Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

عرضِ ناشر
دیباچہ طبع اوّل
دیباچہ طبع ہشتم
باب اوّل
مسلمان ہونے کے لیے علم کی ضرورت
مسلم اورکافر کا اصلی فرق
سوچنے کی باتیں
کلمۂ طیبہ کے معنی
کلمۂ طیّبہ اور کلمۂ خبیثہ
کلمۂ طیبہ پر ایمان لانے کا مقصد
باب دوم
مسلمان کسے کہتے ہیں؟
ایمان کی کسوٹی
اسلام کا اصلی معیار
خدا کی اطاعت کس لیے؟
دین اور شریعت
باب سوم
عبادت
نماز
نماز میں آپ کیا پڑھتے ہیں؟
نماز باجماعت
نمازیں بے اثر کیوں ہو گئیں؟
باب چہارم
ہر امت پر روزہ فرض کیا گیا
روزے کا اصل مقصد
باب پنجم
زکوٰۃ
زکوٰۃ کی حقیقت
اجتماعی زندگی میں زکوٰۃ کا مقام
انفاق فی سبیل اللہ کے احکام
زکوٰۃ کے خاص احکام
باب ششم
حج کا پس منظر
حج کی تاریخ
حج کے فائدے
حج کا عالمگیر اجتماع
باب ہفتم
جہاد
جہاد کی اہمیت
ضمیمہ ۱ ۱۔اَلْخُطْبَۃُ الْاُوْلٰی
۲۔اَلْخُطْبَۃُ الثَّانِیَۃُ
ضمیمہ ۲ (بسلسلہ حاشیہ صفحہ نمبر ۲۰۷)

خطبات

اسلام کو دل نشیں، مدلل اور جا مع انداز میں پیش کرنے کا جو ملکہ اور خداداد صلاحیت سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ کو حاصل ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ آپ کی تصانیف و تالیفات کی ایک ایک سطر جیسی یقین آفریں اور ایمان افزا ہے، اس کا ہر پڑھالکھا شخص معترف و مدّاح ہے ۔ کتنے ہی بگڑے ہوئے افراد، جوان، بچے، مرد وعورت ان تحریروں سے متاثر ہو کر اپنے سینوں کو نورِ ایمان سے منور کر چکے ہیں۔ ان کتابوں کی بدولت تشکیک کے مارے ہوئے لاتعداد اشخاص ایمان و یقین کی بدولت سے مالا مال ہوئے ہیں اور کتنے ہی دہریت و الحاد کے علم بردار اسلام کے نقیب بنے ہیں۔ یوں تو اس ذہنی اور عملی انقلاب لانے میں مولانا محترم کی جملہ تصانیف ہی کو پیش کیا جا سکتا ہے لیکن ان میں سر فہرست یہ کتاب خطبات ہے۔ یہ کتاب دراصل مولانا کے ان خطبات کا مجموعہ ہے جو آپ نے دیہات کے عام لوگوں کے سامنے جمعے کے اجتماعات میں دیے۔ ان خطبات میں آپ نے اسلام کے بنیادی ارکان کو دل میں اُتر جانے والے دلائل کے ساتھ آسان انداز میں پیش کیا ہے اور کمال یہ ہے کہ اس کتاب کو عام وخاص،کم علم واعلیٰ تعلیم یافتہ،ہر ایک یکساں ذوق وشوق سے پڑھتا ہے اور اس سے فائدہ اُٹھاتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اسلام کے بنیادی ارکان کو سمجھنے کے لیے ہماری زبان ہی میں نہیں بلکہ دنیا کی دوسری بلند پایہ زبانوں میں بھی اس کتاب کی نظیر نہیں ملتی۔ علم و حقانیت کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے جو ان صفحات میں بند کردیا گیا ہے۔

انفاق فی سبیل اللہ کے احکام

احکام کی دو قسمیں___ عام اور خاص
برادرانِ اسلام! اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت کا یہ قاعدہ رکھا ہے کہ پہلے تو نیکی اور بھلائی کے کاموں کا ایک عام حکم دیا جاتا ہے، تاکہ لوگ اپنی زندگی میں عموماً بھلائی کا طریقہ اختیار کریں۔ پھر اسی بھلائی کی ایک خاص صورت بھی تجویز کر دی جاتی ہے تاکہ اس کی خاص طور پر پابندی کی جائے۔
اللہ کی یاد کا عام حکم
مثال کے طور پر دیکھیے، اللہ کی یاد ایک بھلائی ہے، سب سے بڑی بھلائی اور تمام بھلائیوں کا سرچشمہ۔ اس کے لیے عام حکم ہے کہ اللہ کو ہمیشہ ہر حال میں ہر وقت یاد رکھو اور کبھی اس سے غافل نہ ہو:
فَاذْكُرُوا اللہَ قِيٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰي جُنُوْبِكُمْ۝۰ۚ (النسائ 4:103)
کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے اللہ کی یاد میں لگے رہو۔
وَ اذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ o ج (الانفال 8:45)
اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم کو فلاح نصیب ہو۔
اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ۝۱۹۰ۚۙ الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللہَ قِٰیمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰي جُنُوْبِھِمْ وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا۝۰ۚ (آل عمران 3:191-190)
بے شک آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں، جو خدا کوکھڑے اور بیٹھے اور لیٹے یاد کرتے رہتے ہیں اور جو آسمانوں اور زمین کی بناوٹ پر غور کرکے بے اختیار بول اٹھتے ہیں کہ پرورد گار! تو نے یہ کارخانہ بے کار نہیں بنایا۔
وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَكَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا o ( الکہف 18:28)
اور اس شخص کی بات نہ مانو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل پایا اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے پڑ گیا ہے اور جس کے سارے کام حد سے گزرے ہوئے ہیں۔
یہ اور بہت سی ایسی آیات ہیں جن میں حکم دیا گیا ہے کہ ہمیشہ ہر حال میں خدا کی یاد جاری رکھو، کیونکہ خدا کی یاد ہی وہ چیز ہے جو آدمی کے معاملات کو درست رکھتی ہے اور اس کو سیدھے راستے پر قائم رکھتی ہے۔ جہاں آدمی اس کی یاد سے غافل ہوا، اور بس نفسانی خواہشوں اور شیطانی وسوسوں نے اس پر قابو پا لیا، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ راہِ راست سے بھٹک کر اپنی زندگی کے معاملات میں حد سے گزرنے لگے گا۔
اللہ کی یاد کا خاص حکم
دیکھیے، یہ تو تھا عام حکم۔ اب اسی یادِ الٰہی کی ایک خاص صورت تجویز کی گئی۔ نماز، اور نماز میں بھی پانچ وقت میں چند رکعتیں فرض کر دی گئیں جن میں بیک وقت پانچ دس منٹ سے زیادہ صَرف نہیں ہوتے۔ اس طرح چند منٹ اِس وقت اور چند منٹ اُس وقت یاد الٰہی کو فرض کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بس آپ اتنی ہی دیر کے لیے خدا کو یاد کریں اور باقی وقت اس کو بھول جائیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کم ازکم اتنی دیر کے لیے تو تم کو بالکل خدا کی یاد میں لگ جانا چاہیے۔ اس کے بعد اپنے کام بھی کرتے رہو، اور ان کو کرتے ہوئے خدا کو بھی یاد کرو۔
انفاق فی سبیل اللہ کا عام حکم
بس ایسا ہی معاملہ زکوٰۃ کا بھی ہے۔ یہاں بھی ایک حکم عام ہے اور ایک خاص۔ ایک طرف تو یہ ہے کہ بخل اور تنگ دلی سے بچو کہ یہ برائیوں کی جڑ اور بدیوں کی ماں ہے۔ اپنے اخلاق میں اللہ کا رنگ اختیار کرو جو ہر وقت بے حد وحساب مخلوق پر اپنے فیض کے دریا بہا رہا ہے، حالانکہ کسی کا اس پر کوئی حق اور دعویٰ نہیں ہے۔ راہِ خدا میں جو کچھ خرچ کر سکتے ہو کرو۔ اپنی ضرورتوں سے جتنا بچا سکتے ہو بچائو اور اس سے خدا کے دوسرے ضرورت مند بندوں کی ضرورتیں پوری کرو۔ دین کی خدمت میں اور اللہ کا کلمہ بلند کرنے میں جان اور مال سے کبھی دریغ نہ کرو۔ اگر خدا سے محبت رکھتے ہو تومال کی محبت کو خدا کی محبت پر قربان کر دو۔ یہ تو ہے عام حکم۔
انفاق کا خاص حکم
اس کے ساتھ ہی خاص حکم یہ ہے کہ اس قدر مال اگر تمھارے پاس جمع ہو تو اس میں سے کم از کم اتنا خدا کی راہ میں ضرور صَرف کرو، اوراتنی پیداوار تمھاری زمین میں ہو تو اس میں سے کم از کم اتنا حصہ تو ضرور خدا کی نذر کر دو۔ پھر جس طرح چند رکعت نماز فرض کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بس یہ رکعتیں پڑھتے وقت ہی خدا کویاد کرو اور باقی سارے وقتوں میں اس کو بھول جائو، اسی طرح مال کی ایک چھوٹی سی مقدار راہِ خدا میں صَرف کرنا جو فرض کیا گیا ہے، اس کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ جن لوگوں کے پاس اتنا مال ہو بس انھی کو راہِ خدا میں صَرف کرنا چاہیے، اور جو اس سے کم مال رکھتے ہوں انھیں اپنی مٹھیاں بھینچ لینی چاہییں۔ اور اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ مال دار لوگوں پر جتنی زکوٰۃ فرض کی گئی ہے بس وہ اتنا ہی خدا کی راہ میں صَرف کریں، اور اس کے بعد کوئی ضرورت مند آئے تو اسے جھڑک دیں، یا دین کی خدمت کا کوئی موقع آئے تو کہہ دیں کہ ہم تو زکوٰۃ دے چکے۔ اب ہم سے ایک پائی کی بھی امید نہ رکھو۔ زکوٰۃ فرض کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ کم از کم اتنا مال تو ہر مال دار کو راہِ خدا میں دینا ہی پڑے گا، اور اس سے زیادہ جس شخص سے جو کچھ بن آئے وہ اس کو صَرف کرنا چاہیے۔
اِنفاق کے عام حکم کی مختصر تشریح
اب میں آپ کے سامنے پہلے عام حکم کی تھوڑی سی تشریح کروں گا، پھر دوسرے خطبے میں خاص حکم بیان کروں گا۔
قرآن مجید کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ جس چیز کا حکم دیتاہے اس کی حکمتیں اور مصلحتیں بھی خود ہی بتا دیتا ہے، تاکہ محکوم کو حکم کے ساتھ یہ بھی معلوم ہو جائے کہ یہ حکم کیوں دیا گیا ہے اور اس کا فائدہ کیا ہے؟ قرآن مجید کھولتے ہی سب سے پہلے جس آیت پر آپ کی نظر پڑتی ہے وہ یہ ہے:
سیدھے راستے پر چلنے کی تین شرطیں
ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ۝۰ۚۖۛ فِيْہِ۝۰ۚۛھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَoلا الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ oلا (البقرہ 3-2:2)
یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ ان پرہیزگار لوگوں کو زندگی کا سیدھا راستہ بتاتا ہے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
اس آیت میں یہ اصل الاصول بیان کر دیا گیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں سیدھے راستے پر چلنے کے لیے تین چیزیں لازمی طور پر شرط ہیں:
٭ ایک ایمان بالغیب { FR 1628 }
٭ دوسرے نماز قائم کرنا
٭ تیسرے جو رزق بھی اللہ نے دیا ہو اس میں سے راہِ خدا میں خرچ کرنا
دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ:
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۝۰ۥۭ (آل عمران 3:92)
تم نیکی کا مقام پا ہی نہیں سکتے جب تک کہ خدا کی راہ میں وہ چیزیں نہ خرچ کرو جن سے تم کو محبت ہے۔
پھر فرمایا:
اَلشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاۗءِ۝۰ۚ (البقرہ 2:268)
شیطان تم کو ڈراتا ہے کہ خرچ کرو گے تو فقیر ہو جائو گے اور وہ تمھیں (شرمناک چیز یعنی) بخیلی کی تعلیم دیتا ہے۔
اس کے بعد ارشاد ہوا:
وَاَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّہْلُكَۃِ۝۰ۚۖۛ (البقرہ 2:195)
اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو (کہ راہِ خدا میں خرچ نہ کرنے کے معنی ہلاکت اور بربادی کے ہیں)۔
آخر میں فرمایا:
وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَo ج ( الحشر 59:9)
اور جو تنگ دلی سے بچ گئے وہی فلاح پانے والے ہیں۔
زندگی بسر کرنے کے دو طریقے
ان سب آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں انسان کے لیے زندگی بسر کرنے کے دو راستے ہیں:
۱۔ ایک راستہ تو خدا کا ہے جس میں نیکی اور بھلائی اورفلاح اور کامیابی ہے، اور اس راستے کا قاعدہ یہ ہے کہ آدمی کا دل کھلا ہوا ہو، جو رزق بھی تھوڑا یا بہت اللہ نے دیا ہو اس سے خود اپنی ضرورتیں بھی پوری کرے، اپنے بھائیوں کی بھی مدد کرے، اور اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے بھی خرچ کرے۔
۲۔ دوسرا راستہ شیطان کا ہے، جس میں بظاہر تو آدمی کو فائدہ ہی فائدہ نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں ہلاکت اور بربادی کے سوا کچھ نہیں، اور اس راستے کا قاعدہ یہ ہے کہ آدمی دولت سمیٹنے کی کوشش کرے، پیسے پیسے پر جان دے اور اس کو دانتوں سے پکڑ پکڑ کر رکھے، تاکہ خرچ نہ ہونے پائے اورخرچ ہوبھی تو بس اپنے ذاتی فائدے اور اپنے نفس کی خواہشات ہی پر ہو۔
خدا کی راہ میں خرچ کے طریقے
اب دیکھیے کہ خدائی راستے پر چلنے والوں کے لیے راہِ خدا میں خرچ کرنے کے کیا طریقے بیان ہوئے ہیں ان سب کو نمبر وار بیان کرتا ہوں:
۱۔ صرف خد اکی خوشنودی کے لیے
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ خرچ کرنے میں صرف خدا کی رضا اور اس کی خوشنودی مطلوب ہو۔ کسی کو احسان مند بنانے یا دنیا میں نام پیدا کرنے کے لیے خرچ نہ کیا جائے:
وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآئَ وَجْہِ اللّٰہِ ط (البقرہ2 :272)
تم جو بھی خرچ کرتے ہو اُس سے اللہ کی رضا کے سوا تمھارا اور کوئی مقصود نہیں ہوتا۔
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰى۝۰ۙ كَالَّذِيْ يُنْفِقُ مَا لَہٗ رِئَاۗءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ فَمَثَلُہٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْہِ تُرَابٌ فَاَصَابَہٗ وَابِلٌ فَتَرَكَہٗ صَلْدًا۝۰ۭ (البقرہ 2: 264)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور اذیت دے کر اس شخص کی طرح ضائع نہ کرو جو لوگوں کے دکھاوے کو خرچ کرتا ہے اور روزِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ اس کے خرچ کی مثال تو ایسی ہے جیسے ایک چٹان پر مٹی پڑی ہو، اور اس پر زور کا مینہ برسے تو ساری مٹی بہہ جائے اور بس صاف چٹان کی چٹان رہ جائے۔
۲۔ احسان نہ جتایا جائے
دوسری بات یہ ہے کہ کسی کو پیسہ دے کر یا روٹی کھلا کر یاکپڑا پہنا کر احسان نہ جتایا جائے اور ایسا برتائو نہ کیا جائے جس سے اس کے دل کو تکلیف ہو:
اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُوْنَ مَآ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّلَآ اَذًى۝۰ۙ لَّھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ۝۰ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ o قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَۃٌ خَيْرٌ مِّنْ صَدَقَۃٍ يَّتْبَعُہَآ اَذًى۝۰ۭ (البقرہ 2:263-262)
جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں اور پھر خرچ کرکے احسان نہیں جتاتے اور تکلیف نہیں پہنچاتے، ان کے لیے خدا کے ہاں اجر ہے اور انھیں کسی نقصان کا خوف یا رنج نہیں۔ ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دکھ ہو۔

۳۔ بہتر مال دیا جائے
تیسرا قاعدہ یہ ہے کہ خدا کی راہ میں اچھا مال دیا جائے، برا چھانٹ کر نہ دیا جائے۔ جو لوگ کسی غریب کو دینے کے لیے پھٹے پرانے کپڑے تلاش کرتے ہیں، یا کسی فقیر کو کھلانے کے لیے بدتر سے بدتر کھانا نکالتے ہیں، ان کو بس ایسے ہی اجر کی خدا سے بھی توقع رکھنی چاہیے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ۝۰۠ وَلَا تَـيَمَّمُوا الْخَبِيْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ (البقرہ 2:267)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جو کچھ تم نے کمایا ہے اور جو کچھ ہم نے تمھارے لیے زمین سے نکالا ہے اس میں سے اچھا مال خدا کی راہ میں دو۔ یہ نہ کرو کہ خدا کی راہ میں دینے کے لیے بری سے بری چیز چھانٹنے کی کوشش کرنے لگو۔
۴۔ حتی الامکان چھپا کر دیا جائے
چوتھا قاعدہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو چھپا کرخرچ کیا جائے تاکہ ریا اور نمود کی آمیزش نہ ہونے پائے۔ اگرچہ کھلے طریقے سے خرچ کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں، مگر ڈھانک چھپا کر دینا زیادہ بہتر ہے:
اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ہِىَ۝۰ۚ وَاِنْ تُخْفُوْھَا وَتُؤْتُوْھَا الْفُقَرَاۗءَ فَھُوَخَيْرٌ لَّكُمْ۝۰ۭ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَيِّاٰتِكُمْ۝۰ۭ ( البقرہ 2:271)
اگر کھلے طریقے سے خیرات کرو تو یہ بھی اچھا ہے، لیکن اگر چھپا کر غریب لوگوں کو دو تو یہ تمھارے لیے زیادہ بہتر ہے اور اس سے تمھارے گناہ دھلتے ہیں۔
۵۔ نادانوں کو ضرورت سے زیادہ نہ دیا جائے
پانچواں قاعدہ یہ ہے کہ کم عقل اور نادان لوگوں کو ان کی ضرورت سے زیادہ نہ دیا جائے کہ بگڑ جائیں اور بری عادتوں میں پڑ جائیں، بلکہ ان کو جو کچھ دیا جائے ان کی حیثیت کے مطابق دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ پیٹ کو روٹی اور پہننے کو کپڑا تو ہر برے سے برے اور بدکار سے بدکار کو بھی ملنا چاہیے، مگر شراب نوشی اور چانڈو اور گانجے{ FR 1629 } اور جوئے بازی کے لیے لفنگے آدمیوں کو پیسہ نہ دینا چاہیے:
وَلَا تُؤْتُوا السُّفَھَاۗءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِىْ جَعَلَ اللہُ لَكُمْ قِيٰـمًا وَّارْزُقُوْھُمْ فِيْھَا وَاكْسُوْھُمْ
(النسائ 4:5)
اپنے اموال جن کو اللہ نے تمھارے لیے زندگی بسر کرنے کا ذریعہ بنایا ہے، نادان لوگوں کے حوالے نہ کرو، البتہ ان اموال میں سے ان کو کھانے اور پہننے کے لیے دو۔
۶۔ مقروض کو پریشان نہ کیا جائے
چھٹا قاعدہ یہ بیان ہوا ہے کہ اگر کسی غریب آدمی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس کو قرضِ حسن دیا جائے تو تقاضے کرکے اسے پریشان نہ کیا جائے، بلکہ اس کو اتنی مہلت دی جائے کہ وہ آسانی سے ادا کر سکے، اوراگر واقعی یہ معلوم ہو کہ وہ ادا کرنے کے قابل نہیں ہے اور تم اتنا مال رکھتے ہو کہ اس کو آسانی کے ساتھ معاف کر سکتے ہو تو بہتر یہ ہے کہ معاف کر دو:
وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰى مَيْسَرَۃٍ۝۰ۭ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo
(البقرہ 2:280)
اور اگر قرض دار تنگ دست ہو تو اُسے خوشحال ہونے تک مہلت دو، اور صدقہ کر دینا تمھارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم اس کا فائدہ جانو۔
۷۔ خیرات میں اعتدال
ساتواں قاعدہ یہ ارشاد ہوا ہے کہ آدمی کو خیرات کرنے میں بھی حد سے نہ گزرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ مقصد نہیں ہے کہ اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ کاٹ کر سب کچھ خیرات میں دے ڈالا جائے، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ سیدھے سادھے طریقے سے زندگی بسر کرنے کے لیے جتنی ضرورت انسان کو ہوتی ہے اتنا اپنی ذات پر اور اپنے بال بچوں پر صَرف کرے اور جو باقی بچے اسے خدا کی راہ میں دے:
o وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ۝۰ۥۭ قُلِ الْعَفْوَ۝۰ۭ (البقرہ 2:219)
پوچھتے ہیں کہ ہم کیا خرچ کریں؟ اے نبیؐ! کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔
o وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَـقْتُرُوْا وَكَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًاo
( الفرقان25:67)
اللہ کے نیک بندے جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل، بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہائوں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے۔
o وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْہَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًاo (بنی اسرائیل 17: 29)
نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو‘ اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جائو۔
امداد کے مستحقین
آخر میں یہ بھی سن لیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے مستحقین کی پوری فہرست بتا دی ہے جس کو دیکھ کر آپ کو معلوم ہو سکتا ہے کہ کون کون لوگ آپ کی مدد کے مستحق ہیں اور کن کا حق اللہ نے آپ کی کمائی میں رکھا ہے:
۱۔ وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَ الْمِسْکِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ (بنی اسرائیل 17:26)
اپنے غریب رشتہ دار کو اس کا حق دے اورمسکین اور مسافرکو اس کا حق۔
۲۔ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّہٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ۝۰ۙ وَالسَّاۗىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ۝۰ۚ (البقرہ 2:177)
اور نیک وہ ہے جو خدا کی محبت میں مال دے اپنے (غریب) رشتہ داروں کو اور یتیموں اور مسکینوں کو اور مسافر کو اورمدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں کو اور ایسے لوگوں کو جن کی گردنیں غلامی اور اسیری میں پھنسی ہوئی ہوں۔
۳۔ وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَـنْۢبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝۰ۙ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ۝۰ۭ (النسائ 4:36)
اپنے ماں باپ اور رشتہ داروں سے اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت دار پڑوسیوں اور اجنبی پڑوسیوں اور پاس کے بیٹھنے والوں اور مسافروں اور اپنے لونڈی غلاموں سے نیک سلوک کیا جائے۔
۴۔ وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّہٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًاo اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللّٰہِ لاَ نُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَآئً وَّلاَ شُکُوْرًا o اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا o
(الدھر 76:10-8)
اور نیک لوگ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں (اورکہتے ہیں کہ) ہم تم کو محض خدا کے لیے کھلا رہے ہیں۔ تم سے کوئی بدلہ یا شکریہ نہیں چاہتے۔ ہم کو تو اپنے خدا سے اس دن (یعنی قیامت) کا ڈر لگا ہوا ہے جس کی شدت کی وجہ سے لوگوں کے منہ سکڑ جائیں گے اور تیوریاں چڑھ جائیں گی۔
۵۔ وَفِيْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ o (الذاریات51:19)
اور ان کے مالوں میں حق ہے مدد مانگنے والوں کا اور اس شخص کا جو محروم ہو۔
۶۔ لِلْفُقَرَاۗءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ ضَرْبًا فِي الْاَرْضِ۝۰ۡيَحْسَبُھُمُ الْجَاہِلُ اَغْنِيَاۗءَ مِنَ التَّعَفُّفِ۝۰ۚ تَعْرِفُھُمْ بِسِيْمٰھُمْ۝۰ۚ لَا يَسْــَٔـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا۝۰ۭ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِيْمٌo (البقرہ 2:273)
خیرات اُن حاجت مندوں کے لیے ہے جو اپنا سارا وقت خدا کے کام میں دے کر ایسے گھر گئے ہیں کہ اپنی روٹی کمانے کے لیے دوڑ دھوپ نہیں کر سکتے۔ ان کی خودداری کو دیکھ کر ناواقف آدمی گمان کرتا ہے کہ وہ خوش حال ہیں، مگر ان کی صورت دیکھ کر تم پہچان سکتے ہو کہ ان پرکیا گزر رہی ہے۔ وہ ایسے نہیں ہیں کہ لوگوں سے لپٹ لپٹ کر مانگتے پھریں۔(ان کی مدد کے لیے) جو کچھ بھی تم خیرات دو گے اللہ کو اس کی خبر ہو گی، اور وہ اس کا بدلہ دے گا۔

٭…٭…٭

شیئر کریں