Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

دیباچہ
پیش لفظ
مقدمہ
انسان کا معاشی مسئلہ اور اس کا اسلامی حل
جُزو پرستی کا فتنہ
اصل معاشی مسئلہ
معاشی انتظام کی خرابی کا اصل سبب
نفس پرستی اور تعیش
سرمایہ پرستی
نظامِ محاربہ
چند سری نظام
اِشتراکیت کا تجویز کردہ حل
نیا طبقہ
نظامِ جبر
شخصیت کا قتل
فاشزم کا حل
اسلام کا حل
بنیادی اصول
حصولِ دولت
حقوقِ ملکیت
اصولِ صَرف
سرمایہ پرستی کا استیصال
تقسیم ِ دولت اور کفالتِ عامہ
سوچنے کی بات
قرآن کی معاشی تعلیمات (۱) بنیادی حقائق
۲۔ جائز و ناجائز کے حدود مقرر کرنا اللہ ہی کا حق ہے
۳۔ حدود اللہ کے اندر شخصی ملکیت کا اثبات
۴۔معاشی مساوات کا غیر فطری تخیل
۵۔ رہبانیت کے بجائے اعتدال اور پابندیِ حدود
۶ ۔ کسبِ مال میں حرام و حلال کا امتیاز
۷۔ کسبِ مال کے حرام طریقے
۸۔ بخل اور اکتناز کی ممانعت
۹۔ زر پرستی اور حرصِ مال کی مذمت
۱۰ ۔ بے جا خرچ کی مذمت
۱۱۔ دولت خرچ کرنے کے صحیح طریقے
۱۲۔ مالی کفّارے
۱۳۔ انفاق کے مقبول ہونے کی لازمی شرائط
۱۵۔ لازمی زکوٰۃ اور اس کی شرح
۱۶۔ اموالِ غنیمت کا خُمس
۱۷۔ مصارفِ زکوٰۃ
۱۸۔ تقسیم میراث کا قانون
۱۹۔ وصیت کا قاعدہ
۲۰۔ نادان لوگوں کے مفاد کی حفاظت
۲۱۔ سرکاری املاک میں اجتماعی مفاد کا لحاظ
۲۲۔ ٹیکس عائد کرنے کے متعلق اسلام کا اصولی ضابطہ
سرمایہ داری اور اسلام کافرق
۱۔ اکتساب مال کے ذرائع میں جائز اور ناجائز کی تفریق
۲۔ مال جمع کرنے کی ممانعت
۳۔ خرچ کرنے کا حکم
۴۔ زکوٰۃ
۵۔ قانونِ وراثت
۶۔ غنائم جنگ اور اموالِ مفتوحہ کی تقسیم
۷۔اقتصاد کا حکم
اسلامی نظامِ معیشت کے اُصول اور مقاصد( یہ تقریر پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ انتظامات کی مجلس مذاکرہ میں 17؍ دسمبر 65ء کو کی گئی تھی (مرتب)
اسلام کے معاشی نظام کی نوعیت
نظمِ معیشت کے مقاصد
(ا) انسانی آزادی
(ب) اخلاقی اور مادی ترقی میں ہم آہنگی
(ج) تعاون و توافُق اور انصاف کا قیام
بنیادی اصول
شخصی ملکیت اور اس کے حدود
منصفانہ تقسیم
اجتماعی حقوق
زکوٰۃ
قانونِ وراثت
محنت، سرمایہ اور تنظیم کا مقام
زکوٰۃ اور معاشی بہبود
غیر سُودی معیشت
معاشی، سیاسی اور معاشرتی نظام کا تعلق
معاشی زندگی کے چند بنیادی اصول (قرآن کی روشنی میں)
(۱) اسلامی معاشرے کی بنیادی قدریں(۱)
(۲) اخلاقی اور معاشی ارتقاء کا اسلامی راستہ (۱)
(۳) تصوّرِ رزق اور نظریۂ صَرف
(۴)اصولِ صرف
(۵) اصولِ اعتدال
(۶) معاشی دیانت اور انصاف
ملکیت ِ زمین کا مسئلہ
قرآن اور شخصی ملکیت (۱)
(۲) دورِ رسالت اور خلافتِ راشدہ کے نظائر
قسمِ اوّل کا حکم
قسمِ دوم کا حکم
قسم سوم کے احکام
قسمِ چہارم کے احکام
حقوقِ ملکیت بربنائے آبادکاری
عطیۂ زمین من جانب سرکار
عطیۂ زمین کے بارے میں شرعی ضابطہ
جاگیروں کے معاملے میں صحیح شرعی رویہ
حقوقِ ملکیت کا احترام
(۳) اسلامی نظام اور انفرادی ملکیت
(۴) زرعی اراضی کی تحدید کا مسئلہ
(۵) بٹائی ( ایک سوال کے جوا ب میں ترجمان القرآن، اکتوبر ۱۹۵۰ء۔) کا طریقہ اور اسلام کے اصول انصاف
(۶)ملکیت پر تصرف کے حدود
مسئلۂ سود
(۱) سود کے متعلق اسلامی احکام( ماخوذ از ’’سود‘‘۔)
ربوٰا کا مفہوم
جاہلیت کا ربٰوا
بیع اور ربوٰا میں اصولی فرق
علتِ تحریم
حُرمتِ سود کی شدت
(۲)سود کی ’’ضرورت‘‘… ایک عقلی تجزیہ( ماخوذ از ’سود‘۔)

معاشیات اسلام

اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

اصلاح کے اصول

اس کے برعکس ہم یہ چاہتے ہیں کہ جب تک اجتماعی انصاف کا اسلامی نظام قائم نہ ہو، اس مصیبت زدہ طبقے کی تکالیف کو جہاں تک بھی ممکن ہو رفع کرایا جائے اور اسے کسی سیاسی ایجی ٹیشن کے لیے آلہ کار نہ خود بنایا جائے نہ کسی کو بنانے دیا جائے۔
ہم طبقاتی کشمکش کے قائل نہیں ہیں بلکہ دراصل ہم تو طبقاتی احساس اور طبقاتی امتیاز ہی کو ختم کر دینا چاہتے ہیں۔ ایک معاشرے میں طبقے دراصل ایک غلط نظام سے پیدا ہوتے ہیں۔ اخلاق کی خرابی ان میں امتیازات کو ابھارتی ہے اور بے انصافی ان کے اندر طبقاتی احساس پیدا کر دیتی ہے۔ اشتراکیت کا پروگرام یہ ہے کہ اس طبقاتی احساس کو زیادہ سے زیادہ تیز کر کے ایک ہی معاشرے کے مختلف طبقوں کو لڑا دیا جائے اور سرمایہ داری و جاگیرداری کے ظالمانہ نظام کو درہم برہم کر کے اشتراکیت کا اس سے بھی زیادہ ظالمانہ نظام قائم کر دیا جائے۔ ہم اس کے برعکس انسانی معاشرے کو ایک تن واحد کے اعضا کی طرح سمجھتے ہیں۔ جس طرح ایک جسم میں مختلف اعضا ہوتے ہیں اور جسم کے اندر ان کا مقام اور ان کا کام جدا جدا ہوتا ہے، مگر ہاتھ کی پائوں سے اور دماغ کی جگر سے کوئی لڑائی نہیں ہوتی، بلکہ جسم زندہ ہی اس طرح رہتا ہے کہ یہ سب اپنے اپنے مقام پر اپنا اپنا کام کرتے ہوئے ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے کے مختلف اجزا بھی اپنی اپنی جگہ اپنی قابلیت و صلاحیت اور فطری استعداد کے مطابق کام کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ہمدرد و مددگار اور مونس و غم خوار بنیں اور ان کے اندر طبقاتی کشمکش تو درکنار طبقاتی احساس اور طبقاتی امتیاز ہی پیدا نہ ہونے پائے۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہر شخص خواہ وہ اجیر ہو یا مستاجر، اپنے حقوق سے پہلے اپنے فرائض کو پہچانے اور انہیں ادا کرنے کی فکر کرے۔ افراد میں جتنا جتنا احساس فرض بڑھتا جائے گا، کشمکش ختم ہوتی جائے گی اور مشکلات کی پیدائش کم ہوتی چلی جائے گی۔
ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کی اخلاقی حِس بیدار کی جائے اور ’’اخلاقی انسان‘‘ کو اس ’’ظالم حیوان‘‘ کے چنگل سے چھڑایا جائے جو اس پر غالب آگیا ہے۔ اگر افراد کے اندر کا یہ اخلاقی انسان اس غالب حیوانیت سے آزاد ہو کر ٹھیک کام کرنے لگے تو خرابیوں کا سرچشمہ ہی سوکھتا چلا جائے گا۔
ہمارے نزدیک اصلاح کی کوشش کرنے والوں کو بیک وقت ملک کے معاشی نظام کی اصلاح کے لیے بھی کام کرنا چاہیے، اور اس کے ساتھ محنت لینے والوں اور محنت کرنے والوں کو بھی راہ راست دکھانی چاہیے۔
محنت لینے والوں سے ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ اگر خود اپنے خیر خواہ ہیں اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہتے، تو زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کی فکر میں اندھے نہ ہو جایئے، حرام خوری اور ناجائز نفع اندوزی چھوڑ دیجئے، جن لوگوں سے آپ محنت لیتے ہیں ان کے جائز حقوق کو خود سمجھیے اور ادا کیجئے، اور ملک کی ترقی کے سارے فوائد آپ ہی نہ سمیٹ لیجیے بلکہ اس وقت کے عام افراد تک ان کو پہنچنے دیجیے جس کی مجموعی سعی و کوشش اور جس کے مجموعی ذرائع سے یہ ترقی ہو رہی ہیں۔ دولت صرف سرمائے سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ جب تنظیم، فنی قابلیت اور جسمانی محنت مل کر کام کرتی ہے، تب وہ منافعے حاصل ہوتے ہیں جن کا نام دولت ہے، اور ان کے حصول میں معاشرے کا وہ پورا نظام مددگار ہوتا ہے جسے ریاست کہا جاتا ہے ۔ ان منافع کو اگر انصاف کے ساتھ تمام عوامل پیدائش کے درمیان تقسیم کیا جائے، اور ان طریقوں کو ترک کر دیا جائے جن کو اسلام نے ممنوع قرار دیا ہے تو ان تخریبی تحریکوں کے برپا ہونے کی نوبت ہی کبھی نہیں آسکتی جو بالآخر خود آپ ہی کی تباہی کی موجب ہوں گی۔
محنت کرنے والوں سے ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ انصاف کی رو سے خود یہ سمجھیں کہ آپ کے جائز حقوق کیا ہیں، اور سرمایہ لگانے والوں، تنظیمی اور کاروباری قابلیتیں صرف کرنے والوں، اور فنی صلاحیتیں استعمال کرنے والوں کا اس دولت میں جائز حصہ کیا ہے جو ان کے ساتھ آپ کی محنت کے شامل ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ آپ کی جو تحریک بھی اپنے حقوق کے لیے جاری ہو اس کو لازماً انصاف پر مبنی ہونا چاہیے اور آپ کو کبھی اپنے حقوق کا وہ مبالغہ آمیز تصور اختیار نہ کرنا چاہیے جو طبقاتی جنگ برپا کرنے والے لوگ آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اور جائز حقوق کے لیے آپ کی جو کوشش بھی ہو، وہ جائز ذرائع سے ہونی چاہیے۔ اس صورت میں یہ ہر حق پرست انسان کا فرض ہوگا کہ وہ آپ کی تائید کرے۔
ملک کے معاشی نظام میں ہم جو اصلاحات کرانا چاہتے ہیں وہ یہ ہیں:( یہ مجلسِ عاملہ جماعت اسلامی پاکستان کی ایک قرار داد کا حصہ ہے جسے یہاں اس لیے درج کیا جا رہا ہے کہ وہ قرارداد مصنف ہی کی مرتب کردہ تھی۔ (مرتب)
۱۔ سود، سٹہ، جوا اور دوسرے ان تمام طریقوں کو، جنہیں اسلامی شریعت نے حرام قرار دیا ہے، قانوناً ممنوع کر دیا جائے اور صرف کسبِ حلال کے دروازے لوگوں کے لیے کھلے رکھے جائیں۔ نیز حرام طریقوں سے دولت صرف کرنے کے دروازے بھی بند کر دیے جائیں۔ صرف اسی طرح نظامِ سرمایہ داری کی جڑ کٹ سکتی ہے اور وہ آزاد معیشت بھی باقی رہ سکتی ہے جو جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔
۲۔ اب تک ناجائز اور حرام طریقوں اور ایک فاسد نظام کی غلط بخشیوں سے دولت کا جو انتہائی ظالمانہ ارتکاز ہو چکا ہے اس کا استیصال کرنے کے لیے اسلامی اصولوں کے مطابق ان تمام لوگوں کا سختی کے ساتھ محاسبہ کیا جائے جن کے پاس دولت کا غیر معمولی اجتماع پایا جاتا ہے، اور وہ سب کچھ ان سے واپس لیا جائے جو حرام طریقوں سے حاصل کیا گیا ہے۔
۳۔ ایک طویل مدت تک زرعی املاک کے معاملے میں غلط نظام رائج رہنے کی وجہ سے جو ناہمواریاں پیدا ہو چکی ہیں ان کو ختم کرنے کے لیے شریعت کے اس قاعدے پر عمل کیا جائے کہ ’’غیر معمولی حالات میں ایسی غیر معمولی تدابیر اصلاح اختیار کی جاسکتی ہیں جو اسلام کے اصولوں سے متصادم نہ ہوتی ہوں۔‘‘ اس قاعدے کو ملحوظ رکھتے ہوئے:
(الف) ان تمام نئی اور پرانی جاگیرداریوں کو قطعی ختم کر دیا جائے جو کسی دورِ حکومت میں اختیارات کے ناجائز استعمال سے پیدا ہوئی ہوں، کیوں کہ ان کی ملکیت ہی شرعی طور پر صحیح نہیں ہے۔
(ب) قدیم املاک کے معاملے میں زمین کی ملکیت کو ایک خاص حد تک (مثلاً سو یا دو سو ایکڑ) تک محدود کر دیا جائے اور اس سے زائد ملکیت کو منصفانہ شرح پر خرید لیا جائے۔ یہ تحدید صرف عارضی طور پر پچھلی ناہمواریاں دور کرنے کے لیے کی جاسکتی ہے۔ اسے مستقل حیثیت نہیں دی جاسکتی، کیوں کہ مستقل تحدید صرف اسلامی قانونِ وراثت ہی سے نہیں بلکہ متعدد دوسرے شرعی قوانین سے بھی متصادم ہوتی ہے۔
(ج) تمام زمینیں خواہ وہ سرکاری املاک میں سے ہوں یا مذکورہ بالا دونوں طریقوں سے حاصل ہوئی ہوںیا نئے بیراجوں کے ذریعے سے کاشت کے قابل ہو گئی ہوں، ان کے بارے میں یہ قاعدہ طے کر دیا جائے کہ وہ غیر مالک کاشت کاروں، یا اقتصادی حد سے کم زمین کے مالکوں کے ہاتھ آسان اقساط پر فروخت کی جائیں گی اور اس معاملے میں قریبی علاقوں کے لوگوں کا حق مقدم رکھا جائے گا۔ سرکار رس لوگوں یا افسروں کو سستے داموں دینے یا عطیے کے طور پر دے دینے کا طریقہ بند کر دیا جائے اور جن کو اس طرح زمینیں دے دی گئی ہیں انہیں واپس لے لیا جائے۔ نیز نیلام کے ذریعے سے فروخت کرنے کا طریقہ بھی ترک کر دیا جائے۔
(د) مزارعت کے متعلق اسلامی قوانین کی سختی کے ساتھ پابندی کرائی جائے اور تمام غیر اسلامی طریقوں کو ازروئے قانون روک دیا جائے تا کہ کوئی زمینداری ظلم کی شکل اختیار نہ کرسکے۔
۴۔ معاوضوں کے درمیان موجود تفاوت کو جو ایک اور سو سے بھی زیادہ ہے گھٹا کر فی الحال ایک اور بیس کی نسبت پر، اور بتدریج ایک اور دس کی نسبت پرلے آیا جائے۔ نیز یہ طے کر دیا جائے کہ کوئی معاوضہ اس حد سے کم نہ ہو جو موجودہ زمانے کی قیمتوں کے لحاظ سے ایک کنبے کی بنیادی ضروریات کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ حد بحالتِ موجودہ ڈیڑھ سو اور دو سو کے درمیان ہونی چاہیے اور قیمتوں کے اتار چڑھائو کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کم سے کم حدِ معاوضہ پر وقتاً فوقتاً نظرثانی کی جاتی رہنی چاہیے۔
۵۔ کم تنخواہ پانے والے ملازمین کو مکان، علاج اور بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں مناسب سہولتیں دی جائیں۔
۶۔ تمام صنعتوں میں مزدوروں کو مذکورہ بالا کم سے کم حدِ معاوضہ کے علاوہ نقد بونس بھی دیا جائے اور بونس شیئرز کے ذریعے سے انہیں صنعتوں کی ملکیت میں حصے دار بنایا جائے، تاکہ جس صنعت سے وہ تعلق رکھتے ہیں اس کی ترقی سے ان کی ذاتی دل چسپی وابستہ ہو جائے اور جس دولت کے پیدا کرنے میں ان کی محنت شامل ہے، اس کے منافع میں بھی وہ حصہ دار ہوں۔
۷۔ موجودہ لیبر قوانین کو بدل کر ایسے منصفانہ قوانین بنائے جائیں جو سرمایہ اور محنت کی کش مکش کو حقیقی تعاون میں تبدیل کر دیں، محنت پیشہ گروہ کو اس کے جائز حقوق دلوائیں، اور نزاعات کی صورت میں تصفیہ کا ایسا طریقہ مقرر کر دیں جو ٹھیک ٹھیک انصاف قائم کرسکتاہو۔
۸۔ ملکی قوانین اور انتظامی پالیسیوں میں اس طرح ترمیم وا صلاح کی جائے کہ صنعت و تجارت پر سے چند لوگوں کا تسلط ختم ہو اور معاشرے کے زیادہ سے زیادہ افراد ان کی ملکیت اور منافع میں حصے دار بن سکیں۔ نیز قوانین اور پالیسیوں کی ان تمام خامیوں کو بھی دور کیا جائے جن کی بدولت ناجائز نفع اندوزیاں کی جاتی ہیں، مصنوعی گرانی پیدا کر کے خلق خدا کے لیے زندگی بسر کرنا دشوار کر دیا جاتا ہے اور ملک کی معاشی ترقی کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچنے دیا جاتا۔
۹۔ جن صنعتوں کو کلیدی اور بنیادی اہمیت حاصل ہے اور جن کا نجی ہاتھوں میں چلنا اجتماعی حیثیت سے نقصان دہ ہے ان کو قومی انتظام میں چلایا جائے۔ اس امر کا فیصلہ کرنا کہ کن صنعتوں کو قومی انتظام میں چلانا ضروری ہے، ایک ایسی نمائندہ اسمبلی کا کام ہے جو عوام کی آزاد مرضی سے منتخب ہوئی ہو۔ اور اس کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ اطمینان کرلینا بھی ضروری ہے کہ ان صنعتوں کا انتظام بیورو کریسی کی ان معروف خرابیوں کا شکار نہ ہونے پائے جن کی بدولت صنعتوں کو قومی انتظام میں چلانا فائدے کے بجائے الٹا نقصان کا موجب بن جاتا ہے۔
۱۰۔ بینکنگ اور انشورنس کے اس پورے نظام کو، جو دراصل یہودی سرمایہ داروں کے دماغ کا آفریدہ ہے، اور جس کی تقلید ہمارے ملک میں بھی کی جا رہی ہے، یکسر بدل کر اسلامی اصولِ شرکت و مضاربت اور تعاونِ باہمی کے مطابق از سر نو تعمیر کیا جائے۔ اس بنیادی اصلاح کے بغیر ان دونوں چیزوں کے مفاسد کسی طرح دور نہیں کیے جاسکتے، خواہ انہیں قومی ملکیت ہی میں لے لیا جائے۔
۱۱۔ زکوٰۃ کی تحصیل و تقسیم کا انتظام کر کے کفالتِ عامہ کی اس اسلامی اسکیم کو عمل میں لایا جائے جس سے بہتر سوشل سکیورٹی کی کوئی اسکیم آج تک کوئی نظام وضع نہیں کرسکا ہے۔ یہی ایک یقینی ذریعہ ہے جس سے ملک میں کوئی فرد غذا، لباس ، مکان، علاج اور تعلیم سے محروم نہیں رہ سکتا۔
۱۲۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے درمیان عدمِ مساوات (disparity) دور کرنے کے لیے ’’تحریک جمہوریت‘‘ کے آٹھ نکاتی پروگرام میں سے ان چھ نکات پر عمل کیا جائے ، جو اس مسئلے کے متعلق ’’تحریک جمہوریت‘‘ نے بالاتفاق طے کیے تھے۔‘‘( پانچ جماعتوں پر مشتمل ’’تحریک جمہوریت‘‘ کا قیام ڈھاکہ میں ۳۰ اپریل ۱۹۶۷ئ کو عمل میں آیا۔ ان جماعتوں کے نام سطور آئندہ میں درج ہیں۔ ان جماعتوں نے ۸ نکات پر مشتمل ایجنڈا پر اتفاق کیا۔ اس دستاویز پر دستخط کرنے والے افراد حب ذیل تھے۔
(۱) قومی متحدہ محاذ (N.D.F)مشرقی پاکستان:
۱۔ نور الامین ۲۔ حمید الحق چودھری ۳۔ عطائ الرحمن، ابوحسین سرکار
(۲) جماعت اسلامی پاکستان:
۱۔ میاں طفیل محمد ۲۔ مولانا عبدالرحیم ۳۔ پروفیسر غلام اعظم (۳)نظام اسلام پارٹی
۱۔ چودھری محمد علی ۲۔ مولوی فرید احمد ۳۔ ایم۔ آر۔ خاں
(۴)پاکستان مسلم لیگ (کونسل)
۱۔ ممتاز دولتانہ ۲۔ تفضل علی ۳۔ خواجہ محمد صفدر ۴۔ ایس۔ خیرالدین
(۵) عوامی لیگ (نصر اللہ خاں گروپ):
۱۔ نوابزادہ نصر اللہ خان ۲۔ غلام محمد لونڈ خور ۳۔ حامد سرفراز ملک ۴ ۔ عبدالسلام خاں
جماعت اسلامی پاکستان کی مجلس شورٰی کے خصوصی اجلاس (منعقدہ ۱۷تا ۲۰ مئی ۱۹۶۷ئ، لاہور) میں ’’تحریک جمہوریت پاکستان‘‘ کی مجوزہ تنظیم اور پروگرام کی منظوری دی گئی۔ اس اجلاس کی صدارت امیر جماعت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے فرمائی۔
تحریک جمہوریت پاکستان کا مرکزی نقطہ ۱۹۵۶ئ کے دستور کے مطابق صدارتی کے بجائے پارلیمانی طرز حکومت کی بحالی اور اس کے تحت بالغ رائے دہی کی اساس پر مقننہ (قومی اسمبلی) کا انتخاب تھا۔ تحریک کے لائحہ عمل میں ۱۹۵۶ئ کے دستور کی ساری اسلامی دفعات کو بحال اور برقرار رکھنا طے پایا….. یہ بھی طے پایا کہ تحریک معروف جمہوری خطوط پر چلائی جائے گی اور کوئی ایسا طریقہ اختیار نہیں کیا جائے گا، جو قرآن و سنت کے منافی ہو۔ مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو ہفت روزہ آئین….. اشاعت،۱۰ مئی اور ۲۳ مئی ۱۹۶۷ئ)
لیکن یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ صرف معیشت ہی انسانی زندگی کا اصلی اور واحد مسئلہ نہیں ہے ، بلکہ وہ زندگی کے دوسرے مسائل کے ساتھ گہرا ربط رکھتی ہے۔ جب تک اسلامی تعلیمات اور احکام کے مطابق اخلاق، معاشرت، تعلیم، سیاست، قانون اور نظم و نسق کے تمام شعبوں میں ہمہ گیر اصلاحات نہ ہوں، محض معاشی اصلاح کا کوئی پروگرام بھی کامیاب اور نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا۔

شیئر کریں