب زادے کو اٹھا لیا۔ مثال کے طور پر بخاری کی روایت یہ ہے:
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ: قُلْتُ لِابْنِ أَبِي أَوْفَى: رَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَاتَ صَغِيرًا، وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ عَاشَ ابْنُهُ، وَلَكِنْ لاَ نَبِيَّ بَعْدَهُ({ FR 1822 })
’’اسماعیل بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے عبداللّٰہ بن ابی اوفیٰ ؓ(صحابی) سے پوچھا کہ آپ نے نبی ﷺ کے صاحب زادے کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا وہ بچپن ہی میں مر گئے۔ اگر اللّٰہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہوتا کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو تو آپﷺ کا صاحب زادہ زندہ رہتا، مگر حضورﷺ کے بعد کوئی اور نبی نہیں ہے۔‘‘
اسی سے ملتی جلتی روایت حضرت انسؓ سے بھی منقول ہے جس کے الفاظ یہ ہیں :
وَلَوْبَقِیَ لَکَانَ نَبِیّاً لٰکِنْ لَمْ یَبْقِ لأِنَّ نَبِیَّکُمْ آخِرُ الْاَنْبِیَائِ عَلَیْھِمُ السَّلاَمَ ({ FR 1823 })
’’اگر وہ زندہ رہ جاتے تو نبی ہوتے، مگر وہ زندہ نہ رہے کیونکہ تمھارے نبی آخری نبی ہیں ، انبیا ؊ میں سے۔‘‘
چہارم یہ کہ اگر بالفرض صحابہ کرام کی یہ تصریحات بھی نہ ہوتیں اور محدثین کے وہ اقوال بھی موجود نہ ہوتے جن میں اس روایت کو جو نبی ﷺ کے قول کی حیثیت سے منقول ہوئی ہے، ضعیف اور ناقابل اعتبار قرار دیا گیا ہے، تب بھی وہ کسی طرح قابل قبول نہ ہوتی، کیونکہ یہ بات علم حدیث کے مسلمہ اصولوں میں سے ہے کہ اگر روایت سے کوئی ایسا مضمون نکلتا ہو جو بکثرت صحیح احادیث کے خلاف پڑتا ہو تو اسے قبول نہیں کیا جاسکتا۔ اب ایک طرف وہ کثیر التعداد صحیح اور قوی السند احادیث ہیں جن میں صاف صاف تصریح کی گئی ہے کہ نبی ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہوچکا ہے، اور دوسری طرف یہ اکیلی روایت ہے جو باب نبوت کے کھلے ہونے کا امکان ظاہر کرتی ہے۔ آخر کس طرح جائز ہے کہ اس ایک روایت کے مقابلے میں ان سب روایتوں کو ساقط کر دیا جائے؟ (ترجمان القرآن، نومبر۱۹۷۶ء،نومبر۱۹۵۴ء)