Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

اسلامی نظمِ معیشت کے اُصول اور مقاصد(۱)
اسلام نظامِ معیشت کے بنیادی مقاصد
شخصی آزادی کی حفاظت
اخلاقی اصلاح پر زور اور جبر کا کم سے کم استعمال
اسلام نظام معیشت کے بنیادی اصول
شخصی ملکیت محدود حق
مساوی تقسیم کے بجائے منصفانہ تقسیم ِ دولت
کمائی کے ذرائع میں حلال وحرام کی تمیز
استعمالِ دولت کے طریقوں میں حلال و حرام کی تمیز
افراد کی دولت پر معاشرے کے حقوق
زکوٰۃ
زکوٰۃ اور ٹیکس کا فرق
ٹیکس لگانے کے اختیارات
قانونِ وراثت
اسلامی نظامِ معیشت کی خصوصیات
معاشی عوامل اور ان کا تناسب
دوسرے سوال کا جواب
تیسرے سوال کا جواب
چوتھے سوال کا جواب

اسلامی نظمِ معیشت کے اُصول اور مقاصد

اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

اسلامی نظمِ معیشت کے اُصول اور مقاصد(۱)

[یہ ایک تقریر ہے جو ۱۷دسمبر۱۹۶۵ء کو پنجاب یونیورسٹی کیے شعبہء انتظامیات کی مجلس مذاکرہ میں کی گئی تھی]

حضرات، مجھے چند خاص سوالات پر اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی ہے جنہیں میں سب سے پہلے آپ کو پڑھ کر سنا دیتا ہوں تا کہ آپ کو دائرۂ بحث کے حدود معلوم ہو جائیں۔
سوالات
پہلا سوال یہ ہے کہ کیا اسلام نے کوئی معاشی نظام تجویز کیا ہے؟ اگر کیا ہے تو اس نظام کا کیا خاکہ ہے؟ اور اس خاکے میں زمین، محنت، سرمایہ اور تنظیم کا کیا مقام ہے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا زکوٰۃ اور صدقے کو معاشی بہبود کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے؟
تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم بلاسُود معاشی نظام رائج کرسکتے ہیں؟
اور چوتھا سوال یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک معاشی، سیاسی، معاشرتی اور مذہبی نظام کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
پہلے سوال کا جواب
ان میں سے ایک ایک سوال ایسا ہے کہ اگر آدمی اس کی تفصیلات میں جائے تو ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے ۔ لیکن میں اس خیال سے کہ میرے مخاطب اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہیں جن کے لیے صرف اشارات کافی ہوسکتے ہیں، ان میں سے ہر سوال پر مختصر گفتگو کروں گا۔
اسلام کس معنی میں ہم کو ایک معاشی نظام دیتا ہے؟
پہلے سوال کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ آیا اسلام نے کوئی معاشی نظام تجویزکیا ہے اور اگر کیا ہے تو اس نظام کا خاکہ کیا ہے؟ اور دوسرا حصہ یہ کہ اس خاکے میں زمین، محنت، سرمائے اور تنظیم کا کیا مقام ہے؟ سوال کے پہلے حصے کا جواب یہ ہے کہ اسلام نے یقیناً ایک معاشی نظام تجویز کیا ہے ۔ مگر اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ایک مفصل معاشی نظام اس نے ہر زمانے کے لیے بنا کر رکھ دیا ہے جس میں معاشی زندگی کے متعلق تمام تفصیلات طے کر دی گئی ہیں، بلکہ دراصل اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے ہمیں ایسے بنیادی اصول دیئے ہیں جن کی بنا پر ہم ہر زمانے کے لیے ایک معاشی نظام خود بنا سکتے ہیں۔ اسلام کا قاعدہ یہ ہے، اور قرآن و حدیث کو بغور پڑھنے سے وہ اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے، کہ زندگی کے ہر شعبے کے متعلق وہ ایک طرح سے حدود اربعہ (four corners) مقرر کر دیتا ہے اور ہمیں بتا دیتا ہے کہ یہ حدود ہیں جن میں تم اپنی زندگی کے اس شعبہ کی تشکیل کرو۔ ان حدود سے باہر تم نہیں جاسکتے، البتہ ان کے اندر تم اپنے حالات، ضروریات اور تجربات کے مطابق تفصیلات طے کرسکتے ہو۔ نجی زندگی کے معاملات سے لے کر تہذیب و تمدن کے تمام شعبوں تک اسلام نے انسان کی رہنمائی اسی طریقے پر کی ہے، اور یہی اس کا طریقِ رہنمائی ہمارے نظامِ معیشت کے بارے میں بھی ہے۔ یہاں بھی اس نے کچھ اصول ہم کو دے دیئے ہیں اور کچھ حدودِ اربعہ مقرر کر دیے ہیں تا کہ ان کے اندر ہم اپنے معاشی نظام کی صورت گری کریں۔ تفصیلات طے کرنے کا کام ہر زمانے کے لحاظ سے ہونا چاہیے اور ہوتا رہا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ انہی حدود اربعہ کے اندر ہمارے فقہاء نے اپنے زمانے میں معاشی نظام کے احکام بڑی تفصیل سے مرتب کیے تھے جو فقہ کی کتابوں میں ہمیں ملتے ہیں۔ فقہاء نے جو کچھ مرتب کیا ہے وہ ان اصولوں سے ماخوذ ہے جو اسلام نے دیئے ہیں اور ان حدود سے محدود ہے جو اس نے مقرر کر دی ہیں۔ ان تفصیلات میں سے جو چیزیں آج بھی ہماری ضروریات کے مطابق ہیں ان کو ہم جوں کا توں لے لیں گے، اور جو نئی ضروریات اب ہمیں لاحق ہیں ان کے لیے ہم مزید احکام کا استخراج کرسکتے ہیں۔ لیکن وہ لازماً اسلام کے دیئے ہوئے اصولوں سے ماخوذ ہونے چاہئیں اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں کے اندر رہنے چاہئیں۔

شیئر کریں