Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

عرضِ ناشر
سلامتی کا راستہ (یہ خطبہ مئی ۱۹۴۰ء میں ریاست کپور تھلہ میں ہندوئوں،سکھوں اور مسلمانوں کے ایک مشترکہ اجتماع کے سامنے پیش کیا گیا تھا)
توحید
اِنسان کی تباہی کا اصلی سبب
ہماری صحیح حیثیت
ظلم کی وجہ
بے انصافی کیوں ہے؟
فلاح کس طرح حاصل ہو سکتی ہے؟
اَمن کس طرح قائم ہو سکتا ہے؟
ایک شُبہ

سلامتی کا راستہ

اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

ایک شُبہ

اب مَیں اپنی تقریر کو ختم کرنے سے پہلے ایک شُبہ کو صاف کر دنیا ضروری سمجھتا ہوں جو غالباً آپ میں سے ہر ایک کے دل میں پیدا ہو رہا ہو گا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جب خدا کی حکومت اتنی زبردست ہے کہ خاک کے ایک ذرّہ سے لے کر چاند اور سورج تک ہر چیز اس کے قابو میں ہے، اور جب انسان اس کی حکومت میں محض ایک رعیّت کی حیثیت رکھتا ہے تو آخر یہ ممکن کس طرح ہوا کہ انسان اس کی حکومت کے خلاف بغاوت کرے اور خود اپنی بادشاہی کا اعلان کر کے اس کی رعیّت پر اپنا قانون چلائے؟ کیوں نہیں خدا اس کا ہاتھ پکڑ لیتا اور کیوں اسے سزا نہیں دیتا؟
اس سوال کا جواب میں آپ کو ایک سیدھی سی مثال سے دوں گا۔
فرض کیجیے کہ ایک بادشاہ کسی شخص کو اپنے ملک کے کسی ضلع کا افسر بنا کر بھیجتا ہے۔ ملک بادشاہ ہی کا ہے، رعیّت بھی اسی کی ہے، ریل، ٹیلیفون، تار، فوج اور دوسری تمام طاقتیں بھی بادشاہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ بادشاہ کی سلطنت اُس ضلع پر چاروں طرف سے اس طرح چھائی ہوئی ہے کہ اُس چھوٹے سے ضلع کا افسر اس کے مقابلہ میں بالکل عاجز ہے۔ اگر بادشاہ چاہے تو اُسے پوری طرح مجبور کر سکتا ہے کہ اس کے حکم سے بال برابر منہ نہ موڑ سکے، لیکن بادشاہ اس افسر کی عقل کا، اس کے ظرف کا، اور اس کی لیاقت کا امتحان لینا چاہتا ہے اس لیے وُہ اس پر سے اپنی گرفت اتنی ڈھیلی کر دیتا ہے کہ اسے اپنے اوپر کوئی بالاتر اقتدار محسوس نہیں ہوتا۔
اب اگر وُہ افسر عقل مند، نمک حلال، فرض شناس اور وفا دار ہے، تو اس ڈھیلی گرفت کے باوجود اپنے آپ کو رعیّت اور ملازم ہی سمجھتا رہے گا۔ بادشاہ کے ملک میں اُسی کے قانون کے مطابق حکومت کرے گا اور جو اختیارات بادشاہ نے اُسے دیے ہیں اُنھیں خود بادشاہ کی مرضی کے مطابق استعمال کرتا رہے گا۔ اس وفادارانہ طرزِ عمل سے اس کی اہلیت ثابت ہو گی اور بادشاہ اسے زیادہ بلند مرتبوں کے قابل پا کر ترقیوں پر ترقیاں دیتا چلا جائے گا۔
لیکن فرض کیجیے کہ ایک افسر بے وقوف، نمک حرام، کم ظرف اور شریر ہے اور رعیّت کے وُہ لوگ جو اس ضلع میں رہتے ہیں، جاہل، بزدل اور نادان ہیں اپنے اوپر سلطنت کی گرفت ڈھیلی پا کر وُہ بغاوت پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ اُس کے دماغ میں خود مختاری کی ہوا بھر جاتی ہے۔وُہ خود اپنے آپ کو ضلع کا مالک سمجھ کر خود سرانہ حکومت کرنے لگتا ہے اور جاہل رعیّت کے لوگ محض یہ دیکھ کر اس کی خود مختارانہ حکومت تسلیم کر لیتے ہیں کہ تنخواہ یہ دیتا ہے، پولیس اس کے پاس ہے، عدالتیں اس کے ہاتھ میں ہیں، جیل کی ہتھ کڑیاں اور پھانسی کے تختے اس کے قبضے میں ہیں، اور ہماری قسمت کو بنانے، یا بگاڑنے کے اختیارات یہ رکھتاہے۔
بادشاہ اِس اندھی رعیّت اور اُس باغی افسر دونوں کے طرزِ عمل کو دیکھتا ہے۔ چاہے تو فورًاپکڑ لے اور ایسی سزا دے کہ ہوش ٹھکانے نہ رہیں۔ مگر وُہ اس حاکمِ ضلع اور اس رعیّت دونوں کی پوری آزمائش کرنا چاہتا ہے، اس لیے وُہ نہایت تحمل اور بردبادی کے ساتھ انھیں ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے تا کہ جتنی نالائی قیاں ان کے اندر بھری ہوئی ہیں، پوری طرح ظاہر ہو جائیں۔ اس کی طاقت اتنی زبردست ہے کہ اسے اس بات کا خوف ہی نہیں ہے کہ یہ افسر کبھی زور پکڑ کر اُس کا تخت چھین لے گا۔ اسے اس بات کا بھی کوئی اندیشہ نہیں کہ یہ باغی اور نمک حرام لوگ اس کی گرفت سے نکل کر کہیں بھاگ جائیں گے۔ اس لیے اسے جلد بازی کے ساتھ فیصلہ کر دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وُہ سالہا سال تک ڈھیل دیتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب یہ لوگ اپنی پوری خباثت کا اظہار کر چکتے ہیں اور کوئی کسر اس کے اظہار میں باقی نہیں رہتی، تب وُہ ایک روز اپنا عذاب ان پر بھیجتا ہے، اور وُہ ایسا وقت ہوتا ہے کہ کوئی تدبیر اُس وقت انھیں اس کے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔
صاحبو! مَیں اور آپ اور خدا کے بنائے ہوئے یہ افسر سب کے سب اسی آزمائش میں مبتلا ہیں۔ ہماری عقل کا، ہمارے ظرف کا، ہماری فرض شناسی کا، ہماری وفاداری کا سخت امتحان ہو رہا ہے۔ اب ہم میں سے ہر شخص کو خود فیصلہ کرنا چاہیے کہ وُہ اپنے اصلی بادشاہ کا نمک حلال افسر یا رعیّت بننا پسند کرتا ہے یا نمک حرام؟ میں نے اپنی جگہ نمک حلالی کا فیصلہ کیا ہے اور مَیں ہر اُس شخص سے باغی ہوں جو خدا سے باغی ہے۔ آپ اپنے فیصلہ میں مختار ہیں چاہیں یہ راستہ اختیار کریں یا وُہ۔ ایک طرف وُہ نقصانات اور وُہ فائدے ہیں جو خدا کے یہ باغی ملازم پہنچا سکتے ہیں، دوسری طرف وُہ نقصانات اور وُہ فائدے ہیں جو خود خدا پہنچا سکتا ہے۔ دونوں میں سے آپ جسے انتخاب کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭…٭

شیئر کریں