Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

دیباچہ
مقدمہ طبع اوّل
تعارف مقصد
تحریک اِسلامی کا تنزل
ضمیمہ
نسلی مسلمانوں کے لیے دوراہیں عمل‘ خواہ انفرادی ہویااجتماعی‘ بہرحال اس کی صحت کے لیے دو چیزیں شرط لازم ہیں:
اقلیت واکثریت
شکایات ناظرین’’ترجمان القرآن‘‘میں سے ایک صاحب لکھتے ہیں:
راہ رَوپِشت بمنزل
اسلام کی دعوت اور مسلمان کا نصب العین
اصلی مسلمانوں کے لیے ایک ہی راہِ عمل
اسلام کی راہِ راست اور اس سے انحراف کی راہیں
۱۔اسلامی نصب العین
۲- اس نصب العین تک پہنچنے کا سیدھا راستہ
۳-مشکلات
۴-انحراف کی راہیں
۵- منحرف راستوں کی غلطی
پاکستانی خیال کے لوگ
۶-مشکلات کا جائزہ
اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے؟
استدراک
ایک صالح جماعت کی ضرورت
مطالبۂ پاکستان کو یہود کے مطالبہ ’’قومی وطن‘‘ سے تشبیہ دینا غلط ہے
مسلم لیگ سے اختلاف کی نوعیت
وقت کے سیاسی مسائل میں جماعت ِاسلامی کا مسلک
نظام کفر کی قانون ساز مجلس میں مسلمانوں کی شرکت کا مسئلہ
مجالس قانون ساز کی رکنیت شرعی نقطۂ نظر سے
پُر امن اِنقلاب کا راستہ
۱۹۴۶ء کے انتخابات اور جماعت ِاسلامی
جواب
تقسیم سے قبل ہندستان کے مسلمانوں کو آخری مشورہ (یہ وہ تقریر ہے‘ جو ۲۶اپریل ۱۹۴۷ء کو جماعت ِاسلامی کے اجلاس منعقدہ مدراس میں کی گئی تھی)
صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں جماعت ِاسلامی کا مسلک
تقسیم ہند‘ حالات پر تبصرہ
تقسیم کے وقت مسلمانوں کی حالت کا جائزہ
تقسیم کے بعد سامنے آنے والے مسائل
کیا پاکستان کو ایک مذہبی ریاست ہونا چاہئے؟
پاکستان میں اسلامی قانون کیوں نہیں نافذ ہوسکتا؟
اسلامی نظامِ زندگی کا مآخذ
پاکستان میں اسلامی قانون کس طرح نافذ ہوسکتا ہے؟
مطالبہ نظام اسلامی

تحریک آزادی ہند اور مسلمان (حصہ دوم)

اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

ایک صالح جماعت کی ضرورت

دنیا میں اس وقت بڑے زور کے ساتھ توڑ پھوڑ کا عمل جاری ہے۔{ FR 2542 }یہ ہم نہیں جانتے کہ اَشَرٌّ اُرِيْدَ بِمَنْ فِي الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِہِمْ رَبُّہُمْ رَشَدًاo الجن 10:72 اہلِ زمین کو محض ان کے کر توتوں کی سزا ہی دینے کا ارادہ کیا گیا ہے‘ یا اس توڑ پھوڑ کے بعد کوئی صالح چیز بھی بننے والی ہے۔مگر ظاہرِ آثار سے اتنا محسوس ہوتا ہے‘ کہ نوعِ انسانی کی امامت اب تک جس تہذیب کے علم برداروں کو حاصل رہی ہے۔اس کی عمر پوری ہوچکی ہے۔ان کے امتحان کا زمانہ خاتمہ پر آلگا ہے‘ اور سنّت اﷲ کے مطابق اب وقت آگیا ہے‘ کہ ان کو اور ان کی اس جاہلی تہذیب کو دنیا کے انتظام سے بے دخل کر دیا جائے۔ان کو زمین پر کام کرنے کا جتنا موقع ملنا تھا‘ مل چکا۔وہ اپنے تمام اوصاف اور اپنی تمام چھپی ہوئی قابلیتوں کا پورا پورا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ ان کے اندر شاید اب کوئی چیز ایسی باقی نہیں رہی ہے‘ جو باہر نہ آچکی ہو۔ لہٰذا غالب گمان یہی ہے‘ کہ عن قریب وہ میدان سے ہٹائے جانے والے ہیں‘ اور یہ زبردست شکست وریخت اسی لیے ہورہی ہے‘ کہ وہ خود اپنے ہی ہاتھوں سے‘ اپنے مراسمِ تجہیز وتدفین ادا کردیں۔ اس کے بعد یہ بھی ممکن ہے‘ کہ دنیا میں پھر ایک ظلمت کا دورہ شروع ہو‘ جس طرح آخری اسلامی تحریک کے زوال اور موجود جاہلی تہذیب کی پیدائش کے درمیان گزر چکا ہے‘ اور یہ بھی ممکن ہے‘ کہ اسی ٹوٹ پھوٹ کے دوران میں کسی نئی تعمیر کی صورت نکل آئے۔
سرمایہ دارانہ جمہوریت‘ قومی اجتماعیت (نیشنل سوشلزم) اور اشتراکیت (کمیونزم) کی جو طاقتیں اس وقت آپس میں متصادم ہیں‘ یہ دراصل الگ الگ تہذیبیں نہیں ہیں‘ کہ ان کے درمیان انتخاب‘ اور ان میں سے بہتر کے باقی رہنے کا کوئی سوال ہو۔حقیقت میں یہ ایک ہی تہذیب کی تین شاخیں ہیں۔ ایک ہی تصوّر کائنات‘ ایک ہی تصوّر انسان‘ ایک ہی نظریۂ حیات اور ایک ہی اساس اخلاق ہے‘ جس پر ان تینوں کی تعمیر ہوئی ہے۔ انسان کو حیوان سمجھنا۔دنیا کو بے خدا فرض کرنا‘ علومِ طبیعی سے انسانی زندگی کا قانون اخذ کرنا اور اخلاق کی بنیاد تجربہ ومصلحت اور خواہشات پر رکھنا یہ ان سب کی مشترک بنیاد ہے۔ ان کے درمیان فرق صرف اس حیثیت سے ہے‘ کہ اس جاہلی تہذیب نے سب سے پہلے فرد کی آزادی اور قوموں کی انفرادیت کا بیج بویا تھا‘ جس سے قومی ریاستوں کے ساتھ سرمایہ دارانہ جمہوریت پیدا ہوئی اور مدّت ہائے دراز تک انسانیت کو تباہ وبرباد کرتی رہی۔ پھر جب اس کے ظلم وستم سے انسانی مصائب حد کو پہنچ گئے‘ تو اسی تہذیب نے اشتراکی انقلاب کو بطور علاج پیش کیا۔ مگر بہت جلدی ظاہر ہوگیا‘ کہ یہ علاج اصل مرض سے بھی زیادہ تباہ کن ہے۔ آخر کار وہی تہذیب پھر ایک دوسری تجویز سامنے لائی‘ جس کا نام فاشزم یا نیشنل سوشل ازم ہے‘ اور چند سال کے تجربہ نے ثابت کر دیا کہ اس اُمّ الخبائث کا یہ آخری بچہ فتنہ انگریزی وشررباری میں پہلے دونوں برخورداروں سے بھی بازی لے گیا ہے۔
اب دنیا کے لیے اس تہذیب کو اور زیادہ آزمانے کا کوئی موقع باقی نہیں رہا ہے‘ جو آدمی کو جانور سمجھ کر اور اس جانور کو بے لگام فرض کر کے اپنا کام شروع کرتی ہے‘ اور اس کے اندر جوع البقر سے لے کر بدترین قسم کی درندگی تک ہر وہ بیماری پیدا کر دیتی ہے‘ جو آدمیت کے حق میں نہایت مہلک ہے۔ درحقیقت یہ پوری تہذیب اپنی تمام شاخوں سمیت عمر طبیعی کو پہنچ چکی ہے‘ امتحان کی مدّت ختم کر چکی ہے‘ اس کے پاس اب کوئی اور اَنچھر{ FR 2543 } ایسا باقی نہیں رہا ہے جس کو یہ انسانی مسائل کے حل کی حیثیت سے پیش کر سکے۔ اور بالفرض اگر یہ اپنی زندگی کی مہلت بڑھانے کے لیے کسی اور ’’ازم‘‘ کی تخلیق کا بہانہ کرے بھی تو خدا کی مشیت اب یہ نہیں معلوم ہوتی کہ وہ اسے اپنی زمین کو فساد سے بھرنے کا کوئی اور موقع دے گا۔ بہت ممکن ہے‘ کہ موجودہ تصادم کے بعد اس کی شاخوں میں سے کوئی شاخ باقی رہ جائے‘ مگر یقینا اس کا بقاء عارضی ہوگا‘ جلدی ہی وہ شاخ خود چٹخ کر اپنے اندر سے آگ جھاڑے گی‘ اور آپ اپنی ہی آگ سے جل کر خاکستر ہوجائے گی۔
اب رہا یہ سوال کہ آیا اس تہذیب کی تباہی کے بعد دنیا میں پھر کوئی ظلمت کا دور آنا ہے‘ یا کوئی نئی تعمیر شروع ہونی ہے‘ تو اس کا فیصلہ دو چیزوں پر منحصر ہے:۔
ایک یہ کہ جاہلیت خالصہ کی ناکامی کے بعد کوئی اور ایسا نظریہ انسان کو ملتا ہے‘ یا نہیں‘ جو پچھلے فاسد نظریوں سے بہتر ہو‘ جس سے انسانی عقل صَلاح کی توقعات وابستہ کر سکے اور جس پر ایک جاندار اور طاقت ور تہذیب قائم ہوسکے۔
دوسرے یہ کہ نوعِ انسانی میں سے کوئی ایسا گروہ اُٹھتا ہے‘ یا نہیں‘ جس کے اندر جہاد اور اجتہاد کی وہ صلاحیتیں اور قوّتیں ہوں‘ جو ایک نئے نظرئیے پر ایک نئی تہذیب کا قصر تعمیر کرنے کے لیے ضروری ہیں‘ اور جس کے اخلاق واوصاف ان لوگوں سے مختلف ہوں‘ جن کی خباثت وشرارت کا ابھی قریب ہی میں انسان کو تجربہ ہوچکا ہے۔
اگر ایسا کوئی نظریہ بر وقت سامنے آجائے‘ اور اس کو لے کر ایسی ایک صالح جماعت اُٹھ کھڑی ہو‘ تو یقینا نوعِ انسانی ایک دوسرے دور ظلمت (dark age)سے بچ سکتی ہے ور نہ کوئی قوّت اس کو اس تاریک گڑھے میں گرنے سے نہیں بچا سکتی۔ یہ صدمۂ عظیم جس سے انسانیت اس وقت دو چار ہے‘ یہ بھیڑیوں سے بدتر سلوک‘ جو اس وقت آدمی آدمی کے ساتھ کر رہا ہے‘ یہ بے دردی وسنگ دلی‘ جو کبھی دور وحشت میں بھی آدمی سے ظاہر نہیں ہوتی تھی‘ یہ بے رحمی وقساوت جس کی نظیر درندہ جانور بھی پیش کرنے سے عاجز ہیں یہ علم وحکمت کے نتائج‘ جو آج جہاں سوز طیاروں اور انسان پاش ٹینکوں کی شکل میں دیکھے جا رہے ہیں‘ یہ تنظیمی قابلیتوں کے ثمرات‘ جنہوں نے آج غارت گر فوجوں کی صورت اختیار کی ہے‘ یہ صنعتی ترقی کے پھل‘ جو آج آلاتِ جنگ کی بھیانک شکل میں نمو دار ہورہے ہیں یہ وسائل نشرو اشاعت کا کمال‘ جس سے آج دنیا میں جھوٹ پھیلانے اور قوموں میں منافرت کے بیج بونے کا کام لیا جا رہا ہے‘ یہ سب کچھ انسان کا دل توڑ دینے اور اس کو اپنے آپ سے اور اپنی ساری قابلیتوں اور صلاحیتوں سے مایوس کر دینے کے لیے بالکل کافی ہے ‘اور اس کا فطری نتیجہ یہی ہوسکتا ہے‘ کہ نوعِ انسانی دل شکستہ اور مایوس ہوکر صدیوں کے لیے نیند اور بے ہوشی کی حالت میں مبتلا ہوجائے۔
جیسا کہ اوپر بیان کر چکا ہوں انسانیت کو اس درد ناک انجام سے اگر کوئی چیز بچا سکتی ہے‘ تو وہ صرف ایک صالح نظریہ اور ایک صالح جماعت کا بر سر کار آنا ہے۔
مگر وہ کو نسا نظریہ ہوسکتا ہے‘ جس کے لیے آج کامیابی کا کوئی موقع ہو؟
مشر کانہ جاہلیت جس پر دنیا کی بہت سی قدیم تہذیبیں قائم ہوئی تھیں‘ اب اس کے احیاء کا کوئی امکان نہیں۔ شرک کی جڑ بنیاد کٹ چکی ہے۔ جاہل عوام پر چاہے اس کا تسلّط ابھی باقی ہو‘ مگر علم وعقل رکھنے والے لوگ اب اس وہم میں مبتلا نہیں ہوسکتے ‘کہ کائنات کے نظام کو بہت سے ’خدا چلا رہے ہیں‘ اور انسانی فلاح وسعادت کا سر رشتہ دیوتائوں یاروحوں سے وابستہ ہے۔ علاوہ بریں یہ حقیقت ہے‘ کہ مشرکانہ نظریہ سے انسانی زندگی کے پیچیدہ مسائل حل نہیں ہوتے‘ بلکہ یہ پیچیدگیاں کچھ اور بڑھ جاتی ہیں۔ سب سے بڑی مشکل جس نے اس وقت دنیا کو پریشان کر رکھا ہے‘ نوعِ انسانی میں وحدت کا فقدان ہے۔ مگر شرک اس مشکل کو حل نہیں کرتا‘ بلکہ وحدت پیدا کرنے کے بجائے مزید تفریق وتقسیم کے اسباب فراہم کرتا ہے لہٰذا کسی مشرکانہ نظریہ کے لیے آج دنیا میں بر سر اقتدار آنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
راہبانہ جاہلیت دنیا میں کبھی کوئی طاقت نہ تھی نہ بن سکتی ہے۔ کَرْما اور تَناسُخ اور اَہنسا اور ہمہ اوست کے نظریات‘ جو روح کو سرد اور ہمتوں کو پست اور قوائے فکر کو افیونِ تخیل کی پِیَنک میں مست کر دینے والے ہیں‘ اپنے اندر اتنی جان ہی نہیں رکھتے کہ ان کے بل پر کوئی ایسی تہذیب پیدا ہوسکے‘ جو زمین کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہو‘ اور دنیا کی امامت وپیشوائی کے منصب جلیل پر فائز ہوسکتی ہو۔ کوئی سامری اس تن مردہ میں روح پھونکنے کی جتنی چاہے کوشش کر دیکھے‘ یہ نظریات کبھی گیا ن‘ تیاگ اور تپسیّا کے مقام سے آگے بڑھ کر ایک صالح تمدّن کی تخلیق اور ایک عادل مملکت کی تاسیس اور ایک درخشاں تہذیب کی تعمیر تک نہیں پہنچ سکتے۔ لہٰذا مردہ اور روبہ زوال قومیں تو ان نظریات کے چکر میں پڑی رہ سکتی ہیں‘ مگر کسی زندہ اور ابھرنے والی قوم کے تخیل کو یہ کبھی اپنی طرف نہیں کھینچ سکیں گے۔
رہی جاہلیت ِخالصہ تو اس کا اور اس کی پیداوار کا اب دنیا کو اتنا کافی تجربہ ہوچکا ہے‘ کہ عن قریب وہ اس سے مایوس ہونے والی ہے۔ انسان کا اپنے آپ کو جانور فرض کرنا‘ جانوروں کی زندگی سے تنازع للبقاء اور انتخاب طبیعی اور بقائے اصلح کا قانون اپنے لیے اخذ کرنا‘ مادی فوائد اور لذتوں کو مقصودِ حیات ٹھیرانا‘ تجربات اور مصالح کو اخلاق کا ماخذ قرار دینا اور کسی فوق الانسانی اقتدار اعلیٰ کو تسلیم نہ کرنا‘ جو کچھ نتائج پیدا کر سکتا تھا وہ سب اپنی تمام تلخیوں کے ساتھ سامنے آچکے ہیں۔ ان نظریات کی بدولت انسان کو جو کچھ ملا ہے وہ قومی اور نسلی تعصّبات ہیں‘ رنگ ونسل کی برتری کے دعوے ہیں‘ قومی ریاستوں کی معاشی وسیاسی رقابتیں ہیں‘ قیصریت اور استعمار اور معاشی لُوٹ کے فتنے ہیں۔افراد سے لے کر بڑی بڑی قوموں اور سلطنتوں تک کا اپنے معاملات میں ہر اخلاقی قید سے آزاد ہوجانا ہے‘ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انسان کا واقعی جانور بن کر کام کرنا اور دوسرے انسانوں کے ساتھ جانوروں کا سا بلکہ بے روح مشینوں کا سا سلوک کرنا ہے۔ یہ نظریات اگر جمہوریت پیدا کرتے ہیں‘ تو ایسی جس میں افراد کو ظلم اور کسب ِحرام اور فحش اور بے حیائی کی آزادی ملتی ہے۔ اور اگر اشتراکیت یا اجتماعیت پیدا کرتے ہیں‘ تو ایسی جس میں افراد کو بھیڑ بکریوں کے گلے کی طرح ایک ڈکٹیٹر یا ایک چھوٹی سی پارٹی کے حوالے کر دیا جاتا ہے‘ تاکہ وہ انہیں‘ جس طرح چاہے ہانکے اور ان کا جو جی چاہے بنائے۔ یہ پھل جو ان نظریات سے پیدا ہوئے ہیں‘ کسی اتفاقی غلطی کا نتیجہ نہیں ہیں‘ بلکہ اس شجرِ خبیث کی عین فطرت کا تقاضا یہی ہے‘ کہ اس سے یہ پھل پیدا ہوں۔ لہٰذا جس طرح اب تک انسان اس سے کسی قسم کی فلاح نہیں پا سکا ہے اسی طرح آئندہ بھی یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ انسانیت کے اس حیوانی تصوّر اور کائنات کے اس مادّہ پرستانہ نظریے اور اخلاق کی اس تجربی اور مصلحت پرستانہ بنیاد پر کوئی ایسا اجتماعی مسلک پیدا ہوسکے گا‘ جو انسان کے لیے موجب ِفلاح ہو۔
ان سب نظریات کی ناکامی کے بعد دنیا اگر کسی نظریہ سے فلاح کی اُمیدیں وابستہ کر سکتی ہے‘ تو وہ صرف ایک ایسا نظریہ ہی ہوسکتا ہے:
جو انسان کو انسان قرار دے نہ کہ جانور‘ جو اپنی ذات کے متعلق انسان کی رائے کو بہتر بنائے‘ جس کا تصوّرِ انسانیت مغربی سائنس کے ’’تصوّر حیوانی‘‘ اور مسیحیت کے ’’پیدائشی گناہ گار‘‘ اور ہندو مت کے ’’مجبور تناسخ‘‘سے بلند تر ہو۔
جو انسان کو مختارِ مطلق اور شتر بے مہار نہ بنائے‘ بلکہ اسے سلطانِ کائنات کے اقتدار اعلیٰ کا تابع قرار دے اور اس کے آگے ذمّہ دار وجواب دہ ٹھیرائے۔
جو اخلاق کے ایک ایسے قابلِ عمل ضابطے کاانسان کو پابند بنائے‘ جس میں اپنی خواہشات کے مطابق ردّو بدل کرنے کا حق اس کو نہ ہو‘
جو مادّی بنیادوں پر انسانیت کو تقسیم کرنے کے بجائے ایک ایسی اخلاقی وروحانی بنیاد فراہم کرے‘ جس پر انسانیت متحد ہوسکتی ہو‘
جو اجتماعی زندگی کے لیے ایسے اصول انسان کو دے‘ جن پر افراد اور جماعتوں اور قوموں کے درمیان صحیح اور متوازنِ عدل قائم ہوسکے۔
جو زندگی کے نفس پرستانہ مقاصد سے بلند تر مقاصد اور قدروقیمت کے مادّہ پرستانہ معیاروں سے بہتر معیار انسان کو دے۔
اور ان سب خصوصیات کے ساتھ جو علمی وعقلی اور تمدّنی ارتقا میں انسان کی صرف مدد ہی نہ کرے‘ بلکہ صحیح رہنمائی بھی کرے‘ اور مادی واخلاقی‘ ہر دو حیثیتوں سے اسے ترقی کی طرف لے جائے۔
ایسا ایک نظریہ اسلام کے سوا دنیا میں اور کونسا ہے؟لہٰذا یہ کہنا بالکل حق بجانب ہے‘ کہ اب انسانیت کا مستقبل اسلام پر منحصر ہے۔ انسان کے اپنے بنائے ہوئے تمام نظریات ناکام ہوچکے ہیں۔ ان میں سے کسی کے لیے کامیابی کا اب کوئی موقع نہیں۔ اور انسان میں اب اتنی ہمت بھی نہیں ہے‘ کہ پھر کسی نظریہ کی تصنیف اور اس کی آزمائش پر اپنی قسمت کی بازی لگا سکے۔ اس حالت میں صرف اسلام ایک ایسا نظریہ ومسلک ہے‘ جس سے انسان فلاح کی توقعات وابستہ کر سکتا ہے‘ جس کے نوعِ انسانی کا دین بن جانے کا امکان ہے‘ اور جس کی پیروی اختیار کر کے انسان کی تباہی ٹل سکتی ہے۔
لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہ ہوگا کہ دنیا بس مفتوح ہونے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔ اسلام کی خوبیوں پر ایک وعظ اور اس پر ایمان لانے کے لیے ایک دعوت نامہ شائع ہونے کی دیر ہے‘ پھر ایشیا‘ یورپ‘ افریقہ‘ امریکہ سب مسخر ہوتے چلے جائیں گے۔ ایک تہذیب کا سقوط اس طرح اچانک نہیں ہوا کرتا‘کہ کل تھی‘ اور آج ناپید ہوگئی‘ اور دوسری تہذیب کا قیام بھی اس طرح واقع نہیں ہوتا‘کہ آج چٹیل میدان ہے‘ اور کل کسی منتر کے زور سے ایک عالی شان قصر بن کھڑا ہے۔ گرنے والی تہذیب کے افکار‘ اصول‘ طریقے‘ مدّتہائے دراز تک دلوں اور دماغوں پر علوم وآداب پر اور تمدّن ومعاشرت پر اپنا اثر جمائے رہتے ہیں۔ اس اثر کا استیصال خود بخود نہیں ہوجاتا‘ کرنے سے ہوتا ہے۔ اسی طرح گرنے والی تہذیب کے علمبر دار بھی زوال پذیر ہونے کے باوجود سالہا سال تک زمین پر قبضہ جمائے رہتے ہیں۔وہ خود جگہ چھوڑ کر نہیں ہٹ جاتے‘ ہٹانے سے ہٹتے ہیں۔ علی ہذا القیاس نئی تہذیب پر نئی عمارت بنانا بھی کوئی کھیل نہیں ہے‘ کہ آپ سہولت سے بیٹھے رہیں اور وہ خود بن جائے۔ اس کام کے لیے ایک زبردست تنقیدی‘ تخریبی اور تعمیری تحریک کی ضرورت ہے‘ جو ایک طرف علم وفکر کی طاقت سے‘ پرانی تہذیب کی جڑیں اُکھاڑ دے اور دوسری طرف علوم وفنون وآداب کو اپنی مخصوص فکری بنیادوں پر از سرِنو مدوّن کرے‘ حتیٰ کہ ذہنی دنیا پر اس طرح چھا جائے۔کہ لوگ اسی کے طرز پر سوچنا اور محسوس کرنا شروع کر دیں۔ ایک طرف ان پرانے سانچوں کو ڈھائے‘ جن میں انسانیت ڈھلا کرتی تھی‘ اور دوسری طرف نئے سانچے تیار کرے‘ جن میں نئے اخلاق اور نئی سیرتوں کے آدمی ڈھلنے لگیں۔ ایک طرف پرانے نظامِ تمدّن وسیاست کو بزور مٹائے اور دوسری طرف ایک پورا نظامِ تمدّن وسیاست اپنے اصولوں پر عملاً قائم کر دے۔
پس دنیا کو آئندہ دور ظلم کے خطرے سے بچانے اور اسلام کی نعمت سے بہرہ ور کرنے کے لیے صرف اتنی بات کافی نہیں ہے‘ کہ یہاں صحیح نظر یہ موجود ہے۔ صحیح نظریہ کے ساتھ ایک صالح جماعت کی بھی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ایسے لوگ درکار ہیں‘ جو اس نظریہ پر سچا ایمان رکھتے ہوں۔ ان کو سب سے پہلے اپنے ایمان کا ثبوت دینا ہوگا ‘اور وہ صرف اسی طرح دیا جا سکتا ہے‘ کہ وہ جس اقتدار کو تسلیم کرتے ہیں اس کے خود مطیع بنیں‘ جس ضابطے پر ایمان لاتے ہیں۔ اس کے خود پابند ہوں‘ جس اخلاق کو صحیح کہتے ہیں‘ اس کا خود نمونہ بنیں‘ جس چیز کو فرض کہتے ہیں‘ اس کا خود التزام کریں‘ اور جس چیز کو حرام کہتے ہیں اسے خود چھوڑیں۔ اس کے بغیر تو ان کی صداقت آپ ہی مشتبہ ہوگی کجا کہ کوئی ان کے آگے سر تسلیم خم کرے۔ پھر ان کو اس فاسد نظامِ تہذیب وتمدّن وسیاست کے خلاف عملاً بغاوت کرنی ہوگی اس سے اور اس کے پیروئوں سے تعلق توڑنا ہوگا ان تمام فائدوں‘ لذتوں‘ آسائشوں اور اُمیدوں کو چھوڑنا ہوگا‘ جو اس نظام سے وابستہ ہوں ‘اور رفتہ رفتہ ان تمام نقصانات‘ تکلیفوں اورمصیبتوں کو برداشت کرنا ہوگا‘ جو ایک فاسد نظام کے تسلّط کو مٹانے اور ایک صحیح نظام قائم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس انقلاب کی جدوجہد میں اپنا مال بھی قربان کرنا ہوگا۔ اپنے اوقاتِ عزیز بھی صرف کرنے پڑیں گے۔ اپنے دل ودماغ اور جسم کی ساری قوّتوں سے بھی کام لینا پڑے گا‘ اور قید اور جلا وطنی اور ضبطِ اموال اور تباہی اہل وعیال کے خطرات بھی سہنے ہوں گے‘ اور وقت پڑے تو جانیں بھی دینی پڑیں گی۔ ان راہوں سے گزرے بغیر دنیا میں نہ کبھی کوئی انقلاب ہوا ہے نہ اب ہوسکتا ہے۔ ایک صحیح نظریہ کی پشت پر ایسے صادق الایمان لوگوں کی جماعت جب تک نہ ہو‘ محض نظریہ‘ خواہ وہ کتنا ہی بلند پایہ ہو‘ کتابوں کے صفحات سے منتقل ہوکر ٹھوس زمین میں کبھی جڑ نہیں پکڑ سکتا۔ نظریہ کی کامیابی کے لیے خود اس کے اصولوں کی طاقت جس قدر ضروری ہے۔ اسی قدر ان انسانوں کی سیرت‘ ان کے عمل اور ان کی قربانی وسرفروشی کی طاقت بھی ضروری ہے‘ جو اس پر ایمان رکھتے ہوں۔ زراعت کے طریقہ کی درستی‘ بیج کی صلاحیت‘ موسم کی موافقت‘ سب اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں‘ مگر زمین اتنی حقیقت پسند ہے‘ کہ جب تک کسان اپنے صبر سے‘ اپنی محنت سے‘ اپنے بہتے ہوئے پسینہ سے اور اپنی جفاکشی سے اس پر اپنا حق ثابت نہیں کر دیتا‘ وہ لہلہاتی ہوئی کھیتی اُگلنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔
اگرچہ خلوصِ ایمان اور قربانی وجانفشانی ہر دین کے قیام کے لیے ناگزیر ہے خواہ وہ دینِ حق ہویا دینِ باطل‘ مگر دینِ حق اس سے بہت زیادہ اخلاص اور قربانی مانگتا ہے‘ جو دین باطل کے قیام کے لیے درکار ہے۔ حق ایک ایسا باریک بین صراف ہے‘ جو ذراسی کھوٹ کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ وہ خالص سونا چاہتا ہے۔ آزمائشوں کی بھٹی میں سے گزر کر جب تک ساری کھوٹ جل نہ جائے‘ اور پورے عیار (standard) کا کندن نکل نہ آئے وہ اپنے نام سے اس کو بازار میں لانے کی ذمّہ داری لینا پسند نہیں کرتا‘ کیونکہ وہ حق ہے‘ باطل نہیں ہے‘ کہ کھوٹے سکے اور ملمع کیے ہوئے زیور بیچتا پھرے۔ یہی وجہ ہے‘ کہ قرآن بار بار کہتا ہے:
مَا كَانَ اللہُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰي مَآ اَنْتُمْ عَلَيْہِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ۝۰ۭ آل عمران 179:3
اﷲ کا یہ طریقہ نہیں ہے‘ کہ ایمان لانے والوں کو اسی حالت پر چھوڑ دے جس پر تم لوگ اس وقت ہو(کہ مومن اور منافق سب خَلْط مَلْط ہیں)وہ نہ مانے گا جب تک کھوٹے کو کھرے سے الگ نہ کر دے۔
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا يُفْتَنُوْنَo وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللہُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِيْنَo العنکبوت29:3-2
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے‘ کہ وہ بس اتنا کہہ دینے پر کہ ہم ایمان لائے‘ چھوڑ دئیے جائیں گے‘ اور انہیں آزمائش کی بھٹی میں تپایا نہ جائے گا؟حالانکہ ان سے پہلے جو گزر چکے ہیں (یعنی جنہوں نے بھی ایمان لانے کا دعویٰ کیا ہے)ان سب کو ہم نے تپایا ہے‘ پس ضرور ہے‘ کہ اﷲ دیکھے کہ سچے کون ہیں‘ اور جھوٹے کو ن۔
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ۝۰ۭ مَسَّتْہُمُ الْبَاْسَاۗءُ وَالضَّرَّاۗءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰى نَصْرُ اللہِ۝۰ۭ البقرہ 214:2
کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے‘ کہ جنت کا داخلہ تمہیں مل جائے گا حالانکہ ابھی تم پر وہ کیفیت تو گزری ہی نہیں‘ جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکی ہے؟ ان پر سختیاں اور مصیبتیں آئیں اور وہ ہلا مارے گئے‘ حتیٰ کہ رسول اور اس کے ساتھی اہلِ ایمان چیخ اُٹھے کہ اﷲ کی مدد کب آئے گی؟
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللہُ الَّذِيْنَ جٰہَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ وَلَا رَسُوْلِہٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَۃً۝۰ۭ التوبہ 16:9
کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے‘ کہ تم یونہی چھوڑ دئیے جائو گے حالانکہ ابھی اﷲ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون ایسے ہیں‘ جنہوں نے سعی وجہد کا حق ادا کیا اور اﷲ اور رسول اور اہلِ ایمان کے سوا کسی سے قلبی تعلق نہ رکھا۔
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللہِ فَاِذَآ اُوْذِيَ فِي اللہِ جَعَلَ فِتْنَۃَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللہِ۝۰ۭ وَلَىِٕنْ جَاۗءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَيَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ۝۰ۭ اَوَلَيْسَ اللہُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِيْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِيْنَo وَلَيَعْلَمَنَّ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَo العنکبوت10-11:29
اور لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں‘ جو کہتے ہیں‘ کہ ہم اﷲ پر ایمان لائے مگر جب اﷲ کی راہ میں انہیں ستایا گیا‘ تو انسانوں کی ایذا سے ایسے ڈرے جیسے اﷲ کے عذاب سے ڈرنا چاہئے۔ اور اگر تیرے رب کی طرف سے فتح نصیب ہوجائے‘ تو یہی لوگ آکر کہیں گے کہ ہم تو تمہارے ہی ساتھ تھے۔ کیا اﷲ اہلِ دنیا کے دلوں سے خوب واقف نہیں ہے؟ مگر ضرور ہے‘ کہ اﷲ یہ دیکھے کہ تم میں سے ایمان دار کون ہیں‘ اور منافق کون۔
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ۝۰ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَo الَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِيْبَۃٌ۝۰ۙ قَالُوْٓا اِنَّا لِلہِ وَاِنَّآ اِلَيْہِ رٰجِعُوْنَo اُولٰۗىِٕكَ عَلَيْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ۝۰ۣ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُہْتَدُوْنَo البقرہ 155-157:2
ہم ضرور تم کو خطرات اور فاقوں سے اور جان ومال اور کمائیوں کے نقصانات سے آزمائیں گے‘ اور کامیابی کی بشارت دے دو ان مستقل مزاج لوگوں کو‘ جنہوں نے ہر مصیبت کی آمد پر کہا کہ ہم اﷲ ہی کے ہیں‘ اور آخر اسی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔ ایسے لوگوں پر ان کے رب کی طرف سے مہربانیاں ہیں‘ اور رحمت ہے‘ اور یہی لوگ راہِ راست پانے والے ہیں۔
قرآن یہ سب کچھ کہنے کے ساتھ اس حقیقت پر بھی متنبہ کر دیتا ہے‘ کہ
وَلَوْ يَشَاۗءُ اللہُ لَانْتَصَرَ مِنْہُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ۝۰ۭ محمد 4:47
اﷲ چاہتا تو خود ہی ان سے نمٹ لیتا‘ مگر وہ تم میں سے کچھ لوگوں کو کچھ لوگوں کے ذریعہ سے آزماتا ہے۔
یعنی یہ نہ سمجھنا کہ اﷲ اپنے باغیوں کی سر کو بی خود نہیں کر سکتا اس لیے تم سے مدد مانگتا ہے۔ نہیں‘ وہ اتنی زبردست طاقت رکھتا ہے‘ کہ چاہے تو ایک اشارے میں ان کو تباہ کر کے رکھ دے اور اپنے دین کو خود قائم کر دے‘ مگر اس نے یہ جہاد اور محنت وقربانی کا بار تم پر اس لیے ڈالا ہے‘ کہ وہ تم انسانوں کو ایک دوسرے کے مقابلہ میں آزمانا چاہتا ہے جب تک باطل پرستوں سے تمہارا تصادم نہ ہو‘ اور اس تصادم میں مصائب وشدائد اور خطرات ومہالک پیش نہ آئیں‘ سچے اہلِ ایمان جھوٹے مدعیوں سے ممیز نہیں ہوسکتے اور جب تک ناکارہ لوگوں میں سے کار آمد آدمی چھٹ کر الگ نہ ہوجائیں وہ جتھا نہیں بن سکتا جو خلافت ِالٰہیہ کی ذمّہ داری سنبھالنے کا اہل ہو۔
لہٰذا آج دنیا کا مستقبل درحقیقت اس امر پر منحصر نہیں ہے‘ کہ کوئی نظر یۂ حق انسان کو ملتا ہے‘ یا نہیں‘ کیونکہ نظر یہ حق تو موجود ہے البتہ وہ اگر منحصر ہے‘ تو اس امر پر ہے‘ کہ انسانوں میں سے کوئی ایسا گروہ اُٹھتا ہے‘ یا نہیں‘ جو سچے ایمان دار‘ دھن کے پکے اور اپنی ہر عزیز ومحبوب چیز کو خدا کی راہ میں قربان کرنے والے لوگوں پر مشتمل ہو۔
ہم سے کہا جاتا ہے‘ کہ ایسے لوگ بھلا اب کہاں مل سکتے ہیں؟وہ تو بس ایک مبارک دور میں پیدا ہوئے تھے‘ اور پھر خالق نے اس ماڈل کو ہمیشہ کے لیے منسوخ کر دیا۔ لیکن یہ محض ایک وہم ہے‘ اور ایسا وہم انہی لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے جنہیں خود اپنے آپ سے مایوسی ہے دنیا میں ہر قابلیت اور صلاحیت کے آدمی ہر زمانہ میں پائے گئے ہیں‘ اور پائے جاتے ہیں۔ جہاں منافقانہ خصوصیات رکھنے والے اور ضعیف الارادہ لوگ اور سہولت پسند اشخاص ہمیشہ پائے گئے ہیں‘ اور آج بھی پائے جاتے ہیں‘ وہاں ایسے لوگ بھی ہر زمانہ میں موجود رہے ہیں‘ اور آج بھی موجود ہیں‘ جو کسی چیز پر ایمان لانے کے بعد اس کو سر بلند کرنے کے لیے‘ سر دھڑ کی بازی لگا سکتے ہیں۔ آج آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں‘ کہ ایک دو نہیں ہزاروں انسان ایسے ہیں‘ جو ہٹلر اور جرمنی پر ایمان لائے ہیں‘ اور وہ اپنے اس ایمان کی خاطر ہوائی جہاز سے عین دشمن کے ملک میں جست لگاتے ہیں‘ جہاں ان کو معلوم ہے‘ کہ بے شمار شکاری ان کی گھات میں لگے ہوئے ہیں۔ روس کا انقلاب جو ابھی چوبیس پچیس سال پہلے ہی کی بات ہے اس کی تاریخ آپ دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ ہزار ہا آدمی جو انقلابی نظریات پر ایمان رکھتے تھے۔ مسلسل نصف صدی تک ہر قسم کی قربانیاں دیتے رہے۔ سائبیریا کے جہنم میں بھیجے گئے‘ پھانسی پر چڑھائے گئے‘ جلا وطنی کی حالت میں برسوں ملک ملک کی خاک چھانتے پھرے‘ اپنی ذاتی خوش حالی کی تمام خواہشوں اور تمنائوں کا خون کیا‘ خانماں بربادی کو خود اپنے ہاتھوں مول لیا‘ اور یہ سب کچھ اس وقت کیا جب کہ زار کی سلطنت کے مٹنے کا تصوّر بھی بمشکل ہی کیا جا سکتا تھا۔ دُور نہ جائیے خود ہندستان ہی کو دیکھ لیجیے۔ یہاں جو نوجوان اس غلط فہمی میں مبتلا ہوئے کہ کشت وخون کے ذریعہ سے وہ اپنے ملک کو آزاد کر ا سکیں گے انہوں نے اپنے مقصد کے پیچھے اپنی زندگیوں کو برباد کرنے اور خطرات کا مقابلہ کرنے میں کیا کسر اُٹھا رکھی؟کون سی ممکن التصوّر مصیبت ایسی تھی‘ جسے انہوں نے برداشت نہ کیا ہو؟ قید خانوں میں شدید ترین اذیتیں اُٹھائیں‘ حبسِ دوام میں عمریں گزار دیں‘ پھانسی کے تختہ پر جانیں تک دے دیں۔ اس سے بحث نہیں کہ ان کے طریقے صحیح تھے یا غلط‘ مگر اس سے یہ تو ضرور ثابت ہوتا ہے‘ کہ کسی مقصد پر ایمان لانے کے بعد اس کے لیے جان ومال اور شخصی امنگوں کی قربانی گوارا کرنے اور مصیبتیں سہنے کی صفت آج بھی انسانوں میں ناپید نہیں ہے۔ گاندھی جی کی سول نافرمانی ابھی حال ہی کی بات ہے۔ کیا اسی ہندستان کے باشندوں میں ایسے لوگ موجود نہ تھے‘ جنہوں نے لاٹھیاں کھائیں‘ جیل گئے‘ اور مالی نقصانات برداشت کیے؟کیا باردولی کے کسانوں نے اپنی زمینوں‘ اپنے جانوروں اور اپنے گھروں کے برتنوں تک کی قرقی اور نیلامی کو صبر کے ساتھ برداشت نہیں کیا؟ پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے‘ کہ آج ایثارو قربانی کی وہ صفات انسانوں میں مفقود ہیں‘ جو پہلے لوگوں میں پائی جاتی تھیں؟اگر ہٹلر اورمارکس اور گاندھی پر ایمان لاکر انسان یہ سب کچھ کر سکتا ہے‘ تو کیا خدا پر ایمان لاکر کچھ نہیں کر سکتا؟اگر خاکِ وطن میں اتنی کشش ہے‘ کہ اس کے لیے آدمی جان ومال کی قربانی گوارا کر سکتا ہے‘ تو کیا خدا کی رضا اور اس کے تقرّب میں اتنی کشش بھی نہیں ہے؟ پس جو لوگ خود پست ہمت اور ضعیفُ الارادہ ہیں انہیں یہ کہنے کا حق نہیں ہے‘ کہ اس کارِ عظیم کے لیے جن اولوالعزم انسانوں کی ضرورت ہے وہ کہیں مل ہی نہیں سکتے‘ البتہ اپنی ذات کی حد تک وہ ضرور کہہ سکتے ہیں‘ کہ
فَاذْہَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰہُنَا قٰعِدُوْنَo المائدہ 24:5
جائو تم اور تمہارا رب دونوں لڑیں اور ہم یہاں بیٹھے ہیں۔
(ترجمان القرآن۔اپریل۱۹۴۱ء){ FR 2544 }
خ خ خ

شیئر کریں