Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

اسلامی نظامِ تعلیم
قدیم نظامِ تعلیم
جدید نظامِ تعلیم
ایک انقلابی قدم کی ضرورت
مقصد کا تعین
دین ودنیا کی تفریق مٹا دی جائے
تشکیلِ سیرت
عملی نقشہ
ابتدائی تعلیم
ثانوی تعلیم
اعلیٰ تعلیم
اختصاصی تعلیم
لازمی تدابیر
عورتوں کی تعلیم
رسم الخط
انگریزی کا مقام

اسلامی نظامِ تعلیم

اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’اسلامک پبلی کیشنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF اور Unicode میں ملاحظہ کیجیے۔

اسلامی نظامِ تعلیم

(ذیل کا مقالہ دراصل وہ میمورینڈم ہے جو مولانا مودودیؒ نے اصلاح تعلیم کے سلسلے میں قومی تعلیمی کمیشن کو بھیجا تھا۔ چونکہ کمیشن کے جاری کردہ سوالنامے کا دائرہ اس قدر محدود تھا کہ اس کے حدود میں رہتے ہوئے بنیادی تبدیلیوں کے متعلق کوئی تجویز پیش نہیں کی جا سکتی تھی‘ اس لیے یہ مقالہ کمیشن کی اجازت سے اس سے آزاد ہو کر لکھا گیا ہے…)
اس ملک کے موجودہ نظامِ تعلیم میں اصلاحات تجویز کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہم ان نقائص کو اچھی طرح سمجھ لیں جو ہماری تعلیم کے نظام میں اس وقت پائے جاتے ہیں۔ اس کے بغیر ہم یہ نہیں جان سکتے کہ اس میں اصلاح کِس طرح اور کِس شکل میں ہونی چاہیے۔ ہمارے ملک میں اس وقت دو طرح کے نظامِ تعلیم رائج ہیں۔ ایک وہ جس پر ہمارے پرانے طرز کے مدارس چل رہے ہیں اور ہماری مذہبی ضروریات پوری کرنے کیلئے علماء تیار کرتا ہے۔ دوسرا وہ جو ہمارے کالجوں اور یونیورسٹیوںمیں رائج ہے اور مذہبی دائرے سے باہر ہمارے پورے نظامِ زندگی کو چلانے کے لیے کارکن تیار کرتا ہے۔ ان دونوں کے نقائص کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر ہمیں ان کے بجائے ایک ہی ایسا نظامِ تعلیم تجویز کرنا ہو گا جو ہماری ساری قومی ضروریات کو بیک وقت پورا کر سکے۔ اور اس موجودہ تعلیمی ثنویت کو ختم کر دے جو دین ودنیا کی تفریق کے گمراہانہ نظرئیے پر مبنی ہے۔

شیئر کریں