Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

عرض ناشر
قرآن کی سیاسی تعلیمات
حکومت الٰہیہ
اللہ کی قانونی حاکمیت
رسول کی حیثیت
اسلام کے اصولِ حکمرانی
قانون ِخداوندی کی بالاتری
عدل بین الناس
مساوات بین المسلمین
حکومت کی ذمہ داری وجواب دہی
شُوریٰ
اقتدار کی طلب وحرص  کا ممنوع ہونا
ریاست کا مقصد ِوجود
امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا حق اور فرض
خلافت راشدہ اور اس کی خصوصیات
انتخابی خلافت
شُوروی حکومت
بیت المال کے امانت ہونے کا تصور
حکومت کا تصور
قانوں کی بالاتری
عصبیتوں سے پاک حکومت
روح جمہوریت
خلافت راشدہ سے ملوکیت تک
تغیر کا آغاز
دوسرا مرحلہ
تیسرا مرحلہ
 خلافت اور ملوکیت کا فرق
تقرر خلیفہ کے دستور میں تبدیلی
 خلفاء کے طرز زندگی میں تبدیلی
بیت المال کی حیثیت میں تبدیلی
آزادی اظہار رائے کا خاتمہ
عدلیہ کی آزادی کا خاتمہ
شوروی حکومت کا خاتمہ
نسلی اور قومی عصبیتوں کا ظہور
قانون کی بالاتری کا خاتمہ
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں
مسلمانوں میں مذہبی اختلافات کی ابتدا اور ا س کے اسباب
شیعہ
خوارج
مُرجیہ
معتزلہ
سواد اعظم کی حالت
 امام ابو حنیفہ ؒ کا کارنامہ
مختصر حالات ِ زندگی
اُن کی آراء
عقیدہ اہل ِ سنت کی توضیح
خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم کے بارے میں
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بارے میں
تعریف ایمان
گناہ اورکفر کافرق
 گناہ گار مومن کا انجام
اس عقیدے کے نتائج
قانونِ اسلامی کی تدوین

خلافت و ملوکیت

مولانا نے زیر نظر کتاب میں اسلامی نظام حکومت ، جسے دینی اصطلاح میں خلافت کہاجاتا ہے ، کے اہم گوشوں کو بڑی خوبی کے ساتھ نمایاں کرتے ہوئے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ نظام ملوکیت سے کس طرح اور کس لحاظ سے ممیزوممتاز ہے

پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ کریں

تغیر کا آغاز

اس تغیر کا آغاز  ٹھیک اسی مقام سے ہوا جہاں سے اس کے رونما ہونے کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اندیشہ تھا۔اپنی وفات کے قریب زمانے میں سب سے پہلے بڑھ کر جس بات سے وہ ڈرتے تھے وہ یہ تھی کہ کہیں ان کا جانشین اپنے قبیلے اور اقربا کے معاملے میں اس پالیسی نہ  بدل دے جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے ان کے زمانے تک چلی آرہی تھی ۔رسول اللہ ﷺ نے اپنے پورے عہد حکومت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سوا بنی ہاشم میں سے کسی کو کوئی عہدہ نہ دیا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے خلافت میں اپنے قبیلے اور خاندان کے کسی شخص کو سرے سے کسی منصب پر مامور نہ کیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دس سال کے عہد میں بنی عدی کے صرف ایک شخص کو ایک چھوٹے سے عہدے پر مقرر کیا اور اس سے بھی ان کو بہت جلدی سبکددوش کردیا ۔ یہی وجہ تھی کہ اس زمانے میں قبائلی عصبیتوں کو سر اٹھانے کا کوئی موقع نہ ملا۔حضرت عمررضی اللہ عنہ کو خوف تھا کہ یہ پالیسی اگر بدل دی گئی تو سخت فتنے کی موجب ہوگی ۔ اسی لیے انھوں نے اپنے تینوں متوقع جانشینوں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ  اور حضرت سعد بن ابن وقاص کو الگ الگ بلاکر ان کو وصیت کی تھی کہ اگر میرے بعد تم خلیفہ ہوتو اپنے قبیلے کے  لوگوں کو مسلمانوں کی گردنوں پر مسلط نہ کردینا ۔[1] لیکن ان کے بعد جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جانشین ہوئے تو رفتہ رفتہ اس پالیسی سے ہٹتے چلے گئے ۔انھوں نے پے درپے اپنے رشتہ داروں کو بڑے بڑے اہم عہدے عطاکیے اور ان کے ساتھ دوسری ایسی رعایات کیں جو عام طور پر لوگوں میں ہدف اعتراض بن کر رہیں ۔[2]حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو معزول کرکے انھوں نے کوفے کی گورنری  پر اپنے ماں جائے بھائی ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو مقرر  فرمایا اور اس کے بعد یہ منصب اپنے ایک اور عزیز سعید بن عاص کو دیا ۔ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کو بصرے کی گورنری سے معزول کرکے اپنے ماموں زاد بھائی عبداللہ بن عامر کو ان کی جگہ مامور کیا ۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو مصر کی گورنری سے ہٹا کر اپنے رضاعی بھائی عبداللہ بن سعد بن  ابی سرح کو مقرر کیا ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں صرف دمشق کی ولایت پر تھے [3]۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی گورنری میں دمشق ، حمص ، فلسطین ، اردن اور لبنان کا پورا علاقہ جمع کردیا۔پھر اپنے چچا زاد بھائی مروان بن الحکم کو انھوں نے اپنا سکرٹری بنا لیا جس کی وجہ سے سلطنت کے پورے دروبست پر اس کا اثر ونفوذقائم ہو گیا۔ اس طرح عملا ایک ہی خاندان کے ہاتھ میں سارے اختیارات جمع ہوگئے ۔ ان باتوں کا رد عمل صرف عوام ہی پر نہیں ، اکابر صحابہ تک پر کچھ اچھا اثر نہ تھا اور نہ ہو سکتا تھا ۔ مثال کے طور پر جب ولید بن عقبہ کوفے کی گورنری کا پروانہ لے کر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ کے پاس پہنچا تو انھوں نے فرمایا:”” معلوم نہیں ہمارے بعد تو زیادہ دانا ہوگیا ہےیا ہم تیرے بعد احمق ہوگئے ہیں ۔”” اس نے جواب دیا :”” ابو اسحاق ، برافروختہ نہ ہو ، یہ تو بادشاہی ہے ، صبح  کوئی اس کے مزے لوٹتا ہے تو شام کو کوئی اور ۔”” حضرت سعدرضی اللہ عنہ نے کہا :”” میں سمجھتا ہوں واقعی تم لوگ اسے بادشاہی بناکر چھوڑوگے ۔”” قریب قریب ایسے ہی خیالات حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی ظاہر فرمائے۔[4] اس سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا کہ اپنے خاندان کے جن لوگوں کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حکومت کے مناصب دیے ، انھوں نے اعلی درجے کی انتظامی اور جنگی قابلیتوں کا ثبوت دیا ، اور ان کے ہاتھوں بہت سی فتوحات ہوئیں ۔ لیکن ظاہر ہے کہ قابلیت صرف انھی لوگوں میں نہ تھی ۔ دوسرے لوگ بھی بہترین قابلیتوں  مالک موجودتھے اور ان سے زیادہ خدمات انجام دے چکے تھے ۔ محض قابلیت اس بات کے لیے کافی دلیل نہ تھی کہ خراسان سےلے کرشمالی افریقہ تک کا پورا علاقہ ایک ہی خاندان  کے گورنروں کی ماتحتی میں دے دیا جاتا اور مرکزی سکرٹریٹ پر بھی اسی خاندان کا آدمی مامور کردیاجاتا ۔ یہ بات اول تو بجائے خود قابل اعتراض تھی کہ مملکت کا رئیس اعلٰی جس خاندان کاہو، مملکت کے تمام اہم عہدے بھی اسی خاندان کے لوگوں کو دے دیے جائیں ۔ مگر اس کے علاوہ چند اسباب اور بھی تھے جن کی وجہ سے اس صورتِ حال نے اور زیادہ بے چینی پیدا کردی : اول یہ کہ اس خاندان کے جو لوگ دور عثمانی میں آگے بڑھائے گئے وہ سب طلقاء میں سے تھے ۔””طلقاء "” سے مراد مکہ   کے وہ خاندان ہیں جو آخر وقت تک نبی ﷺ اور دعوت اسلامی کے مخالف رہے ، فتح مکہ کے بعد حضور ﷺ نے ان کو معافی دی اور وہ اسلام میں داخل ہوئے ، حضرت معاویہ رض ، ولید بن عقبہ ، مروان بن الحکم انھی معافی یافتہ خاندانوں کے افراد تھے ، اور عبداللہ بن ابی سرح تو مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہوچکے تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر جن لوگوں کے بارے میں یہ حکم دیا تھا کہ اگر وہ خانہ کعبہ کے پردوں سے بھی لپٹے ہوئے ہوں تو انھیں قتل کردیا جائے ، یہ ان میں سے ایک تھے ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ انھیں لے کر اچانک  حضور ﷺ کے سامنے پہنچ گئے اور آ پﷺ نے محض ان کے پاس خاطر  سے ان کو معاف فرمادیاتھا ۔ فطری طور پر یہ بات کسی کو پسند نہ آسکتی تھی کہ سابقین اولین ، جنھوں نے اسلام سربلند کرنے کے لیے جانیں لڑائی تھیں ، اور جن کی قربانیوں ہی سے دین کو فروغ نصیب ہوا تھا ، پیچھے ہٹا دیے جائیں اور ان کی جگہ یہ لوگ امت کے سرخیل ہوجائیں۔ دوسرے یہ کہ اسلامی تحریک کی سربراہی کے لیے یہ لوگ  موزوں بھی نہ ہوسکتے تھے ، کیونکہ وہ ایمان تو ضرور لے آئے تھے ، مگر نبی ﷺ کی صحبت وتربیت سے ان کو اتنا فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں ملا تھا کہ ان کے ذہن اور سیرت وکردار کی پوری قلب ماہیت ہوجاتی ۔وہ  بہترین منتظم اور اعلٰی درجے کے فاتح ہوسکتے تھے ، اور فی الواقع وہ ایسے ہی ثابت بھی ہوئے ۔لیکن اسلام محض ملک گیری وملک داری کےلیے  تو  نہیں آیا تھا ۔ وہ تو اولا اور بالذات ایک دعوت خیر وصلاح تھا جس کی سربراہی کے لیے انتظامی اور جنگی قابلیتوں سے بڑھ کر ذہنی واخلاقی تربیت کی ضرورت تھی ، اور اس کے اعتبار سے یہ لوگ صحابہ وتابعین کی اگلی صفوں میں نہیں بلکہ پچھلی صفوں  میں آتے تھے ۔ اس معاملے میں مثال کے طور پر مروان بن حکم کی پوزیشن دیکھیے ۔ اس کا باپ حکم بن ابی العاص ، جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا چچا تھا ، فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہواتھا اور مدینہ آکر رہ گیا تھا ، مگر اس کی بعض حرکات کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے اسے مدینے سے نکال دیا تھا اور طائف میں رہنے کا حکم دیا تھا ۔ ابن عبدالبر نے الاستیعاب میں اس کی ایک وجہ یہ بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اکابر صحابہ کے ساتھ راز میں جو مشورے فرماتے تھے ان کی کسی نہ کسی طرح گن سن لے کر وہ انھیں افشاکردیتا تھا ۔ اور دوسری وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی نقلیں اتارا کرتا تھا ، حٰتی  کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے خود اسے یہ حرکت کرتے دیکھ لیاتھا ۔[5]بہرحال  کوئی سخت قصورہی ایسا ہوسکتا تھا کہ جس کی بنا پر نبی ﷺ نے مدینے سے اس کے اخراج کا حکم صادر فرمایا ۔ مروان اس وقت سات یا اٹھ  برس کا تھا اور وہ بھی اس کے ساتھ طائف میں رہا ۔جب ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو ان سے عرض کیا گیا کہ اسے مدینہ آنے کی اجازت دے دیں ، مگر انھوں نے انکار کردیا ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی اسے مدینے آنے کی اجازت نہ دی گئی ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانے میں اس کو واپس بلالیا اور ایک روایت کے مطابق آپ نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کی سفارش کی تھی اور حضور ﷺ نے مجھ سے وعدہ فرمایا لیا تھا کہ اسے واپسی کی اجازت دے دیں گے ۔ اس طرح یہ دونوں باپ بیٹے طائف سے مدینہ آگئے ۔[6]مروان کے اس پس منظر کو نگاہ میں رکھا جائے تو یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ اس کا سکرٹری کے منصب پر مقرر کیا جانا لوگوں کو  کس طرح گوارا نہ  ہو سکتا تھا ۔ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اعتماد پر یہ تو مان سکتے تھے کہ حضورﷺ نے ان کی سفارش قبول کرکے حکم کو واپسی کی اجازت دینے کا وعدہ فرمالیا تھا اس لیے اسے واپس بلالینا قابل اعتراض نہیں ہے ۔ لیکن یہ مان لینا لوگوں کے لیے سخت مشکل تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے اسی معتوب شخص کا بیٹا اس بات کا بھی اہل ہے کہ تمام اکابر صحابہ کو چھوڑ کر اسے خلیفہ کا سکرٹری بنادیا جائے ، خصوصا جب کہ اس کا وہ معتوب باپ زندہ موجود تھا اور اپنے بیٹے کے ذریعےسے حکومت کے کاموں پر اثر انداز ہوسکتا تھا ۔[7] تیسرے یہ کہ ان میں سے بعض کا کردار ایسا تھاکہ اس دور کے پاکیزہ ترین اسلامی معاشرے میں ان جیسے لوگوں کو بلند مناصب پر مقرر کرنا کوئی اچھا اثر پیدا نہ کرسکتا تھا ۔ مثال کے طور پر ولید بن عقبہ کے معاملے کو لیجئے۔ یہ صاحب بھی فتح مکہ کے بعد اسلام لانے والوں میں سے تھے ۔رسول اللہ ﷺ نے ان کو بنی المصطلق کے صدقات وصول کرنے کے لیے مامور فرمایا ۔ مگر یہ اس قبیلے کے علاقے میں پہنچ کر کسی وجہ سے ڈر گئے اور ان لوگوں سے ملے بغیر مدینے واپس جاکر انھوں  نے یہ رپورٹ دے دی کہ بنی المصطلق نے زکٰوۃ دینے سے انکار کردیا ہے اور مجھے مار ڈالنے پر تل گئے ۔ رسول اللہ ﷺ اس پر غضب ناک ہوئے اور آپ ﷺ نے ان کے خلاف ایک فوجی مہم روانہ کردی ۔قریب تھا کہ ایک سخت حادثہ پیش آجاتا ، لیکن بنی المصطلق کے سرداروں کو بروقت علم ہوگیا اور انھوں نے مدینے حاضر ہوکر عرض کیا کہ یہ صاحب توہمارے پاس آئے ہی نہیں ، ہم تو منتظر ہی رہے کہ کوئی آکر ہم سے زکٰوۃ وصول کرے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ﴿الحجرات:٦﴾[8] اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔ اس کے چند سال بعد حضرت ابوبکر وعمر  رضی اللہ عنہما نے ان کو پھر خدمت کا موقع دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آخری زمانے میں وہ الجزیرہ کے عرب علاقے پر جہاں بنی تغلب رہتے تھے ، عامل مقرر کیے گیے ۔[9]پچیس ہجری میں اس چھوٹے سے منصب سے اٹھا کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی جگہ کوفے جیسے بڑے اور اہم صوبے کا گورنر بنادیا ۔ وہاں یہ راز فاش ہوا کہ یہ شراب نوشی کے عادی ہیں ، حتی کہ ایک روز انھوں نے صبح کی نماز چار رکعت پڑھادی اورپھر پلٹ کر لوگوں سے  پوچھا : "” او ر پڑھاوں ؟”” [10] آخر کار حضرت مسور بن مخزمہ اور عبدالرحمن بن اسود نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بھانجے عبیداللہ بن عدی بن خیار سے کہا کہ تم جاکر اپنے ماموں صاحب سے بات کرو اور انھیں بتاؤ کہ ان کے بھائی ولید بن عقبہ کے معاملے میں لوگ ان کے طرز عمل پر بہت اعتراض کررہے ہیں ۔ انھوں نے جب اس معاملے کی طرف توجہ دلائی اور عرض کیا کہ ولید پر حد جاری کرنا آپ کے لیے ضروری ہے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وعدہ فرمایا کہ ہم اس معاملے میں انشا ءاللہ حق کے مطابق فیصلہ کریں گے ۔ چنانچہ صحابہ کے مجمع عام میں ولید پر مقدمہ قائم کیا گیا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عمران نے گواہی دی کہ ولید نے شراب پی تھی ۔ ایک دوسرے گواہ صعب بن جثامہ (یا جثامہ بن صعب ) نے شہادت دی کہ ولید نے ان کے سامنے شراب کی قے کی تھی ۔ ( ان کے علاوہ چار اور گواہ ابو زینب ، ابو مورع ، جندب بن زہیر الازدی ، اور سعد بن مالک الاشعری بھی ابن حجر کے بیان کے مطابق پیش ہوئے تھے اور انھوں  نے بھی جرم کی تصدیق کی تھی ۔ تب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ولید پر حد قائم کریں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن جعفر کو اس کام پر مامور کیا اور انھوں نے ولید کو چالیس کوڑے لگائے ) ۔[11] یہ تھے وہ وجوہ جن کی بنا پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی یہ پالیسی لوگوں کے لیے اور بھی زیادہ بے اطمینانی کی موجب بن گئی تھی ۔ خلیفہ وقت کا اپنے خاندان کے آدمیوں کو پنے درپے مملکت کے اہم ترین مناصب پر مامور کرنا بجائے خود کافی وجہ اعتراض تھا ۔ اس پر جب لوگ یہ دیکھتے تھے کہ آگے لائے بھی جارہے ہیں تو اس طرح کے اشخاص ، تو فطری طورپر ان کی بے چینی میں اور اضافہ ہوجاتا تھا ۔ اس سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ   دو چیزیں ایسی تھیں جو بڑے دوررس اور خطرناک نتائج کی حامل ثابت ہوئیں : ایک یہ کہ حضرت عثمان رضی اللہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو مسلسل بڑی طویل مدت تک ایک ہی صوبے کی گورنری پر مامور کیے رکھا ۔ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں چار سال سے دمشق کی ولایت پر مامور چلے آرہے تھے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اَیلہ سے سرحد روم تک او رالجزیرہ سے ساحل بحر ابیض تک  کا پورا علاقہ ان کی ولایت میں جمع کرکے اپنے پورے زمانہ خلافت ( بارہ سال ) میں ان کو اسی صوبے پر برقرار رکھا [12]۔یہی چیز ہے جس کا جمیازہ آخر کار حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھگتنا پڑا ۔ شام کا یہ صوبہ اس وقت کی اسلامی سلطنت میں بڑی اہم جنگی حیثیت کا علاقہ تھا ۔ اس کے ایک طرف   تمام مشرقی  صوبے تھے ، اور دوسری طرف تمام مغربی صوبے ۔بیج میں وہ اس طرح حائل تھا کہ اگر اس کا گورنر مرکز سے منحرف ہوجائے تو وہ مشرقی صوبوں کو مغربی صوبوں سے بالکل کاٹ سکتا  تھا ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس صوبے کی حکومت پر اتنی طویل مدت تک رکھے گئے کہ انھوں نے یہاں اپنی جڑیں پوری طرح جمالیں، اور وہ مرکز کے قابو میں نہ رہے بلکہ مرکز ان کے رحم وکرم پر منحصر ہوگیا ۔ دوسری چیز جو اس سے زیادہ فتنہ انگیز ثابت ہوئی وہ خلیفہ کے سکرٹری کی اہم پوزیشن  پر مروان بن الحکم کی ماموری تھی ۔ ان صاحب نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی نرم مزاجی اور ان کے اعتماد سے فائدہ اٹھا کر بہت کام ایسے کیے جن کی ذمہ داری لا محالہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر پڑتی تھی ، حالانکہ ان کی اجازت اور علم کے بغیر ہی وہ کام کر ڈالے جاتے تھے ۔ علاوہ ازیں یہ صاحب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور اکابر صحابہ کے باہمی خوش گوار  تعلقات  کو خراب کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہے تاکہ خلیفہ برحق اپنے پرانے رفیقوں کے بجائے ان کو اپنا زیادہ خیرخواہ اور حامی سمجھنے لگیں [13]۔یہی نہیں بلکہ متعدد مرتبہ انھوں نے صحابہ کے مجمع میں  ایسی تہدید آمیز تقریریں کیں جنھیں طلقاء کی زبان سے سننا سابقین اولین کے لیے بمشکل ہی قابل برداشت ہوسکتا تھا ۔ اسی بنا پر دوسرے لوگ تو درکنار ،خود حضر ت عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ محترمہ نائلہ بھی یہ رائے رکھتی تھیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی بہت بڑی ذمہ داری مروان پر عائد ہوتی ہے ۔ حتی کہ ایک مرتبہ انھوں نے اپنے شوہر محترم سے صاف صاف کہا کہ "” اگر آپ مروان کے کہے پر چلیں گے تو یہ آپ کو قتل کرا کے چھوڑیں گا ، اس شخص کے اندر نہ اللہ کی قدر ہے ، نہ ہیبت اور نہ محبت ۔””[14]

شیئر کریں