Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

عرضِ ناشر
دیباچہ طبع اوّل
دیباچہ طبع ہشتم
باب اوّل
مسلمان ہونے کے لیے علم کی ضرورت
مسلم اورکافر کا اصلی فرق
سوچنے کی باتیں
کلمۂ طیبہ کے معنی
کلمۂ طیّبہ اور کلمۂ خبیثہ
کلمۂ طیبہ پر ایمان لانے کا مقصد
باب دوم
مسلمان کسے کہتے ہیں؟
ایمان کی کسوٹی
اسلام کا اصلی معیار
خدا کی اطاعت کس لیے؟
دین اور شریعت
باب سوم
عبادت
نماز
نماز میں آپ کیا پڑھتے ہیں؟
نماز باجماعت
نمازیں بے اثر کیوں ہو گئیں؟
باب چہارم
ہر امت پر روزہ فرض کیا گیا
روزے کا اصل مقصد
باب پنجم
زکوٰۃ
زکوٰۃ کی حقیقت
اجتماعی زندگی میں زکوٰۃ کا مقام
انفاق فی سبیل اللہ کے احکام
زکوٰۃ کے خاص احکام
باب ششم
حج کا پس منظر
حج کی تاریخ
حج کے فائدے
حج کا عالمگیر اجتماع
باب ہفتم
جہاد
جہاد کی اہمیت
ضمیمہ ۱ ۱۔اَلْخُطْبَۃُ الْاُوْلٰی
۲۔اَلْخُطْبَۃُ الثَّانِیَۃُ
ضمیمہ ۲ (بسلسلہ حاشیہ صفحہ نمبر ۲۰۷)

خطبات

اسلام کو دل نشیں، مدلل اور جا مع انداز میں پیش کرنے کا جو ملکہ اور خداداد صلاحیت سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ کو حاصل ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ آپ کی تصانیف و تالیفات کی ایک ایک سطر جیسی یقین آفریں اور ایمان افزا ہے، اس کا ہر پڑھالکھا شخص معترف و مدّاح ہے ۔ کتنے ہی بگڑے ہوئے افراد، جوان، بچے، مرد وعورت ان تحریروں سے متاثر ہو کر اپنے سینوں کو نورِ ایمان سے منور کر چکے ہیں۔ ان کتابوں کی بدولت تشکیک کے مارے ہوئے لاتعداد اشخاص ایمان و یقین کی بدولت سے مالا مال ہوئے ہیں اور کتنے ہی دہریت و الحاد کے علم بردار اسلام کے نقیب بنے ہیں۔ یوں تو اس ذہنی اور عملی انقلاب لانے میں مولانا محترم کی جملہ تصانیف ہی کو پیش کیا جا سکتا ہے لیکن ان میں سر فہرست یہ کتاب خطبات ہے۔ یہ کتاب دراصل مولانا کے ان خطبات کا مجموعہ ہے جو آپ نے دیہات کے عام لوگوں کے سامنے جمعے کے اجتماعات میں دیے۔ ان خطبات میں آپ نے اسلام کے بنیادی ارکان کو دل میں اُتر جانے والے دلائل کے ساتھ آسان انداز میں پیش کیا ہے اور کمال یہ ہے کہ اس کتاب کو عام وخاص،کم علم واعلیٰ تعلیم یافتہ،ہر ایک یکساں ذوق وشوق سے پڑھتا ہے اور اس سے فائدہ اُٹھاتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اسلام کے بنیادی ارکان کو سمجھنے کے لیے ہماری زبان ہی میں نہیں بلکہ دنیا کی دوسری بلند پایہ زبانوں میں بھی اس کتاب کی نظیر نہیں ملتی۔ علم و حقانیت کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے جو ان صفحات میں بند کردیا گیا ہے۔

حج کا پس منظر

بردرانِ اسلام! پچھلے خطبات میں نماز، روزہ اور زکوٰۃ کے متعلق آپ کو تفصیل کے ساتھ بتایا جا چکا ہے کہ یہ عبادتیں انسان کی زندگی کو کس طرح اسلام کے سانچے میں ڈھالتی اوراس کو اللہ کی بندگی کے لیے تیار کرتی ہیں۔ اب اسلام کی فرض عبادتوں میں سے صرف حج باقی ہے، جس کے فائدے مجھے آپ کے سامنے بیان کرنے ہیں۔
حج کے معنی
حج کے معنی عربی زبان میں زیارت کا قصد کرنے کے ہیں۔ حج میں چونکہ ہر طرف سے لوگ کعبے کی زیارت کا قصد کرتے ہیں، اس لیے اس کا نام حج رکھا گیا۔
حج کی ابتدا
سب سے پہلے اس کی ابتدا جس طرح ہوئی اس کا قصہ بڑا سبق آموز ہے۔ اس قصے کو غور سے سنیے، تاکہ حج کی حقیقت اچھی طرح آپ کے ذہن نشین ہو جائے۔ پھر اس کے فائدوں کا سمجھنا آپ کے لیے آسان ہو گا۔
حضرت ابراہیمؑ کے زمانے میں حالات
کون مسلمان، عیسائی یا یہودی ایسا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام سے واقف نہ ہو؟ دنیا کی دو تہائی سے زیادہ آبادی اُن کو پیشوا مانتی ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ، حضرت عیسیٰ ؑاور حضرت محمدa، تینوں انھی کی اولاد سے ہیں۔ انھی کی روشن کی ہوئی شمع سے دنیا بھر میں ہدایت کا نور پھیلا ہے۔ چار ہزار برس سے زیادہ مدت گزری جب وہ عراق کی سرزمین میں پیدا ہوئے تھے۔اُس وقت ساری دنیا خدا کو بھولی ہوئی تھی۔ روئے زمین پرکوئی ایسا انسان نہ تھا جو اپنے اصلی مالک کو پہچانتا ہو، اور صرف اُسی کے آگے اطاعت وبندگی میں سرجھکاتا ہو۔ جس قوم میں انھوں نے آنکھیں کھولی تھیں وہ اگرچہ اس زمانے میں دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم تھی، لیکن گمراہی میں بھی وہی سب سے آگے تھی۔ علوم وفنون اور صنعت وحرفت میں ترقی کر لینے کے باوجود ان لوگوں کو اتنی ذرا سی بات نہ سوجھتی تھی کہ مخلوق کبھی معبود ہونے کا اہل نہیں ہو سکتا۔ ان کے ہاں ستاروںاور بتوں کی پرستش ہوتی تھی۔ نجوم، فال گیری، غیب گوئی، جادو ٹونے اور تعویذ گنڈے کا خوب چرچا تھا۔ جیسے آج کل ہندوئوں میں پنڈت اور برہمن ہیں اسی طرح اس زمانے میں بھی پجاریوں کا ایک طبقہ تھا جو مندروں کی محافظت بھی کرتا، لوگوں کو پوجا بھی کراتا، شادی اور غمی وغیرہ کی رسمیں بھی ادا کرتا، اور غیب کی خبریں بھی لوگوں کو بتانے کا ڈھونگ رچاتا تھا۔
عام لوگ ان کے پھندے میں ایسے پھنسے ہوئے تھے کہ انھی کو اپنی اچھی اور بری قسمت کا مالک سمجھتے تھے۔ انھی کے اشاروں پر چلتے تھے اور بے چون وچرا ان کی خواہشات کی بندگی کرتے تھے کیوں کہ ان کا گمان تھا کہ دیوتائوں کے ہاں ان پجاریوں کی پہنچ ہے۔ یہ چاہیں تو ہم پر دیوتائوں کی عنایت ہو گی، ورنہ ہم تباہ ہو جائیں گے۔ پجاریوں کے اس گروہ کے ساتھ بادشاہوں کی ملی بھگت تھی۔ عام لوگوں کو اپنا بندہ بنا کر رکھنے میں بادشاہ پجاریوں کے مددگار تھے اور پجاری بادشاہوں کے۔ ایک طرف حکومت ان پجاریوں کی پشت پناہی کرتی تھی اور دوسری طرف یہ پجاری لوگوں کے عقیدے میں یہ بات بٹھاتے تھے کہ بادشاہِ وقت بھی خدائوں میں سے ایک خدا ہے، ملک اور رعیت کا مالک ہے، اس کی زبان قانون ہے اور اس کو رعایا کی جان ومال پر ہر قسم کے اختیارات حاصل ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بادشاہوں کے آگے پورے بندگی کے مراسم بجا لائے جاتے تھے، تاکہ رعایا کے دل ودماغ پر ان کی خدائی کا خیال مسلّط ہو جائے۔
حضرت ابراہیم ؑ کا گھرانا
ایسے زمانے اور ایسی قوم میں حضرت ابراہیم ؑ پیدا ہوئے اور لطف یہ ہے کہ جس گھرانے میں پیدا ہوئے وہ خود پجاریوں کا گھرانا تھا۔ ان کے باپ دادا اپنی قوم کے پنڈت اور برہمن تھے۔ اس گھر میں وہی تعلیم اور وہی تربیت ان کو مل سکتی تھی جو ایک پنڈت زادے کو ملا کرتی ہے۔ اسی قسم کی باتیں بچپن سے کانوں میں پڑتی تھیں۔ وہی پیروں اور پیرزادوں کے رنگ ڈھنگ اپنے بھائی بندوں اور برادری کے لوگوں میں دیکھتے تھے۔ وہی مندر کی گدی ان کے لیے تیار تھی جس پر بیٹھ کر وہ اپنی قوم کے پیشوا بن سکتے تھے۔ وہی نذر ونیاز اور چڑھاوے جن سے ان کا خاندان مالا مال ہو رہا تھا ان کے لیے بھی حاضر تھے۔ اُسی طرح لوگ ان کے سامنے بھی ہاتھ جوڑنے اور عقیدت سے سرجھکانے کے لیے موجود تھے۔ اسی طرح دیوتائوں سے رشتہ ملا کر اور غیب گوئی کا ڈھونگ رچا کر وہ ادنیٰ کسان سے لے کر بادشاہ تک ہر ایک کو اپنی پیری کے پھندے میں پھانس سکتے تھے۔ اس اندھیرے میں جہاں کوئی ایک آدمی بھی حق کو جاننے اور ماننے والا موجود نہ تھا، نہ تو ان کو حق کی روشنی ہی کہیں سے مل سکتی تھی اور نہ کسی معمولی انسان کے بس کا یہ کام تھا کہ اس قدر زبردست ذاتی اور خاندانی فائدوں کو لات مار کر محض سچائی کے پیچھے دنیا بھر کی مصیبتیں مول لینے پر آمادہ ہو جاتا۔
حضرت ابراہیم ؑ کا اعلانِ براء ت
مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کوئی معمولی آدمی نہ تھے۔ کسی اور ہی مٹی سے ان کا خمیر بنا تھا۔ ہوش سنبھالتے ہی انھوں نے سوچنا شروع کر دیا کہ یہ سورج، چاند اور ستارے جو خود غلاموں کی طرح گردش کر رہے ہیں، اور یہ پتھر کے بت جن کو آدمی خود اپنے ہاتھ سے بناتا ہے اور یہ بادشاہ جو ہم ہی جیسے انسان ہیں، آخر یہ خدا کیسے ہو سکتے ہیں؟ جو بچارے خود اپنے اختیار سے جنبش نہیں کر سکتے، جن میں آپ اپنی مدد کرنے کی قدرت نہیں، جو اپنی موت اور زیست کے بھی مختار نہیں، ان کے پاس کیا دھرا ہے کہ انسان ان کے آگے عبادت میں سر جھکائے، ان سے اپنی حاجتیں مانگے، ان کی طاقت سے خوف کھائے اور ان کی خدمت گاری وفرماںبرداری کرے۔ زمین اور آسمان کی جتنی چیزیں ہمیں نظر آتی ہیں، یا جن سے کسی طور پر ہم واقف ہیں، ان میں سے تو کوئی بھی ایسی نہیں جو خود محتاج نہ ہو، جو خود کسی طاقت سے دبی ہوئی نہ ہو، اور جس پر کبھی نہ کبھی زوال نہ آتا ہو۔ پھر جب ان سب کا یہ حال ہے تو ان میں سے کوئی رب کیسے ہو سکتا ہے؟ جب ان میں سے کسی نے مجھ کو پیدا نہیں کیا، نہ کسی کے ہاتھ میں میری موت اور زیست کا اور نفع اور نقصان کا اختیار ہے، نہ کسی کے ہاتھ میں رزق اور حاجت روائی کی کنجیاں ہیں، تو میں ان کو رب کیوں مانوں اور کیوں ان کے آگے بندگی واطاعت میں سر جھکائوں؟ میرا رب تو وہی ہو سکتا ہے جس نے سب کو پیدا کیا، جس کے سب محتاج ہیں اور جس کے اختیار میں سب کی موت وزیست اور سب کا نفع ونقصان ہے۔ یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم ؑنے قطعی فیصلہ کر لیا کہ جن معبودوں کو میری قوم پوجتی ہے ان کو میں ہرگز نہ پوجوں گا اور اس فیصلے پر پہنچنے کے بعد انھوں نے علی الاعلان لوگوں سے کہہ دیا کہ:
اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَo ( الانعام 6:78)
جن کو تم خدائی میں شریک ٹھہراتے ہو، میں اُن سب سے بیزار ہوں۔
اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَo
(الانعام 6:79)
میں نے تو یکسو ہو کر اپنا رخ اُس ہستی کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔
مصائب کے پہاڑ
اس اعلان کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ باپ نے کہا میں عاق کر دوں گا اور گھر سے نکال باہر کروں گا۔ قوم نے کہا ہم میں سے کوئی تمھیں پناہ نہ دے گا۔ حکومت بھی ان کے پیچھے پڑ گئی اور بادشاہ کے سامنے مقدّمہ پیش ہوا،مگر وہ یکہ وتنہا انسان سب کے مقابلے میں سچائی کی خاطر ڈٹ کر کھڑا ہو گیا۔ باپ کو ادب سے جواب دیا کہ جو علم میرے پاس ہے وہ تمھیں نہیں ملا، اس لیے بجائے اس کے کہ میں تمھاری پیروی کروں تمھیں میری پَیروی کرنی چاہیے۔ قوم کی دھمکیوں کے جواب میں اس کے بتوں کو اپنے ہاتھ سے توڑ کر ثابت کر دیا کہ جنھیں تم پوجتے ہو، وہ خود کس قدر بے بس ہیں۔ بادشاہ کے بھرے دربار میں جا کر صاف کہہ دیا کہ تو میرا رب نہیں ہے بلکہ وہ ہے جس کے ہاتھ میں میری اور تیری زندگی وموت ہے، اور جس کے قانون کی بندش میں سورج تک جکڑا ہوا ہے۔ آخر شاہی دربار میں فیصلہ ہوا کہ اس شخص کو زندہ جلا ڈالا جائے، مگر وہ پہاڑ سے زیادہ مضبوط دل رکھنے والا انسان، جوخدائے واحد پر ایمان لا چکا تھا، اس ہولناک سزا کو بھگتنے کے لیے بھی تیار ہوگیا۔ پھر جب اللہ نے اپنی قدرت سے اس کو آگ میں جلنے سے بچا لیا تو وہ اپنے گھر بار، عزیزواقارب، قوم اور وطن سب کو چھوڑ چھاڑ کر صرف اپنی بیوی اور ایک بھتیجے کو لے کر غریب الوطنی میں ملک ملک کی خاک چھاننے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ جس شخص کے لیے اپنے گھر میں مہنت کی گدّی موجود تھی، جو اس پر بیٹھ کر اپنی قوم کا پیر بن سکتا تھا۔ دولت وعزت دونوں جس کے قدم چومنے کے لیے تیار تھیں، اور جو اپنی اولاد کو بھی اس مہنتی کی گدّی پر مزے لوٹنے کے لیے چھوڑ سکتا تھا، اس نے اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے جلا وطنی اور بے سروسامانی کی زندگی پسند کی، کیوں کہ دنیا کے جھوٹے خدائوں کے جال میں پھانس کر خود مزے کرنا اُسے گوارا نہ تھا اور اس کے مقابلے میں یہ گوارا تھا کہ ایک سچے خدا کی بندگی کی طرف لوگوں کو بلائے اور اس جرم کی پاداش میں کہیں چَین سے نہ بیٹھ سکے۔
ہجرت
وطن سے نکل کر حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام شام، فلسطین، مصر اور عرب کے ملکوں میں پھرتے رہے۔ خدا ہی جانتا ہے کہ اس مسافرت کی زندگی میں ان پر کیا گزری ہو گی۔ مال وزر کچھ ساتھ لے کر نہ نکلے تھے اور باہر نکل کر اپنی روٹی کمانے کی فکر میں نہیں پھر رہے تھے بلکہ رات دن فکر تھی تو یہ تھی کہ لوگوں کو ہر ایک کی بندگی سے نکال کر صرف ایک خدا کا بندہ بنائیں۔ اس خیال کے آدمی کو جب اس کے اپنے باپ نے اور اس کی اپنی قوم نے برداشت نہ کیا تو اور کون برداشت کر سکتا تھا؟ کہاںاس کی آئو بھگت ہو سکتی تھی؟ ہر جگہ وہی مندروں کے مہنت اور وہی خدائی کے مدّعی بادشاہ موجود تھے اور ہر جگہ وہی جاہل عوام بستے تھے جو ان جھوٹے خدائوں کے پھندے میں پھنسے ہوئے تھے۔ ان لوگوں کے درمیان وہ شخص کہاں چَین سے بیٹھ سکتا تھا جو نہ صرف خود ہی خدا کے سوا کسی کی خدائی ماننے کے لیے تیار نہ تھا، بلکہ دوسروں سے بھی علانیہ کہتا پھرتا تھا کہ ایک اللہ کے سوا تمھارا کوئی مالک اور آقا نہیں ہے۔ سب کی آقائی وخداوندی کا تختہ الٹ دو، اور صرف اس ایک کے بندے بن کر رہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو کسی جگہ قرار نصیب نہ ہوا۔ سالہا سال بے خانماں پھرتے رہے، کبھی کنعان کی بستیوں میں ہیں تو کبھی مصر میں اور کبھی عرب کے ریگستان میں۔ اسی طرح ساری جوانی بیت گئی اور کالے بال سفید ہو گئے۔
اولاد اور اس کی تربیت
اخیر عمر میں جب ۹۰ برس پورے ہونے میں صرف چار سال باقی تھے اور اولاد سے مایوسی ہو چکی تھی، اللہ نے اولاد دی۔ لیکن اس اللہ کے بندے کواَب بھی یہ فکر نہ ہوئی کہ خود خانماں برباد ہوا ہوں تو کم از کم اپنے بچوں ہی کو دنیا کمانے کے قابل بنائوں اور انھیں کسی ایسے کام پر لگاجائوں کہ روٹی کا سہارا مل جائے۔ نہیں، اس بوڑھے مسلمان کو فکر تھی تو یہ تھی کہ جس مشن کو پھیلانے میں خود اس نے اپنی عمر کھپا دی تھی، کاش کوئی ایسا ہو جو اس کے مرنے کے بعد بھی اسی مشن کو پھیلاتا رہے۔ اسی غرض کے لیے وہ اللہ سے اولاد کا آرزو مند تھا، اور جب اللہ نے اولاد دی تو اس نے یہی چاہا کہ اپنے کام کو جاری رکھنے کے لیے انھیں تیار کرے۔ اس انسانِ کامل کی زندگی ایک سچے اور اصلی مسلمان کی زندگی تھی۔ ابتدائے جوانی میں ہوش سنبھالنے کے بعد ہی جب اس نے اپنے خدا کو پہچانا اور پا لیا تو خدا نے اس سے کہا تھا کہ اَسْلِمْ (اسلام لے آ، اپنے آپ کو میرے سپرد کر دے، میرا ہو کر رہ) اور اس نے جواب میں قول دے دیا تھا کہ: اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَo (البقرہ 2:131)
میں نے اسلام قبول کیا، میں رب العالمین کا ہو گیا، میں نے اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیا۔
اس قول وقرار کو اس سچے آدمی نے تمام عمر پوری پابندی کے ساتھ نباہ کر دکھا دیا۔ اس نے رب العالمین کی خاطر صدیوں کے آبائی مذہب اور اس کی رسموں اور عقیدوں کو چھوڑا، اور دنیا کے ان سارے فائدوں کو چھوڑا، اپنی جان کو آگ کے خطرے میں ڈالا، جلا وطنی کی مصیبتیں سہیں، ملک ملک کی خاک چھانی، اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ رب العالمین کی اطاعت اور اس کے دین کی تبلیغ میں صَرف کر دیا اور بڑھاپے میں جب اولاد نصیب ہوئی تو اس کے لیے بھی یہی دین اور یہی کام پسند کیا۔
سب سے بڑ ی آزمائش
مگر ان آزمائشوں کے بعد ایک اور آخری آزمائش باقی رہ گئی تھی جس کے بغیر یہ فیصلہ نہ ہو سکتا تھا کہ یہ شخص دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر رب العالمین سے محبت رکھتا ہے، اور وہ آزمائش یہ تھی کہ اس بڑھاپے میں، جب کہ پوری مایوسی کے بعد اسے اولاد نصیب ہوئی ہے، اپنے اکلوتے بیٹے کو رب العالمین کی خاطر قربان کر سکتا ہے یا نہیں؟ چنانچہ یہ آزمائش بھی کر ڈالی گئی، اور جب اشارہ پاتے ہی وہ اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنے پر آمادہ ہو گیا، تب فیصلہ فرما دیا گیا کہ ہاں، اب تم نے اپنے مسلم ہونے کے دعوے کو بالکل سچا کر دکھایا۔ اب تم اس کے اہل ہو کہ تمھیں ساری دنیا کا امام بنایا جائے۔ اسی بات کو قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ:
وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّہُنَّ۝۰ۭ قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا۝۰ۭ قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِىْ۝۰ۭ قَالَ لَا يَنَالُ عَہْدِي الظّٰلِــمِيْنَ o (البقرہ 2:124)
اور جب ابراہیم ؑ کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اتر گیا تو فرمایا کہ میں تجھے انسانوں کا امام (پیشوا) بنانے والا ہوں۔اس نے عرض کیا اور میری اولاد کے متعلق کیا حکم ہے؟ جواب دیا: ان میں سے جو ظالم ہوں گے انھیں میرا عہد نہیں پہنچتا۔
امامت ِ عالم پر سرفرازی
اس طرح حضرت ابراہیم ؑ کو پیشوائی سونپی گئی اور وہ اسلام کی عالمگیر تحریک کے لیڈر بنائے گئے۔ اب ان کو اس تحریک کی اشاعت کے لیے ایسے آدمیوں کی ضرورت پیش آئی جو مختلف علاقوں کو سنبھال کر بیٹھ جائیں اور ان کے خلیفہ یا نائب کی حیثیت سے کام کریں۔ اس کام میں تین آدمی ان کے لیے قوتِ بازو ثابت ہوئے۔ ایک اُن کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام، دوسرے اُن کے بڑے صاحبزادے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام جنھوں نے یہ سن کر کہ رب العالمین ان کی جان کی قربانی چاہتا ہے، خود اپنی گردن خوشی خوشی چھری کے نیچے رکھ دی۔ تیسرے اُن کے چھوٹے صاحبزادے حضرت اسحق علیہ السلام۔
حضرت لوطؑ کو شرقِ اُردن بھیجنا
بھتیجے(حضرت لوط علیہ السلام) کو آپ نے سدوم کے علاقے میں بٹھایا، جس کو آج کل شرقِ اُردن (ٹرانس جورڈینیا) کہتے ہیں۔ یہاں اس وقت کی سب سے زیادہ پاجی ] بدمعاش و جرائم پیشہ[ قوم رہتی تھی، اس لیے اس کی اصلاح مد نظر تھی اور ساتھ ہی دُور دراز کے علاقوں پر بھی اثر ڈالنا مقصود تھا۔ کیوں کہ ایران، عراق اور مصر کے درمیان آنے جانے والے سب تجارتی قافلے اسی علاقے سے گزرتے تھے اور یہاں بیٹھ کر دونوں طرف تبلیغ کا سلسلہ جاری کیا جا سکتا تھا۔
حضرت اسحق ؑ کو فلسطین بھیجنا
چھوٹے صاحبزادے حضرت اسحق علیہ السلام کو کنعان کے علاقے میں آباد کیا جس کو آج کل فلسطین کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ شام اور مصر کے درمیان واقع ہے، اور سمندر کے کنارے ہونے کی وجہ سے دوسرے ملکوں پر بھی یہاں سے اثر ڈالا جا سکتا ہے۔ یہیں سے حضرت اسحق ؑکے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام(جن کا نام اسرائیل بھی تھا) اور پوتے حضرت یوسفؑ کی بدولت اسلام کی تحریک مصر تک پہنچی۔
حضرت اسمٰعیل ؑ کو حجاز میں رکھا
بڑے صاحبزادے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو حجاز میں مکے کے مقام پر رکھا اورایک مدت تک خود ان کے ساتھ رہ کر عرب کے تمام گوشوں میں اسلام کی تعلیم پھیلائی۔
تعمیر کعبہ
پھر یہیں دونوں باپ بیٹے نے اسلامی تحریک کا وہ مرکز تعمیر کیا جو کعبہ کے نام سے آج ساری دنیا میں مشہور ہے۔ اس مرکز کا انتخاب اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا تھا اور خود ہی اس تعمیر کی جگہ تجویز کی تھی۔ یہ عمارت محض ایک عبادت گاہ ہی نہ تھی، جیسے مسجدیں ہوا کرتی ہیں، بلکہ اوّل روز ہی سے اس کو دینِ اسلام کی عالمگیر تحریک کا مرکزِ تبلیغ واشاعت قرار دیا گیا تھا، اور اس کی غرض یہ تھی کہ ایک خدا کو ماننے والے ہر جگہ سے کھنچ کھنچ کر یہاں جمع ہوا کریں۔ مل کر خدا کی عبادت کریں، اور اسلام کا پیغام لے کر پھر اپنے اپنے ملکوں کو واپس جائیں۔ یہی اجتماع تھا جس کا نام حج رکھا گیا۔ اس کی پوری تفصیل کہ یہ مرکز کس طرح تعمیر ہوا، کن جذبات اور کن دعائوں کے ساتھ دونوں باپ بیٹے نے اس عمارت کی دیواریں اٹھائیں اور کیسے حج کی ابتدا ہوئی؟ قرآن مجید میں یوں بیان کی گئی ہے:
اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًاوَّ ھُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَo فِيْہِ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰہِيْمَ ۥۚ وَمَنْ دَخَلَہٗ كَانَ اٰمِنًا۝۰ۭ (آل عمران 3:97-96)
یقیناً پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا وہی تھا جو مکہ میں تعمیر ہوا، برکت والا گھر، اور سارے جہان والوں کے لیے مرکزِ ہدایت۔ اس میں اللہ کی کھلی ہوئی نشانیاں ہیں، مقام ابراہیم ؑہے اور جو اس میں داخل ہو جاتا ہے اس کو امن مل جاتا ہے۔
اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِھِمْ ط (العنکبوت 29:67)
کیا لوگوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے کیسا پُرامن حرم بنا یا ہے، حالانکہ اس کے گرد وپیش لوگ اچک لیے جاتے ہیں۔
یعنی، جب کہ عرب میں ہر طرف لوٹ مار، قتل وغارت گری اور جنگ وجدل کا بازار گرم تھا اس حرم میں ہمیشہ امن ہی رہا۔ حتیٰ کہ وحشی بدّو تک اس کے حدود میں اپنے باپ کے قاتل کو بھی دیکھ پاتے تو اس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ کرتے۔
حضرت ابراہیم ؑ کی دعائیں
وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا۝۰ۭ وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰہٖمَ مُصَلًّى۝۰ۭ وَعَہِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰہٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَہِّرَا بَيْـتِىَ لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِo وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارْزُقْ اَھْلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ …… وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰھٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْمٰعِيْلُ۝۰ۭ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا۝۰ۭ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُoرَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّكَ۝۰۠ وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا۝۰ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُo رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰـتِكَ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُزَكِّيْہِمْ۝۰ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُo (البقرہ 2:129-125)
اور، جب کہ ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے مرکز ومرجع اور امن کی جگہ بنایا اور حکم دیا کہ ابراہیم ؑ کے مقامِ عبادت کو جائے نماز بنا لو، اور ابراہیم ؑ اور اسمٰعیل ؑ کو ہدایت کی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والے اورٹھیرنے والے اور رکوع وسجدہ کرنے والے لوگوں کے لیے پاک صاف رکھو، اور جب کہ ابراہیم ؑنے دُعا کی کہ پروردگار، اس شہر کو پُرامن شہر بنا دے اور یہاں کے باشندوں کو پھلوں کا رزق بہم پہنچا، جو ان میں سے اللہ اور یومِ آخر پر ایمان لانے والا ہو… اور جب ابراہیم ؑ اور اسمٰعیل ؑاس گھر کی بنیادیں اٹھا رہے تھے تو دعا کرتے جاتے تھے کہ پروردگار! ہماری اس کوشش کو قبول فرما، تو سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ پروردگار! اور تو ہم دونوں کو اپنا مسلم (اطاعت گزار) بنا اور ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مسلم ہو، اور ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہم پر عنایت کی نظر رکھ کہ تو بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔ پروردگار! اور تو ان لوگوں میں انھی کی قوم سے ایک ایسا رسول بھیجیوجو انھیں تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دے اور ان کے اخلاق درست کرے۔ یقیناً تو بڑی قوت والا ہے اور بڑا حکیم ہے۔
وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ ہٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَo ط رَبِّ اِنَّہُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ۝۰ۚ فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَاِنَّہٗ مِنِّىْ۝۰ۚ وَمَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌo رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ۝۰ۙ رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِيْٓ اِلَيْہِمْ وَارْزُقْہُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ يَشْكُرُوْنَo (ابراھیم 14: 37-35)
اور، جب کہ ابراہیم ؑنے دعا کی کہ پروردگار! اس شہر کو پرامن شہر بنا اور مجھ کو اور میرے بچوں کو بت پرستی سے بچا۔ پروردگار! ان بتوں نے بہتیرے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سوجو کوئی میرے طریقے کی پیروی کرے تو میرا ہے اور جو میرے طریقے سے پھر جائے تو یقینا تو غفور اور رحیم ہے۔ پروردگار! میں نے اپنی نسل کے ایک حصے کو تیرے اس عزت والے گھر کے پاس اس بے آب و گیاہ وادی میں لا بسایا ہے تاکہ یہ نماز کا نظام قائم کریں۔ پس اے رب! تو لوگوں کے دلوں میں ایسا شوق ڈال کہ وہ ان کی طرف کھنچ کر آئیں اور ان کو پھلوں سے رزق پہنچا۔ امید ہے کہ یہ تیرے شکر گزار بنیں گے۔
حج کا اعلانِ عام
وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰہِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا وَّطَہِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْقَاۗىِٕمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِo وَاَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّعَلٰي كُلِّ ضَامِرٍ يَّاْتِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍo لا لِّيَشْہَدُوْا مَنَافِعَ لَہُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللہِ فِيْٓ اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰي مَا رَزَقَہُمْ مِّنْۢ بَہِيْمَۃِ الْاَنْعَامِ۝۰ۚ فَكُلُوْا مِنْہَا وَاَطْعِمُوا الْبَاۗىِٕسَ الْفَقِيْرَoز
( الحج 22:26-28)
یاد کرو وہ وقت، جب کہ ہم نے ابراہیم ؑ کے لیے اس گھر (خانہ کعبہ) کی جگہ تجویز کی تھی، (اس ہدایت کے ساتھ کہ) میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو، اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمھارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں، تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں ان کے لیے رکھے گئے ہیں، اور چند مقرر دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انھیں بخشے ہیں۔ خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں۔
برادرانِ اسلام! یہ ہے اس حج کی ابتدا کا قصہ جسے اسلام کا پانچواں رکن قرار دیا گیا ہے۔ اس سے آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ دنیامیں سب سے پہلے جس نبی کو اسلام کی عالم گیر دعوت پھیلانے پر مامور کیا گیا تھا، مکہ اس کے مشن کا صدر مقام تھا۔ کعبہ وہ مرکز تھا جہاں سے یہ تبلیغ دنیا کے مختلف گوشوں میں پہنچائی جاتی تھی، اور حج کا طریقہ اس لیے مقرر کیا گیا تھا کہ جو لوگ خدائے واحد کی بندگی کا اقرار کریں اور اس کی اطاعت میں داخل ہوں، خواہ وہ کسی قوم اور کسی ملک سے تعلق رکھتے ہوں، سب کے سب اس ایک مرکز سے وابستہ ہو جائیں اور ہر سال یہاں جمع ہو کر اس مرکز کے گرد طواف کریں۔ گویا ظاہر میں اپنی اس باطنی کیفیت کا نقشہ جما لیں کہ ان کی زندگی اس پہیے کی طرح ہے جو ہمیشہ اپنے دُھرے{ FR 1633 } کے گرد ہی گھومتا ہے۔
٭…٭…٭

شیئر کریں