Search
Close this search box.

فہرست موضوعات

عرض ناشر
دیباچہ طبع اوّل
دیباچہ طبع پنجم
اِسلام اور جاہلیّت کی اُصولی و تاریخی کش مکش
زِندگی کے چار نظریے
۱۔ جاہلیّت خالصہ
۲۔ جاہلیّتِ مشرکانہ
۳۔ جاہلیّت ِراہبانہ
۴۔ اِسلام
انبیا علیہم السلام کا مشن
نبی کے کام کی نوعیت
خلافتِ راشدہ
جاہلیّت کا حملہ
مجددین کی ضرورت
شرحِ حدیث ’’مَنْ یُّجَدِّدُ لَھَا دِیْنَھَا‘‘
کارِ تجدید کی نوعیت
مجدد کی تعریف
مجدد اور نبی کا فرق
الامام المہدی
امت کے چند بڑے بڑے مجددین اَور اُن کے کارنامے
عمربن عبدالعزیز ؒ
ائمہ اربعہ
امام غزالی ؒ
ابنِ تیمیہؒ
شیخ احمد سرہندیؒ
شاہ ولی اللّٰہ دہلویؒ کا کارنامہ
تنقیدی کام
تعمیری کام
نتائج
سید احمد بریلویؒ اور شاہ اسمٰعیل شہید
اسبابِ نکامی
ضمیمہ
منصب تجدید اور امام مہدی کے متعلق چند تصریحات
کشف و الہام کی حقیقت اور چند مجدد ین کے دعاوی
تصوف اور تصور شیخ
ایک بے بنیاد تہمت اور اس کا جواب
المہدی کی علامات اور نظامِ دین میں اس کی حیثیت
مسئلہ مہدی

تجدید واحیائے دین

”اسلام کی اصطلاحی زبان کے جو الفاظ کثرت سے زبان پر آتے ہیں ان میں سے ایک لفظ ”مجدد“بھی ہے۔ اس لفظ کا ایک مجمل مفہوم تو قریب قریب ہر شخص سمجھتا ہے، یعنی یہ کہ جو شخص دین کو از سر نو زندہ اور تازہ کرے وہ مجدد ہے لیکن اس کے تفصیلی مفہوم کی طرف بہت کم ذہن منتقل ہوتے ہیں۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ تجدید دین کی حقیقت کیا ہے، کس نوعیت کے کام کو تجدید سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ، اس کام کے کتنے شعبے ہیں، مکمل تجدید کا اطلاق کس کارنامے پر ہو سکتا ہے اور جزوی تجدید کیا ہوتی ہے؟ اسی ناواقفیت کا نتیجہ ہے کہ لوگ ان مختلف بزرگوں کے کارناموں کی پوری طرح تشخیص نہیں کر سکتے جن کو تاریخ اسلام میں مجدد قرار دیا گیا ہے۔ وہ بس اتنا جانتے ہیں کہ عمر ابن عبد العزیز بھی مجدد، امام غزالی بھی مجدد، ابن تیمیہ بھی مجدد، شیخ احمد سرہندی بھی مجدد اور شاہ ولی اللہ بھی مجدد، مگر ان کو یہ معلوم نہیں کہ کون کس حیثیت سے مجدد ہے اور اس کا تجدیدی کارنامہ کس نوعیت اور کس مرتبہ کا ہے۔ اس ذ ہول اور غفلت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جن ناموں کے ساتھ ”حضرت“، ”امام“، ”حجت الاسلام “، ”قطب العارفین“، ”زبدة السالکین“اور اسی قسم کے الفاظ لگ جاتے ہیں ان کی عقیدت مند ی کا اتنا بو جھ دماغوں پر پڑ جاتا ہے کہ پھر کسی میں یہ طاقت نہیں رہتی کہ آزادی کے ساتھ ان کے کارناموں کا جائزہ لے کر ٹھیک ٹھیک مشخص کر سکے کہ کس نے اس تحریک کے لیے کتنا اور کیسا کام کیا ہے اور اس خدمت میں اس کا حصہ کس قدر ہے۔ عموماً تحقیق کی نپی تلی زبان کے بجاے ان بزرگوں کے کارنامے عقیدت کی شاعرانہ زبان میں بیان کیے جاتے ہیں جن سے پڑھنے والے پر یہ اثر پڑتا ہے اور شاید لکھنے والے کے ذہن میں بھی یہی ہوتا ہے کہ جس کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ فرد کامل تھا اور اس نے جو کچھ بھی کیا وہ ہر حیثیت سے کمال کے آخری مرتبے پر پہنچا ہوا تھا۔ حالانکہ اگر اب ہم کو تحریک اسلامی کی تجدید و احیا کے لیے کوئی کوشش کرنی ہے تو اس قسم کی عقیدت مندی اور اس ابہام و اجمال سے کچھ کام نہ چلے گا۔ ہم کو پوری طرح اس تجدید کے کام کو سمجھنا پڑے گا۔ اور اپنی پچھلی تاریخ کی طرف پلٹ کر دیکھنا ہوگا کہ ان بہت سی صدیوں میں ہمارے مختلف لیڈروں نے کتنا کتنا کام کس کس طرح کیا ہے ، ان کے کارناموں سے ہم کس حد تک فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اور ان سے کیا کچھ چھوٹ گیا ہے جس کی تلافی پر اب ہمیں متوجہ ہو نا چاہیے۔ “ مولانا مودودیؒ نے اس کتاب کے مندرجہ بالا دیباچے ہی میں اس کتاب کی غرض وغایت بتادی ہے۔ سید مودودیؒ مزید لکھتے ہیں: ”یہ مضمون ایک مستقل کتاب چاہتا ہے۔ مگر کتاب لکھنے کی فرصت کہاں۔ یہی غنیمت ہے کہ شاہ ولی اللہ صاحب کا ذکر خیر چھڑ گیا جس کی وجہ سے اس مضمون کی طرف چند اشارے کرنے کا موقع نکل آیا۔ شاید کہ اِنھیں اشاروں سے کسی اللہ کے بندے کو تاریخ تجدید و احیاے دین کی تدوین کا راستہ مل جائے۔ یہ مقالہ جو اس وقت کتابی شکل میں شائع کیا جا رہا ہے، ابتدا جر یدہ”الفرقان“بریلی کے شاہ ولی اللہ نمبر کے لیے لکھا گیا تھا۔ اس لیے اس میں شاہ صاحب کے تجدیدی کارناموں پر نسبت زیادہ مفصل نگاہ ڈالی گئی ہے اور دوسرے مجد دین کے کام کا ذکر ضمنی طور پر کیا گیا ہے۔ اس مقالہ کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ اس میں تمام مجد دین کے کارناموں کا احاطہ مقصود نہیں ہے بلکہ صرف ان بڑے بڑے مجددین کا ذکر کیا گیا ہے جو اسلام کی تاریخ پر اپنا ایک مستقل نشان چھوڑ گئے ہیں۔ نیز یہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ تجدید کا کام بہت لوگوں نے کیا اور ہر زمانہ میں بہت لوگ کرتے ہیں مگر ”مجدد“کا لقب پانے کے مستحق کم ہی ہوتے ہیں۔ “

پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ کریں

اسبابِ نکامی

اس آخری مجددانہ تحریک کی ناکامی کے اسباب پر بحث کرنا عموماً ان حضرات کے مذاق کے خلاف ہے جو بزرگوں کا ذکر عقیدت ہی کے ساتھ کرنا پسند کرتے ہیں۔ اس لیے مجھے اندیشہ ہے کہ جو کچھ میں اس عنوان کے تحت عرض کروں گا وہ میرے بہت سے بھائیوں کے لیے تکلیف کا موجب ہو گا۔ لیکن اگر ہمارا مقصد اس تمام ذکر اذکار سے محض سابقین بالایمان کو خراجِ تحسین ہی پیش کرنا نہیں ہے، بلکہ آیندہ تجدید دین کے لیے ان کے کام سے سبق حاصل کرنا بھی ہے، تو ہمارے لیے اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ تاریخ پر تنقیدی نگاہ ڈالیں اور ان بزرگوں کے کارناموں کا سراغ لگانے کے ساتھ ان اسباب کا کھوج بھی لگائیں جن کی وجہ سے یہ اپنے مقصد کو پہنچنے میں ناکام ہوئے۔ شاہ ولی اللّٰہ صاحب اور ان کے صاحبزادوں نے علما حق اور صالحین کی جو عظیم القدر جماعت پیدا کی اور پھر سید صاحب اور شاہ شہیدؒ نے صلحا و اتقیا کا جو لشکر فراہم کیا، اس کے حالات پڑھ کر ہم دنگ رہ جاتے ہیں۔ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قرنِ اوّل کے صحابہ و تابعین کی سیرتیں پڑھ رہے ہیں۔ اور یہ خیال کرکے ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ ہم سے اس قدر قریب زمانہ میں اس پایہ کے لوگ ہو گزرے ہیں۔ مگر ساتھ ہی ہمارے دل میں قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اتنی زبردست اصلاحی و انقلابی تحریک، جس کے لیڈر اور کارکن ایسے صالح و متقی اور ایسے سرگرم مجاہد لوگ تھے، انتہائی ممکن سعی و عمل کے باوجود ہندوستان پر اسلامی حکومت قائم کرنے میں کام یاب نہ ہوئی اور اس کے برعکس کئی ہزار میل سے آئے ہوئے انگریز یہاں خالص جاہلی حکومت قائم کرنے میں کام یاب ہو گئے، اس سوال کو عقیدت مندی کے جوش میں لاجواب چھوڑ دینے کے معنی یہ ہیں کہ لوگ صلاح و تقوٰی اور جہاد کو اس دُنیا کی اصلاح کے معاملہ میں ضعیف الاثر سمجھنے لگیں اور یہ خیال کرکے مایوس ہو جائیں کہ جب ایسے زبردست متقیانہ جہاد سے بھی کچھ نہ بنا تو آیندہ کیا بن سکے گا۔ میں اس قسم کے شبہات فی الحقیقت لوگوں کی زبان سے سن چکا ہوں، بلکہ حال میں جب مجھے علی گڑھ جانے کا اتفاق ہوا تو اسٹریچی ہال کے بھرے جلسے میں میرے سامنے یہی شبہ پیش کیا گیا تھا اور اسے رفع کرنے کے لیے مجھے ایک مختصر تقریر کرنی پڑی تھی۔ نیز مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اس وقت علما صالحین کی جو جماعت ہمارے درمیان موجود ہے وہ بالعموم اس مسئلہ میں بالکل خالی الذہن ہے، حالانکہ اگر اس کی تحقیق کی جائے تو بہت سے ایسے سبق ہمیں مل سکتے ہیں جن سے استفادہ کرکے آیندہ زیادہ بہتر اور زیادہ صحیح کام ہو سکتا ہے۔

پہلا سبب
پہلی چیز جو مجھ کو حضرت مجدد الف ثانی کے وقت سے شاہ صاحب اور ان کے خلفا تک کے تجدیدی کام میں کھٹکی ہے وہ یہ ہے کہ انھوں نے تصوف کے بارے میں مسلمانوں کی بیماری کا پورا اندازہ نہیں لگایا اور نادانستہ انھیں پھر وہی غذا دے دی جس سے مکمل پرہیز کرانے کی ضرورت تھی۔ حاشا کہ مجھے فی نفسہٖ اس تصوف پر اعتراض نہیں ہے جو ان حضرات نے پیش کیا۔ وہ بجائے خود اپنی روح کے اعتبار سے اِسلام کا اصلی تصوف ہے اور اس کی نوعیت ’’احسان‘‘ سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ لیکن جس چیز کو میں لائق پرہیز کَہ رہا ہوں وہ متصوفانہ رموز و اشارات اور متصوفانہ زبان کا استعمال اور متصوفانہ طریقہ سے مشابہت رکھنے والے طریقوں کو جاری رکھنا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ حقیقی اسلامی تصوف اس خاص قالب کا محتاج نہیں ہے۔ اس کے لیے دوسرا قالب بھی ممکن ہے۔ اس کے لیے زبان بھی دوسری اختیار کی جا سکتی ہے۔ رموز و اشارات سے بھی اجتناب کیا جا سکتا ہے۔ پیری مریدی اور اس سلسلے کی تمام عملی شکلوں کو بھی چھوڑ کر دوسری شکلیں اختیار کی جا سکتی ہیں۔ پھر کیا ضرورت ہے کہ اسی پرانے قالب کو اختیار کرنے پر اصرار کیا جائے جس میں مدتہائے دراز سے جاہلی تصوف کی گرم بازاری ہو رہی ہے۔ اس کی کثرتِ اشاعت نے مسلمانوں کو جن سخت اعتقادی و اخلاقی بیماریوں میں مبتلا کیا ہے وہ کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ اب حال یہ ہو چکا ہے کہ ایک شخص خواہ کتنی ہی صحیح تعلیم دے، بہرحال یہ قالب استعمال کرتے ہی وہ تمام بیماریاں پھر عود کر آتی ہیں جو صدیوں کے رواجِ عام سے اس کے ساتھ وابستہ ہو گئی ہیں۔
پس جس طرح پانی جیسی حلال چیز بھی اس وقت ممنوع ہو جاتی ہے جب وہ مریض کے لیے نقصان دہ ہو، اسی طرح یہ قالب بھی مباح ہونے کے باوجود اس بنا پر قطعی چھوڑ دینے کے قابل ہو گیا ہے کہ اسی کے لباس میں مسلمانوں کو افیون کا چسکا لگایا گیا ہے اور اس کے قریب جاتے ہی ان مزمن مریضوں کو پھر وہی چنیا بیگم یاد آجاتی ہیں جو صدیوں انھیں تھپک تھپک کر سلاتی رہی ہیں۔ بیعت کا معاملہ پیش آنے کے بعد کچھ دیر نہیں لگتی کہ مریدوں میں وہ ذہنیت پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے جو مریدی کے ساتھ مختص ہو چکی ہے، یعنی ’’بمے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید‘‘ والی ذہنیت، جس کے بعد پیر صاحب میں اور اَرْبَابٌ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہ میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ فکر و نظر مفلوج، قوتِ تنقید مائوف، علم و عقل کا استعمال موقوف اور دل و دماغ پر بندگیِ شیخ کا ایسا مکمل تسلط کہ گویا شیخ ان کا رب ہے اور یہ اس کے مربوب۔ پھر جہاں کشف و الہام کی بات چیت شروع ہوئی، معتقدین کی ذہنی غلامی کے بند اور زیادہ مضبوط ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد صوفیانہ رموز و اشارات کی باری آتی ہے جس سے مریدوں کی قوت واہمہ کو گویا تازیانہ لگ جاتا ہے اور وہ انھیں لے کر ایسی اڑتی ہے کہ بے چارے ہر وقت عجائبات و طلسمات ہی کے عالم میں سیر کرتے رہتے ہیں، واقعات کی دُنیا میں ٹھہرنے کا موقع غریبوں کو کم ملتا ہے۔
مسلمانوں کے اس مرض سے نہ حضرت مجدد صاحب ناواقف تھے، نہ شاہ صاحب۔ دونوں کے کلام میں اس پر تنقید موجود ہے۔ مگر غالباً اس مرض کی شدت کا انھیں پورا اندازہ نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں بزرگوں نے ان بیماروں کو پھر وہی غذا دے دی جو اس مرض میں مہلک ثابت ہو چکی تھی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ دونوں کا حلقہ پھر اسی پرانے مرض سے متاثر ہوتا چلا گیا۔({ FR 6742 }) اگرچہ مولانا اسمٰعیل شہید رحمتہ اللّٰہ علیہ نے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ کر ٹھیک وہی روش اختیار کی جو ابن تیمیہ کی تھی، لیکن شاہ ولی اللّٰہ صاحب کے لٹریچر میں تو یہ سامان موجود ہی تھا جس کا کچھ اثر شاہ اسمٰعیل شہید کی تحریروں میں بھی باقی رہا اور پیری مریدی کا سلسلہ بھی سیّد صاحب کی تحریک میں چل رہا تھا۔ اس لیے مرضِ صوفیت کے جراثیم سے یہ تحریک پاک نہ رہ سکی۔ حتّٰی کہ سیّد صاحب کی شہادت کے بعد ہی ایک گروہ ان کے حلقہ میں ایسا پیدا ہو گیا جو شیعوں کی طرح ان کی غیبوبت کا قائل ہوا اور اب تک ان کے ظہور ثانی کا منتظر ہے!
اب جس کسی کو تجدید دین کے لیے کوئی کام کرنا ہو اس کے لیے لازم ہے کہ متصوفین کی زبان و اصطلاحات سے، رموز و اشارات سے، لباس و اطوار سے، پیری مریدی سے اور ہر اس چیز سے جو اس طریقہ کی یاد تازہ کرنے والی ہو، مسلمانوں کو اس طرح پرہیز کرائے جیسے ذیابیطس کے مریض کو شکر سے پرہیز کرایا جاتا ہے۔
دوسرا سبب
دوسری چیز جو مجھے تنقیدی مطالعہ کے دوران میں محسوس ہوئی وہ یہ ہے کہ سید صاحب اور شاہ شہید نے جس علاقہ میں جا کر جہاد کیا اور جہاں اسلامی حکومت قائم کی، اس علاقہ کو اس انقلاب کے لیے پہلے اچھی طرح تیار نہیں کیا تھا، ان کا لشکر تو یقینا بہترین اخلاقی و روحانی تربیت پائے ہوئے لوگوں پر مشتمل تھا، مگر یہ لوگ ہندوستان کے مختلف گوشوں سے جمع ہوئے تھے اور شمال مغربی ہندوستان میں ان کی حیثیت مہاجرین کی سی تھی۔ اس علاقہ میں سیاسی انقلاب برپا کرنے کے لیے ضروری تھا کہ خود اس علاقہ ہی کی آبادی میں پہلے اخلاقی و ذ ہنی انقلاب برپا کر دیا جاتا، تاکہ مقامی لوگ اسلامی نظام حکومت کو سمجھنے اور اس کے انصار بننے کے قابل ہو جاتے۔ دونوں لیڈر غالباً اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے کہ سرحد کے لوگ چوں کہ مسلمان ہیں اور غیر مسلم اقتدار کے ستائے ہوئے بھی ہیں، اس لیے وہ اسلامی حکومت کا خیر مقدم کریں گے۔ اسی وجہ سے انھوں نے جاتے ہی وہاں جہاد شروع کر دیا اور جتنا ملک قابو میں آیا اس پر اسلامی خلافت قائم کر دی۔ لیکن بالآخر تجربہ سے ثابت ہو گیا کہ نام کے مسلمانوں کو اصلی مسلمان سمجھنا اور ان سے وہ توقعات رکھنا جو اصلی مسلمانوں ہی سے پوری ہو سکتی ہیں، محض ایک دھوکا تھا۔ وہ خلافت کا بوجھ سہارنے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ جب ان پر یہ بوجھ رکھا گیا تو وہ خود بھی گرے اور اس پاکیزہ عمارت کو بھی لے گرے۔
تاریخ کا یہ سبق بھی ایسا ہے جسے آیندہ ہر تجدیدی تحریک میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ جس سیاسی انقلاب کی جڑیں اجتماعی ذہنیت، اخلاق اور تمدن میں گہری جمی ہوئی نہ ہوں وہ نقش بر آب کی طرح ہوتا ہے۔ کسی عارضی طاقت سے ایسا انقلاب واقع ہو بھی جائے تو قائم نہیں رہ سکتا اور جب مٹتا ہے تو اس طرح مٹتا ہے کہ اپنا کوئی اثر چھوڑ کر نہیں جاتا۔ ({ FR 6743 })
تیسرا سبب
اب یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ ان بزرگوں کے مقابلہ میں کئی ہزار میل دور سے آئے ہوئے انگریزوں کو کس قسم کی فوقیت حاصل تھی جس کی وجہ سے وہ تو یہاں جاہلی حکومت قائم کرنے میں کام یاب ہو گئے اور یہ خود اپنے گھر میں اسلامی حکومت قائم نہ کر سکے؟ اس کا صحیح جواب آپ نہیں پا سکتے جب تک کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی عیسوی کے یورپ کی تاریخ آپ کے سامنے نہ ہو۔ شاہ صاحب اور ان کے خلفا نے اِسلام کی تجدید کے لیے جو کام کیا، اس کی طاقت کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیے اور دوسرے پلڑے میں اس طاقت کو رکھیے جس کے ساتھ ان کی ہم عصر جاہلیّت اٹھی تھی، تب آپ کو پورا اندازہ ہو گا اس عالم اسباب میں جو قوانین کارفرما ہیں ان کے لحاظ سے دونوں طاقتوں میں کیا تناسب تھا۔ میں مبالغہ نہ کروں گا اگر یہ کہوں کہ ان دونوں قوتوں میں ایک تولے اور من کی نسبت تھی۔ اس لیے جو نتیجہ فی الحقیقت رونما ہوا اس کے سوا اور کچھ نہ ہو سکتا تھا۔
جس دور میں ہمارے ہاں شاہ ولی اللّٰہ صاحب، شاہ عبدالعزیز صاحب اور شاہ اسمٰعیل شہیدؒ پیدا ہوئے، اسی دور میں یورپ قرون وسطیٰ کی نیند سے بیدار ہو کر نئی طاقت کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا تھا اور وہاں علم دفن کے محققین، مکتشفین اور موجدین اس کثرت سے پیدا ہوئے تھے کہ انھوں نے ایک دُنیا کی دُنیا بدل ڈالی۔ وہی دور تھا جس میں ہیوم، کانٹ، فشتے (Fishte) ہیگل، کو مت (Comte)، شلائر ماشر (Schlier Macher) اور مل جیسے فلاسفہ پیدا ہوئے جنھوں نے منطق و فلسفہ، اخلاقیات و نفسیات اور تمام علومِ عقلیہ میں انقلاب برپا کیا۔ وہی دور تھا جب طبیعیات میں گیلوینی (Galvani) اور وولٹا (Volta) علم الکیمیا میں لاوویزیر (La-Voisier) پریسٹلے (Priestley)، ڈیوی (Dayy) ہایوی اور برزیلیس، حیاتیات میں لینے (Linne) ہالر (Haller)، بیشات (Bichat) اور وولف (Wolff) جیسے محققین اٹھے جن کی تحقیقات نے صرف سائنس ہی کو ترقی نہیں دی بلکہ کائنات اور انسان کے متعلق بھی ایک نیا نظریہ پیدا کر دیا۔ اسی دور میں کوئسنیے (Quisney) ٹرگوٹ (Turgot) آدم سمتھ اور مالتھس کی دماغی کاوشوں سے سے معاشیات کا نیا علم مرتب ہوا۔ وہی دور تھا جب فرانس میں روسو، والٹیر، مونٹسیکو، ڈینس ڈائڈیرو (Denis Diderot) لامیٹری (La-Mattrie) کیباٹیس (Cabartis) بفون (Butfen) روبینہ (Robinea) انگلستان میں ٹامس پین (Thomas Poune) ولیم گوڈون (William Godwin) ڈیوڈ ہارٹلے، جوزف پریسٹلے، اراسمس ڈارون اور جرمنی میں گویتھے، ہرڈر، شیلر، ونکلمان (Wincklmann) لسنگ (Lessing) اور بیرن ڈی ہولباش (Baronde Holbach) جیسے لوگ پیدا ہوئے جنھوں نے اخلاقیات، ادب، قانون، مذہب، سیاسیات اور تمام علوم عمران پر زبردست اثر ڈالا اور انتہائی جرأت و بے باکی کے ساتھ دُنیائے قدیم پر تنقید کرکے نظریات و افکار کی ایک نئی دُنیا بنا ڈالی۔
پریس کے استعمال، اشاعت کی کثرت، اسالیب بیان کی ندرت اور مشکل اصطلاحی زبان کے بجائے عام فہم زبان کو ذریعہ اظہار خیال بنانے کی وجہ سے ان لوگوں کے خیالات نہایت وسیع پیمانے پر پھیلے۔ انھوں نے محدود افراد کو نہیں بلکہ قوموں کو بحیثیت مجموعی متاثر کیا۔ ذہنیتیں بدل دیں، اخلاق بدل دیے، نظامِ تعلیم بدل دیا، نظریۂ حیات اور مقصد ِ زِندگی بدل دیا اور تمدن و سیاست کا پورا نظام بدل دیا۔
اسی زمانہ میں انقلاب ِفرانس رونما ہوا جس سے ایک نئی تہذیب پیدا ہوئی۔ اسی زمانہ میں مشین کی ایجاد نے صنعتی انقلاب برپا کیا جس نے ایک نیا تمدن، نئی طاقت اور نئے مسائل زِندگی کے ساتھ پیدا کیا۔ اسی زمانہ میں انجینئرنگ کو غیر معمولی ترقی ہوئی جس سے یورپ کو وہ قوتیں حاصل ہوئیں کہ پہلے دُنیا کی کسی قوم کو حاصل نہ ہوئی تھیں۔ اسی زمانہ میں قدیم فن جنگ کی جگہ نیا فن جنگ نئے آلات اور نئی تدابیر کے ساتھ پیدا ہوا۔باقاعدہ ڈرل کے ذریعہ سے فوجوں کو منظم کرنے کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ جس کی وجہ سے میدانِ جنگ میں پلٹنیں مشین کی طرح حرکت کرنے لگیں اور پرانے طرز کی فوجوں کا ان کے مقابلہ میں ٹھیرنا مشکل ہوگیا۔ فوجوں کی ترتیب اور عسا کر کی تقسیم اور جنگی چالوں میں بھی پیہم تغیرات ہوئے اور ہر جنگ کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اس فن کو برابر ترقی دی جاتی رہی ۔ آلاتِ حرب میں بھی مسلسل نئی ایجادیں ہوتی چلی گئیں ۔ رائفل ایجاد ہوئی۔ ہلکی اور سریع الحرکت میدانی توپیں بنائی گئیں ۔ قلعہ شکن تو پیں پہلے سے بہت زیادہ طاقت ورتیار کی گئیں اور کارتوس کی ایجاد نے نئی بندوقوں کے مقابلہ میں پرانی توڑے دار بندوقوں کو بے کار کر کے رکھ دیا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ یورپ میں ترکوں کو اور ہندوستان میں دیسی ریاستوں کو جدید طرز کی فوجوں کے مقابلہ میں مسلسل شکستیں اٹھانی پڑیں اور عالم اِسلام کے عین قلب پر حملہ کر کے نپولین نے مٹھی بھر فوج سے مصر پر قبضہ کر لیا۔
معاصر تاریخ کے اس سر سری خاکہ پر نظر ڈالنے سے بآسانی یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ ہمارے ہاںتو چند اشخاص ہی بیدار ہوئے تھے مگر وہاں قومیں کی قومیں جاگ اٹھی تھیں۔ یہاں صرف ایک جہت میں تھوڑا سا کام ہوا اور وہاں ہر جہت میں ہزاروں گنا زیادہ کام کر ڈالا گیا۔ بلکہ کوئی شعبہ زِندگی ایسا نہ تھا جس میں تیز رفتار پیش قدمی نہ کی گئی ہو۔ یہاں شاہ ولی اللّٰہ صاحب اور ان کی اولاد نے چند کتابیں خاص خاص علوم پر لکھیں جو ایک نہایت محدود حلقے تک پہنچ کر رہ گئیں اور وہاں لائبریریوں کی لائبریریاں ہر علم و فن پر تیار ہوئیں جو تمام دُنیا پر چھا گئیں اور آخر کار دماغوں اور ذہنیتوں پر قابض ہو گئیں۔ یہاں فلسفہ،اخلاقیات، اجتماعیات،سیاسیات اور معاشیات وغیرہ علوم پر طرحِ نو کی بات چیت محض ابتدائی اور سرسری حد تک ہی رہی جس پر آگے کچھ کام نہ ہوا اور وہاں اس دوران میں ان مسائل پر پورے پورے نظامِ فکر مرتب ہو گئے۔ جنھوں نے دُنیا کانقشہ بدل ڈالا ۔ یہاں علومِ طبیعیہ اور قوائے مادیہ کا علم وہی رہا جو پانچ سو سال پہلے تھا اور وہاں اس میدان میں اتنی ترقی ہوئی اور اس ترقی کی بدولت اہل مغرب کی طاقت اتنی بڑھ گئی کہ ان کے مقابلہ میں پرانے آلات و وسائل کے زور سے کا میاب ہونا قطعاً محال تھا۔
حیرت تو یہ ہے کہ شاہ ولی اللّٰہ صاحب کے زمانہ میں انگریز بنگال پر چھا گئے تھے اور الٰہ آباد تک ان کا اقتدار پہنچ چکا تھا، مگر انھوں نے اس نئی ابھرنے والی طاقت کا کوئی نوٹس نہ لیا، شاہ عبدالعزیز صاحب کے زمانہ میں دہلی کا بادشاہ انگریزوں کا پنشن خوار ہو چکا تھا اور قریب قریب سارے ہی ہندوستان پر انگریزوں کے پنجے جم چکے تھے مگر ان کے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا نہ ہوا کہ آخر کیا چیز اس قوم کو اس طرح بڑھا رہی ہے اور اسی نئی طاقت کے پیچھے اسباب ِطاقت کیا ہیں۔ سید صاحب اور شاہ اسمٰعیل شہید جو عملاً اسلامی انقلاب بر پا کرنے کے لیے اٹھے تھے، انھوں نے سارے انتظامات کیے مگر اتنا نہ کیا کہ اہل نظر علما کا ایک وفد یورپ بھیجتے اور یہ تحقیق کراتے کہ یہ قوم جو طوفان کی طرح چھاتی چلی جا رہی ہے اور نئے آلات، نئے وسائل،نئے طریقوں اور نئے علوم و فنون سے کام لے رہی ہے، اس کی اتنی قوت اور اتنی ترقی کا کیا راز ہے۔ اس کے گھر میں کِس نوعیت کے ادارات قائم ہیں، اس کے علوم کس قسم کے ہیں۔ اس کے تمدن کی اساس کن چیزوں پر ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں ہمارے پاس کس چیز کی کمی ہے۔ جس وقت یہ حضرت جہاد کے لیے اٹھے ہیں، اس وقت یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہ تھی کہ ہندوستان میں اصل طاقت سکھوں کی نہیں، انگریزوں کی ہے اور اسلامی انقلاب کی راہ میں سب سے بڑی مخالفت اگر ہو سکتی ہے تو انگریز ہی کی ہو سکتی ہے ۔ پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ کس طرح ان بزرگوں کی نگاہِ دور رس سے معاملہ کا یہ پہلو بالکل ہی اوجھل رہ گیا کہ اِسلام و جاہلیّت کی کش مکش کا آخری فیصلہ کرنے کے لیے جس حریف سے نمٹنا تھا اس کے مقابلہ میں اپنی قوت کا اندازہ کرتے اور اپنی کم زوری کو سمجھ کر اسے دور کرنے کی فکر کرتے۔بہر حال جب ان سے یہ چوک ہوئی تو اس عالم اسباب میں ایسی چوک کے نتائج سے وہ نہ بچ سکتے تھے۔
خاتمہ
مغربی جاہلیّت کے مقابلہ میں اسلامی تجدید کی اس تحریک کو جو ناکامی ہوئی اس سے پہلا سبق تو ہمیں یہ ملتا ہے کہ تجدید دین کے لیے صرف علومِ دینیہ کا احیا اور اتباعِ شریعت کی روح کو تازہ کر دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ایک جامع اور ہمہ گیر اسلامی تحریک کی ضرورت ہے جو تمام علوم و افکار، تمام فنون و صنا عات اور تمام شعبہ ہائے زِندگی پر اپنا اثر پھیلادے اور تمام امکانی قوتوں سے اِسلام کی خدمت لے۔ اور دوسرا سبق جو اسی سے قریب الما ٔخذ ہے، یہ ہے کہ اب تجدید کا کام نئی اجتہادی قوت کا طالب ہے۔ محض وہ اجتہادی بصیرت جو شاہ ولی اللّٰہ صاحب ؒ یا ان سے پہلے کے مجتہدین و مجددین کے کارناموں میں پائی جاتی ہے، اس وقت کے کام سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے کافی نہیںہے۔ جاہلیّت جدیدہ بے شمار نئے وسائل کے ساتھ آئی ہے اور اس نے بے حساب نئے مسائل زِندگی پیدا کر دیے ہیں جن کاوہم تک شاہ صاحبؒ اور دوسرے قدما کے ذہن میں نہ گزرا تھا۔ صرف اللّٰہ جل جلالہ،کے علم اور اس کی بخشش سے رسول اللّٰہ ﷺ کی بصیرت ہی پر یہ حالات روشن تھے۔ لہٰذا کتاب اللّٰہ اور سنت رسول اللّٰہ ہی وہ تنہا ما ٔ خذ ہے جس سے اس دور میں تجدید ملت کا کام کرنے کے لیے راہ نُمائی حاصل کی جا سکتی ہے اور اس راہ نُمائی کو اخذ کر کے اس وقت کے حالات میں شاہراہِ عمل تعمیر کرنے کے لیے ایسی مستقل قوتِ اجتہادیہ درکارہے جو مجتہدین سلف میں سے کسی ایک کے علوم اور منہاج کی پابند نہ ہو، اگر چہ استفادہ ہر ایک سے کرے اور پر ہیز کسی سے بھی نہ کرے۔
٭…٭…٭…٭…٭

شیئر کریں