Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

باب اوّل: ہمارے نظامِ تعلیم کا بنیادی نقص
باب دوم: مسلمانوں کے لیے جدید تعلیمی پالیسی اور لائحۂ عمل
باب سوم: خطبہ تقسیم اَسناد
باب چہارم: نیا نظامِ تعلیم
باب پنجم : رودادِ مجلسِ تعلیمی
باب ششم: اسلامی نظامِ تعلیم اور پاکستان میں اس کے نفاذ کی عملی تدابیر
باب ہفتم: ایک اسلامی یونی ورسٹی کا نقشہ
باب ہشتم: اسلامی نظام تعلیم
باب نہم: عالمِ اسلام کی تعمیر میں مسلمان طلبہ کا کردار

تعلیمات

1935ءمیں یہ سوال بڑے زور شور سے اٹھایا گیا کہ آخر مسلمانوں کی قومی درس گاہوں سے ملاحدہ اور الحاد ودہریت کے مبلغین کیوں اس کثرت سے پیدا ہو رہے ہیں۔ علی گڑھ یونی ورسٹی کے بارے میں خصوصیت کے ساتھ شکایت تھی کہ اس سے فارغ اتحصیل 90 فی صد طلبہ الحادود ہر یت میں مبتلا ہیں۔ جب یہ چرچا عام ہونے لگا اور ملک بھر میں اس کے خلاف مضامین لکھے جانے لگے تو علی گڑھ یونی ورسٹی کی طرف سے اس شکایت کا جائزہ لینے اور اصلاح حال کی تدبیر پرغوروخوض کرنے کی غرض سے ایک کمیٹی بنائی گئی جس نے کافی بحث وتمحیص اور غور وخوض کے بعد یہ رائے قائم کی کہ اسی نصاب تعلیم میں دینیات کے عنصر کو پہلے کی نسبت کچھ زیادہ کر دینے سے طلبا کے اندر بڑھتے ہوئے الحادود ہریت کے سیلاب کے آگے بند باندھا جاسکتا ہے۔ مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ نے اگست 1939ءکے ترجمان القرآن میں اصلاح حال کی اس تدبیر کاتفصیلی جائزہ لے کر اس وقت کے مروجہ نظام تعلیم کے اصلی اور بنیادی نقص کی نشان دہی کی اور اس نقص کو دور کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ آج برسہا برس گزرنے کے باوجود یہ سارے مسائل جوں کے توں ہمارے سامنے منھ پھاڑے کھڑے ہیں، یہ کتاب برسوں گزرنے کے بعد بھی آج کی تصنیف لگتی ہے۔ اس کتاب میں شامل تمام حقائق اور مسئلوں کے جو حل بتائے ہیں ، وہ آج بھی قابل عمل ہے۔ بس ایک فرق یہ ہے کہ اس وقت اس الحاد کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی بنی تھی لیکن آج مملکت خداداد پاکستان کے حکمرانوں کو الحاد کا نہ یہ طوفان نظر آتا ہے اور نہ وہ اسے حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں، ہاں اگر آج بھی کوئی اس بند کو روکنا چاہتا ہے تو یہ کتاب یقینا اس کے لیے ایک اہم دستاویز ثابت ہوگی۔

باب ششم: اسلامی نظامِ تعلیم اور پاکستان میں اس کے نفاذ کی عملی تدابیر

(یہ وہ تقریر ہے جو مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ صاحب نے طلبہ کے ایک اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے ۲۵۔ فروری ۱۹۵۲ء کو برکت علی محمڈن ہال لاہور میں کی تھی)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم، وَعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنo
جناب صدر اور حاضرین و حضرات!
جس مسئلے پر مجھے آپ کے سامنے اظہار خیال کرنا ہے وہ یہ ہے کہ:
’’اسلامی نظامِ تعلیم کو اس ملک میں رائج کرنے کی عملی صورت کیا ہے۔‘‘ میں نے اپنی تقریر کے لیے یہ موضوع اختیار نہیں کیا کہ اس ملک میں کون سا نظامِ تعلیم جاری ہو، اس لیے کہ یہ مملکت اسلام ہی کے نام پر بنائی گئی ہے۔ اس کے قیام کا مطالبہ ہی اسلام پر مبنی تھا۔ اس کے متعلق اوّل روز سے کہا جاتا رہا ہے کہ ہم ایک الگ خطہ زمین اس لیے چاہتے ہیں کہ اس میں اسلامی تہذیب اور اسلامی نظامِ زندگی کو از سر نو زندہ اور قائم کیا جائے اور تقدیر الٰہی بھی یہی معلوم ہوتی ہے کہ اسے لازماً اسلام کی نشأۃِ ثانیہ کا مرکز بننا ہے۔ اس لیے اب یہاں یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ کِس قسم کا نظامِ تعلیم اس ملک میں رائج ہو۔ بلکہ یہ امر طے شدہ سمجھنا چاہیے کہ یہاں اسلامی نظامِ تعلیم ہی کو رائج ہونا ہے۔ البتہ اگر کوئی چیز زیر غور ہونی چاہیے، اور ہو سکتی ہے تو وہ یہ ہے کہ یہاں کے نظامِ تعلیم کو اسلام کے سانچوں میں ڈھالنے کے لیے کیا صورت اختیار کرنی چاہیے۔
تاہم یہ بات مجھے بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ اس مملکت کے قیام کے چار ساڑھے چار سال بعد آج تک ہمارے ہاں یہی مسئلہ زیر بحث ہے کہ تعلیم کو کس طرح اسلامی سانچوں میں ڈھالا جائے۔ یہ کام تو مملکت کے قیام کے بعد سب سے پہلے کرنے کا تھا۔ ظاہر بات ہے کہ دنیا میں کوئی مملکت بھی اس وقت تک نہیں چل سکتی جب تک وہ اپنے چلانے والوں کو تربیت دینے کا اور انھیں اپنے مقصد اور اپنے مدعا کے مطابق تیار کرنے کا انتظام نہ کرے۔ اس لحاظ سے حقیقت میں تعلیم کا مسئلہ ایک مملکت کے لیے بنیادی مسائل میں سے ہے اور یہ ایسی چیز ہے کہ ملک کے قیام کے بعد اس کے سربراہ کاروں کو سب سے پہلے اس کی فکر ہونی چاہیے تھی۔ لیکن ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ چار ساڑھے چار سال بعد بھی کوئی آثار ہمیں ایسے نظر نہیں آتے کہ کسی نے نظامِ تعلیم کو اسلامی سانچوں میں ڈھالنے کے متعلق کچھ بھی سوچا ہو۔ عملی اقدامات تو درکنار ہمیں سوچنے کے آثار بھی نظر نہیں آتے۔
بہرحال اب جب کہ یہ صورت حال ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ کچھ لوگ آگے بڑھیں اور بڑھ کر انھیں بتائیں کہ ہمارا موجودہ نظامِ تعلیم کس حد تک، کس طرح اور کس کس حیثیت سے ہمارے اس مقصد کی ضد پڑ رہا ہے جس کے لیے ہماری یہ مملکت قائم ہوئی ہے اور اس کے ساتھ انھیں یہ بھی بتائیں کہ اگر نظامِ تعلیم کو اس مقصد کے مطابق ڈھالنا ہے تو کس طرح ڈھالا جائے۔ اس کی عملی صورت کیا ہے اور اس کا نقشہ کیا ہونا چاہیے۔ اسی خدمت کو انجام دینے کے لیے میں آپ کے سامنے حاضر ہوا ہوں اور دوسرے جو لوگ بھی اس طرح کی فکر رکھنے والے ہیں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ بھی اس فرض کو انجام دیں۔
اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہم ان نقائص کو اچھی طرح سمجھ سکیں جو ہمارے نظامِ تعلیم میں اس وقت پائے جاتے ہیں جب تک ہم یہ بات نہ جان لیں کہ جو چیز اس وقت موجود ہے اس میں کیا خرابی ہے۔ ہم یہ نہیں جان سکتے کہ اس میں اصلاح کس طرح اور کس شکل میں ہونی چاہیے۔ ہمارے ملک میں اس وقت دو طرح کے نظام رائج ہیں۔ ایک نظامِ تعلیم ہمارے پرانے طرز کے مدارس میں رائج ہے جو ہماری مذہبی ضروریات پورا کرنے کے لیے علما تیار کرتا ہے اور دوسرا نظامِ تعلیم وہ ہے جو ہمارے کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں رائج ہے اور وہ مذہبی دائرے سے باہر ہمارے پورے نظامِ زندگی کو چلانے کے لیے کارکن تیار کرتا ہے۔ میں ان دونوں کے نقائص آپ کے سامنے وضاحت سے بیان کروں گا۔
قدیم نظامِ تعلیم
جہاں تک ہمارے پرانے نظامِ تعلیم کا تعلق ہے وہ آج سے صدیوں پہلے کی بنیادوں پر قائم ہے، جس وقت یہاں انگریزی حکومت آئی اور وہ سیاسی انقلاب برپا ہوا جس کی بدولت ہم غلام ہوئے۔ اس وقت جو نظامِ تعلیم ہمارے ملک میں رائج تھا وہ ہماری اس وقت کی ضروریات کے لیے کافی تھا۔ اس نظامِ تعلیم میں وہ ساری چیزیں پڑھائی جاتی تھیں جو اس وقت کے نظامِ مملکت کو چلانے کے لیے درکار تھیں۔ اس میں صرف مذہبی تعلیم ہی نہیں تھی بلکہ اس میں فلسفہ بھی تھا، اس میں منطق بھی تھی، اس میں ریاضی بھی تھی۔ اس میں ادب بھی تھا اور دوسری چیزیں بھی تھیں۔ اس زمانے کی سول سروس کے لیے جس طرح کے علوم درکار تھے، وہ سب طلبہ کو پڑھائے جاتے تھے۔ لیکن جب وہ سیاسی انقلاب برپا ہوا جس کی بدولت ہم غلام ہوئے تو اس پورے نظامِ تعلیم کی افادیت ختم ہو گئی۔ اس نظامِ تعلیم سے نکلے ہوئے لوگوں کے لیے نئے دورکی مملکت میں کوئی جگہ نہ رہی۔ جس قسم کے علوم اس دوسری مملکت کو درکار تھے وہ اس کے اندر شامل نہیں تھے اور جو علوم اس میں شامل تھے ان کے جاننے والوں کی اس دوسری مملکت کو کوئی ضرورت نہیں تھی۔ تاہم چوں کہ اس کے اندر ہماری صدیوں کی قومی میراث موجود تھی اور ہماری مذہبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی اس کے اندر کچھ نہ کچھ سامان موجود تھا (اگرچہ کافی نہ تھا) اس لیے اس زمانے میں ہماری قوم کے اچھے خاصے بڑے عنصر نے یہ محسوس کیا کہ اس نظام کو جس طرح بھی ہو سکے قائم رکھا جائے تاکہ ہم اپنی آبائی میراث سے بالکل منقطع نہ ہو جائیں۔
اسی غرض کے لیے انھوں نے اسے جوں کا توں قائم رکھا لیکن جتنے جتنے حالات بدلتے گئے اتنی ہی زیادہ اس کی افادیّت گھٹتی چلی گئی کیوں کہ اس نظامِ تعلیم کے تحت جو لوگ تعلیم پا کر نکلے انھیں وقت کی زندگی اور اس کے مسائل سے کوئی مناسبت ہی نہ رہی۔ اب جو لوگ اس نظامِ تعلیم کے تحت پڑھ رہے ہیں اور اس سے تربیت پا کر نکل رہے ہیں ان کا کوئی مصرف اس کے سوا نہیں ہے کہ وہ ہماری مسجدوں کو سنبھال کر بیٹھ جائیں یا کچھ مدرسے کھول لیں اور طرح طرح کے مذہبی جھگڑے چھیڑتے رہیں تاکہ ان جھگڑوں کی وجہ سے قوم کو ان کی ضرورت محسوس ہو۔ اس طرح ان کی ذات سے اگر کچھ نہ کچھ فائدہ بھی ہمیں پہنچتا ہے، یعنی ان کی بدولت ہمارے اندر قرآن ودین کا کچھ نہ کچھ علم پھیلتا ہے، دین کے متعلق کچھ نہ کچھ واقفیت لوگوں کو حاصل ہو جاتی ہے اور ہماری مذہبی زندگی میں کچھ نہ کچھ حرارت باقی رہ جاتی ہے لیکن اس کے فائدے کے مقابلے میں جو نقصان ہمیں پہنچ رہا ہے، وہ بہت زیادہ ہے۔ وہ نہ تو اسلام کی صحیح نمایندگی کر سکتے ہیں، نہ موجودہ زندگی کے مسائل پراسلام کے اصولوں کو منطبق کر سکتے ہیں، نہ ان کے اندر اب یہ صلاحیت ہے کہ دینی اصولوں پر قوم کی راہ نمائی کر سکیں اور نہ وہ ہمارے اجتماعی مسائل میں سے کسی مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اب ان کی بدولت دین کی عزت میں اضافہ ہونے کی بجائے الٹی اس میں کچھ کمی ہو رہی ہے، دین کی جیسی نمائندگی آج ان کے ذریعہ سے ہو رہی ہے، اس کی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں میں دین سے روز بروز بُعد بڑھتا جا رہا ہے اور دین کے وقار میں کمی آ رہی ہے۔ پھر ان کی بدولت ہمارے ہاں مذہبی جھگڑوں کا ایک سلسلہ ہے جو کسی طرح ٹوٹنے میں نہیں آتا، کیوں کہ ان کی ضروریات زندگی انھیں مجبور کرتی ہیں کہ وہ ان جھگڑوں کو تازہ رکھیں اور بڑھاتے رہیں۔ یہ جھگڑے نہ ہوں تو قوم کو سرے سے ان کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔
یہ ہے ہمارے پرانے نظام تعلیم کی پوزیشن اور یہ بھی وضاحت کے ساتھ کہہ دوں کہ حقیقت میں وہ دینی تعلیم بہت کم ہے۔ دراصل وہ اب سے دو ڈھائی سو برس پہلے کی سول سروس کی تعلیم ہے جس میں زیادہ تر اس وجہ سے دینی تعلیم کا جوڑ لگایا گیا تھا کہ اس زمانے میں اسلامی فقہ ہی ملک کا قانون تھی اور اسے نافذ کرنے والے کے لیے فقہ اور اس کی بنیادوں کا جاننا ضروری تھا۔ آج ہم غنیمت سمجھ کر اسی کو اپنی دینی تعلیم سمجھتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں اس کے اندر دینی تعلیم کا عنصر بہت کم ہے، کوئی عربی مدرسہ ایسا نہیں ہے جس کے نصابِ تعلیم میں پورا قرآن مجید داخل ہو۔ صرف ایک یا دو سورتیں (سورہ بقرہ یا سورہ آل عمران) باقاعدہ درسًا درسًا پڑھائی جاتی ہیں۔ باقی سارا قرآن اگر کہیں شاملِ درس ہے بھی تو صرف اس کا ترجمہ پڑھا دیا جاتا ہے۔ تحقیقی مطالعہ قرآن کسی مدرسے کے نصاب میں بھی شامل نہیں۔ یہی صورت حال حدیث کی ہے۔ اس کی باقاعدہ تعلیم جیسی کہ ہونی چاہیے، جیسی کہ محدّث بننے کے لیے درکار ہے، کہیں نہیں دی جاتی۔ درسِ حدیث کا جو طریقہ ہمارے ہاں رائج ہے وہ یہ ہے کہ جب فقہی اور اعتقادی جھگڑوں سے متعلق کوئی حدیث آ جاتی ہے تو اس پردو دو تین تین دن صرف کر دیے جاتے ہیں۔ باقی رہیں وہ حدیثیں جو دین کی حقیقت کو سمجھاتی ہیں، یا جن میں اسلام کا معاشی، سیاسی، تمدنی اور اخلاقی نظام بیان کیا گیا ہے، جن میں دستورِ مملکت یا نظامِ عدالت یا بین الاقوامی امور پر روشنی پڑتی ہے۔ ان پر سے استاد اور شاگرد دونوں اس طرح رواں دواں گزر جاتے ہیں کہ گویا ان میں کوئی بات قابل توجہ ہے ہی نہیں۔ حدیث اور قرآن کی بہ نسبت ان کی توجہ فقہ کی طرف زیادہ ہے، …… لیکن اس میں زیادہ تر، بلکہ تمام تر جزئیات فقہ کی تفصیلات ہی توجہات کا مرکز رہتی ہیں۔ فقہ کی تاریخ، اس کے تدریجی ارتقا، اس کے مختلف اسکولوں کی امتیازی خصوصیات، ان کے اسکولوں کے متفق علیہ اور مختلف فیہ اصول اور ائمہ مجتہدین کے طریقِ استنباط، جن کے جانے بغیر کوئی شخص حقیقت میں فقیہ نہیں بن سکتا، ان کے درس میں سرے سے شامل ہی نہیں ہیں۔ بلکہ ان چیزوں پر شاگرد تو درکنار استاد بھی نگاہ نہیں رکھتے۔
اس طرح یہ نظامِ تعلیم ہماری ان مذہبی ضروریات کے لیے بھی سخت ناکافی ہے۔ جن کی خاطر اسے باقی رکھا گیا تھا۔ رہیں دنیوی ضروریات تو ان سے تو اسے سرے سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔
جدید نظامِ تعلیم
اس کے بعد اس نظام تعلیم کو لیجیے جو انگریزوں نے یہاں قائم کیا۔ دنیا میں جو بھی نظامِ تعلیم قائم کیا جائے اس میں اولین بنیادی سوال یہ ہوتا ہے کہ آپ کس قسم کے آدمی تیار کرنا چاہتے ہیں اور آدمیت کا وہ کیا نقشہ آپ کے سامنے ہے جس کے مطابق آپ لوگوں کو تعلیم وتربیت دے کر ڈھالنا چاہتے ہیں؟ اس بنیادی سوال کے لحاظ سے آپ دیکھیں تو یقینا انگریز کے سامنے انسانیت کا وہ نقشہ ہرگز نہیں تھا جو مسلمانوں کے سامنے ہونا چاہیے۔ انگریز نے یہ نظامِ تعلیم یہاں اس لیے قائم نہیں کیا تھا کہ مسلمانوں کی تہذیب کو زندہ رکھنے اور ترقی دینے کے لیے کارکن تیار کرے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ چیز اس کے پیش نظر نہیں ہو سکتی تھی۔ پھر اس کے پیش نظر انسانیت کا وہ نقشہ بھی نہیں تھا جو خود اپنے ملک انگلستان میں اس کے پیش نظر تھا۔ وہ اس مقصد کے لیے یہاں آدمی تیار کرنا نہیں چاہتا تھا جس کے لیے وہ اپنے ملک میں اپنی قوم کے لیے تیار کرتا تھا۔ وہ یہاں ایسے لوگ تیار کرنا نہیں چاہتا تھا جو ایک آزاد قومی حکومت کو چلانے کے لیے موزوں ہوں۔ یہ چیز تو اسے اپنے ملک میں مطلوب تھی نہ کہ ہمارے ملک میں۔ یہاں جس قسم کے آدمی تیار کرنا اس کے پیشِ نظر تھا ان کے اندر اولین صلاحیت وہ یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ باہر سے آ کر حکومت کرنے والی ایک قوم کے بہتر سے بہترآلہ کار بن سکیں۔ اسے یہاں ایسے آدمی درکار تھے جو اس کی زبان سمجھتے ہوں، جن سے وہ ربط اور تعلق رکھ سکے اور کام لے سکے، جو اس کے ان اصولوں کو جانتے اور سمجھتے ہوں جن پر وہ ملک کا نظام چلانا چاہتا تھا، اور جن میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ اس کے آلہ کار بن سکیں۔ یہ مقصد اس کے سامنے تھا اور اسی مقصد کے لیے اس نے یہ نظام رائج کیا۔
بے خدا تعلیم
اس نظامِ تعلیم میں اس نے جتنے علوم پڑھائے، ان میں اسلام کا کوئی شائبہ نہ تھا اور نہ ہو سکتا تھا۔ خود یورپ میں ان سارے علوم کا جو ارتقا ہوا تھا وہ تمام تر خدا سے پھرے ہوئے لوگوں کی راہ نمائی میں ہوا تھا۔ جو مذہبی طبقہ وہاں موجود تھا، وہ پہلے ہی فکر وعمل کے میدان سے بے دخل کیا جا چکا تھا۔ اس لیے تمام علوم کا ارتقا خواہ وہ سائنس میں ہو یا فلسفہ، تاریخ ہو یا عمرانیات، ایسے لوگوں کے ہاتھوں ہوا جو اگر خدا کے منکر نہ تھے تو کم از کم اپنی دنیوی زندگی میں خدا کی راہ نمائی کی کوئی ضرورت بھی محسوس نہ کرتے تھے۔ انگریز نے اپنے انھی علوم کو لا کر، انھی کتابوں کے ساتھ اس ملک میں رائج کیا، اور آج تک انھی علوم کو اسی طرز پر یہاں پڑھایا جا رہا ہے۔ اس نظامِ تعلیم کے تحت جو لوگ پڑھتے رہے ان کا ذہن قدرتی طور پر بغیر اپنے کسی تصور اور اپنے کسی ارادے کے آپ سے آپ اس طرح بنتا چلا گیا کہ وہ دین سے، دینی نقطۂ نظر سے اور دینی طرزِ فکر سے روز بروز بعید تر ہوتے چلے گئے۔ ظاہرہے کہ جو شخص اپنی تعلیم کے نقطۂ آغاز سے لے کر اپنی انتہائی تعلیم تک دنیا کے متعلق جتنی معلومات بھی حاصل کرے وہ ساری کی ساری خدا پرستی کے نقطۂ نظر سے خالی ہوں، اس کے ذہن میں آخر خدا کا اعتقاد کیسے جڑ پکڑ سکتا ہے۔ اس کی درسی کتابوں میں خدا کا کہیں ذکر ہی نہ ہو، وہ تاریخ پڑھے تو اس میں پوری انسانی زندگی اپنی قسمت آپ ہی بناتی اور بگاڑتی نظر آئے، وہ فلسفہ پڑھے تو اس میں کائنات کی گتھی خالقِ کائنات کے بغیر ہی سلجھانے کی کوشش ہو رہی ہو۔ وہ سائنس پڑھے تو اس میں سارا کارخانۂ ہستی کسی صانع حکیم اور ناظم ومدبر کے بغیر چلتا ہوا دیکھا جائے۔ وہ قانون، سیاست، معیشت اور دوسرے علوم پڑھے تو ان میں سرے سے یہ امر زیرِ بحث ہی نہ ہو کہ انسانوں کا خالق ان کے لیے زندگی کے کیا اصول اور احکام دیتا ہے، بلکہ ان سب کا بنیادی نظریہ ہی یہ ہو کہ انسان آپ ہی اپنی زندگی کے اصول بنانے کا حق رکھتا ہے، ایسی تعلیم پانے والے سے کبھی یہ کہنے کی ضرورت پیش نہیں آتی کہ تو خدا کا انکار کر۔ وہ آپ سے آپ خدا سے بے نیاز اور خدا سے بے فکر ہوتا چلا جائے گا۔
اَخلاق سے خالی تعلیم
یہ تعلیم خدا پرستی اور اسلامی اخلاق سے تو خیر خالی ہے ہی، مگر غضب یہ ہے کہ ہمارے ملک کے نوجوانوں میں وہ بنیادی انسانی اخلاقیات تک پیدا نہیں کرتی جن کے بغیر کسی قوم کا دنیا میں ترقی کرنا تو درکنار، زندہ رہنا بھی مشکل ہے۔ اس کے زیر اثر پرورش پا کر جو نسلیں اٹھ رہی ہیں وہ مغربی قوموں کے عیوب سے تو ماشاء اللّٰہ پوری طرح آراستہ ہیں۔ مگر ان کی خوبیوں کی چھینٹ تک ان پر نہیں پڑی ہے۔ ان میں نہ فرض شناسی ہے، نہ مستعدی وجفاکشی، نہ ضبط اوقات، نہ صبروثبات، نہ عزم واستقلال، نہ باقاعدگی وباضابطگی، نہ ضبطِ نفس، نہ اپنی ذات سے بالا کسی چیز کی وفاداری، وہ بالکل خود رو درختوں کی طرح ہیں جنھیں دیکھ کر یہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ ان کا کوئی قومی کریکٹر بھی ہے، انھیں معزز سے معزز پوزیشن میں ہو کر بھی کسی ذلیل سے ذلیل بددیانتی اور بدکرداری کے ارتکاب میں دریغ نہیں ہوتا۔ ان میں بدترین قسم کے رشوت خور، خویش پرور، سفارشیں کرنے اور سننے والے، بلیک مارکیٹنگ کرنے اورکرانے والے، ناجائز درآمدوبرآمد کرنے اور کرانے والے، انصاف اور قانون اور ضابطے کا خون کرنے والے، فرائض سے جی چرانے اور لوگوں کے حقوق پر چُھری چلانے والے، اور اپنے ذرا سے مفاد پر اپنی پوری قوم کے مفاد اور فلاح کو قربان کر دینے والے، ایک دو نہیں وہ ہزاروں کی تعداد میں، ہر شعبۂ زندگی میں، ہر جگہ آپ کو کام کرتے نظر آتے ہیں۔ انگریز کے ہٹ جانے کے بعد مملکت کو چلانے کی ذمہ داری کا بار اسی تعلیم کے تیار کیے ہوئے لوگوں نے سنبھالا ہے اور چند سال کے اندر ان بے سیرت کارکنوں کے ہاتھوں ملک کا جو حال ہوا ہے وہ ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ اور جونسل اب اس نظامِ تعلیم کی درس گاہوں میں زیر تربیت ہے اس کے اخلاق وکردار کا حال آپ چاہیں تو درس گاہوں میں، ہوسٹلوں میں، تفریح گاہوں میں اور قومی تقریبات کے موقع پر بازاروں میں دیکھ سکتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اس تعلیم میں خدا پرستی اور اسلامی اخلاق نہ سہی، آخر وہ اخلاق کیوں نہیں پیدا ہوتے جو انگریزوں میں، جرمنوں میں، امریکیوں میں اور دوسری ترقی یافتہ مغربی قوموں میں پیدا ہوتے ہیں؟ ان کے اندر کم از کم بنیادی انسانی اخلاقیات تو بدرجہ کمال پائے جاتے ہیں یہاں وہ بھی مفقود ہیں۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
میرے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ بنیادی انسانی اخلاقیات پیدا کرنے کی فکر وہ نظامِ تعلیم کرتا ہے جو ایک آزاد قوم اپنے نظامِ زندگی کو چلانے کے لیے بناتی ہے۔ اسے لامحالہ اپنے تمدن کی بقا اور ارتقا کی خاطر ایسے کارکن تیار کرنے کی فکر ہوتی ہے جو مضبوط اور قابلِ اعتماد سیرت کے مالک ہوں۔ انگریز کوایسے کارکنوں کی ضرورت اپنے ملک میں تھی نہ کہ ہمارے ملک میں۔ اس ملک میں تو انگلستان کے برعکس اسے وہ اخلاق پیدا کرنا مطلوب تھے جو بھاڑے کے ٹٹوئوں (mercenaries)کے ہونے چاہییں کہ اپنے ہاتھوں اپنے ہی ملک کو فتح کرکے اپنی قوم کے دشمنوں کے حوالے کر دیں اور پھر اپنے ملک کا نظم ونسق اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے چلاتے رہیں۔ اس کام کے لیے جیسے اخلاقیات کی ضرورت تھی ویسے ہی اخلاقیات انگریزوں نے یہاں پیدا کرنے کی کوشش کی اور انھی کو پیدا کرنے کے لیے وہ تعلیمی مشینری بنائی جو آج تک جوں کی توں اسی شان سے چل رہی ہے۔ اس مشین سے ایک آزاد ملک کے لیے قابل اعتماد پرزے ڈھلنے کی اگر کوئی شخص توقع رکھتا ہے تو اسے پہلے اپنی عقل کے ناخن لینے کی فکر کرنی چاہیے۔
جدید تعلیم کے ساتھ دینیات کا جوڑ
انگریزی حکومت کے قیام کے بعد جب یہ نظام تعلیم ملک میں رائج ہوا اور ترقی وخوش حالی کے تمام دروازے ان لوگوں کے لیے بند کر دیے گئے جو یہ تعلیم حاصل نہ کریں تو ہماری قوم کے صاحب فکر وتدبیر لوگوں کو یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں یہ نظام تعلیم ہماری نئی نسلوں کو بالکل ہی نامسلمان بنا کر نہ رکھ دے۔ اس لیے انھوں نے چاہا کہ اسی نظام کے تحت خود اپنے اہتمام میں قومی مدرسے، کالج اور یونی ورسٹیاں قائم کریں جن میں طلبہ کو پڑھایا تو وہی کچھ جائے جس کے لیے انگریز انھیں تیار کرنا چاہتا ہے، مگر ساتھ ساتھ دینیات کی تعلیم کا جوڑ بھی لگا دیا جائے تاکہ وہ بالکل کافر ہی ہو کر نہ رہ جائیں۔
یہ ایک اصلاح کی تجویز تھی اور خیال یہ کیا گیا تھا کہ اس طریقے سے ہم ان مسلمان نوجوانوں کو جو ہمارے اداروں میں آ کر پڑھیں گے، ان بُرے اثرات سے کسی نہ کسی حد تک بچا سکیں گے جو انگریزی تعلیم سے پہنچنے کی توقع تھی۔ لیکن تجزئیے نے ثابت کر دیا اور عقل سے بھی آپ سوچیں تو یہی آپ کی سمجھ میں آئے گا کہ اس طرح کے قلم لگانے سے حقیقت میں کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہ پیوندی انسان تیار کرنے کی ایک عجیب کوشش تھی جو قطعاً ناکام ہوئی اور قانونِ فطرت کے مطابق اسے ناکام ہونا ہی چاہیے تھا۔
ایک طرف آپ ایک طالب علم کو تمام دنیوی علوم اس طریقے سے پڑھاتے ہیں کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ سارا کارخانہ بے خدا ہے اور خدا کے بغیر ہی چل رہا ہے اور خوب کام یابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ جو علم بھی وہ پڑھتا ہے اس کے اندر کہیں اسے یہ محسوس نہیں ہوتا کہ اس کارخانۂ دنیا میں یا اس کارخانۂ زندگی میں کہیں خدا کا کوئی مقام ہے، کہیں رسولؐ کا کوئی مقام ہے، کہیں وحی کی کوئی حاجت ہے۔ سارے کے سارے نظامِ زندگی کو وہ اسی نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔ اس کے بعد یکایک آپ دینیات کی کلاس میں لے جا کر اسے بتاتے ہیں کہ خدا بھی ہے اور رسول بھی ہے اور وحی بھی آتی ہے اور کتابیں بھی آتی ہیں۔ آپ خود غور کیجیے کہ دنیا کے مجموعی تصوّر سے الگ اور بالکل بے تعلق کرکے یہ اطلاع جو آپ اسے دے رہے ہیں اسے وہ اس مجموعے میں آخر کہاں نصب کرے گا؟ کس طرح آپ ہر طالب علم سے یہ توقع کر سکتے ہیں کہ کائنات اور زندگی کے بے خدا تصوّر کے ساتھ دینیات کی یہ پوٹلی جو آپ الگ سے اس کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں، اسے وہ کھول کر روز کے روز دوسرے اجزائے علم کے ساتھ ترکیب دیتا رہے گا اور خود بخود اپنے ذہن میں ایک دوسرا باخدا تصور مرتب کرتا رہے گا۔
پھر اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے قومی خرچ پر جو درس گاہیں قائم کیں ان میں بھی ہم نے وہی سارا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جو سرکاری درس گاہوں میں تھا۔ ہم نے کوشش کی کہ ہمارے طلبہ انگریزی بولیں اور انگریزی لباس پہنیں۔ ہم نے کوشش کی کہ وہ انگریزی کلچر ہی کے رنگ میں رنگے جائیں۔ ہم نے کھیلوں میں اور نشست وبرخاست میں اور رہنے سہنے میں اور مسائل پر بحثوں میں، غرض ہر چیز میں یہی کوشش کی کہ ہماری یہ قومی درس گاہیں کسی طرح بھی سرکاری درس گاہوں سے مختلف نہ ہوں۔ بالکل اسی معیار کے آدمی یہاں سے نکلیں جیسے سرکاری درس گاہوں سے نکلتے ہیں اور کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ یہ انگریزی معیار کے لحاظ سے سرکاری درس گاہوں سے نکلے ہوئے لوگوں سے کسی طرح بھی کم تر ہیں۔ جب یہ مقصد ہمارے سامنے تھا اور اسی کی خاطر ہم نے پورا فرنگیت کا ماحول طاری کرنے کی کوشش کی تو اس ماحول کے اندر اسلام کی وہ ذرا سی قلم جو ہم نے لگائی وہ آخر اپنا کیا رنگ دکھا سکتی تھی۔ تعلیمی حیثیت سے وہ نہایت کم زور تھی۔ دوسرے کسی نصابِ تعلیم سے اس کا کوئی جوڑ نہ تھا۔ جتنے دلائل ایسے ہو سکتے تھے جو خدا پرستی کے لیے کار آمد ہوتے وہ سارے کے سارے دلائل ہم نے ناخدا پرستی اور ناخداشناسی کے لیے فراہم کرکے دئیے۔ اس پر مزید ہم نے یہ کیا کہ اپنے قومی کالجوں میں بھی سرکاری کالجوں کی طرح زندگی کا پورا ماحول ذہنی تربیت کا پورا نظام ایسا رکھا جو اسلام کے اس کم زور سے پیوند کی بجائے فرنگیت اور الحاد کے لیے ہی سازگار تھا۔ ا س میں کوئی چیز بھی ایسی نہ تھی جو اس پیوند کو غذا دینے والی ہو، بلکہ ہر چیز عین اس کی فطرت کے خلاف تھی۔ یہ سب کچھ کرکے ہم کسی معجزے کی توقع رکھتے تھے کہ دینیات کی اس تعلیم سے حقیقت میں کوئی دینی جذبہ پیدا ہو گا، کوئی دینی رجحان نشوونما پائے گا، اسلام کی کوئی قدروقیمت لوگوں کے دلوں میں جاگزیں ہو گی اور ان کے اندر اسلامی کیریکٹر پیدا ہو گا، حالانکہ قانونِ فطرت کے مطابق اس کا لازمی نتیجہ یہ تھا اور یہی عملاً برآمد ہوا کہ جن طلبہ کو اس طریقے سے دینیات کی تعلیم دی گئی، ان کی نگاہوں سے دین گر گیا اور ان کی دینی حالت مشن کالجوں اور گورنمنٹ کالجوں سے زیادہ بد تر ہو گئی۔ یہ واقعہ ہے کہ ہمارے کالجوں میں بالعموم دینیات کا گھنٹا تفریح اور مذاق کا گھنٹا رہا ہے اور اس نے دلوں میں ایمان پیدا کرنے کی بجائے رہے سہے ایمان کا بھی خاتمہ کر دینے کی خدمت انجام دی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب ہم خوداپنی اولاد کے سامنے اپنے دین کو تمام دوسرے مضامین سے حقیر تر بنا کر پیش کریں گے تو اس کی کم از کم سزا جو قدرت کی طرف سے ہمیں ملنی چاہیے وہ یہی ہے کہ ہمارے بچے ہماری آنکھوں کے سامنے ملحد اور زندیق بن کر اٹھیں اور اپنے ان بزرگوں کو احمق سمجھیں جو خدا، رسول اور آخرت کو مانتے تھے۔
اِصلاح کی غلط تدبیریں
یہ نتائج آج سے ۱۷، ۱۸ برس پہلے پوری شدت کے ساتھ نمایاں ہو چکے تھے۔ مجھے یاد آتا ہے کہ ۳۵۔۱۹۳۴ء کے زمانے میں یکایک یہ شور برپا ہوا کہ آخر ہماری قومی درس گاہوں سے ملاحدہ اور الحاد ودہریّت کے مبلغین اس کثرت سے کیوں پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ شکایت خاص طور پر علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے بارے میں تھی، جہاں عام اندازے کے مطابق نوے فی صدی طلبہ الحاد اور دہریت میں مبتلا تھے۔ جب یہ واقعات پھیلنا شروع ہوئے اور سارے ملک میں اس کے متعلق مضامین لکھے جانے لگے تو ایک کمیٹی بٹھائی گئی جس نے اس مسئلے پر غور کیا۔ اس وقت یہ خیال قائم کیا گیا کہ دینیات کے عنصر کو پہلے کی بہ نسبت کچھ زیادہ کر دینے سے کام چل جائے گا۔ چنانچہ اس سلسلے میں کچھ اصلاحات تجویز کی گئیں اور کچھ نئے نصاب بھی مرتب کیے گئے۔ لیکن یہ اصلاح کچھ بھی مفید ثابت نہ ہوئی اور اس وقت سے آج تک صورتِ حال میں کوئی فرق رونما نہیں ہوا۔
میرا اسی وقت یہ اندازہ تھا اور میں نے ’’ترجمان القرآن‘‘ میں اسے لکھ بھی دیا تھا کہ ان تدبیروں سے آپ کوئی مفید نتیجہ حاصل نہیں کر سکتے۔ آج میں اس کا ذکر اس لیے کر رہا ہوں کہ ہمارے اربابِ اقتدار، جن کے ہاتھ میں ہمارا نظامِ تعلیم ہے اور جو وقتاً فوقتاً ہمیں اسلامی نظامِ تعلیم کے قیام کی خوش خبری سناتے رہتے ہیں، اسی غلطی کا پھر اعادہ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ان کے پیشِ نظر بھی حقیقت میں اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ یہاں وہی پرانا طرزِ تعلیم جو انگریز کے وقت سے چلا آ رہا ہے، اسی طرح قائم رہے اور اس کے اندر بس دینیات کے عنصر کو ذرا بڑھا دیا جائے۔ اس لیے جو بات میں نے آج سے چند برس پہلے کی تھی آج پھر میں اسے دہراتا ہوں۔ میرے نزدیک اس سے بڑی دنیا میں کوئی غلطی نہیں ہے کہ کسی نظامِ تعلیم میں دو بالکل متضاد عناصر شامل کر دیے جائیں۔ ایسے متضاد عناصر جو ایک دوسرے کے ساتھ مزاحمت کرنے والے اور ایک دوسرے کی تردید کرنے والے ہوں اس طرح کی آمیزش فسادِ ذہنی کے سوا اور کوئی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتی۔
فرض کیجیے کہ اس آمیزے میں آپ نے دینی تعلیم کے عنصر کو پچاس فی صدی کر دیا اور باقی پچاس فی صدی آپ کی تعلیم انھی بنیادوں پر رہی جن پر انگریز یہاں قائم کر گیا ہے، تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ہر طالب علم کا دماغ ایک رزم گاہ بن جائے گا۔ بلکہ ہر طالب علم کی زندگی ایک رزم گاہ بن جائے گی۔ پھر اگر آپ نے اپنے کالجوں میں جہاں تک کہ تعلیمی نصاب کا تعلق ہے، دینیات کا عنصر پچاس فی صدی بھی رکھ دیا، مگر سارا تعلیمی ماحول اور آپ کے کالجوں کی ساری فضا ویسی کی ویسی فرنگیانہ رہی جیسی کہ انگریز کے دور میں تھی، اور یہ آپ کی مملکت بھی انھی بنیادوں پر چلتی رہی جن پر انگریز انھیں قائم کر گیا تھا، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ آپ کی درس گاہوں سے تین قسم کے آدمی نکلیں گے۔ ایک قسم کے تو وہ ہوں گے جو دینیات کی تعلیم پانے کے باوجود پھر بھی ملحد ہوں گے کیوں کہ ایک دوسرا مخالفِ دین عنصر بھی آپ کے نظامِ تعلیم میں موجود ہو گا اور اس کی پشت پر نہ صرف کالج کے ماحول کی طاقت ہو گی بلکہ آپ کی مملکت کا ماحول بھی اسی کے لیے مددگار ہو گا اور مزید برآں دنیا کی طاقت ور سلطنتوں کا بین الاقوامی ماحول بھی اسی کے لیے ساز گار رہے گا۔
دوسری قسم کے لوگ وہ ہوں گے جو دینیات کی تعلیم کا اثر قبول کرکے اسلام ہی کو اپنے دین کی حیثیت سے پسند کریں گے۔
اور تیسری قسم کے لوگ ایسے نکلیں گے جو اسلام اورکفر کے درمیان مذبذب رہیں گے۔ وہ پورے مسلمان ہی ہوں گے نہ پورے کافر۔
یہ ہیں اس طرح کی آمیزشیں کرنے کے لازمی نتائج۔ اگر آپ اس کا تجربہ کریں گے تو خود دیکھ لیں گے کہ اس سے آپ کی قوم میں تین مختلف قسم کے عناصر پیدا ہو جائیں گے جو کسی تہذیب اور کسی نظامِ زندگی کو بھی نشوونما دینے میں یک سوئی کے ساتھ تعاون نہ کر سکیں گے۔ پھر کیا ایک ملک کا نظامِ تعلیم اسی غرض کے لیے بنایا جاتا ہے کہ وہ ملک میں ایک ذہنی کباڑخانہ فراہم کرے؟
ایک انقلابی قدم کی ضرورت
یہ جو کچھ میں نے عرض کیا ہے اس سے میرا مقصد یہ ذہن نشین کرانا ہے کہ اگر فی الواقع ہم ایک اسلامی نظامِ تعلیم قائم کرنا چاہتے ہیں تو محض مرمتیں اور داغ دوزیاں کرنے سے کام نہیں چل سکتا، بلکہ اس کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ درحقیقت اب یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ دونوں نظامِ تعلیم ختم کر دیے جائیں جو اب تک ہمارے ہاں رائج رہے ہیں۔ پرانا مذہبی نظامِ تعلیم بھی ختم کیا جائے اور یہ موجودہ نظامِ تعلیم بھی جو انگریز کی راہ نمائی میں قائم ہوا تھا۔ ان دونوں کی جگہ ہمیں ایک نیا نظامِ تعلیم بنانا چاہیے جو ان نقائص سے پاک ہو اورہماری اُن ضرورتوں کو پورا کر سکے جو ہمیں ایک مسلمان قوم، ایک آزاد قوم اور ایک ترقی کی خواہش مند قوم کی حیثیت سے اس وقت لاحق ہیں۔ اسی نظامِ تعلیم کا نقشہ اور اس کے قائم کرنے کا طریقہ میں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں:
مقصد کا تعیّن
اس نئے نظامِ تعلیم کی تشکیل میں اوّلین چیز جسے ہمیں سب سے پہلے طے کرنا چاہیے یہ ہے کہ ہمارے پیشِ نظر تعلیم کا مقصد کیا ہے؟ بعض لوگوں کے نزدیک تعلیم کا مقصد بس علم حاصل کرنا ہے، وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو بالکل غیر جانب دار تعلیم دی جانی چاہیے تاکہ وہ زندگی کے مسائل، معاملات اور حقائق کا بالکل ایک جیسا معروضی مطالعہ (objective study) کریں اور آزادانہ نتائج اخذ کر سکیں۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ اس طرح کا معروضی مطالعہ صرف فوٹو کے کیمرے کیا کرتے ہیں، انسان نہیں کر سکتے۔ انسان ان آنکھوں کے پیچھے ایک دماغ بھی رکھتا ہے جو بہرحال اپنا ایک نقطۂ نظر رکھتا ہے، زندگی میں اپنا ایک مقصد رکھتا ہے۔ مسائل کے متعلق سوچنے کا ایک طرز رکھتا ہے، اور وہ جو کچھ بھی دیکھتا ہے، جو کچھ بھی سنتا ہے، جو کچھ بھی معلومات حاصل کرتا ہے، اوروہ جو کچھ بھی کرتا ہے، اُسے اپنی اس فکر کے سانچے میں ڈھالتا جاتا ہے جو اس کے اندر بنیادی طور پر موجود ہوتی ہے۔ پھر اسی فکر کی بنیاد پر اس کا وہ نظامِ زندگی قائم ہوتا ہے جسے ہم اس کا کلچر کہتے ہیں۔ اب اگر ہم اپنا ایک کلچر رکھتے ہیں اور ہم ایک ایسی قوم ہیں جس کے اپنے کچھ عقائد ہیں، جس کا اپنا ایک نظریۂ زندگی ہے، جس کا اپنا ایک نصب العین ہے، جو اپنی زندگی کے کچھ اصول رکھتی ہے، تو لازماً ہمیں اپنی نئی نسلوں کو اس غرض کے لیے تیار کرنا چاہیے کہ وہ ہمارے اس کلچر کو سمجھیں، اس کی قدر کریں، اسے زندہ رکھیں اور آگے اسے اس کی اصل بنیادوں پر ترقی دیں۔ دنیا کی ہر قوم اس غرض کے لیے اپنا مستقل نظامِ تعلیم قائم کیا کرتی ہے۔ مجھے کوئی قوم ایسی معلوم نہیں ہے جس نے اپنا نظامِ تعلیم خالص معروضی بنیادوں پر قائم کیا ہو، جو اپنی نسلوں کو بے رنگ تعلیم دیتی ہو اور اپنے ہاں ایسے غیرجانب دار نوجوان پرورش کرتی ہو جو تعلیم سے فارغ ہو کر آزادی کے ساتھ یہ فیصلہ کریں کہ انھیں اپنی قومی تہذیب کی پیروی کرنی ہے یا کسی دوسری تہذیب کی؟ اسی طرح مجھے ایسی بھی کوئی آزاد قوم معلوم نہیں ہے جو دوسروں سے ان کا نظام تعلیم جوں کا توں لے لیتی ہو اور اپنی تہذیب کا کوئی رنگ اس میں شامل کیے بغیر اسی کے سانچے میں اپنی نئی نسلوں کو ڈھالتی چلی جاتی ہو۔ رہی یہ بات کہ کوئی قوم اپنے لیے دوسروں کا تجویز کردہ ایک ایسا نظام اختیار کرے جو اس کے نوجوانوں کی نگاہ میں اپنی قوم اور اس کے مذہب، اس کی تہذیب، اس کی تاریخ، ہر چیز کو ذلیل وخوار کرکے رکھ دے اور ان کے دل ودماغ پر انھی لوگوں کے تصورات ونظریات کا ٹھپّا لگا دے جنھوں نے اس کے لیے یہ نظام تجویز کیا ہے تو میرے نزدیک یہ بدترین خود کشی ہے جس کا ارتکاب کوئی صاحب فراست قوم بحالت ہوش وحواس نہیں کر سکتی۔ یہ حماقت اگر پہلے ہم کم زوری اور بے بسی کی وجہ سے کر رہے تھے تو اب آزاد ہونے کے بعد اسے حسبِ سابق جاری رکھنے کے کوئی معنیٰ نہیں۔ اب تو ہمارا نظامِ زندگی ہمارے اختیار میں ہے۔ اب لازماً ہمارے پیش نظر تعلیم کا یہ مقصد ہونا چاہیے کہ ہم ایسے افراد تیار کریں جو ہماری قومی تہذیب کو سمجھتے ہوں اور ہماری قومی تہذیب ہمارے دین کے سوا اور کیا ہے؟ لہٰذا ہمارے دین کو اچھی طرح سمجھتے ہوں، اس پر سچے دل سے ایمان رکھتے ہوں، اس کے اصولوں کو خوب جانتے ہوں اور ان کے برحق ہونے کا یقین رکھتے ہوں، اس کے مطابق مضبوط سیرت اور قابل اعتماد اخلاق رکھتے ہوں، اور اس قابلیت کے مالک ہوں کہ ہماری اجتماعی زندگی کے پورے کارخانے کو ہماری اس تہذیب کے اصولوں پر چلا سکیں اور مزید ترقی دے سکیں۔
دین ودنیا کی تفریق مٹا دی جائے
دوسری چیز جو ہمیں اپنے نظامِ تعلیم میں بطورِ اصول پیشِ نظر رکھنی چاہیے اور اس کی بنیاد پر ہمارا سارا نظامِ تعلیم بننا چاہیے وہ یہ ہے کہ ہم دین اور دنیا کی اس تفریق کو ختم کر دیں، دین اور دنیا کی تفریق کا یہ تخیل ایک عیسائی تخیل ہے یا بدھ مذہب یا ہندوئوں اور جوگیوں کا ہے۔ اسلام کا تخیل اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہمارے لیے اس سے بڑی کوئی غلطی نہیں ہو سکتی کہ ہم اپنے نظامِ تعلیم میں، اپنے نظامِ تمدن میں اور اپنے نظامِ مملکت میں دین اور دنیا کی تفریق کے اس تخیل کو قبول کر لیں۔ ہم اس کے بالکل قائل نہیں ہیں کہ ہماری ایک تعلیم دنیوی ہو اور ایک تعلیم دینی۔ اس کے برعکس ہم تو اس بات کے قائل ہیں کہ ہماری پوری کی پوری تعلیم بیک وقت دینی بھی ہو اوردنیوی بھی۔ دنیوی اس لحاظ سے کہ ہم دنیا کو سمجھیں اور دنیا کے سارے کام چلانے کے قابل ہوں اور دینی اس لحاظ سے کہ ہم دنیا کو دین ہی کے نقطۂ نظر سے سمجھیں اور دین کی ہدایت کے مطابق اس کا سارا کام چلائیں۔ اسلام وہ مذہب نہیں ہے جو آپ سے یہ کہتا ہو کہ دنیا کے کام آپ جس طرح چاہیں چلاتے رہیں اور بس اس کے ساتھ چند عقائد اور عبادات کا ضمیمہ لگائے رہیں۔ اسلام زندگی کا محض ضمیمہ بننے پر کبھی قانع تھا اور نہ آج ہے۔ وہ تو پوری زندگی میں آپ کا راہ نما اور پوری زندگی کے لیے آپ کا طریقِ عمل بننا چاہتا ہے۔ وہ دنیا سے الگ محض عالمِ بالا کی باتیں نہیں کرتا بلکہ پوری طرح دنیا کے مسئلے پر بحث کرتا ہے۔ وہ آپ کو بتاتا ہے کہ اس دنیا کی حقیقت کیا ہے؟ اس دنیا میں آپ کس غرض کے لیے آئے ہیں۔ آپ کا مقصدِ زندگی کیا ہے؟ کائنات میں آپ کی اصلی پوزیشن کیا ہے اور اس دنیا میں آپ کو کس طریقے سے ، کن اصولوں پر کام کرنا چاہیے وہ کہتا ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، آخرت میں جو کچھ بھی آپ کو پھل ملنے والے ہیں وہ اس بات پر منحصر ہیں کہ دنیا کی اس کھیتی میں آپ کیا بوتے ہیں۔ اس کھیتی کے اندر زراعت کرنا وہ آپ کو سکھاتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ دنیا میں آپ کا سارا طرزِ عمل کیا ہو، جس کے نتیجے میں آپ کو آخرت کا پھل ملے۔ اس قسم کا ایک دین کیسے یہ بات گوارا کر سکتا ہے کہ آپ کے ہاں ایک تعلیم دنیوی ہو اور دوسری دینی، یا ایک دنیوی تعلیم کے ساتھ محض ایک مذہبی ضمیمہ لگا دیا جائے۔ وہ تو یہ چاہتا ہے کہ آپ کی پوری تعلیم دینی نقطۂ نظر سے ہو۔ اگر آپ فلسفہ پڑھیں تو دینی نقطۂ نظر سے پڑھیں تاکہ آپ ایک مسلمان فلاسفر بن سکیں۔ آپ تاریخ پڑھیں تو مسلمان کے نقطہ نگاہ سے پڑھیں تاکہ آپ ایک مسلمان مؤرّخ بن سکیں۔ آپ سائنس پڑھیں تو ایک سائنٹسٹ بن کر اٹھیں، آپ معاشیات پڑھیں تو اس قابل بنیں کہ اپنے ملک کے پورے معاشی نظام کو اسلام کے سانچے میں ڈھال سکیں۔ آپ سیاسیات پڑھیں تو اس لائق بنیں کہ اپنے ملک کا نظامِ حکومت اسلام کے اصولوں پر چلا سکیں۔ آپ قانون پڑھیں تو اِسلام کے معیارِ عدل وانصاف پر معاملات کے فیصلے کرنے کے لائق ہوں۔ اس طرح اسلام دین ودنیا کی تفریق مٹا کر پوری کی پوری تعلیم کو دینی بنا دینا چاہتا ہے۔ اس کے بعد کسی جداگانہ مذہبی نظامِ تعلیم کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ آپ کے یہی کالج آپ کے لیے امام، مفتی اور علمائے دین بھی تیار کریں گے اور آپ کی قومی حکومت کا نظم ونسق چلانے کے لیے سیکرٹری اور ڈائریکٹر بھی۔
تشکیلِ سیرت
تیسری بنیادی چیز جو نئے نظامِ تعلیم میں ملحوظ رہنی چاہیے وہ یہ ہے کہ اس میں تشکیلِ سیرت کو کتابی علم سے زیادہ اہمیت دی جائے۔ محض کتابیں پڑھانے اور محض علوم وفنون سکھا دینے سے ہمارا کام نہیں چل سکتا۔ ہمیں اس کی ضرورت ہے کہ ہمارے ایک ایک نوجوان کے اندر اسلامی کیریکٹر پیدا ہو، اسلامی طرزِ فکر اور اسلامی ذہنیت پیدا ہو، خواہ وہ انجینئر ہو، خواہ وہ سائنٹسٹ ہو، خواہ وہ علوم عمران کا ماہر ہو، خواہ وہ ہماری سول سروس کے لیے تیار ہو رہا ہو، جو بھی ہو اس کے اندر اسلامی ذہنیت اور اسلامی کیریکٹر ضرور ہونا چاہیے۔ یہ چیز ہماری تعلیمی پالیسی کے بنیادی مقاصد میں شامل ہونی چاہیے۔ جس آدمی میں اسلامی اخلاق نہیں وہ چاہے جوکچھ بھی ہو، بہرحال ہمارے کسی کام کا نہیں ہے۔
عملی نقشہ
ا ن اصولی باتوں کی وضاحت کے بعد اب میں تفصیل کے ساتھ بتائوں گاکہ وہ اسلامی نظامِ تعلیم جسے ہم یہاں قائم کرنا چاہتے ہیں اس کا عملی نقشہ کیا ہے؟
ابتدائی تعلیم
سب سے پہلے ابتدائی تعلیم کو لیجیے جو اس عمارت کی بنیاد ہے۔ اس تعلیم میں وہ سب مضامین پڑھائیے جو آج آپ کے پرائمری اسکولوں میں پڑھائے جاتے ہیں اور دنیا میں ابتدائی تعلیم کے متعلق جتنے تجربات کیے گئے ہیں اور آیندہ کیے جائیں ان سب سے فائدہ اٹھائیے لیکن چار چیزیں ایسی ہیں جو اس کے ہر مضمون میں پیوست ہونی چاہییں۔
اول یہ کہ بچے کے ذہن میں ہر پہلو سے یہ بات بٹھائی جائے کہ یہ دنیا خدا کی سلطنت اور ایک خدا کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ یہاں ہم خدا کے خلیفہ کی حیثیت سے مامور ہیں۔ یہاں جو کچھ بھی ہے خدا کی امانت ہے جو ہمارے حوالے کی گئی ہے۔ اس امانت کے معاملے میں ہم خدا کے سامنے جواب دہ ہیں۔ یہاں ہر طرف، جدھر بھی نگاہ ڈالی جائے آیاتِ الٰہی پھیلی ہوئی ہیں جو اس بات کا پتا دے رہی ہیں کہ ایک حکم ران ہے جو ان سب پر حکومت کر رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ابتدائی تعلیم کے لیے جس وقت بچہ داخل ہو اس وقت سے پرائمری اسکول کے آخری مرحلہ تک دنیا سے اسے آشنا اور روشناس ہی اسی طرز پر کیا جاتا رہے کہ ہر سبق کے اندر یہ تصورات شامل ہوں۔ حتّٰی کہ وہ الف سے آٹا یا ایٹم بم نہ سیکھے بلکہ اللّٰہ سیکھے۔ یہ وہ چیز ہے جو بچوں میں اول دن سے اسلامی ذہنیت پیدا کرنا شروع کر دے گی۔ اور انھیں اس طرح سے تیار کرے گی کہ آخری مراحل تعلیم تک، جب کہ وہ ڈاکٹر بنیں گے یہی بنیاد اور یہی جڑ کام دیتی رہے گی۔
دوم یہ کہ اسلام جن اخلاقی تصورات اور اخلاقی اقدار کو پیش کرتا ہے انھیں ہر مضمون کے اسباق میں حتّٰی کہ حساب کے سوالات تک میں، طرح طرح سے بچوں کے ذہن نشین کیا جائے۔ وہ جن چیزوں کو نیکی اور بھلائی کہتا ہے ان کی قدر اور ان کے لیے رغبت اور شوق بچوں کے دل میں پیدا کیا جائے۔اور جنھیں برائی قرار دیتا ہے ان کے لیے ہر پہلو سے بچوں کے دل میں نفرت بڑھائی جائے۔ آج ہماری قوم میں جو لوگ رشوتیں کھا رہے ہیں اور طرح طرح کی بددیانتیاں اور خیانتیں کر رہے ہیں وہ سب انھی درس گاہوں سے پڑھ کر نکلے ہیں جہاں طوطے مینا اور گائے بیل کے سبق تو پڑھائے جاتے ہیں مگر اخلاقی سبق نہیں پڑھائے جاتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ہر طالبِ علم کو جو تعلیم دی جائے اس کے رگ وپے میں اخلاقی مضامین پیوست ہوں۔ اس کے اندر رشوت خوری کے خلاف شدید جذبہ ِنفرت ابھارا جائے۔ اس کے اندر حرام طریقوں سے مال کمانے اور کھانے والوں پر سخت تنقید کی جائے اور اس کے برے نتائج بچوں کے ذہن نشین کیے جائیں۔ اس کے اندر جھوٹ سے، دھوکے اور فریب سے، خود غرضی اور نفس پرستی سے، چوری اورجعل سازی سے، بد عہدی اور خیانت سے، شراب اور سود اور قمار بازی سے، ظلم اور بے انصافی اور لوگوں کی حق تلفی سے سخت نفرت دلوں میں بٹھائی جائے اور بچوں کے اندر ایک ایسی رائے عام پیدا کرنے کی کوشش کی جائے کہ جس شخص میں بھی وہ اخلاقی برائیوں کا اثر پائیں اسے بری نگاہ سے دیکھیں اور اس کے متعلق برے خیالات کا اظہار کریں یہاں تک کہ انھی درس گاہوں سے فارغ ہو کر اگر کوئی شخص ایسا نکلے جو ان برائیوں میں مبتلا ہو تو اس کے اپنے ساتھی اسے لعنت ملامت کرنے والے ہوں نہ کہ داد دینے اور ساتھ دینے والے۔ اسی طرح ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ نیکیاں جنھیں اسلام انسان کے اندر پیدا کرنا چاہتا ہے، انھیں درسیات میں بیان کیا جائے، ان کی طرف رغبت دلائی جائے، ان کی تعریف کی جائے، ان کے اچھے نتائج تاریخ سے نکال نکال کر بتائے جائیں اور عقل سے ان کے فائدے سمجھائے جائیں کہ یہ نیکیاں حقیقت میں انسانیت کے لیے مطلوب ہیں اور انسانیت کی بھلائی انھی کے اندر ہے۔ بچوں کو دل نشین طریقے سے بتایا جائے کہ وہ اصلی خوبیاں کیا ہیں جو ایک انسان کے اندر ہونی چاہییں اورایک بھلا آدمی کیسا ہوا کرتا ہے۔ اس میں انھیں صداقت اور دیانت کا، امانت اور پاس عہد کا، عدل وانصاف اور حق شناسی کا، ہم دردی اور اخوت کا، ایثار اور قربانی کا، فرض شناسی اور پابندیٔ حدود کا، اکلِ حلال اور ترکِ حرام کا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کھلے اور چھپے ہر حال میں خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرنے کا سبق دیا جائے اور عملی تربیت سے بھی اس امر کی کوشش کی جائے کہ بچوں میں یہ اوصاف نشوونما پائیں۔
سوم یہ کہ ابتدائی تعلیم ہی میں اسلام کے بنیادی حقائق اور ایمانیات بچوں کے ذہن نشین کرا دیے جائیں۔ اس کے لیے اگر دینیات کے ایک الگ کورس کی ضرورت محسوس ہو تو بنایا جا سکتا ہے، لیکن بہرحال صرف اسی ایک کورس پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ ان ایمانیات کو دوسرے تمام مضامین میں بھی روحِ تعلیم کی حیثیت سے پھیلا دیا جائے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہر مسلمان بچے کے دل میں توحید کا عقیدہ، رسالت کا عقیدہ، آخرت کا عقیدہ، قرآن کے برحق ہونے کا عقیدہ، شرک اور کفر اور دہریت کے باطل ہونے کا عقیدہ پوری قوت کے ساتھ بٹھا دیا جائے۔ اور یہ تلقین ایسے طریقے سے ہونی چاہیے کہ بچہ یہ نہ محسوس کرے کہ یہ کچھ دعوے اور کچھ تحکمات ہیں جو اس سے منوائے جا رہے ہیں، بلکہ اسے یہ محسوس ہو کہ یہی کائنات کی معقول ترین حقیقتیں ہیں، ان کا جاننا اور ماننا انسان کے لیے ضروری ہے، اور انھیں مانے بغیر آدمی کی زندگی درست نہیں ہو سکتی۔
چہارم یہ کہ بچے کو اسلامی زندگی بسر کرنے کے طریقے بتائے جائیں اور اس سلسلے میں وہ تمام فقہی مسائل بیان کر دیے جائیں جو ایک دس برس کے لڑکے اور لڑکی کو معلوم ہونے چاہییں۔ طہارت وپاکیزگی کے احکام، وضو کے مسائل، نماز اور روزے کے طریقے، حرام اور حلال کے ابتدائی حدود، والدین اور رشتہ داروں، ہم سایوں کے حقوق، کھانے پینے کے آداب لباس کے حدود، معاشرتی زندگی کے پسندیدہ اطوار، یہ وہ چیزیں ہیں جو ہر مسلمان بچے کو معلوم ہونی چاہییں۔ انھیں صرف بیان ہی نہ کیا جائے بلکہ ایسے طریقے سے ذہن نشین کیا جائے جس سے بچے یہ سمجھیں کہ ہمارے لیے یہی احکام ہونے چاہییں، یہ احکام بالکل برحق ہیں اور ہمیں ایک ستھری اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے کے لیے ان احکام کا پابند ہونا چاہیے۔
ثانوی تعلیم
اس کے بعد اب ہائی سکول کی تعلیم کو لیجیے۔ اس مرحلے میں سب سے پہلی چیز جسے میں ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ عربی زبان کو بطور لازمی زبان پڑھایا جائے۔ اسلام کے اصل مآخذ سارے عربی زبان میں ہیں۔ قرآن عربی میں ہے، حدیث عربی میں ہے۔ ابتدائی صدیوں کے فقہا اور علما نے جتنا کام کیا ہے وہ سب عربی میں ہے۔ اسلامی تاریخ کے اصل مآخذ بھی عربی زبان ہی میں ہیں۔ کوئی شخص اسلام کی اسپرٹ پوری طرح سے نہیں سمجھ سکتا اور نہ اس میں اسلامی ذہنیت اچھی طرح پیوست ہو سکتی ہے جب تک وہ قرآن کو براہِ راست اس کی اپنی زبان میں نہ پڑھے۔
محض ترجموں سے کام نہیں چلتا۔ اگرچہ ہم چاہتے ہیں کہ ترجمے بھی پھیلیں تاکہ ہمارے عوام الناس کم از کم یہ جان لیں کہ ہمارا خدا ہمیں کیا حکم دیتا ہے۔ لیکن ہمارے تعلیم یافتہ لوگوں میں کوئی ایسا نہیں ہونا چاہیے جو عربی زبان سے ناواقف ہو۔ اس لیے ہم عربی کو بطور ایک لازمی مضمون کے شامل کرنا چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ایک شخص جب ہائی اسکول سے فارغ ہو کر نکلے تو اسے اتنی عربی آتی ہو کہ وہ ایک سادہ عربی عبارت کو صحیح پڑھ اور سمجھ سکے۔
ثانوی تعلیم کا دوسرا لازمی مضمون قرآن مجید ہونا چاہیے جس کے کم از کم دو پارے ہر میٹرک پاس طالب علم اچھی طرح سمجھ کر پڑھ چکا ہو۔ وقت بچانے کے لیے ایسا کیا جا سکتا ہے کہ ہائی اسکول کے آخری مرحلوں میں عربی زبان قرآن ہی کے ذریعہ پڑھائی جائے۔
تیسرا لازمی مضمون اسلامی عقائد کا ہونا چاہیے جس میں طلبہ کو نہ صرف ایمانیات کی تفصیل سے آگاہ کیا جائے بلکہ انھیں یہ بھی بتایا جائے کہ ہمارے پاس ان عقائد کے دلائل کیا ہیں؟ انسان کو ان کی ضرورت کیا ہے؟ انسان کی عملی زندگی سے ان کا ربط کیا ہے، ان کے ماننے یا نہ ماننے کے کیا اثرات انسانی زندگی پر مترتب ہوتے ہیں، اور ان عقائد پر ایمان لانے کے اخلاقی اور عملی تقاضے کیا ہیں۔ یہ امورایسے طریقے سے طلبہ کے ذہن نشین کیے جائیں کہ وہ محض باپ دادا کے مذہبی عقائد ہونے کی حیثیت سے انھیں نہ مانیں بلکہ یہ ان کی اپنی رائے بن جائیں۔
اسلامی عقائد کے ساتھ ساتھ اسلامی اخلاقیات کو بھی ابتدائی تعلیم کی بہ نسبت ثانوی تعلیم میں زیادہ تفصیل اور تشریح کے ساتھ بیان کیا جائے اور تاریخ سے نظیریں پیش کرکے یہ بات ذہن نشین کی جائے کہ اسلام کے یہ اخلاقیات محض خیالی اصول اور کتابی نظرئیے نہیں ہیں بلکہ عمل میں لانے کے لیے ہیں اور فی الواقع اس سیرت وکردار کی ایک ایسی رائے عام پیدا کرنے کی کوشش کی جائے کہ اسلام جن اوصاف کی مذمّت کرتا ہے، طلبہ خود ان اوصاف کو برا سمجھیں، ان سے بچیں اور اپنی سوسائٹی میں ان صفات کے لوگوں کو ابھرنے نہ دیں۔ اور اسلام جن اوصاف کو محمود اور مطلوب قرار دیتا ہے انھیں وہ خود پسند کریں، انھیں اپنے اندر نشوونما دیں اور ان کی سوسائٹی میں انھی اوصاف کے لوگوں کی ہمت افزائی ہو۔
میٹرک کے معیار تک پہنچتے پہنچتے ایک بچہ جوان ہو چکا ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں اسے اسلامی زندگی کے متعلق ابتدائی تعلیم وتربیت کی بہ نسبت زیادہ تفصیلی احکام جاننے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں اسے شخصی اور ذاتی زندگی، خاندانی زندگی اور تمدن ومعاشرت اور لین دین وغیرہ کے متعلق ان تمام ضروری احکام سے واقف ہونا چاہیے جو ایک جوان آدمی کے لیے درکار ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ احکام کو اتنی تفصیل کے ساتھ جانے کہ مفتی بن جائے۔ لیکن اس کی معلومات اتنی ضرور ہونی چاہییں کہ وہ اس معیار کی زندگی بسر کر سکے جو ایک مسلمان کا معیار ہونا چاہیے۔ یہ کیفیت تو نہ ہو کہ ہمارے اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی نکاح، طلاق، رضاعت اور وراثت کے متعلق کوئی سرسری علم بھی نہیں ہوتا اور اس ناواقفیت کی وجہ سے بسا اوقات وہ شدید غلطیاں کر جاتے ہیں جن سے سخت قانونی پیچیدگیاں واقع ہو جاتی ہیں۔
تاریخ کی تعلیم میں ہم یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمارے ہائی اسکول کے طلبہ (جن غریبوں کو آج تک تاریخِ انگلستان پڑھائی جا رہی ہے) نہ صرف اپنے ملک کی تاریخ پڑھیں بلکہ اس کے ساتھ اسلام کی تاریخ سے بھی واقف ہوں۔ انھیں تاریخ انبیا سے واقف ہونا چاہیے تاکہ یہ جان لیں کہ اسلام ایک ازلی وابدی تحریک ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں یکایک شروع نہیں ہوئی تھی۔ انھیں سیرت نبویؐ اور سیرتِ خلفائے راشدینؓ سے بھی واقف ہونا چاہیے تاکہ وہ ان مثالی شخصیتوں سے روشناس ہو جائیں جو ان کے لیے معیارِ انسانیت کا درجہ رکھتی ہیں۔ خلافت راشدہ کے بعد سے اب تک کی تاریخ کا ایک مجمل خاکہ بھی ان کے سامنے آ جانا چاہیے تاکہ وہ یہ جان لیں کہ مسلمان قوم کن کن مراحل سے گزرتی ہوئی موجودہ دور تک پہنچی ہے۔ یہ تاریخی معلومات نہایت ضروری ہیں۔ جس قوم کے نوجوانوں کو خود اپنے ماضی کا علم نہ ہو اس کے اندر اپنی قومی تہذیب کا احترام کبھی پیدا نہیں ہو سکتا۔
اس تعلیم کے ساتھ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہائی اسکول کے مرحلے میں طلبہ کی عملی تربیت کا سلسلہ بھی شروع ہو جائے۔ مثلاً ہائی اسکول میں کوئی مسلمان طالب علم ایسا نہیں ہونا چاہیے جو نماز کا پابند نہ ہو۔ طلبہ کے اندر ایسی رائے عام پیدا کی جانی چاہیے کہ وہ اپنے درمیان ایسے طالب علموں کو برداشت نہ کریں اور ازروئے قاعدہ بھی کوئی ایسا طالب علم مدرسے میں نہ رہنا چاہیے جو مدرسے کے اوقات میں نماز نہ پڑھتا ہو۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ نماز ہی وہ بنیاد ہے جس پر عملاً اسلامی زندگی قائم ہوتی ہے۔ یہ بنیاد منہدم ہو جانے کے بعد اسلامی زندگی ہرگز قائم نہیں رہ سکتی۔ اس لحاظ سے بھی آپ کو سوچنا چاہیے کہ ایک طرف تو آپ ایک طالب علم کو بتاتے ہیں کہ نماز فرض ہے اور تیرے خدا نے یہ تجھ پر فرض کی ہے۔ دوسری طرف آپ اپنے عملی برتائو سے روز یہ بات اس کے ذہن نشین کرتے ہیں کہ اس فرض کو فرض جانتے اورمانتے ہوئے بھی اگر توادا نہ کرے تو کوئی مضایقہ نہیں۔ اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ آپ اسے روزانہ منافقت کی اور ڈیوٹی سے فرار کی اور بودی سیرت کی مشق کرا رہے ہیں۔ کیا آپ امید رکھتے ہیں کہ یہ تعلیم وتربیت پا کر جب وہ باہر نکلے گا تو آپ کے تمدن اور آپ کی ریاست کا ایک فرض شناس کارکن ثابت ہو گا؟ اپنے سب سے بڑے فرض کی چوری میں مشاق ہو جانے کے بعد تو وہ ہر فرض میں سے چوری کرے گا، خواہ وہ سوسائٹی کا فرض ہو یا ریاست کا یا انسانیت کا۔ اس صورت میں آپ کو اسے ملامت نہ کرنی چاہیے بلکہ اس نظام تعلیم کو ملامت کرنی چاہیے جس نے اول روز سے اسے یہ سکھایا تھا کہ فرض ایک ایسی چیز ہے جسے فرض جاننے کے بعد بھی چھوڑا جا سکتا ہے۔ اپنے نوجوانوں کو خدا سے بے وفائی سکھانے کے بعد آپ یہ ہرگز امید نہ رکھیں کہ وہ قوم، ملک، ریاست، کسی چیز کے بھی مخلص اور وفادار ہوں گے۔ تعلیم کے کورس میں بلند خیالات اور معیاری اوصاف بیان کرنے کا آخر فائدہ ہی کیا ہے۔ اگر سیرت وکردار کو ان خیالات اور معیارات پر قائم کرنے کی عملاً کوشش نہ کی جائے۔ دل میں اونچے خیالات رکھنے اور عمل ان کے خلاف کرنے سے رفتہ رفتہ سیرت کی جڑیں بالکل کھوکھلی ہو جاتی ہیں اور ظاہر ہے کہ جن لوگوں کی سیرت ہی بودی اور کھوکھلی ہو وہ مجرد اپنی ذہنی اور علمی قابلیتوں سے کوئی کارنامہ کرکے نہیں دکھا سکتے۔ اس لیے ہمیں ثانوی تعلیم کے مرحلے میں، جب کہ نئی نسلیں بچپن سے جوانی کی سرحد میں داخل ہوتی ہیں، اس امر کی پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ایک ایک لڑکے اور لڑکی کے اندر مضبوط سیرت پیدا کریں اور انھیں یہ سکھائیں کہ تمھارا عمل تمھارے علم کے مطابق ہونا چاہیے۔ جس چیز کو حق جانو اس کی پیروی کرو۔ جسے فرض جانو اسے ادا کرو۔ جسے بھلائی جانو اسے اختیار کرو اور جسے برا جانو اسے ترک کر دو۔
اعلیٰ تعلیم
اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کو لیجیے۔ اس مرحلے میں ہم چاہتے ہیں کہ اسلامی تعلیم کے لیے ایک عام نصاب ہو جو تمام طلبہ اور طالبات کو پڑھایا جائے خواہ وہ کسی شعبۂ علم کی تعلیم حاصل کر رہے ہوں، اور ایک نصاب خاص ہو جو ہر شعبۂ علم کے طلبہ وطالبات کو ان کے مخصوص شعبے کی مناسبت سے پڑھایا جائے۔
عام نصاب میں میرے نزدیک تین چیزیں شامل ہونی چاہییں:
۱۔ قرآن مجید، اس طرح پڑھایا جائے کہ ایک طرف طلبہ قرآن کی تعلیمات سے بخوبی واقف ہو جائیں اور دوسری طرف ان کی عربی اس حد تک ترقی کر جائے کہ وہ قرآن کو ترجمے کے بغیر اچھی طرح سمجھنے لگیں۔
۲۔ حدیث کا ایک مختصر مجموعہ جس میں وہ احادیث جمع کی جائیں جو اسلام کے بنیادی اصولوں پر، اس کی اخلاقی تعلیمات پر اور نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سیرت پاک کے اہم پہلوئوں پر روشنی ڈالتی ہوں۔ یہ مجموعہ بھی ترجمے کے بغیر ہونا چاہیے تاکہ طلبہ اس کے ذریعے سے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عربی زبان دانی میں بھی ترقی کر سکیں۔
۳۔اسلامی نظامِ زندگی کا ایک جامع نقشہ، جس میں اسلام کی اعتقادی بنیادوں سے لے کر عبادات، اخلاق، معاشرت، تہذیب وتمدن، معیشت، سیاست اور صلح وجنگ تک ہر پہلو کو وضاحت کے ساتھ معقول اور مدلل طریقے سے بیان کیا جائے، تاکہ ہمارا ہر تعلیم یافتہ نوجوان اپنے دین کو اچھی طرح سمجھ لے اور جس شعبۂ زندگی میں بھی وہ آگے کام کرے اس میں اسلام کی اسپرٹ، اس کے اصول اور اس کے احکام کو ملحوظ رکھ سکے۔
خاص نصاب ہر مضمون کی کلاسوں کے لیے اسلامی تصورات کی روشنی میں اور ان کے پس منظر کے ساتھ الگ پڑھایا جائے اور وہ صرف اسی مضمون کے طلبہ کے لیے ہو مثلاً:
جو طلبہ فلسفہ لیں انھیں دوسرے فلسفیانہ نظاموں کے ساتھ اسلامی فلسفہ بھی پڑھایا جائے مگر یہ ملحوظِ خاطر رہے کہ اسلامی فلسفے سے مراد وہ فلسفہ نہیں ہے جو مسلمانوں نے ارسطو، افلاطون اور فلاطینوس وغیرہ سے لیا اور پھر اسے انھی خطوط پر آگے بڑھایا۔ اور اس سے مراد وہ علم کلام بھی نہیں ہے جسے یونانی منطق وفلسفہ سے متاثر ہو کر ہمارے متکلمین نے اس غرض کے لیے مرتّب کیا تھا کہ اسلامی حقائق کو اپنے وقت کے فلسفیانہ نظریات کی روشنی میں اورمنطق کی زبان میں بیان کریں۔ یہ دونوں چیزیں اب صرف اپنی ایک تاریخی قدر وقیمت رکھتی ہیں۔ انھیں پڑھایا ضرور جائے، مگر اس حیثیت سے کہ یہ تاریخ فلسفہ کے دو اہم ابواب ہیں جنھیں مغربی مصنّفین بالعموم نظر انداز کرکے طالبانِ علم کے ذہن پر یہ اثر جماتے ہیں کہ دنیا کے عقلی ارتقا میں قدیم یونانی فلاسفہ سے لے کر آج تک جو کچھ بھی کام کیا ہے صرف یورپ کے لوگوں نے کیا ہے۔ لیکن مسلمان فلسفہ اور متکلمین کا یہ کام نہ ’’اسلامی فلسفہ‘‘ تھا اور نہ اسے اس نام سے آج ہمیں اپنے طلبہ کو پڑھانا چاہیے ورنہ یہ سخت غلط فہمی کا، بلکہ گم راہی کا موجب ہو گا۔ ’’اسلامی فلسفہ‘‘ دراصل کہیں مرتب شدہ نہیں ہے بلکہ اب اسے نئے سرے سے ان بنیادوں پر مرتب کرنے کی ضرورت ہے جو ہمیں قرآن میں ملتی ہیں۔ قرآن مجید ایک طرف انسانی علم وعقل کے حدود بتاتا ہے۔ دوسری طرف وہ محسوسات کے پیچھے چھپی ہوئی حقیقت کو تلاش کرنے کا صحیح راستہ بتاتا ہے۔ تیسری طرف وہ منطق کے ناقص طرز استدلال کو چھوڑ کر عقل عام کے مطابق ایک سیدھا سادا طرزِ استدلال بتاتا ہے۔ اور ان سب کے ساتھ وہ ایک پورا نظریۂ کائنات وانسان پیش کرتا ہے جس کے اندر ذہن میں پیدا ہونے والے ہر سوال کا جواب موجود ہے۔ ان بنیادوں پر ایک نیا فن استدلال، ایک نیا طریقِ تفلسف، ایک نیا فلسفہ مابعد الطبیعیات، ایک نیا فلسفہ اخلاق اور ایک نیا علم النفس مرتب کیا جا سکتا ہے جسے اب مرتب کرانے کی سخت ضرورت ہے تاکہ ہمارے فلسفے کے طلبہ فلسفہ کی قدیم وجدیدبھول بھلیوں میں داخل ہو کر پھنسے کے پھنسے نہ رہ جائیں بلکہ اس سے نکلنے کا راستہ بھی پا لیں اور دنیا کو ایک نئی روشنی دکھانے کے قابل بن سکیں۔
اسی طرح تاریخ کے طلبہ کو دنیا بھر کی تاریخ پڑھانے کے ساتھ اسلامی تاریخ بھی پڑھائی جائے اور فلسفۂ تاریخ کے دوسرے نظریات کے ساتھ اسلام کے فلسفۂ تاریخ سے بھی روشناس کیا جائے۔ یہ دونوں مضمون بھی تشریح طلب ہیں، ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ ان کے بارے میں جو عام غلط فہمیاں موجود ہیں ان کی وجہ سے میرا مدعا آپ کے سامنے واضح نہ ہو گا۔ اسلامی تاریخ کا مطلب بالعموم مسلمان قوموں اور ریاستوں کی تاریخ، یا ان کے تمدن اور علوم وآداب کی تاریخ سمجھا جاتا ہے اور اسلامی فلسفۂ تاریخ کا نام سن کر معًا ایک طالب علم ابنِ خلدون، کی طرف دیکھنے لگتا ہے۔ میں علمِ تاریخ کے نقطۂ نظر سے ان دونوں چیزوں کی قدر وقیمت کا انکار نہیں کرتا، نہ یہ کہتا ہوں کہ یہ چیزیں پڑھائی نہ جائیں۔ مگر یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اسلامی تاریخ اور مسلمانوں کی تاریخ دو الگ چیزیں ہیں، اور ابن خلدون کے فلسفۂ تاریخ کو اسلام کے فلسفۂ تاریخ سے کوئی دور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔ اسلامی تاریخ کا اطلاق دراصل جس چیز پر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ تاریخ کے دوران میں اسلام کے ان اثرات کا جائزہ لیا جائے جو مسلمان ہونے والی قوموں کے خیالات، علوم، آداب، اخلاق، تمدن، سیاست ، اور فی الجملہ پورے اجتماعی طرزِ عمل پر مترتب ہوئے۔ اور اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے کہ ان اثرات کے ساتھ دوسرے غیر اسلامی اثرات کی آمیزش کس کس طرح ہوتی رہتی ہے اور اس آمیزش کے کیا نتائج رونما ہوئے ہیں۔ اسی طرح اسلامی فلسفہ تاریخ سے مراد درحقیقت قرآن کا فلسفۂ تاریخ ہے جس میں وہ ہمیں انسانی تاریخ کو دیکھنے کے لیے ایک خاص زاویۂ نگاہ دیتا ہے۔ اس سے نتائج اخذ کرنے کا ایک خاص ڈھنگ بتاتا ہے اور قوموں کے بننے اور بگڑنے کے اسباب پر مفصل روشنی ڈالتا ہے۔ افسوس ہے کہ اسلامی فلسفے کی طرح اسلامی تاریخ اور اسلامی فلسفہ تاریخ پر بھی اس وقت تک کوئی کتاب نہیں لکھی گئی ہے جو نصاب کے طور پر پڑھائی جا سکے۔ ان دونوں موضوعات پر اب کتابیں لکھنے اور لکھوانے کی ضرورت ہے کہ اس خلا کو بھرا جا سکے جو ان کے بغیر ہماری تعلیمی تاریخ میں رہ جائے گا۔
جہاں تک علومِ عمرانی کا تعلق ہے، ان میں سے ہر ایک میں اسلام کا ایک مخصوص نقطۂ نظر ہے، اور ہر ایک میں وہ اپنے اصول رکھتا ہے، لہٰذا ان میں سے ہر ایک کی تعلیم میں اس علم سے متعلق اسلامی تعلیمات کو بھی لازماً شامل ہونا چاہیے۔ مثلاً معاشیات میں اسلامی اصول معیشت اور سیاسیات میں اسلام کا سیاسی نظریہ اور نظام وغیرہ۔ رہے فنی علوم، مثلاً انجینئرنگ، طبّ اور سائنس کے مختلف شعبے، تو ان سے اسلام بحث نہیں کرتا، اس لیے ان میں کسی خاص اسلامی نصاب کی حاجت نہیں ہے۔ ان کے لیے وہی عام نصاب اور اخلاقی تربیت کافی ہے جس کا ابھی اس سے پہلے میں ذکر کر چکا ہوں۔
اختصاصی تعلیم
اعلیٰ تعلیم کے بعد اختصاصی تعلیم کو لیجیے جس کا مقصود کسی ایک شعبۂ علم میں کمال پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اس معاملے میں جس طرح ہمارے ہاں دوسرے علوم وفنون کی اختصاصی تعلیم کا انتظام کیاجاتا ہے اسی طرح اب قرآن، حدیث، فقہ اور دوسرے علومِ اسلامیہ کی اختصاصی تعلیم کا بھی ہونا چاہیے۔ تاکہ ہمارے ہاں اعلیٰ درجہ کے مفسر، محدث، فقیہ اورعلمائے دین پیدا ہو سکیں۔ جہاں تک فقہ کا تعلق ہے، اس کی تعلیم تو ہمارے لا کالجوں میں ہونی چاہیے۔ کیوں کہ اب ان شاء اللہ اسلام کا قانون ہی ہمارے ملک کا قانون بن کر رہے گا اور اس صورت میں یہاں سے لا کالجوں کو یہی قانون پڑھانا ہو گا۔ اس کے لیے ہمیں تعلیم کا کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے، اس مسئلے پر اس سے پہلے میں اپنے دو لیکچروں میں مفصل بحث کر چکا ہوں جو ۱۹۴۸ء میں لا کالج لاہور میں ہوئے تھے۔ یہ دونوں لیکچر ’’اسلامی قانون‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہو چکے ہیں، اس لیے یہاں اس بحث کا اعادہ غیر ضروری ہے۔ رہے قرآن وحدیث اور دوسرے علومِ اسلامیہ، تو ان کی اختصاصی تعلیم کے لیے ہماری یونی ورسٹیوں کو خاص انتظامات کرنے چاہییں جن کا مختصر خاکہ میں یہاں پیش کرتا ہوں۔
میرے خیال میں اس مقصد کے لیے ہمیں مخصوص کالج قائم کرنا ہوں گے جن میں صرف گریجویٹ یا انڈر گریجویٹ داخل ہو سکیں۔ ان اداروں میں حسب ذیل مضامین کی تعلیم ہونی چاہیے۔
۱۔ عربی ادب، تاکہ طلبہ میں اعلیٰ درجے کی علمی کتابیں پڑھنے اور سمجھنے کی استعداد پیدا ہو سکے اور اس کے ساتھ وہ عربی زبان لکھنے اور بولنے پر بھی قادر ہوں۔
۲۔ علومِ قرآن، جن میں پہلے تفسیر، تاریخ ،علم تفسیر اور فن تفسیر کے مختلف اسکولوں کی خصوصیات سے طلبہ کو آشنا کیا جائے، اور پھر قرآن مجید کا تحقیقی مطالعہ کرایا جائے۔
۳۔علومِ حدیث، جن میں اصولِ حدیث، تاریخ علم حدیث اور فن جرح وتعدیل پڑھانے کے بعد حدیث کی اصل کتابیں ایسے طریقے سے پڑھائی جائیں کہ طلبہ ایک طرف خود احادیث کو پرکھنے اور ان کی صحت وسقم کے متعلق رائے قائم کرنے کے قابل ہو جائیں اور دوسری طرف حدیث کے بیش تر ذخیرے پر انھیں نظر حاصل ہو جائے۔
۴۔ فقہ، جس کی تعلیم لا کالجوں کی تعلیم فقہ سے ذرا مختلف ہو۔ یہاں صرف اتنا کافی ہے کہ طلبہ کو اصولِ فقہ، تاریخ علمِ فقہ، مذاہب فقہ کی امتیازی خصوصیات اور قرآن وحدیث کے نصوص سے استنباطِ احکام کے طریقے اچھی طرح سمجھا دیے جائیں۔
۵۔ علم العقائد، علمِ کلام اور تاریخ علمِ کلام، جسے اس طریقے سے پڑھایا جائے کہ طلبہ اس علم کی حقیقت سے واقف ہو جائیں اور متکلمین اسلام کے پورے کام پر انھیں جامع نظر حاصل ہوجائے۔
۶۔ تقابلِ ادیان، جس میں دنیا کے تمام بڑے بڑے مذاہب کی تعلیمات سے ان کی امتیازی خصوصیات سے، اور ان کی تاریخ سے طلبہ کو آشنا کیا جائے۔
اس تعلیم سے جو لوگ فارغ ہوں، مجھے اس سے کوئی بحث نہیں کہ آپ ان کی ڈگری کا نام کیا رکھیں مگر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ہاں آیندہ انھی لوگوں کو ’’علمائے دین‘‘ کہا جانا چاہیے جو اس ڈگری کو حاصل کریں اور ان کے لیے ان تمام اعلیٰ ملازمتوں کے دروازے کھلے ہونے چاہییں جو دوسرے مضامین کے ایم اے اور پی ایچ ڈی حضرات کو مل سکتی ہیں۔
لازمی تدابیر
حضرات! یہ ہے میرے نزدیک اس نظامِ تعلیم کا نقشہ جو موجودہ مذہبی تعلیم اور دنیوی تعلیم کے نظام کو ختم کرکے اس ملک میں قائم ہونا چاہیے۔ مگر میں اپنے موضوع تقریر کا حق ادا کرنے میں کوتاہی کروں گا اگر ساتھ ہی ساتھ یہ بھی نہ عرض کر دوں کہ یہ ساری گفتگو قطعی لاحاصل ہے جب تک کہ ہم اپنے پورے تعلیمی انتظامات کو بالکل اوور ہال (over haul) کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔
سب سے پہلے جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنی تعلیمی پالیسی کی باگیں ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دیں جو اسلامی فکر رکھتے ہوں، اسلامی نظامِ تعلیم کو جانتے ہوں اور اسے قائم کرنا چاہتے بھی ہوں۔ یہ کام اگر ہو سکتا ہے تو ایسے ہی لوگوں کے ہاتھوں ہو سکتا ہے نہ کہ ان لوگوں کے ہاتھوں جو نہ اسلام کو جانتے ہیں، نہ اس کے نظامِ تعلیم کو، اور نہ اس کے قیام کی کوئی خواہش ہی دل میں رکھتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ اگر زمامِ کار پر قابض رہیں اور ہم رات دن کی چیخ پکار سے دبائو ڈال ڈال کر ان سے یہ کام زبردستی کراتے رہیں اور بادلِ نخواستہ وہ کچھ اسی طرح کی ضمنی اور سطحی ’’اصلاحات‘‘ کرتے رہیںجیسی اب تک ہوتی رہی ہیں، تو ان سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا۔
اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے مدرسوں اور کالجوں کے لیے معلمین اور معلمات کے انتخاب میں ان کی سیرت واخلاق اور دینی حالت کو ان کی تعلیمی قابلیت کے برابر، بلکہ اس سے زیادہ اہمیت دیں اور آیندہ کے لیے معلمین کی ٹریننگ میں بھی اسی مقصد کے مطابق اصلاحات کریں۔ جو شخص تعلیم کے معاملہ میں کچھ بھی بصیرت رکھتا ہے وہ اس حقیقت سے ناواقف نہیں ہو سکتا کہ نظام تعلیم میں نصاب اور اس کی کتابوں سے بڑھ کر استاد اور اس کا کیریکٹر اور کردار زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ فاسد العقیدہ اور فاسد الاخلاق استاد اپنے شاگردوں کو ہرگز وہ ذہنی اور اخلاقی تربیت نہیں دے سکتے جو ہمیں اپنے نئے نظام میں مطلوب ہے۔ دوسرے تمام شعبہ ہائے زندگی میں تو بگڑے ہوئے کارکن زیادہ تر موجودہ نسل ہی کو بگاڑتے ہیں مگر نظامِ تعلیم اگر بگڑے ہوئے لوگوں کے ہاتھ میں ہو تو وہ آیندہ نسل کا بھی ناس کر دیتے ہیں جس کے بعد مستقبل میں بھی کسی صلاح وفلاح کی امید باقی نہیں رہتی۔
آخری چیز اس سلسلہ میں یہ ہے کہ ہمیں اپنی تعلیم گاہوں کا پورا ماحول بدل کر اسلام کے اصول اور اسپرٹ کے مطابق بنانا ہو گا۔ یہ مخلوط تعلیم، یہ فرنگیت کے مظاہر، یہ ازفرق تا بقدم مغربی تہذیب وتمدن کا غلبہ، یہ کالجوں کے مباحثے اور انتخابات کے طریقے، اگر یہ سب کچھ آپ کے ہاںیوں ہی جاری رہیں اور ان میں سے کسی چیز کو بھی آپ بدلنے کے لیے تیار نہ ہوں تو پھر ختم کیجیے اصلاحِ تعلیم کی ساری اس گفتگو کو، اس لیے کہ اس ذہنی وتہذیبی غلامی کے ماحول میں ایک آزاد مسلم مملکت کے وہ باعزت شہری اور کارکن و کار فرما کبھی پروان نہیں چڑھ سکتے جنھیں اپنی قومی تہذیب پر فخر ہو، اور اس بے سیرتی کی آب وہوا میں کبھی اس مضبوط کردار کے لوگ پرورش نہیں پا سکتے جو اصول اور ضمیر کے معاملے میں کوئی لچک کھانے کے لیے تیار نہ ہوں۔ یہ ماحول برقرار رکھنا ہو تو پھر ہمیں سرے سے یہ خیال ہی چھوڑ دینا چاہیے کہ یہاں ہمیں ایک ایمان دار اور باضمیر قوم تیار کرنی ہے۔ آخر یہ کیا مذاق ہے کہ ایک طرف آپ خدا اور رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صریح احکام کی خلاف ورزی کرکے جو ان لڑکیوں اور جوان لڑکوں کو ایک ساتھ بٹھاتے ہیں اور دوسری طرف آپ چاہتے ہیں کہ انھی لڑکوں اور لڑکیوں میں خدا کا خوف اور اخلاقی قوانین کا احترام پیدا ہو۔ ایک طرف آپ اپنی تمام حرکات وسکنات اور اپنے پورے ماحول سے اپنی نئی نسلوں کے ذہن پر فرنگی تہذیب اور فرنگی طرزِ زندگی کا رعب بٹھاتے ہیں اور دوسری طرف آپ چاہتے ہیں کہ زبانی باتوں سے ان کے دلوں میں قومی تہذیب کی قدر پیدا ہو جائے۔ ایک طرف آپ اپنے مباحثوں میں روز اپنے نوجوانوں کو زبان اور ضمیر کا تعلق توڑنے اور ضمیر کے خلاف بولنے کی مشق کراتے ہیں، اور دوسری طرف آپ چاہتے ہیں کہ ان کے اندر راست بازی اور حق پرستی پیدا ہو۔ ایک طرف آپ انھیں وہ سارے انتخابی ہتھ کنڈے اپنے کالجوں ہی میں برتنے کا خوگر بناتے ہیں جنھوں نے ہماری پوری سیاسی زندگی کو گندہ کرکے رکھ دیا ہے اور دوسری طرف آپ یہ امید رکھتے ہیں کہ یہاں سے نکل کر وہ بڑے ایمان دار اور کھرے ثابت ہوں گے۔ یہ متضاد باتیں صحیح العقل لوگوں کے کرنے کی نہیں ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کو نظام کی بات کرنے سے پہلے اپنے دماغ کے علاج کی فکرکرنی چاہیے۔
٭…٭…٭…٭…٭

شیئر کریں